Waqar E Alam Pandra Roza Official

  • Home
  • Waqar E Alam Pandra Roza Official

Waqar E Alam Pandra Roza Official سرزمین ہوڑہ سے شائع ہونے والا واحد اردو اخبار۔ تہزیب و ?

25/09/2025

فلوٹیلا بنام طیراََ ابابیل
از:وفاعباس
عاقب : سر عام طور پر مشہور ہے بلکہ اکثر لوگ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ ابابیلوں کا لشکر بھیج. کسی دانشور نے کہا تھا کہ" اب ابابیلیں نہیں آئیں گی. میں بھی کہہ رہا ہوں کہ اب ابابیلیں نہیں آئیں گی.
استاد : کیا مطلب؟
عاقب : مطلب صاف ہے کہ جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس دنیا میں آمد سے چھ ماہ پہلے ابرہا خانہء کعبہ مسمار کرنے آیاتھا لیکن اللہ جلّ ِ شانہٗ نے سمندر کی جانب سے طیرًا ابابیل (چڑیوں کے غول کے غول) بھیجے جن کے منقار ( منھ) میں ایک کنکر اور دونوں پنجوں میں ایک ایک کنکر تھے جس کے گرنے سے ابرہا کے زبردست لشکر کا خاتمہ ہوگیا لیکن موجودہ دور کا ابرہا نیتن یاہو جو اپنی طاقت کے زعم میں قبلہء اولہ اور فلسطین کا نام و نشان مٹا دینا چاہتا ہے اب اس کے خاتمے کے لیے طیرًا ابابیل (پرندوں کا جھنڈ) سمندر کی جانب سے اپنی چونچ میں اور دونوں پنجوں میں کنکریاں دباکر حملہ کرنے نہیں آئے گا.
استاد : تو کیا اللَّهِ انہیں مٹ جانے دے گا؟
عاقب : میرا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے.
استاد : تو پھر کیا ہے؟
عاقب : سر میں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ جب جب کوئی ابرہا، فرعون، نمرود،شدّاد نے خدائی دعویٰ کیا یا خدا سے ہمسری کی تو اللَّهِ نے ان پر ہمیشہ ایک طرح کے عذاب نہیں بھیجے بلکہ شدّاد جس نے خدائی دعویٰ کرتے ہوئے زمین پر جنت بنائی اور جس کے مکمل ہونے میں تین سوسال لگے اور جب وہ اس میں جانے کا ارادہ کیا تو اس جنت سے ایک دن ایک رات کے فاصلے پر اللَّهِ تبارک و تعالیٰ نے ایسی چیخ بھیجی کہ وہ اور اس کے مصاحب تمام ختم ہوگئے.
اسی طرح نوح علیہ السلام کی قوم پر جو عذاب آیا اسے طوفانِ نوح کے نام سے جانا جاتا ہے جس کے سبب پوری دنیا ختم ہوگئی سوائے ان کے جنہوں نے نوح علیہ السلام پر ایمان لائے اور کشتیِ نوح پر سوار ہوگئے.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جب فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا اور ربِ جل جلال سے ہمسری کرنے کی کوشش کی تو اللَّهِ جلِ شانہٗ نے اسے دریائے نیل میں غرق کردیا.
اب اس دور کے فرعون نیتن یاہو کے خاتمے کے لیے اللہ پھر سمندر کی جانب سے عذاب روانہ کرچکا ہے.
استاد : وہ کون سا غذاب ہے؟ کہیں تمہارا اشارہ غزہ کی جانب رواں قافلہ فلوٹیلا تو نہیں؟ اور کیا فلوٹیلا قافلے میں شامل لگ بھگ پانچ سو افراد اسرائیل سے جنگ کرنے جارہے ہیں؟
عاقب : نہیں سر وہ تو امن پسند افراد ہیں جو غزہ میں اسرائیل اور اس کے وزیر اعظم نیتن یاہو (دورِ حاضر کا فرعون) کے ہاتھوں وہاں کے عوام کی نسل کشی، بھک مری، عورتوں بچوں کا بے رحمانہ قتلِ عام کو روکنے اور ان کو زندگی کی سہولیات فراہم کرنے جارہے ہیں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر.
استاد : جب یہ جنگ نہیں کریں گے تو وہاں (غزہ) میں یہ سب کچھ کیسے رکے گا؟
عاقب : بات دراصل یہ ہے کہ آج 25.09.2025 کو یہ خبر ملی کہ اسرائیل نے اس امن پسند قافلہ فلوٹیلا پر اپنے بارہ ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا ہے جس سے کئی کشتیوں کو نقصان پہنچا گرچہ خبر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا. اس خبر کے بعد اٹلی نے اس فلوٹیلا قافلے کی حفاظت کے لیے اپنے دو جنگی جہاز روانہ کیا ہے مزیر اطلاع ہے کہ اسپین اور دیگر کئی ممالک نے بھی اپنے فوجی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے. اور یہی وہ فلوٹیلا ہے جس کی حفاظت کو آئے جنگی جہاز طیرًا ابابیل کی مانند نیتن یاہو، اسرائیل کے آئی ڈی ایف اور موساد کے وجود کو مٹادیں گے.
استاد : اللَّهِ مسبب الاسباب ہے دیکھو کیا ہوتا ہے. اللہ سے میری دعا ہے ایسا ہی ہو.

20/09/2025
19/09/2025
19/09/2025
18/09/2025

مسلم ممالک کا اتحاد
از: وفاعباس
استاد (عاقب سے) : دیکھا تم نے قطر کے دوہا میں حماس کے بہانے اسرائیل کا حملہ اسے کتنا مہنگا پڑا.
قطر کے دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد تقریبًا 60 ممالک کی میٹنگ میں یہ طئے تجویز منظور کی گئ کہ مسلم ممالک کو بھی نیٹو جیسی تنظیم بنانی ہوگی اور یہ بھی تجویز منظور کی گئی کہ اسرائیل کا حملہ ان ممالک میں سے کسی پر بھی ہوا تو اسے تمام اسلامی نیٹو ممالک پر حملہ مانا جائے گا اور اس کا مشترکہ طور پر جواب دیا جائے گا جبکہ مصر کا کہنا ہے کہ جوائنٹ آرمڈ فورس تشکیل دی جائے جو کسی بھی مسلم ملک یا اسلامی نیٹو ملک پر حملے کے خلاف تحفظ فراہم کرسکے.
عاقب : جی بات تو درست ہے لیکن پھر وہی بات......!
استاد : کیا پھر وہی بات؟ تم بیچ بیچ میں ایسے جملے کہہ کر شش وپنج میں مبتلا کر دیتے ہو.
عاقب : نہیں سر میں دراصل یہ کہہ رہا تھا کہ ان اسلامی ممالک میں صرف ایران کو چھوڑ کر کس میں اتنا دم ہے جو اسرائیل یا امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرسکے. دس دن سے زائد ہوگئے اور قطر سمیت کسی بھی مسلم میں یہ ہمت نہ ہوسکی کہ وہ اسرائیل کا جواب دے سکے. اور نہ ہی یہ ہوسکا کہ یہ اسلامی ممالک اسرائیل سے تمام رشتے ناطے توڑ لیں. تمام کاروباری رشتے ختم کر لیں. ابھی تک تو کسی نے فلسن پر اسرائیل درندگی کے خلاف کسی نے زبان نہیں کھولی.
استاد : ہاں بیٹے بات ٹھیک ہی کہہ رہے ہو.
عاقب : بات اس سے آگے بھی ہے. بات اس سے آگے بھی یہ ہے کہ یہ عرب ممالک جب تک دوسروں پر خصوصی طور پر امریکہ جیسے مکار اور عرب مخالف دوست پر بھروسہ کریں گے تو یہی سب ہوتا رہے گا اور اسرائیل اس کے سائے میں ایک ایک کرکے سارے مسلم ملکوں کو برباد کرتا رہے گا. عربوں کو پھر سے اپنے عزم وہمت، آپسی تال میل، برادرانہ حمیت، دور اندیشی کو واپس لانا ہوگا، ہزار مخالفت کے باوجود بیرونی حملہ آوروں کا متحدہ دفع، ساتھ ہی اپنے ملکوں میں کاروباری دفاعی مشینریاں قائم کریں. آرام طلبی، عیش پسندی سے پرہیز کریں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے واقعات سے سبق حاصل کریں ورنہ اسرائیل جیسا چپدی چپدی کاشوربہ چوہیا، شیطانی آفرینش ان پر حملے کرتا رہے گا. ایران نے بارہ دنوں میں دھول چٹادیا جبکہ مصر، قطر اور عمان اس کے میزائیلوں کو اسرائیل امریکہ کی چمچہ گری میں انٹر سیپٹ کررہے تھے اب انہیں سکّے کا دوسرا رخ نظر آیا ہے.
استاد : ہاں بیٹے تمہاری باتیں سو فیصد درست ہیں مگر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا. اور جب تک ان کے پاس جدید ہتھیار، ٹیکنالوجی اور گفتار کردار میں یکسانیت نہ ہوگی مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ اسرائیل کو لگام دینا ممکن نہیں ہے.

17/09/2025

بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا
از : وفا عباس
استاد ( عاقب سے) : دیکھا بیٹے تم نے اسرائیل کے ظالم حکمران نیتن یاہو کی ایک غلطی (قطر کے دوہا پر حماس کو بہانہ بناکر بمباری کردی) نے پوری مسلم دنیا کو متحد کردیا.
عاقب : حالات تو بظاہر ایسے ہی دکھ رہے ہیں. مگر!
استاد : پھر تم نے اگر مگر شروع کردیا.
عاقب : میں دراصل یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟
استاد : کیا مطلب؟
عاقب : کئی روز ہوگئے اسرائیل کے قطر پر حملے کے لیکن آج تک نہ تو قطر اور نہ ہی کسی مسلم ملک کی جانب سے کوئی مناسب و معقول کارروائی ہوئی. بس یہ ہواکہ قطر نے اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دیا اور وہاں کے ایک اخبار نے ٹرمپ کو نامرد کہا.
استاد : تمہارے مطابق کیا جنگ شروع کردینی چاہیے؟
عاقب : نہیں سر اب عربوں کے بازو شل ہوچکے ہیں.
میں دراصل یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ جنگ تو دور کی بات انہیں تو پہلی فرصت میں اسرائیل سے تمام رشتے ختم کر لینے کی ضرورت تھی. دوسری بات یہ کہ انہیں فوراً روس، چین اور یورپ کے ان ممالک کی طرف ہتھیار اور دیگر کاروبار کے لیے رخ کرنا چاہیے جو امریکہ مخالف ہیں، نیز آپس میں بھی بہتر تال میل رکھیں کاروبار کریں امریکہ کی غلامی نہیں، کیونکہ جب تک امریکہ کا بھی بائیکاٹ نہیں ہوگا اس کے مزاج ٹھکانے نہیں آئیں گے.
فی الحال ایران، چین اور روس، ہندوستان اور شمالی کوریا ان کے بہتر دوست ثابت ہوں گے. نیز برکس سکےً کو رائج کریں یہی اسرائیل اور امریکہ کا بہتر جواب ہے.
استاد : ہاں بیٹے تمہاری باتوں میں دور اندیشی اور سیاسی بصیرت ہے.

25/03/2025

सीजफायर टूटा, बरसने लगीं मिसाइलें, Israel में छिड़ गई भारी लड़ाई ? हमारा सहयोग कीजिए 1- UPI ID: ashokk34-1@okhdfcbank2- Financial assistance...

08/02/2025
08/02/2025

Is Ladies & Gents Stay Separate in Aziziya Makkah During Hajj 2025? 🕋🤔Are you preparing for Hajj 2025 and wondering whether men and women will have separat...

10/07/2024
سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ حیاتِ مبارکہ اور اسلامی خدماتاز:محمد واجد ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/59...
08/07/2024

سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ
حیاتِ مبارکہ اور اسلامی خدمات
از:محمد واجد
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی
(586ء/590ء مکہ، تا 6 نومبر 644ء، مدینہ)
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی بے مثال شخصیات میں سے ایک ہیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں، آپ کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ نے 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، جس کی مثال آگے جاکر پڑھیں گے. حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ کی اولادوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور عدی کی اولادوں میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
مختصر سوانح حیات :
ولادت: 583ء سنہ 40 ق ھ، مكہ، تہامہ، شبہ جزيرہ عرب
وفات: یکم محرم الحرام بمطابق 6 نومبر 644ء مدينہ منورہ، حجاز، جزيرہ نما عرب
مسجد نبوی، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبكر صديق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کے برابر میں، مدينہ منورہ
حسب ونسب:
والد: الخطّاب بن نفیل بن عبد العزی
والدہ: حنتمہ بنت ہشام بن المغيرہ
أشقاؤہ: زيد بن الخطاب، فاطمہ بنت الخطاب
ازواج: قريبہ بنت ابی اميہ، ام كلثوم مليكہ بنت جرول، ام کلثوم بنت ابوبکر، زینب بنت مظعون، جميلہ بنت ثابت، عاتکہ بنت زید، ام کلثوم بنت علی، ام حکیم
ذريت: عبيد اللہ، زيد الاكبر، زيد الاصغر، عبد اللہ، حفصہ، عبد الرحمن الاكبر، ابو شحمہ عبد الرحمن الاوسط، عبد الرحمن الاصغر، عاصم، عياض، فاطمہ، رقيہ۔
خدمات :
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجری تقویم کے بانی ہیں، ان کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔
آپ کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا،
نظام سلطنت:
اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔
امیر المومنین‘ خلیفۃ المسلمین شہیدِ محراب و منبر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اُمت کے بڑے فقیہ، مجتہد اور عالم تھے۔ رسول اللہﷺ نے بارہا آپؓ کے علم و فضل کی شہادت دی۔ احادیث مبارکہ میں ہے: ''نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حق بات کو عمرؓ کی زبان اور دل میں رکھ دیا ہے‘‘ (مسند احمد: 9213)، ''رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں ایک مرتبہ سو رہا تھا کہ میرے سامنے دودھ کا پیالہ لایا گیا، میں نے اسے پی لیا یہاں تک کہ سیرابی میرے ناخنوں سے ظاہر ہونے لگی، پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن خطاب کو دے دیا۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اس کی تعبیر کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس کی تعبیر علم ہے‘‘ (بخاری: 82)، ''نبی کریمﷺ نے فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے‘‘۔ (ترمذی: 3686)
حضرت عمرؓ کو متعدد اُمور میں اوَّلیت (پہل) کا شرف حاصل ہے:
(1) عَلانیہ ہجرت فرمائی۔ (2) امیر المومنین کے لقب سے مشہور ہوئے۔ (3) ہجری تاریخ کا آغاز کیا۔ (4) نمازِ تراویح باجماعت رائج کی۔ (5) قرآنِ مجید کو جمع کرنے کا مشورہ دیا۔ (6) بوڑھے اور نادار ذمیوں سے جزیہ (ٹیکس) ساقط کیا۔ (7) ہر شخص کے لیے اسلامی فوج میں بھرتی کو لازمی قرار دیا۔ (8) راتوں کو لوگوں کے احوال معلوم کرنے کے لیے گشت کا سلسلہ شروع کیا۔ (9) مجاہدین کے ناموں اور وظائف کے لیے رجسٹر مرتّب کیا۔ (10) راستوں میں مسافرخانے اور شہروں میں مہمان خانے تعمیر کروائے۔ (11) جیل خانہ، پولیس کا محکمہ اور فوجی چھاؤنیاں قائم کیں۔ (12) نئے شہر بسائے تاکہ بڑے شہروں کی طرف آبادی کا بہائو کم ہو۔ (13) مردم شماری کی تاکہ آبادی کے تناسب سے منصوبہ بندی کی جا سکے اور وسائل کی تقسیم ہو۔
آپؓ اپنے مقرر کردہ عُمّال کو تھوڑے عرصے بعد تنبیہ ونصیحت فرمایاکرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپؓ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں نے اپنے عُمّال کو تم پر اس لیے مقرر نہیں کیا کہ وہ تم پر ظلم کریں، تمہارے مال چھین لیں۔ میں نے اُنہیں اس غرض سے تم پر مقرر کیا ہے کہ وہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں اور تمہیں نبی کریمﷺ کی سنتیں سکھائیں لہٰذا جس شخص کے ساتھ اس کے برعکس سلوک کیا جائے تو وہ فوراً مجھے اطلاع دے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں عمر کی جان ہے! میں ضرور انصاف کروں گا اور ظالموں سے قصاص لوں گا۔ یہ سن کر حضرت عمروؓ بن عاص نے عرض کی: امیر المومنین! آپ اپنی اس بات پر غور فرمائیں، جسے آپ عامل بنائیں گے وہ مسلمانوں میں سے ہی ہو گا، اگر اس نے رعایا میں سے کسی کی تادیب کی تو کیا آپ اس سے قصاص لیں گے؟ فرمایا: ہاں! قسم بخدا میں اس سے ضرور قصاص لوں گا، آگاہ ہو جاؤ! کسی مسلمان کو نہ مارنا، کسی مسلمان کی تذلیل نہ کرنا، اُنہیں فتنے میں مبتلا نہ کرنا، اُنہیں سرحدوں پر جمع کرکے نہ رکھنا کہ تم اُنہیں اُن کے بیوی بچوں کے پاس واپس لوٹنے سے روکو، اُنہیں اُن کے حقوق پیہم ادا کرتے رہنا۔ (مسنداحمد:286)
آپؓ اپنے عُمّال کی کڑی نگرانی فرماتے اور ان کا احتساب کرتے رہتے تھے۔ جب کسی شخص کو عامل مقررکرتے تو اس سے چار باتوں پر حلف لیتے تھے: (1) گھوڑے پر سوار نہ ہونا، (2) لباسِ فاخرہ نہ پہننا، (3) عمدہ اور اعلیٰ کھانے نہ کھانا، (4) اپنے دروازوں کو بند نہ رکھنا اوردربان مقرر نہ کرنا کہ لوگ اپنی حاجتوں کے لیے نہ آ سکیں۔ ''ایک دفعہ حضرت عمرؓ بازار میں جا رہے تھے، ایک طرف سے آواز آئی: عمر! کیا عُمّال کے لیے کچھ اصول و ضوابط مقرر کرکے تم اپنے آپ کو عذابِ الٰہی سے بچا سکتے ہو؟ تمہیں خبر ہے کہ مصر کا عامل عیاض بن غنم باریک کپڑے پہنتا ہے، اس کے دروازے پر دربان مقرر ہے، حضرت عمرؓ نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور کہا: عیاض کو جہاں پائو، ساتھ لے آؤ۔ محمد بن مسلمہ نے وہاں پہنچ کر دیکھا تو واقعی دروازے پر دربان تھا اور عیاض باریک کپڑے کی قمیص پہنے بیٹھے تھے، اسی حالت میں انہیں ساتھ لے کر مدینہ طیبہ آئے، حضرت عمرؓ نے وہ قمیص اُتروا کر اون کی قمیص پہنائی اور بکریوں کا ایک ریوڑ منگوا کر حکم دیا: ''انہیں لے جا کر جنگل میں چراؤ‘‘، عیاض کو انکار کی مجال نہ تھی لیکن بار بار یہ کہتے: اس سے مر جانا ہی بہتر ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تجھے اس سے عار کیوں ہے؟ تیرے باپ کا نام غنم اِسی وجہ سے پڑا تھا کہ وہ بکریاں چراتا تھا‘‘۔ (ازالۃ الخفاء، ج: 2، ص: 252)
''حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدہؓ کو لکھا: اپنے اوپر پانچ باتوں کو لازم کر لو، تمہارا دین سلامت رہے گا: (1) جب تمہارے سامنے مقدمے کے فریقین حاضر ہوں تو معتبر لوگوں کی گواہیوں اور پختہ قسموں پرخاص توجہ دو، (2) کمزوروں کو اپنے قریب بٹھاؤ، یہاں تک کہ انہیں بولنے کا حوصلہ ملے اور ان کے دل میں جرأت پیدا ہو، (3) غریبوںکا خیال رکھو، انہیں دیر تک انتظار نہ کراؤ کہ وہ مایوس ہوکر لوٹ جائیں، (4) حبِ جاہ، حبِ مال اور نفسانی خواہشات سے اپنے نفس کو محفوظ رکھو، (5) حتی الامکان فریقینِ مقدمہ کے درمیان مصالحت کی کوشش کرو‘‘۔ (کِتَابُ الْخَرَاج لِلْاِمَام اَبیْ یُوسُف، ص:130)
ایک مرتبہ آپؓ کے عہدِ خلافت میں ایک شخص آپ کی خدمت میں اپنی فریاد لے کر حاضر ہوا اور کہا: امیر المومنین! مصرکے گورنر عمروؓ بن العاص کے بیٹے محمد بن عمرو نے میری پشت پر آٹھ کوڑے مارے ہیں، وہ کہتا ہے: میں گورنر کا بیٹا ہوں۔ آپؓ نے حکم دیا: محمد بن عمرو کو گرفتار کرکے لائو اور عمروؓ بن العاص کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا۔ محمد بن عمرو گرفتار کرکے لائے گئے، آپؓ نے اُس سے کہا: گورنر کے بیٹے محمد بن عمروکی پشت پر آٹھ کوڑے مارو۔ اُس شخص نے گورنرکے بیٹے کی پشت پرکوڑے مارے، حضرت عمرؓ بن خطاب نے اُس آدمی سے کہا: اب عمروؓ بن العاص کی پشت پر بھی ایک کوڑا مارو تاکہ اسے پتا چلے کہ اس کا بیٹا کیا کرتا ہے، اس پر اُس شخص نے کہا: امیرالمومنین !عمروؓ بن العاص نے مجھے کوئی کوڑا نہیں مارا، میں انہیں معاف کرتا ہوں۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ جم غفیر کے سامنے گورنر مصر حضرت عمروؓ بن العاص سے مخاطب ہوئے اور ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:
"عمروؓ بن العاص! تم نے لوگوں کوکب سے اپنا غلام سمجھناشروع کر دیا ہے، ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا"۔
حضرت عمروؓ بن عاص نے کہا: امیر المومنین! نہ مجھے اس واقعے کاعلم ہے اور نہ یہ شخص میرے پاس اپنی شکایت لے کر آیا۔ (کنز العمال، ج: 12، ص: 660)
آپ ؓنے اپنے عہدِ خلافت میں حربی تاجروں کو دارالاسلام میں آنے اور مسلمانوں کے ساتھ خرید و فروخت کی اجازت دی۔ عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں: سمندر پار ایک حربی قوم اہلِ مَنْبِجْ نے حضرت عمرؓ کو خط بھیجا: ہمیں اجازت دیں کہ ہم آپ کی سرزمین میں تجارت کریں، اس کے عوض آپ ہم سے عشر لے لیں۔ حضرت عمرؓ نے صحابۂ کرامؓ سے اس بارے میں مشورہ کیا اور اس کی منظوری دے دی۔ آپؓ ذمیوں کے ساتھ نیک برتاؤ کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ آپؓ نے گشت کے دوران ایک دروازے پر ایک ضعیف العمر نابینا دیکھا، آپؓ نے اس کی پشت پر ہاتھ رکھ کر پوچھا: تم اہل کتاب کے کس گروہ سے تعلق رکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں یہودی ہوں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: گداگری کی نوبت کیسے آئی؟ یہودی نے کہا: اس کا سبب جزیہ، بڑھاپا اور روزی کی مجبوری ہے۔ یہ سن کر آپؓ اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر لائے، اس کی ضرورت پوری کی، پھر بیت المال کے خازن کو لکھا: اس قسم کے دوسرے حاجت مندوں کی تفتیش کرو، خدا کی قسم! یہ انصاف نہیں ہے کہ ہم جوانی میں ان سے جزیہ وصول کریں اور بڑھاپے میں انہیں بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیں۔ اس کے بعد آپؓ نے ایسے تمام لوگوں کا جزیہ معاف کرکے بیت المال سے وظیفہ بھی مقرر کر دیا۔ (کِتَابُ الْخَرَاج، ص: 139)۔
آپؓ نبی کریمﷺ کے قرابت داروں کا بے حد احترام کرتے اور وظائف میں انہیں ترجیح دیتے تھے۔ حضرت عبداللہؓ بن عباس بیان کرتے ہیں: جب مدائن فتح ہوا توحضرت عمرؓ نے سارا مالِ غنیمت مسجد نبوی میں فرش پر ڈال دیا، سب سے پہلے حضرت امام حسنؓ تشریف لائے اور فرمایا: امیر المومنین! مالِ غنیمت میں سے ہمارا حق دیں، آپؓ نے انہیں ایک ہزار درہم دیے، پھر حضرت حسینؓ تشریف لائے، اُنہیں بھی ایک ہزار درہم دیے، پھر آپؓ کے بیٹے عبداللہؓ بن عمر تشریف لائے تو آپ نے اُنہیں پانچ سو درہم دیے، اُنھوں نے کہا: امیر المومنین! میں نبی کریمﷺ کے عہدِ مبارک میں جوان تھا، میں آپﷺ کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتا تھا جبکہ حضرات حسنؓ و حسینؓ اس وقت چھوٹے بچے تھے، مدینہ منورہ کی گلیوں میں کھیلا کرتے تھے، آپ نے انہیں ہزار ہزار درہم دیے اور مجھے صرف پانچ سو‘ میرا حق اُن سے زیادہ ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: بیٹے! پہلے وہ فضیلت تو حاصل کرو جو حسنین کریمینؓ کو حاصل ہے، پھر مجھ سے ہزار درہم کا مطالبہ کرنا، ان کے والد علی المرتضیٰؓ، والدہ فاطمۃ الزہراءؓ، نانارسولِ خداﷺ، نانی خدیجۃ الکبریؓ، چچا جعفرِ طیارؓ، پھوپھی اُم ہانیؓ، ماموں ابراہیمؓ بن رسول اللہ اورخالہ رقیہؓ و اُم کلثومؓ ہیں۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ خاموش ہو گئے‘‘۔ (اَلرِّیَاضُ النَّضْرَۃ، ج:2، ص:340 )۔
آپؓ کے عہدِ خلافت میں ایک دن حضرت حسنؓ آپ کے پاس تشریف لائے اور دیکھا: آپ کے بیٹے عبداللہؓ حاضری کی اجازت طلب کرنے کے لیے کھڑے ہیں اور اُنہیں اجازت نہ ملی، حضرت حسنؓ یہ خیال کرکے واپس تشریف لے گئے کہ جب اُنہوں نے اپنے بیٹے کو اجازت نہیں دی تو مجھے کب دیں گے، حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا تو آپ نے فوراً انہیں بلایا اور فرمایا: مجھے آپ کے آنے کی اطلاع نہیں تھی۔ حضرت حسنؓ نے فرمایا: میں اس خیال سے واپس چلا گیا کہ جب آپ نے اپنے بیٹے کو اجازت نہیں دی تو مجھے کب دیں گے، حضرت عمرؓ نے فرمایا: خدا کی قسم! آپ اجازت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں، عمر کے سر پر یہ جو بال اُگے ہیں، یہ اللہ کے بعد آپ کے سوا کس نے اُگائے ہیں؟ (یعنی رسول اللہﷺ کی برکت ہے) فرمایا: آپ جب چاہیں، بغیر اجازت آ جایا کریں۔ (اَلصَّوَاعِقُ الْمُحْرِقَۃ، ج: 2، ص: 521)۔
''ایک بار حضرت عمرؓ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: فاطمہ! اللہ کی قسم! آپ سے بڑھ کر میں نے کسی کو نبی کریمﷺ کا محبوب نہیں دیکھا اور خدا کی قسم! آپؓ کے والدِ گرامی کے بعد لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز نہیں‘‘۔ (اَلْمُسْتَدْرَکْ لِلْحَاکِم: 4736)
سیدنا عمر فاروقؓ کی فتوحات پر ایک نظر ڈالی جائے تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ آپؓ کے دس سال چار ماہ کے عرصۂ خلافت میں 2251030 مربع میل علاقہ فتح ہوا۔ بڑے بڑے علاقے مثلاً: شام، مصر، عراق، جزیرہ کرمان، خراسان، خوزستان، آرمینیا، آذربائیجان اور فارس آپ کے دورِ خلافت میں فتح ہوئے۔ آپؓ کے عہدِ خلافت میں ایک ہزار چھتیس شہر اپنے ملحقات سمیت فتح ہوئے، چار ہزار مساجد تعمیر ہوئیں، جامع مساجد کے محراب میں نو سو منبر بنائے گئے، کوفہ، بصرہ، جیزہ، فسطاط اور موصل کے نام سے نئے شہر آباد ہوئے
اخیر میں یہ عرض کرنا مناسب سمجھتا کہ اگر حیات نے اور چند سال یاوری کی ہوتی اور اپنوں نے غداری نہ کی ہوتی تو آپ اکیلے ہی پوری دنیاکے فاتح ہوتے۔

سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہنام و نسب:عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی...
08/07/2024

سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ
نام و نسب:
عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان جبکہ والدہ کا نام خنتمہ تھا جو عرب کے مشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں.
آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خاندان ایام جاہلیت سے نہایت ممتاز تھا، آپ کے جدا علیٰ عدی عرب کے باہمی منازعات میں ثالث مقرر ہوا کرتے تھے اور قریش کو کسی قبیلہ کے ساتھ کوئی ملکی معاملہ پیش آجاتا تو سفیر بن کر جایا کرتے تھے اور یہ دونوں منصب عدی کے خاندان میں نسلا بعد نسل چلے آ رہے تھے ددھیال کی طرح عمر ننھیال کی طرف سے بھی نہایت معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی والدہ ختمہ، ہاشم بن مغیرہ کی بیٹی تھیں اور مغیرہ اس درجہ کے آدمی تھے کہ جب قریش کسی قبیلہ سے نبرد آزمائی کے لیے جاتے تھے تو فوج کا اہتمام ان ہی کے متعلق ہوتا تھا۔

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Waqar E Alam Pandra Roza Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Waqar E Alam Pandra Roza Official:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share