Gawah Urdu Weekly

Gawah Urdu Weekly GAWAH (The Witness) is the first National and the oldest Urdu Weekly from South India Only Urdu Weekly newspaper with 15 years of continuous publishing
2.

GAWAH, the first National Urdu Weekly from Hyderabad was founded in Hyderabad in 1999. Over the years, by virtue of social media and digital identity, Gawah now boasts readership in nearly 50 countries worldwide. Founded by noted Senior Journalist Syed Fazil Hussain Parvez, Gawah reserves numerous distinctions, most notably as:
1. First National Urdu Weekly in multicolor (from South India)
3. Has

two doctorates in Journalism among other skilled minds on the editorial staff.
4. Has Correspondents in all major cities of India and almost all districts in South India.
5. Has a full-fledged nation-wide communication network run under the auspices of Media Plus, a multi-lingual advertising and PR agency. E-Paper:
The e-Paper is freely accessible to all at ww.gawahweekly.com

Podcasts:
Listen to the articles via Podcasts available at:
http://gawahnews.wordpress.com/gawah-audio/

Gawah Latest Issue Syed Fazil Hussain Parvez
04/06/2026

Gawah Latest Issue

Syed Fazil Hussain Parvez

سچ تو مگر کہنے دوبجھنے والے ہیں یہ بھڑکتے چراغڈاکٹر سید فاضل حسین پرویزکیا مودی کے زیر قیادت مرکزی اورمختلف ریاستوں میں ...
04/06/2026

سچ تو مگر کہنے دو
بجھنے والے ہیں یہ بھڑکتے چراغ
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

کیا مودی کے زیر قیادت مرکزی اورمختلف ریاستوں میں بی جے پی حکومتوں کا زوال شروع ہو چکا ہے؟ کیا راہل گاندھی کی یہ پیشین گوئی سچ ثابت ہوگی کہ اگلے برس تک مودی وزیر اعظم نہیں رہیں اور ملک میں ایمر جینسی نافذ ہو جائے گی؟ آثار تو ویسے ہی نظر آرہے ہیں جس طرح سے بی جے پی مرکزی اور ریاستی حکومتیں فرعونیت کا مظاہرہ کر رہی ہیں وہ یہ اشارہ کر رہی ہیں کہ یہ بھڑکنے والے چراغ بجھنے والے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق وزیر اعظم مودی نے سپریم کورٹ کو مکتوب روانہ کر کے درخواست کی ہے کہ مفاد عامہ کے مقدمے کی PILسے متعلق قانون کو بدل دیا جائے،اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ عدلیہ کے ماتھے کا داغ ہو گا۔ وزیر اعظم کی اس مبینہ اپیل سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اندرونی طور پر وہ کس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ RTIیعنی معلومات حاصل کرنے کا حق کا قانون بھی آہستہ آہستہ کمزور کیا جا چکا ہے کیونکہ حکومت اوراس کے ادارے اس موقف میں نہیں ہیں کہ وہ عوام اور عوامی اداروں کے حقائق کو جاننے سے متعلق سوالات کا جواب دے سکیں۔ ملک اور بیرون ملک وزیر اعظم مودی اور ان کی حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔نوجوان نسل جو کاکروچ پارٹی آف انڈیا کے بینرتلے متحد ہو رہی ہے سڑکوں پر آچکی ہے اندیشہ ہے کہ کہیں سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال جیسے حالات پیدا نہ ہو جائے؟ ان حقائق کی پردہ پوشی کے لیے بی جے پی مرکزی اور ریاستی حکومتیں ملک کو ہندو اور مسلمان میں تقسیم کر چکی ہے اور مسلم دشمن اقدامات کے ذریعے اکثریت طبقے کی خوشنودی حاصل کر رہی ہے انہیں یہ باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ بی جے پی ہندوؤں کی محافظ ہے اور ہندوستان ہندوراشٹر بن چکا ہے۔ مسلمان دوسرے درجے کا شہری ہے اس کے لیے ہندوستانی سرزمین تنگ کیا جا رہا ہے۔ اکثریتی طبقہ جنہیں اس بات کا یقین دلایا گیا کہ مودی نے ہی صدیوں سے چھینی گئی عظمت کو بحال کیا ہے، انہیں مذہبی جنون میں مبتلا کر دیا گیایہی وجہ ہے کہ کل تک جو ہر جاندار کی موت پر افسوس کرتے تھے اب کسی مسلمان کی موت، قتل انکاؤنٹر پر نہ صرف خوش ہوتے ہیں بلکہ مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ صرف ایک کا انکاؤنٹر کیوں پورے خاندان کا کیوں نہیں؟ حالیہ عرصے کے دوران قتل کی کئی وارداتیں پیش آئیں مسلم نے ہندو کو قتل کیا،ہندو نے مسلم کو قتل کیا ہندو نے ہندو کو قتل کیا۔ پولیس مسلم ملزم کے خلاف کاروائی میں اس قدر مستعدی کا مظاہرہ کرتی ہے کہ اگر ایسی مستعدی وہ اگر ہمیشہ کرتے رہے تو اس ملک سے جرائم ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ مسلم ملزم کا فوری انکاؤنٹر کر دیا جاتا ہے اس کے گھر پر بلڈوزر چلا دیا جاتا ہے اور ارکان خاندان کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ملزم اگر ہندو ہے تو اسے صرف گرفتار کیا جاتا ہے چاہے اس نے مسلمان کا قتل کیا ہو یا ہندو کا، جیل میں بھی وی آئی پی جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔پہلے عدالتوں میں قانون کی دیوی کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی تھی اب تو ججس کے آنکھوں پر بھی پٹی بندھی ہوتی ہے۔عدالتوں کا نا وقار باقی رہا نہ عوامی اعتماد یہ بھی حکومت وقت کے اشارے پر فیصلے دینے لگی ہے۔ غازی آباد کے کھیڑا علاقے میں اسد کے ہاتھوں سوریہ کا قتل ہوا، 24/ گھنٹوں کے اندر اس کا انکاؤنٹر کر دیا گیا، گھر پر بلڈوزر چلا دیا گیا، گھر کے 8/افراد خاندان جیل میں بند ہیں۔ بی جے پی، بجرنگ دل اور ہندوتواذہنیت کے حامل زہریلے قسم کے دو کوڑی کے یوٹیوبرز ان علاقوں میں زہر پھیلا رہے ہیں۔ سوال کیا جاتا ہے کیا اسد کے انکاؤنٹر سے خوش ہیں؟ اگر کوئی جواب نہیں دیتا تو اس کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ ان دو کوڑی کے بلیک میلرس کو سوال کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، انہیں سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔ ایک دو مقامات پر اگر انہیں سبق سکھا دیا جائے تو دوسرے احتیاط کریں گے۔ اسد کے انکاؤنٹر کے باوجود وہاں کے لوگوں کو اکسایا جا رہا ہے کہ وہ کھیڑا اور غازی آباد سے مسلمانوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں۔ انتظامیہ نے وہاں تیس برس سے قائم ایک مدرسے کو مہر بند کر دیا حالانکہ اس مدرسے میں کمسن بچے موجود ہیں۔ اس مدرسے کو غیر قانونی بتایا جا رہا ہے جبکہ اس مدرسے کے ذمہ داروں کا دعوہ ہے کہ ان کے پاس ضروری دستاویزات موجود ہیں مگر بغیرکسی پیشگی اطلاع کے بغیر مدرسے کو بند کرکے کسی کو بھی اندر جانے سے روکا جا رہا ہے، یہ انتظامیہ اور ارباب اقتدار کی مسلم دشمنی کی بدترین مثال ہے۔ بی جے پی اور ہندو تنظیموں نے پہلے ہی سے یہ اعلان کیا تھا بابری مسجد کے بعد وہ ہندوستان بھر سے کم و بیش تین ہزار مساجد کو حاصل کر کے انہیں مندروں میں تبدیل کریں گے، ایک اندازے کے مطابق بی جے پی کے 14/ سالہ اقتدار میں ایک سو سے زائد مساجد، آستانے، مقبرے زمین دوز کیے جا چکے ہیں۔ چند دن پہلے بنارس میں 200سالہ قدیم مسجد کو صرف تیس منٹ میں پانچ بلڈوزرز کے مدد سے اس دعوے کے ساتھ شہید کر دیا گیا کہ یہ ریلوے کی جائداد پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ بیالیس فٹ بلند ایک تاریخی مسجد اس وقت سے قائم ہے جب ہندوستان میں ریلوے کا وجود ہی نہ تھا، اگر یہ مسجد دو سو سالہ قدیم تھی تو 1830-1826کے درمیان تعمیر کی گئی تھی جب کہ ہندوستان میں ریلویز 1853میں متعارف کر وائی گئی اور بنارس میں پہلی ریلوے لائن بنارس اور ہاوڑہ کے درمیان 1862میں بچھائی گئی تھی تو پھر ریلوے لائن بچھانے سے لگ بھگ تیس برس پہلے تعمیر کی گئی مسجد غیر قانونی کیسے ہو سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب وہ لوگ کیسے دے سکتے ہیں جو ووٹ چوری کے ذریعے اور ارکان مقننہ کی سودے بازی سے حکومت تشکیل دیتے ہیں؟
فیروزآباد مسجد کو راتوں رات شہید کیا گیا، مسجد کمال مولا کو بھوج شالہ اور سرسوتی مندر قرار دے کر مسلمانوں کی عبادت کے لیے بند کر دیا گیا۔ مسجد عبادت گاہوں پر نظر ہے چونکہ عوام کو ایسے واقعات میں رکھنا ہے تاکہ ان سے کوئی سوال نہ پوچھے، یہ محض ان کی خوش فہمی ہے۔عوام کی اکثریت اندرونی طور پر ناراض ہیں خود بی جے پی میں اندرونی طور پر انتشار ہے،امیت شاہ پرائم منسٹر ان ویٹنگ ہیں، یوگی اگلے وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور کٹر عوام کی خواہش یہ ہے کہ یوگی مودی کی جگہ لے، مودی آخری وقت تک کرسی چھوڑنے تیار نہیں۔ اس پس منظر میں انا ملائی کا بی جے پی سے استعفی خود کی پارٹی بنانے کا اشارہ، چندرا بابوکی جانب سے چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے کاکروچ پارٹی آف انڈیا کی حمایت سے بہت کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بی جے پی نے ممتا بنرجی سے اپوزیشن لیڈر بننے کا حق بھی چھین لیا جب TMCکے منتخبہ 78میں سے 58ارکان کو ممتا بنرجی سے علیحدہ کر کے ان کا علیحدہ گروپ تشکیل دیا جن کے بارے میں حیدرآباد کے جوان سال سیاسی تجزیہ نگار ساجد پیر زادہ نے مغربی بنگال کے نتائج سے بہت پہلے یہ انکشاف کیا تھا کہ بی جے پی TMCکے بعض ارکان اسمبلی کو اسمبلی کی فنڈنگ کر رہی ہے اور نتائج کے بعد وہ ان کی تائید حاصل کرے گی۔ اگر بی جے پی کو اکثریت نہ ملتی تو یہ باغی گروپ کی تائید سے حکومت تشکیل دی جاتی۔ چونکہ بی جے پی کو قطعی اکثریت ملی تھی لہذا وہ نہیں چاہتی کہ ممتا بنرجی اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ان کے ناک میں دم کرے چنانچہ ممتا نے جنہیں پارٹی سے نکالا تھا انہیں اپوزیشن لیڈر کے طور پر ایوان میں تسلیم کر لیا گیا۔ بی جے پی ایسی سیاسی کھیل ہر ریاست میں کھیل رہی ہے مگر وقت اور اقتدار ہمیشہ ساتھ نہیں رہتا، جس طرح 15سال تک اقتدار پر رہنے والے ممتا بنرجی اب سڑک پر ہے اور مغربی بنگال کے طاقت ور ترین سمجھے جانے ان کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی جن سے بنگال کانپتا تھا آج بی جے پی کے سڑک چھاپ غنڈوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں بی جے پی اور بجرنگ دل اور دوسرے ہندوتوا لیڈروں کا بھی ایسا ہی حال ہوگا، اس کا ہمیں صد فیصد یقین ہے۔ بہر حال آج کے مسلم دشمن سماج میں جب چاروں طرف سے مسلمانوں پر یلغار ہو رہی ہے دہلی کے مالویہ نگر میں بھیانک آتشزدگی کے واقعہ میں اپنی جان کی بازی لگا کر کئی انسانوں کی بلا لحاظ مذہب، ذات اور عقیدہ جان بچانے والے نوجوان بھی مثال بنے ہوئے ہیں، ان کے تعریف کے لیے بی جے پی کے مقامی ایم ایل اے تعریف اور اعتراف خدمت کے لیے مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ انسانیت کو بچانے کی کوشش کی۔

Syed Fazil Hussain Parvez

Gawah Urdu Weekly editor Dr Syed Fazil Hussain Parvez  joins a live discussion on Eid in Palestine and Eid beyond border...
27/05/2026

Gawah Urdu Weekly editor Dr Syed Fazil Hussain Parvez joins a live discussion on Eid in Palestine and Eid beyond border | Live Program by TV on a very sensitive issue

MUNSIF TV LIVE | BEYOND BORDER | 27-05-2026----------------------...

Gawah Latest IssueSyed Fazil Hussain Parvez
26/05/2026

Gawah Latest Issue

Syed Fazil Hussain Parvez

سچ تو مگر کہنے دومعیز ایڈووکیٹ قتلکسی کی جان..کسی کی آن بان شان گئیڈاکٹر سید فاضل حسین پرویزحیدرآباد میں ایڈووکیٹ خواجہ ...
26/05/2026

سچ تو مگر کہنے دو

معیز ایڈووکیٹ قتل
کسی کی جان..کسی کی آن بان شان گئی
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

حیدرآباد میں ایڈووکیٹ خواجہ معیزالدین کے قتل کے المناک سانحہ پر صرف وکلا برادری ہی نہیں پوراشہر رنج و غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ شخصی طور پر اس بدبختانہ لرزا خیز واقعہ پر خود میرا دل خون کے آنسو رورہا ہے کیونکہ مرحوم معیز انوار العلوم کالج میں میرے ساتھی رہے اور ہر جمعہ مسجد عالیہ میں ان سے ملاقات ہوتی رہی۔ اپنے فرزند فرحان کی صلاحیتوں پر وہ ہمیشہ فخر کرتے تھے یہ بھی محض اتفاق ہے کہ میرے چھوٹے بیٹے کا نام بھی فرحان ہی ہے۔ ان کی اچانک موت سے جو صدمہ ہوا وہ اپنی جگہ ہے اس سے زیادہ صدمہ اس بات کا ہے کہ معیز کو ہلاک کرنے کی سازش میں مجاہد عالم خان اور ان کے والد نواب محبوب عالم خان کے ملوث ہونے کا الزام بھی ہے اور اس کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ مجاہد عالم خان کا نام آتے ہی نواب شاہ عالم خان مرحوم کا چہرہ تصور میں آگیا جو ہمارے دور میں انوار العلوم کالج کے چیئر مین تھے۔ انتہائی شائستہ، مہذب، شفیق، مہربان حیدرآبادی تہذیب کے علم بردار جن کا دھیما شگفتہ لہجہ کانوں میں رس گھولتا اور طلبہ کے حوصلوں کو بلند کرتا،مجاہد عالم ان کے پوتے ہیں۔نواب محبوب عالم خان کی غیر معمولی پرسنالیٹی ہر ایک کو مرعوب کرتی، ہم انوار العلوم کالج کے سابق طالب علم اور اسٹوڈنٹ لیڈر اوروہ کالج منیجنگ کمیٹی کے چیئر مین، ایک رشتہ بہر حال ہمارے درمیان رہا۔ پورے واقعے میں انوار العلوم کالج کا کسی نہ کسی طرح سے تعلق ہے اس لیے اس پر میرا یا مجھ جیسے انوار العلوم کے ہزاروں طلبہ کو ذہنی تکلیف پہنچی ہے۔ ہمارا عدالتی نظام جس مراحل سے گزر رہا ہے اس میں قطعی فیصلہ ہونے تک وقت لگے گا اور اس وقت تک سوائے معیز مرحوم کے ارکان خاندان کو دوسرے لوگوں کے لیے یہ قصہ پارینہ ہو چکا ہوگا۔ معیز مرحوم کے ارکان خاندان بالخصوص ان کے فرزند فرحان ایک نوجوان لائق فائق اپنے پیشے میں ماہر وکیل ہیں جو مقابل کی طاقت حیثیت سے پوری طرح واقف ہونے کے باوجود پورے ہمت کے ساتھ مقابلہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ قطعی فیصلے تک ملزم مجرم ثابت ہوتے ہیں یا ناکافی ثبوتوں کی بنا پر با عزت بری ہوتے ہیں۔ اس بات کی گیارنٹی نہیں کہ آج جو بیان دے رہے ہیں آنے والے دنوں میں یا برسوں میں وہ اپنے بیان پر قائم رہتے ہیں یا نہیں یا خود ان کا اپنا وجود بھی برقرار رہتا ہے یا نہیں جو بھی ہو ا قابل مذمت ہے۔
انوار العلوم کالج، ممتاز کالج، مدرسہ اعزہ کی جائدادوں پر یہ تنازعہ عرصے دراز سے جاری تھا، ان تینوں تعلیمی ادارے حیدرآباد اور اس کے قریبی اضلاع کے مسلم طلبہ اور طالبات کے لیے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سب سے اہم اور بڑے مرکز رہے۔ جنہیں کوئی اور کالج داخلہ نہیں دیتا ان کے لیے انوار العلوم اور ممتاز کالج کے دروازے کھلے رہتے۔ برائے نام فیس، اعلی معیاری تعلیم، بہترین فیاکلٹی، طلبہ اور اساتذہ میں ایک ایسا اٹوٹ رشتہ جو دونوں کی زندگی کی آخری سانس تک باقی رہتا۔ جناب خلیل اللہ حسینی جیسا پرنسپال جنہوں نے اپنے ہر ایک طالب علم کو قوم و ملت کا سپاہی بنایا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کالجس کے کردار بدلتے گئے۔ سابق طلبہ کو نظر انداز کیا گیا کسی کے مشورے قبول نہیں کیے گئے۔اردو میڈیم انوار العلوم کالج سے برخاست کر دیا گیا۔ خیر جب تک ہم جیسے طلبہ انوار العلوم کالج میں زیر تعلیم تھے اسے اپنا اپنی قوم کا اثاثہ سمجھتے تھے اب بھی اس سے وابستگی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ تاہم وہاں کے معاملات پر وہاں کے حالات پر سوائے کڑّنے کے کچھ اور نہیں کر سکتے۔ جہاں تک انوار العلوم کالج اور دیگر جائیدادوں پر حق ملکیت کے لیے شہر کی معزز شخصیات کے درمیان قانونی مقدمات کا تعلق ہے اس پر ہر اس مسلمان کو افسوس رہا ہے جن کا ان اداروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چونکہ قوم و ملت کی تعلیم و ترقی کے لیے ان اداروں کے بانیان نے جانے کتنی قربانیاں دیکر کتنی مشکلات کا سامنا کر کے اپنی جائیدادیں وقف کی تھیں۔ جسے قوم کے اثاثے کے طور پر تحفظ کرنے کے بجائے انہیں اپنی ملکیت بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ حالانکہ کسی کے پاس دولت کی کمی نہیں، ویسے بھی وقف کی ہوئی جائیدادیں امانت ہوتی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ سب سے زیادہ خیانت اوقافی جائیدادوں میں ہی ہوتی ہیں۔ مسلم دشمن طاقتیں اور حکومتیں تو ہم سے یہ جائدادیں چھین رہی ہیں اور ہم مسلمان ان پر قبضے کر کے ایک طرح سے چوری کر رہے ہیں۔ ہمارے بیشتر اوقافی جائیدادیں قانونی مقدمات کی وجہ سے تنازعات میں گھری ہوئی ہیں، فریقین مسلمان ہیں جو اللہ کو حاضر و ناظر جان کر عدالتوں میں جھوٹ کہتے ہیں۔ ان تنازعات نے کتنی جانیں لے لی ہیں اس کا ریکارڈ بھی کسی نہ کسی کے پاس تو محفوظ ہو گا، جس کی جان گئی اسے خود کچھ نہیں ملا جس نے جان لی وہ بھی ہر شئی سے محروم رہا۔ اخبارات میں آئے دن ملک کی مختلف ریاستوں کے وقف بورڈ س اور اس کے ارباب مجاذ کی بد عنوانیوں سے متعلق انکشافات ہوتے رہتے ہیں۔ ان بدعنوانیوں کا فائدہ مسلم دشمن حکومتوں نے اٹھایا۔ امید پورٹل پر جب اوقافی جائدادوں کے رجسٹریشن کے اندراج کا لزوم ہوا تو بار بار تاریخ میں توسیع ہونے کے باوجود صد فیصد اوقافی جائیدادوں کا رجسٹریشن نہ ہو سکا۔ بیشتر اداروں کے اندراج کو نامکمل قرار دے کر انہیں منسوخ کر دیا گیا۔ ابھی چند دن پہلے حکومت اتر پردیش نے 3100اوقافی جائیدادوں کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا۔ آسام، مغربی بنگال میں بھی ایسا ہی ہونے والا ہے اور جو دوسری ریاستوں میں ایسا ہوا تو تلنگانہ اور آندھرا بھی اس سے محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔
جب کبھی تنازعات ہوتے ہیں تو صاحب حیثیت اپنے حریف کے وکیل کو خرید لیتے ہیں وقف بورڈ سے فائلز غائب کر دی جاتی ہیں۔ کبھی کسی قدر ایماندار عہدے دار کو خریدا بھی جاتا ہے اگر خریدنے میں ناکام ہو ں تو پہلے دھمکی دی جاتی ہے پھر راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ جب سعد حسین آئی ایس وقف بورڈ کے چیئر مین تھے اس وقت قدیر نامی ایک ملازم وقف بورڈ اچانک لا پتہ ہو گیا تھا، چند دن بعد ایک گٹر سے ٹاٹ کے تھیلے میں بند اس کی نعش دستیاب ہوئی تھی۔ اکثر اوقافی یا دیگر جائیدادوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والے حریف ایڈووکیٹس کبھی آپس میں سمجھوتا بھی کرواتے ہیں اور کبھی اپنے پیشے کے تقدس کو پامال کر دیتے ہیں۔ اگر وکیل میں مقابلہ کرنے کا حوصلہ ہے تو اسے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ 2010میں ممبئی میں شاہد اعظمی کو اس کے چیمبرمیں قتل کر دیا گیا تھا جس پر ملک گیر احتجاج ہو ا تھا،اس پر فلم بھی بنائی گئی تھی۔ حید رآباد میں 2002میں منان غوری ایڈووکیٹ کو قتل کر دیا گیا تھا، جن کے بھائی عبد القدوس غوری بھی ایک نامور وکیل ہیں جنہوں نے منان غوری کی شہادت کے ذمہ داروں کو کیفر کردار پہنچایا تھا۔
ایڈووکیٹس پر حملے حادثات کی آڑ میں ان کے قتل کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ فروری 2021میں ہائی کورٹ میں پیروی کرنے والے ایڈووکیٹس میاں بیوی جی وامن راؤ اور ٹی وی ناگمنی کو ضلع پیداپلی میں دن دہاڑے قتل کر دیا گیا تھا۔ اگست 2024 میں ضلع نلگنڈہ کے یلماگوڑہ میں ایڈووکیٹ وجئے ریڈی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ مجتبی علی ایڈووکیٹ جو نامپلی بار ایسوسیشن کے رکن تھے انہیں چنچل گوڑہ میں چھرا گھونپ کر زخمی کر دیا گیا تھا۔ نومبر 2025میں عیدی بازار کے علاقے میں حبیب رضوان ہاشمی ایڈووکیٹ کو حملہ کر کے زخمی کیا گیا۔ فروری 2026میں ٹولی چوکی میں رئیس فاطمہ ایڈووکیٹ کو جائداد کی تنازعہ میں ہلاک کر دیا گیا۔ ایڈووکیٹس پر حملے تو عام ہیں سہراب الدین شیخ کے مقدمے کا فیصلہ سنانے جا رہے جسٹس لوہیا کو بھی کیسے ہلاک کیا گیا تھا اور کس نے ہلاک کیا تھا یہ ساری دنیا جانتی ہے۔ کبھی اس کی تحقیقات نہیں ہوئی۔ جولائی 2021میں دھنباد میں ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو اس وقت ایک آٹو رکشہ نے ٹکر دے کر ہلاک کر دیا جب وہ صبح کے اوقات میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ عام آدمی پارٹی سے وابستہ پرشانت بھوشن پر بھی بی جے پی اور ہندوتوا تنظیموں کے ارکان نے ان کے دفتر میں گھس کر حملہ کیا تھا جس میں وہ بچ گئے تھے۔
معیز الدین ایڈووکیٹ کے معاملے میں قطعی فیصلہ کیا ہوگا وقت بتائے گا البتہ عالم خان فیملی کو دامن پر جو داغ لگے ہیں وہ شاید ہی کبھی دور ہوپائیں گے۔ عزت۔ شہرت، دولت کے باوجود جو بدنامی ہوئی ہے اس سے حیدرآباد کے انتہائی مہذب شریف خاندان کو جانے کتنے عرصے تک ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑے گا؟۔ اللہ تعالیٰ نے جب ہر نعمت سے نوازہ تو پھر مزید کی حرص آخر کیوں؟ یہ سوال ہم بھی اور وہ بھی اپنے آپ سے کریں۔


Syed Fazil Hussain Parvez

Syed Fazil Hussain Parvez
25/05/2026

Syed Fazil Hussain Parvez

Gawah Latest Issue 29th May to 4th June 2026.
20/05/2026

Gawah Latest Issue 29th May to 4th June 2026.

Gawah Urdu Weekly Latest Issue
13/05/2026

Gawah Urdu Weekly Latest Issue

Gawah Latest Issue 15-21 May 2026
06/05/2026

Gawah Latest Issue 15-21 May 2026

سچ تو مگر کہنے توکون کس کے ہاتھ پر لہو تلاش کرے...؟ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویزمغربی بنگال میں جو کچھ ہوا اور آئندہ جو کچھ ...
06/05/2026

سچ تو مگر کہنے تو

کون کس کے ہاتھ پر لہو تلاش کرے...؟

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مغربی بنگال میں جو کچھ ہوا اور آئندہ جو کچھ ہونے والا ہے اس کی پیشن گوئی ’گواہ‘ کے گزشتہ شمارے میں کی جا چکی ہے۔ کیونکہ SIR کے نام پر جو کچھ ہو رہا تھا اور پھر جس طرح سے مرکزی حکومت نے اپنے ماتحت اداروں، ایجنسیوں، عہدیداروں کو جس طرح سے استعمال کیا اس سے اس بات کا یقین ہر باشعور ہندوستانی کو ہوچکا تھا کہ مغربی بنگال میں مشن لوٹس (کنول) کامیاب ہوگا۔ بہار میں جیتی ہوئی پارٹی کا تختہ الٹا گیا او رپلٹو رام کا جو حشر کیا گیا، وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ ممتا بنرجی جو کبھی بی جے پی کی بھی حلیف رہیں اور جب اس سے رشتے ناطے توڑ کر ٹی ایم سی کو مستحکم کیا، مغربی بنگال میں گرفت کو مضبوط کیا اور بی جے پی سے ٹکراتی رہیں تو ڈبل انجن سرکار کا نصب العین مغربی بنگال پر قبضہ ہوگیا تھا۔ اپوزیشن جماعتیں اب آہ و بکا کر رہی ہیں۔ اب ان کی آواز مرغ کی بانگ سے زیادہ نہیں۔ کانگریس کے قائد راہول گاندھی کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ممتا ہاری نہیں، ہرائی گئی ہیں۔ حالانکہ خود راہول گاندھی نے مغربی بنگال میں انتخابی ریالیوں میں اپنی تقاریر میں ممتا بنرجی پر کڑی تنقید کی، ان پر الزامات عائد کئے، ان کے خلاف ای ڈی، سی بی آئی کی کاروائی نہ ہونے پر مرکز سے سوال بھی کیا اور اب شکست خوردہ ممتا بنرجی کے ساتھ یگانگت کا اظہار کرنے سے حاصل ہونے والا کچھ نہیں۔ کمیونسٹ پارٹیاں جن کے طویل اقتدار کا ممتا بنرجی نے صفایا کردیا تھا۔ جو بی جے پی پالیسیوں اور نظریات کی سخت مخالفت رہی ہیں۔ اس نے بھی دشمن کا دشمن دوست کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے چپکے سے ممتا کے خلاف بی جے پی کے حق میں اپنے پارٹی کیڈر کا ووٹ استعمال کیا۔ ممتا کا ساتھ مسلمانوں نے دیا اور مسلمانوں کو بھی تقسیم کرنے کے لئے بی جے پی نے ’ہمایوں کبیر‘ کے فتنے کا استعمال کیا۔ بہرحال! اب یہ بات ساری دنیا جان چکی ہے کہ مغربی بنگال میں بی جے نہیں جیتی بلکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا، سپریم کورٹ، ای ڈی، سی بی آئی، آئی ٹی، سی آر پی ایف اس کے ساتھ ساتھ بنگال کی پولیس نے جمہوریت کا قتل کیا اور ٹی ایم سی کو ہرایا۔ انتخابی نتائج کے ساتھ مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ساتھ جو پر تشدد سلوک کیا جارہا ہے وہ بھی توقع کے عین مطابق ہے۔ مسجدوں کے مناروں کو گرایا جارہا ہے، تماشائیوں میں پولیس شامل ہے۔ ویسے ان سے یہ امید کہ وہ مسلمانوں اور ٹی ایم سی کارکنوں کو اور ان کی املا ک و جائیدادوں کو اشرار کے حملوں سے بچائیں گے‘ احمقانہ ہے۔ بی جے پی کی کامیابی کے اعلان کے ساتھ جلوس میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ پولیس اور سی آر پی ایف کے جوانوں کا ڈانس وائرل ہوچکا ہے، جسے دیکھ کر 6دسمبر 1992ء کی وہ تصویر تصور کے پردے پر ابھر آئی جب بابری مسجد کی شہادت کے بعد وہاں ایک چھوٹی سی مورتی رکھی گئی تھی تو ڈیوٹی پر تعینات پولیس جوان اس کی پوجا کرنے لگے تھے۔ ہندوتوا ہندو راشٹریہ کا منتر اس قدر عام ہوچکا ہے کہ ہر عمر اور ہر طبقے کے غیر مسلموں کی اکثریت مسلم مکت بھارت چاہتی ہے۔ سب سے شرمناک بات تو سیاست دانوں کے وہ بیانات ہیں جس میں وہ علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیا اس لئے وہ صرف ہندوؤں کے لئے کام کریں گے۔ کسی نے ہندوستانی مسلمانوں کا حال اور حشر’غزہ‘ کے مسلمانوں جیسا کرنے کا اعلان کیا۔ چند دن تک یہ ماحول ایسا ہی رہے گا پھر آہستہ آہستہ حالات معمول پر آجائیں گے۔ اس دوران جو لٹ گئے، جو بے گھر ہوئے، جن کے مکانات کو منہدم کیا گیا، جن کی دوکانوں کو جلا دیا گیا، انہیں نئے سرے سے اپنی زندگی شروع کرنی ہوگی۔ مسلمانوں کی ہمدردی کرنے والے صرف بیان بازی کریں گے۔ مظالم کی مذمت کریں گے اور اپنی سیاسی دکان چمکاتے رہیں گے۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی اچھی خاصی ہے۔ چونکہ متحد نہیں ہے بکھری ہوئی ہے، بکھرائی گئی ہے۔ مختلف جماعتوں کی جانب سے ان کی سودے بازی کی جاتی رہی ہے۔ اپنی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے ان کے ذہنوں پرہندو انتہاء پسندوں کا خوف مسلط کیا گیا ہے۔ ورنہ اتنی آبادی تو ناقابل تسخیر ہوتی ہے۔ ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں بسنے والے مسلمانوں کو ممتا بنرجی سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ انہیں دی دی کے ہارنے کا افسوس اور غم اس لئے ہے کہ ان کے دور اقتدار میں مسلمان دوسرے ریاستوں کے مقابلوں میں محفوظ رہے۔4/مئی کے دو پہر سے جب انتخابی نتائج کے رجحانات بی جے پی کے حق میں آنے لگے اس کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا جانے لگا اس سے اس بات کا اندازہ ضرور ہوگیا کہ بی جے پی اور اس کے چاہنے والوں کے ارادے کیا ہیں۔ 5/مئی کو بی جے پی کارکنوں نے پولیس کی اجازت سے اپنے جلوس میں نہ صرف بلڈوزرس شامل کئے بلکہ ان کے ذریعے ٹی ایم پی کی املاک کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور جائیددادوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اتر پردیش میں بلڈوزر کاروائی شروع ہوئی تھی، بہار میں بی جے پی آنے کے بعد وہاں بھی اس کی تقلید کی گئی، آسام کے چیف منسٹر کو یوگی سے کسی بھی معاملے میں پیچھے رہنا گوارہ نہیں۔ وہاں کاسی ایم تو مسلم دشمنی کے نئے ریکارڈس قائم کرتا جارہا ہے۔ اس کی بد قسمتی یہ ہے کہ مسلم دشمن تقاریر کے باوجود آسام اسمبلی میں 21 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے، دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کانگریس کے 20 میں سے 18 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ بدر الدین اجمل جن کا اپنا ایک مقام رہا ہے ان کی جماعت کو شکست فاش ہوئی۔ بدر الدین اجمل ایم پی کا الیکشن بھی ہار گئے تھے۔ ان کی جماعت جو کبھی آسام کی ایک طاقتور مسلم جماعت سمجھی جاتی تھی، آہستہ آہستہ کمزور ہوتی گئی۔ وہ کانگریس کی مخالفت کرتے رہے اور مسلم دشمن ہیمنت بسوا شرما کی دبے دبے لہجے میں تعریف کرتے رہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ ان کی انتخابی مفاہمت سے کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ جمعیت العلماء ہند نے مجلس سے مفاہمت پر نوٹس بھی دی تھی۔ کیرالا میں انڈین یونین مسلم لیگ کے 21 اور کانگریس کے 14 اور دیگر جماعتوں کے 9 مسلم امیدوار یعنی 44 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ آسام اور کیرالا میں کانگریس کے ٹکٹ پر مسلمانوں کی کامیابی پر بی جے پی قائدین تلملائے ہوئے ہیں، بلکہ انہوں نے کانگریس کو چھوٹی مسلم لیگ کا نام دے دیا ہے۔ مسلمانوں نے کانگریس یا دوسرے سیکولر جماعتوں کو اس لئے ووٹ دیا کہ بی جے پی مسلمانوں کو اس ملک کا شہری ہی نہیں مانتے، ان کے خلاف زہر اگلنے سے نہیں تھکتی۔ اگر وہ مسلمانوں کو اپنے قریب کرتی، انہیں ان کے مسائل میں دلچسپی لیتی تو کچھ عجب نہیں کہ مسلمانوں کے ووٹ بھی انہیں ملتے۔ ویسے جس دن بی جے پی مسلمانوں کی مخالفت ختم کردے گی، اس دن سے اس کا وجود ختم ہو جائے گا۔ یہ لکھنا اور کہنا غلط نہ ہوگا کہ بی جے پی کا وجود اس کی کامیابی صرف اور صرف مسلمانوں کی مخالفت کے طفیل میں ہے۔ ترنمول کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ بحث، زبانی ہمدردی یا بیان بازی نہیں کی، بلکہ اس نے مسلم امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دیئے۔ اور مسلمانوں نے بھی اس کی لاج رکھی۔ ایمان اسمبلی میں کوشش کی جائے گی مسلم ارکان کی آواز کو کچلنے کی۔ تمل ناڈو میں تبدیلی کی لہر چلی، اسٹالن نے بہت اچھا کام کیا، پوری ریاست کو ترقی سے ہمکنار کیا۔ تاہم جواں سال فلم اداکارٹی وجئے کی لہر میں ڈی ایم کے بہہ گئی۔ ماضی میں کئی مثالیں ہیں جب فلمی اداکاروں نے سیاست میں قدم رکھا تو عوام نے انہیں اپنے سر پر بیٹھا لیا۔ انادورائی،کرونا ندھی،جے للیتا،این ٹی راما راؤ نے اپنی فلمی مقبولیت کا سیاست میں خوب فائدہ اٹھایا تھا اور چیف منسٹر کے عہدوں پر فائز رہے۔ پون کلیان ڈپٹی چیف منسٹر آندھرا پردیش ہیں۔ ان کے علاوہ کئی ایسے اداکاروں کی تاریخ ملتی ہے جنہوں نے کہنہ مشق سیاستدانوں کو چاروں خانے چت کیا تھا، جیسا کہ امیتابھ بچن نے الہ آباد سے 8 مرتبہ ایم پی کا الیکشن جیتنے والے ایچ این بہوگنا کو شکست دی تھی۔ راجیش کھنہ، ونودکھنہ، ہیما مالینی، گوندا اور بھی کئی اداکار سیاست میں کامیاب رہے ہیں۔ جہاں تک تمل ناڈو سے وجئے کی کامیابی کا تعلق ہے۔ وہ کانگریس کے تعاون سے حکومت تشکیل دیں گے۔ فلمی دنیا میں سوپر اسٹار رہے سیاست میں کس حد تک کامیاب رہیں گے؟ آنے والا وقت بتائے گا۔ ان کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ سیکولر ہے اور مسلمانوں کی طرف جھکاؤ ہے۔ ان کی پارٹی ٹی وی کے سے بھی ایک مسلم خاتون کامیاب ہوئی ہیں۔ تمل ناڈو سے 7 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ چار ریاستوں سے مجموعی طور پر 104مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ جو ایک خوش آئند بات ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مسلم ارکان اسمبلی اپنی قوم کی نمائندگی کرنے میں کامیاب رہتی ہے یا اپنے مفادات کو ترجیح دینے میں۔بی جے پی کا مشن بنگال کامیاب رہا، اگلا پڑاؤ یقینی طور پر کیرالا ہی میں ہوگا۔ کانگریس کی زیر قیادت یو ڈی ایف نے140 میں سے 102نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جن میں مسلم امیدواروں کی تعداد 38 ہے۔جن میں سے 22 مسلم لیگ کے امیدوار ہیں۔ اتنی تعداد میں مسلم امیدواروں کی کامیابی یقینی طور پر بی جے پی اور اس کی ہم خیال جماعتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکے گی۔ یہ اور بات ہے کہ مسلمانوں کو اس بات افسوس ضرور رہے گا کہ مغربی بنگال کی کابینہ میں پہلی بار کوئی مسلمان شامل نہیں رہے گا۔ اتار چڑھاؤ سیاست کا حصہ ہے۔ حالات کب بدلتے ہیں یہ نہیں کہا جاسکتا۔ مسلمان حالات سے سبق لے کر خود کو کب بدلیں گے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

Address

Media Plus 5-9-322, Gun Foundry, Basheer Bagh, Telangana
Hyderabad
500001

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gawah Urdu Weekly posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Gawah Urdu Weekly:

Share