Gawah Urdu Weekly

Gawah Urdu Weekly GAWAH (The Witness) is the first National and the oldest Urdu Weekly from South India Only Urdu Weekly newspaper with 15 years of continuous publishing
2.

GAWAH, the first National Urdu Weekly from Hyderabad was founded in Hyderabad in 1999. Over the years, by virtue of social media and digital identity, Gawah now boasts readership in nearly 50 countries worldwide. Founded by noted Senior Journalist Syed Fazil Hussain Parvez, Gawah reserves numerous distinctions, most notably as:
1. First National Urdu Weekly in multicolor (from South India)
3. Has two doctorates in Journalism among other skilled minds on the editorial staff.
4. Has Correspondents in all major cities of India and almost all districts in South India.
5. Has a full-fledged nation-wide communication network run under the auspices of Media Plus, a multi-lingual advertising and PR agency. E-Paper:
The e-Paper is freely accessible to all at ww.gawahweekly.com

Podcasts:
Listen to the articles via Podcasts available at:
http://gawahnews.wordpress.com/gawah-audio/

🚨 TELANGANA SIR 2026 DRAFT ROLL RELEASED! 🗳️GAWAHThe Draft Electoral Roll for Telangana has been released.🔎 Check your n...
17/08/2026

🚨 TELANGANA SIR 2026 DRAFT ROLL RELEASED! 🗳️

GAWAH

The Draft Electoral Roll for Telangana has been released.

🔎 Check your name. Check your details. Make sure your voter information is correct and up to date.

📥 Download / Check the Draft Roll:
[CEO Telangana – SIR 2026]

Link to website:
(https://ceotelangana.nic.in/SIR_2026.html)

📢 Share this with your family, friends and WhatsApp groups. One share could help someone verify their voter details in time.

Save this post • Share it • Check your name

VoterList TelanganaVoterList VoterID CheckYourName VoterVerification Election2026 TelanganaElections Hyderabad HyderabadNews TelanganaNews ElectionNews VoterAwareness Democracy YourVoteYourRight VoterRights BreakingNews LatestNews PublicNotice ImportantUpdate TelanganaUpdates

Telangana SIR 2026, SIR draft roll Telangana, Telangana voter list 2026, draft electoral roll Telangana, voter list check Telangana, Telangana voter ID, SIR electoral roll, Hyderabad voter list, Telangana election update, voter verification Telangana, CEO Telangana SIR 2026, electoral roll download, check voter name Telangana
https://voters.eci.gov.in/download-eroll?stateCode=S29

05/08/2026
سچ تو مگر کہنے دوگودی میڈیا کون نہیں؟ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز9395381226گودی میڈیا ۔۔۔کچھ عرصے سے یہ اصطلاح ان ٹی وی چین...
05/08/2026

سچ تو مگر کہنے دو
گودی میڈیا کون نہیں؟
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
9395381226

گودی میڈیا ۔۔۔کچھ عرصے سے یہ اصطلاح ان ٹی وی چینلس کے اینکرس کے لئے استعمال کی جارہی ہے جو حکومت وقت کی مسلسل حمایت میں نیوز بھی پیش کرتے ہیں اور اپوزیشن کے ساتھ کسی موضوع پر مباحث کے دوران بھی حکومت ہی کے حق میں بات کرتے ہیں ۔ حالیہ عرصے کے دوران ان نیشنل اینکرس کو جو شہرت ملی اس سے کئی زیادہ بدنامی ہوئی۔ بلکہ کئی مقامات پر بالخصوص اپوزیشن کی تائید سے ہونے والے حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران ان اینکرس کے خلاف نہ صرف نعرے بازی کی گئی بلکہ انہیں وہاں سے چلے جانے پر مجبور کردیا گیا۔ اگر سوشیل میڈیا کا دور نہ ہوتا تو عام آدمی کو اس کا پتا بھی نہ چلتا۔ سوشیل میڈیا ان دنوں اپنی عوامی مقبولیت کی انتہائ پر ہے اور اسی کی بدولت بہت سارے حقائق منظر عام پر آنے لگے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ سوشیل میڈیا سے ملنے والی ہر خبر، تصویر ، ویڈیو معتبر اور قابل بھروسہ نہیں ہوتیں۔ کیونکہ جس طرح ٹی وی چینلس اپنی’ ٹی آر پی‘کے لئے سنسنی خیز خبریں ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں۔ سوشیل میڈیا پلیٹ فارم سے بھی ویوز اور لائکس کے لئے بہت سارے من گھڑت واقعات کو پیش کیا جاتا ہے اور بعض اوقات برسوں پرانی ویڈیوز کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے گویا وہ اسی دن کا واقعہ ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گودی میڈیا ہے کیا؟ یہ اصطلاح این ڈی ٹی وی کے نیوز پریزنٹر رویش کمار نے دی ہے، جو اس چینل کے ذریعے حق بات پیش کرنے کے لئے مشہور ہیں۔ جب این ڈی ٹی وی کو مودی موافق گروپ نے خرید لیا تو رویش کمار کو اس چینل سے الگ ہونا پڑا۔ اس سے بہت پہلے ابھیشار شرما نے ایک طویل مکتوب کو منظر عام پر لاتے ہوئے’ زی ٹی وی ‘سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ کیونکہ اس چینل کی پالیسی سے انہیں اتفاق نہیں تھا ۔ رویش کمار اور ابھیشار شرما اپنے اپنے یوٹیوب چینلس کے ذریعے غیر جانبدارانہ صحافت کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔سندیپ چودھری ان دنوں رویش کمار کی طرح نیوز 24 میں بڑی جرائت او ربے باکی کے ساتھ غیر جانبدارانہ نیوز اور مباحث کو پیش کر رہے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ کب تک ان کا انتظامیہ انہیں برداشت کرپائے گا؟ نیشنل ٹی وی چینلس کے اینکرس اس قدر بد نام ہو چکے ہیں کہ اگر وہ سچ بات بھی کہے تو اس پر کوئی یقین کرنے والا نہیں۔ اور بھی بہت سے سوشیل میڈیا چینلس ہیں جنہوںنے پوری ہمت کے ساتھ بے باکانہ رویہ اختیار کیا ہے اور ان کے یوٹیوب چینلس کے سبسکرائبرس کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے۔یوٹیوب چینلس میں بھی ایسے بے شمار ہیں جو نفرت ، دشمنی اور انتشار پھیلانے کا کام کر رہے ہیں،انہیں عوام کی اکثریت نے قبول نہیں کیا۔ کیونکہ پر امن احتجاجی مظاہروں میں جو ملک کے داخلی مسائل سے متعلق ہوتے ہیں انہیں متاثر کرنے اور احتجاجیوں کے ذہن سازی یا احتجاج کا رخ موڑنے کے لئے وہ اشتعال انگیز سوالات کرتے ہیں۔ جس کا اس احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ جیسے حال ہی میں جنتر منتر کے احتجاج کے دوران بعض فرضی رپورٹرس نے عمر خالد ، شرجیل امام، یا پاکستان سے متعلق سوالات کئے ، جس کا ان احتجاجیوں نے جو تعلیم یافتہ نوجوان تھے منھ توڑ جواب دیا اور ان شرپسندوں اور فتنہ پردازوں کو بے آبرو ہوکر وہاں سے نکلنا پڑا۔ جب کچھ نہ بن سکا تو انہوںنے 37 دن تک احتجاجیوں کے لئے کھانے پینے کا انتظام کرنے والے جنید سے متعلق سوالات اٹھائے کہ آخر اسے فنڈنگ کس نے کی؟ بلکہ ایک نالائق نے تو کاکروچ پارٹی کے بانی ابھیجت دیبکے کے والد کی آمدنی سے متعلق آر ٹی آئی سے معلومات حاصل کی اور سوال کیا کہ آیا 60 ہزار روپئے ماہانہ آمدنی والے نے کس طرح اپنے بیٹے کو اعلی تعلیم کے لئے امریکہ بھیجا۔ جس پر شدید رد عمل کا اظہار ہو اہے اور اس سے کہا گیا کہ وہ آر ٹی آئی سے پرائم منسٹر کیئر فنڈ سے متعلق معلومات حاصل کرے۔ بہرحال! یہ ایک حقیقت ہے کہ نہ پرنٹ ، نہ الیکٹرانک ، نہ سوشیل میڈیا غیر جانبدار ہے اور اب تو فلم میڈیا بھی ایک طرفہ ہوچکا ہے۔ میڈیا کبھی بھی غیر جانبدار نہیں رہا۔ ہر دور میں ارباب اقتدار کی حمایت کرتا رہا ہے۔ جومخالفت کرتے رہے انہیں آزمائشی حالات سے گزرنا پڑا، جیل کی چار دیواری میں رہنا پڑا۔ چاہے وہ ہمارے ملک کے ہوں یا کسی اور ملک کے ہر جگہ کا ایک ہی حال ہے۔ جتنے انٹر نیشنل چینلس ہیں اگر اپنی اپنی حکومتوں پر تنقید کرتے بھی ہیں تو مسلم دنیا کے خلاف ان کا رویہ جانبدارنہ ہوتا ہے۔ جہاں تک ہمارے اپنے ملک کا تعلق ہے آزادی سے پہلے کی صحافت کچھ اور تھی ، آزادی کے بعد کی صحافت کچھ اور ہے۔ اخبارات چاہے کسی بھی زبان میں نکلتے ہوں ان کی پالیسی ، ان کے نظریات اور مفادات کے مطابق ہوتے ہیں۔ کوئی حکومت کا حامی ، کوئی اپوزیشن کا وفادار، کوئی بائیں بازو کا ترجمان، اور ہر دور میں میں حکومت کی ترجمانی کرنے والے اخبارات ، اشتہارات کی شکل میں مالی فائدہ پہنچایا جاتا رہا۔ مخالف اخبارات کو معاشی بحران کا شکار کیا جاتا رہا۔ دور درشن ملک میں واحد ٹیلی ویژن چینل تھا جو روز اول سے لے کر آج تک حکومت کی پالیسیوں کی ترجمانی کرتا ہے ، اپوزیشن کو نظر انداز کرتا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس کی عوامی مقبولیت پرائیوٹ ٹی وی چینلس کی نظر ہوگئی۔ ایک عرصے تک پرائیوٹ ٹی وی چینلس کو عوامی اعتماد حاصل تھا۔ اس سے کئی گنا زیادہ مقبولیت نیوز یا سیاسی مباحث کے لئے نہیں بلکہ اس کے ٹیلی سیریلس کے وجہ سے ۔ آہستہ آہستہ یہ مقبولیت ، اعتماد، سوشیل میڈیا کی نذر ہوگیا۔ جب ملک کی کھرب پتی سرمایہ کاروں نے ٹی وی چینلس خرید لئے اور یہ سرمایہ کار حکومت سے اربوں روپئے کا خرچ معاف کروانے لگے تو ان کے چینلس حکومت کے ترجمان بن گئے اور اینکرس ان کے غلام بن گئے ۔ یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ اگر ہم اپنا جائزہ لیں ، اپنے گریبان میں جھانکیں ، دیانتداری کے ساتھ محاسبہ کریں تو ہم میں اور گودی میڈیا میں کوئی فرق محسوس نہ ہوگا۔ کیونکہ ہمارا اپنا میڈیا بھی غیر جانبدار نہیں ہے۔ لاکھ دعوی کرلیں کہ ہم حق و صداقت کے علمبردار ہیں ، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم بار بار کہتے ہیں کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے ، مگر ہمارے کسی بھی میڈیا نے اس تقدس کو برقرار نہیں رکھا۔ ہم جو بھی لکھتے ہیں اپنے اخبارات ، ٹی وی چینلس کے مالکین کی پالیسی کے مطابق لکھنے کے پابند ہیں۔ کیونکہ ہم ان کے ملازم ہیں۔اکثر و بیشتر بہت ساری خبریں ہمیں اپنے ضمیر کو کچل کر دینی پڑتی ہیں۔نہ چاہتے ہوئے بھی کسی کی کردارکشی کرنی پڑتی ہے ، جان بوجھ کر حق کو چھپانا پڑتا ہے ۔خبرمیں سے بعض اہم نام حذف کرنے پڑتے ہیں۔ تصاویر کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ کیا کریں ؟ مجبوری ہے، نوکری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہم اپنی وفاداریاں بدلتے ہیں تو پھر اس ادارے کے پالیسی کے مطابق قلم چلانا پڑتا ہے۔ ہندوستان کی تمام اخبارات چاہے وہ کسی بھی زبان میں نکلتے ہوں ، چاہے ان کی تعداد اشاعت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو ، سماج میں وہ چاہے کتنا ہی اونچا مقام کیوں نہ رکھتے ہوں؟ حقیقت یہ ہے کہ اپنی پالیسیوں اور تنگ نظری کی وجہ سے نظروں سے گر جاتے ہیں۔ جن کے مفادات وابستہ ہیں وہ سامنے تو عزت و احترام سے ضرور ملتے ہیں مگر دل ہی دل میں ان کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں وہ صرف وہی جانتے ہیں یا پھر خدا جانتا ہے۔ میڈیا کو غیر جانبدار رکھ کر بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے ، بلکہ اس سے میڈیا کی قدر و قامت بڑھ جاتی ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم قرآن مجید کوسرچشمہ ہدایت مانتے ہیں ، صحافت کے لئے ’’سورۃ الحجراۃ‘‘ میںرہنمائی ہے۔ جیسے سورۃ الحجرات آیت نمبر 6: ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کوانجانے میں تکلیف نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر شرمندہ ہونا پڑے‘‘۔اسی طرح ایک دوسرے کے تجسس سے بچنے کی تلقین کی گئی :’’اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور (پوشیدہ باتوں کی) جستجو نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں ناپسند ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔‘‘(آیت : 12)، اسی طرح مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروانے کی تلقین کی گئی ، چنانچہ ارشاد ربانی ہے ’’صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادو اور اللہ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو۔‘‘(آیت : 10)، نبی کریم ﷺ نے عیب جوئی سے منع فرمایا: جو دوسروں کے عیب پر پردہ پوشی کرے گا اللہ اس کے عیب کو چھپائے گا‘‘۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قرآنی تعلیمات سے واقف ہونے کے باوجود ہر روز اس سے انحراف کرتے ہیں۔ ہم عام صحافی اور مسلم صحافی کا بنیادی فرق یہی ہے کہ وہ آخرت پر ایمان رکھتا ہے ۔ اسے معلوم ہے کہ اپنے ہر عمل کا جواب اللہ کو دینا ہے۔میدان حشر میں نہ دنیاوی نام و نمود و رتبے ، عہدے کام آئیں گے اور نہ ہی کچھ اور ۔ ہماری تحریر ہمارے زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ ریکارڈ ہورہا ہے۔ جس کی جواب دہی یقینی ہے۔ تو کیوں نہ ہم اللہ اور اس کے حبیب کی رضا کے خاطر دنیاوی اختلافات، تنگ نظری،مفادات، کو ختم کرکے اپنے صحافتی ذمہ داریوں کو ایمانداری ، دیانتداری کے ساتھ نبھائیں۔ یقین مانئے ہمارا مقام گھٹے گا نہیں بلکہ بلند ہوگا۔زندگی مختصر اور آخرت کی زندگی ختم نہ ہونے والی ہے، اس مختصر سی زندگی میں اختلافات ، تنگ نظری سے کیا حاصل ہوگا؟ ہمارے درمیان سے کیسے کیسے جید صحافی اورصحافتی اداروں کے مالکین رخصت ہوگئے۔انہیں کوئی یاد کرنے والا نہیں ،جب تک زندہ تھے ان کے اطراف خوشامدیوں کی بھیڑ ہوا کرتی تھی، آج تو ان کا حال بقول شاعر:
’’جو کچھ تھے کبھی تھے مگر اب کچھ بھی نہیں ہیں،
ٹوٹے ہوئے پنجر سے پڑے زیر زمین ہیں‘‘۔
اور ذرا ایک نظر بزرگان دین کے آستانوں پر اور قوم و ملت کے سچے بے لوث خدمات گزاروں کے مزاروں پر ڈالیں جنہوںنے فقیری میں زندگی گزاری اور حق و صداقت کا پیغام عام کیا۔ جس کا صلہ اللہ کے پاس کیا مل رہا ہے ؟ وہ اللہ ہی جانتا ہے ، دنیا میں ان آستانوں پر ہزاروں عقیدتمند انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی مغفرت کے لئے تلاوت کلام پاک اور دعائیں کرتے ہیں۔

اچھی بات…سپریم کورٹ نے اس پر مثبت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوش آئند پیش رفت اور اچھی بات ہے۔ سپریم کورٹ کے بن...
31/07/2026

اچھی بات…
سپریم کورٹ نے اس پر مثبت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوش آئند پیش رفت اور اچھی بات ہے۔ سپریم کورٹ کے بنچ نے ریمارکس دیے کہ فریقین کے درمیان تمام تنازعات خوش اسلوبی سے حل ہو چکے ہیں، اس لیے کیس ان شرائط پر طے کیا جائے گا۔ عدالت کے سامنے یہ بھی واضح کیا گیا کہ طلاق کے علاوہ دونوں فریقین نے دیگر زیر التوا قانونی معاملات کو واپس لینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ جس کے بعد بالآخر سپریم کورٹ نے معاملہ حل کر لیا اور شادی کو ختم کرنے کا حکم دیا۔

طویل عرصے سے رہ رہے تھے الگ
عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ کافی عرصے سے الگ رہ رہے تھے۔ ان کی طلاق کا کیس کافی عرصے سے زیر التوا تھا۔ اب، تمام معاملات پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے ہونے کے بعد، سپریم کورٹ نے اس دیرینہ ازدواجی تنازعہ کو ختم کرتے ہوئے باہمی رضامندی سے طلاق کی منظوری دے دی۔

سچ تو مگر کہنے دوجنتر منتر سے رام پور تک....ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویزجولائی 2026 ہندوستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جا...
29/07/2026

سچ تو مگر کہنے دو
جنتر منتر سے رام پور تک....
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

جولائی 2026 ہندوستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ نیٹ پیپر افشائ کے خلاف طلبہ اور نوجوانوں کا تاریخ ساز احتجاج ایک انقلاب ثابت ہوا جس میں بی جے پی حکومت اور اس کے سربراہوں کی اکڑی ہوئی گردن خم ہوگئی۔ 12 برس کے دوران جس طرح سے جمہوریت کو آمریت میں بدل دیا گیا تھا۔جس طرح سے ہر نا انصافی، بد عنوانی، اور جبر و ستم کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کردیا گیا تھا اس کے پیش نظر یہ قیاس کیا جارہا تھا کہ طلبہ اور نوجوانوں کا احتجاج جو کاکروچ پارٹی آف انڈیا کے بینر تلے شروع ہوا تھا اسے بھی کچل دیا جائے گا۔ ویسے اس کے لئے ہر قسم کی کوشش کی گئی ، پولیس اور ان کے ساتھ آر ایس ایس ، بجرنگ دل کے غنڈوں نے خوف و دہشت پیدا کرنے کی کوششیں کی ، جسے جواں سال بہادر طلبہ اور طالبات نے ناکام بنا دیا۔ دھرمیندر پردھان کا وزیر تعلیم کی حیثیت سے استعفیٰ کو بی جے پی حکومت کے زوال کا آغاز سمجھا گیا۔ بی جے پی کی انانیت حد سے زیادہ گھمنڈ نے اسے گھٹنوں پر لا کھڑا کیا۔ ورنہ خود بی جے پی حکومت پردھان کو عہدے سے برخواست کرتی یا اس کا قلمدان وزارت تبدیل کردیتی تو احتجاج انقلاب نہ بنتا ۔ لداخ کے عوامی رہنما ’سونم وانگچوک‘ کے احتجاج میں شمولیت اور بھوک ہڑتال سے یقینی طور پر احتجاج کو تقویت ملی۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ طلبہ اور نوجوانوں کے اتحاد اور ان کی حکمت عملی، منصوبہ بندی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت اور ارباب اقتدار کے آگے نہ جھکنے کے عزائم کی بدولت یہ احتجاج کامیاب ہوا اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان جنہوںنے آر ایس ایس اور بی جے پی کی تعصب پسند تعلیمی پالیسی کو مسلط کرتے ہوئے نصابی کتابوں سے مسلم حکمرانوں کے شاندار دور کو حذف کرکے ان کی جگہ فرقہ پرستی پر مبنی مواد کو شامل کیا تھا ، استعفیٰ دینے کے لئے مجبور ہوگئے ۔ یہ بی جے پی حکومت کی ذلت آمیز شکست ہے ۔طلبہ کے نمائندوں جو کاکروچ پارٹی کی قیادت کر رہے تھے ان سے اور سونم وانگچوک سے مرکزی وزرائ نڈا اور جتندر سنگھ نے کئی وعدے کئے جس پر عمل نہیں کیا گیا۔ مثال کے طور پر کسی بھی احتجاجی طالب علم کے خلاف مقدمہ دائر نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر کئی ریاستوں میں نہ صرف مقدمے دائر کئے گئے طلبہ کو گرفتار بھی کیا گیا۔ یہ اقدام در اصل بی جے پی کا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارلینے کے مماثل ہے۔ جنتر منتر کی احتجاج میں مسلمانوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اس سے دور رہیں کیونکہ احتجاج کے بعد مسلمانوں کی شناخت کرکے ان پر مظالم ڈھائے جائیں گے۔ تاہم اسے نظر انداز کیا گیا حالانکہ یہ مشورہ واجبی تھا اور جو اندیشے ظاہر کئے جارہے تھے وہ درست ثابت ہوئے۔ 37 دن تک احتجاجی طلبہ و طالبات کے لئے خوراک اور پانی کا انتظام کرنے والے جنید اور ان کے ارکان خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا ثبوت ہے۔ مغربی بنگال میں چیف منسٹر ادھیکاری نے 5 مسلم نوجوانوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ نوجوان کبھی بھی جیل سے باہر نہیں آسکیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ مغربی بنگال کے این جی اوز کی قانونی کاروائی کی بدولت یہ پانچوں نوجوانو ں کو ضمانت مل گئی ہے جو مغرور ادھیکاری کی ایک بڑی شکست ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے حوصلے پردھان کے استعفیٰ کے بعد بلند ہیں ۔ چنانچہ اترپردیش اور دیگر ریاستوں میں بھی انہوںنے اپنے حقوق کے لئے ریاستی حکومت کی من مانی ، تعصب پسندی، دستور کی خلاف ورزی، کے خلاف احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ اور یقینی طور پر ان احتجاجی تحریکات کا اثر رام پور میں بھی ہوا، جہاں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتیں 28 جولائی کو گرائی جانے والی تھی۔ بی جے پی کا دور حکومت جاہلیت کا دور ہے جہاں ہزاروں تعلیمی اداروں با لخصوص سرکاری اسکولوں کو بند کردیا گیا ، مسلم انتظامیہ کے تحت قائم کئے گئے ادارے ان کا نشانہ ہیں۔ مذہبی اداروں،مدارس اور عبادت گاہوں پر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی ان کی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی ، اس کی ایک وجہ اس کے بانی سماج وادی پارٹی کے قداور رہنمائ محمد اعظم خان ہیں۔ اور جس کے نام سے یہ یونیورسٹی قائم کی گئی وہ ہندوستان کے عظیم مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر ہیں ۔ جنہوںنے ہندوستانی کی آزادی کے لئے لندن گول میز کانفرنس میں تاریخ ساز خطاب کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ جب تک ہندوستان کو آزادی نہیں ملے گی اس وقت تک وہ ایک غلام ملک میں واپس نہیں جائیں گے اور جب ان کا انتقال ہوا تو انہیں بیت المقدس میں سپرد خاک کیا گیا۔ وہ رام پور کے عظیم فرزند تھے، ان کی والدہ عبادی بیگم جو ’بی اما ں‘کے نام سے مشہورتھیںنے بھی تحریک آزادی میں سرگرم رول ادا کیا تھا۔جب ان کے دونوں بیٹے محمد علی اور شوکت علی گرفتار ہوئے تو خود ’بی اماں‘ نے جلسوں سے خطاب کیا ، کسی نے یہ افواہ پھیلا دی کہ علی برادران انگریزوں سے معافی مانگ کر جیل سے رہا ہوجائیں گے تو ’بی اماں‘ نے کہا کہ اگر میرے بیٹے نے انگریزوں سے معافی مانگی تو میں اپنی ہاتھوں سے ان کا گلا گھونٹ دو ں گی۔ اعظم خان ایک جید سیاستدان ہیں،اتر پردیش کے وزیر داخلہ رہے ، ڈپٹی چیف منسٹر بھی ، انہوںنے کسی سرکاری مدد کے بغیر ہزاروں کروڑ کی لاگت سے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی قائم کی کیں ، شاندار عمارت قائم کروائیں ، ایک ایسا کیمپس تعمیر کروایا جو ایک چھوٹا ہندوستان ہے، اس یونیورسٹی کے قیام کا بل اترپردیش اسمبلی میں 2006ئ میں منظور ہوا تھا اور برسوں بعد ایک آرٹی اے کی بنیاد پر یونیورسٹی کی عمارتوں کی غیر قانونی قرار دے کر اسے گرا دینے کا حکم دیا گیا تھا ، تاہم رام پور کی عوام نے مذہبی خطوط سے بالا تر ہوکر اس یونیورسٹی کی تحفظ کے لئے تاریخ ساز احتجاج کیا ۔ اتر پردیش حکومت بھلے ہی خود کو ناقابل شکست سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا ہے اور اس نے ابھی تک ہر شعبہ حیات میں مسلمانوں سے وابستہ ہر نقش مٹانے کی ممکنہ کوشش کی ہے۔ تاہم اس مرتبہ یوگی نے ہوش کی دوا لی اور وقتی طور پر ہی سہی جوہر یونیورسٹی کے خلاف کاروائی ٹل گئی۔ اس بات کا یقین ہے کہ اگلے انتخابات میں بی جے پی ہارے یا جیتے مولانا جوہر یونیورسٹی سلامت رہے گی کیونکہ اتر پردیش کے برادران وطن کو اس بات کا احساس ہوچکا ہے کہ تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی کا مطلب قوم کو اجالوں سے دور جہالت کی تاریکیوں میں رکھنا ہے۔ ہندو، مسلم ، سکھ، عیسائی سبھی نے متحد ہوکر یہ اعلان کیا ہے کہ کبھی بلڈوزر یونیورسٹی کی طرف بڑھے گا تو ان کی لاشوں پر سے گزر نا ہوگا۔ دہلی کے جنتر منتر میں کاکروچ کے احتجاج سے کم از کم اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ اکثر و بیشتر برادران وطن کی آنکھوں سے فرقہ پرستی کے پٹی نکل گئی ، کیونکہ دہلی پولیس نے جب طلبہ اور نوجوانوں پر لاٹھیاں برسائیں ، ہندو انتہا پسندوں نے ان پر پڑوسی ملک کے ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا تو انہیں احساس ہوا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ پر بھی ایسا ہی ظلم ہوا تھا، شاہین باغ کے احتجاج کو بھی کسی دوسرے ملک سے فنڈنگ نہیں ہوئی تھی ، جس طرح جنتر منتر پر جنید جیسے انسانیت نواز ، بے لوث مسلم نوجوان احتجاجیوں کے خدمت کر رہے تھے ، شاہین باغ میں بھی شاہین باغ کے خواتین کو اسی طرح سکھ اور دوسرے مذاہب کے برادران وطن مدد کر رہے تھے۔ ان نوجوانوں کو یہ احساس ہوا کہ بی جے پی حکومتیں فرقہ وارانہ نفرت ، آپسی دشمنی پیدا کرکے اپنا الو سیدھا کر رہی ہے ، چنانچہ انہوںنے ’’نہیں چلے گی نہیں چلے گی،ہندومسلم نہیں چلے گی چلے گی‘‘ بے شمار نوجوانوں نے بی جے پی کے جھنڈوں کو گھروں کے چھتوں اور کاروں کے بونٹ سے نکال پھینکا۔ یہ ایک نئے ہندوستان کی تعمیر نو کا آغاز ہے۔ رام پور میں مولانامحمد جوہر یونیورسٹی کے تحفظ کے لئے فرقہ وارانہ اتحاد ہندوستان کے سیکولر کردار کے احیائ کی علامت ہے۔ رام پور اپنے شاندار ماضی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے مشہور رہا ہے۔ حیدرآباد کی طرح یہ بھی ایک آزاد ریاست تھی ، جس پر1774 سے 1949تک مسلم حکمرانوں یعنی روہیلانوابوں کی حکمرانی تھی ۔جنہوںنے تہذیبی ثقافت ہی نہیں بلکہ رہن و سہن ، رسم و رواج حتی کہ ذائقوں تک کو روشناس کروایا۔ نواب علی محمد خان نے روہیلا کھنڈ کی بنیاد رکھی تھی۔ جب کہ نواب فیض اللہ خان جو رام پور کے پہلے نواب تھے ، رضا لائبری قائم کی تھی جس میں 18 ہزار نادر و نایاب قلمی نسخے، مخطوطات کا ذخیرہ ہے، یہ ایشیائ کی عظیم ترین لائبریری تسلیم کی جاتی ہے۔تاہم بی جے پی کے دور اقتدار میں اس کا بھی حال کسم پرسی میں ہے۔نواب فیض اللہ خان کے بعد اعظم خان نے علم و ادب کا مرکز قائم کیا۔ جس پر فرقہ پرستوں کی نظر بد ہے۔ رام پور کی قداور شخصیت جناب عاصم راجا جو اعظم خان کے قریبی ساتھی ہیں ان کے الفاظ میں اعظم خان نے یونیورسٹی قائم کرکے آنے والی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ سازشوں کے تحت انہیں قید میں رکھا گیا ہے ، اور ان کے قائم کردہ یونیورسٹی کے ساتھ بھی تعصب اختیار کیا جارہا ہے ، اللہ کی ذات سے یقین کامل ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ قائم کی گئی یہ جامعہ ہمیشہ قائم اور دائم رہے گی۔جہاں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کفایتی فیس پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بھلا یہ بات فرقہ پرستوں کو کب گوارہ ہوسکتی ہے؟ مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔


Syed Fazil Hussain Parvez

آئیے پڑھتے ہیں کہ ان کے استعفیٰ نامہ میں کیا کیا لکھا ہے۔’میرے نوجوان ساتھیو،میں گزشتہ 4 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے طلبہ، ...
25/07/2026

آئیے پڑھتے ہیں کہ ان کے استعفیٰ نامہ میں کیا کیا لکھا ہے۔
’میرے نوجوان ساتھیو،

میں گزشتہ 4 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے لیے وقف رہا ہوں۔ میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ ایک مضبوط، جامع اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔

میں ملک کے نوجوانوں کی امنگوں، جذبات اور ان کی جائز توقعات کا گہرا احترام کرتا ہوں۔ ہندوستان کی نوجوان نسل کے خوابوں کو پورا کرنا ہم سب کی سیاسی اور سماجی زندگی کا اخلاقی عزم رہا ہے۔ محترم وزیر اعظم جی کی دور اندیش قیادت میں قوم کی خدمت کرنے کا جو موقع مجھے حاصل ہوا، اس کے لیے میں وزیر اعظم جی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
لیکن 3 مئی 2026 کو منعقد ہوئے NEET-UG امتحان میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ حکومتِ ہند نے اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کیں اور امتحان کو منسوخ کردیا، جبکہ دوبارہ امتحان کی تاریخ کا اعلان کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اگلے سال سے اس امتحان کو سی بی ٹی (Computer-based-test) موڈ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس دوران ہماری سب سے بڑی ترجیح یہ رہی کہ 20 لاکھ سے زیادہ طلبہ کا امتحان کامیابی کے ساتھ منعقد کیا جائے۔ اس کے لیے whole of government approach کے تحت کام کیا گیا۔ اس میں حکومتِ ہند کے ساتھ ریاستی حکومتوں، خاص طور پر ضلع انتظامیہ کا اہم کردار رہا۔ اس کے ساتھ ہی طلبہ، سرپرستوں اور والدین کے تعاون سے 21 جون 2026 کو یہ امتحان مکمل ہوا۔
ے ہی دن سے میں نے اس کی ذمہ داری قبول کی اور اس صورتحال سے کبھی منہ نہیں موڑا۔ میرا عزم تھا کہ ہم کسی بھی قابل طالب علم کے امکانات کو ایگزام مافیا کی وجہ سے خراب نہیں ہونے دیں گے اور کسی بھی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔ 16 جولائی کو اعلان کیے گئے NEET UG کے نتائج اطمینان بخش رہے، جس میں غریب پس منظر سے آنے والے کئی قابل طلبہ کو بھی کامیابی ملی۔

لیکن اس دوران بھی کئی طلبہ کو گمراہ کرنے کے لیے ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے افراد نے رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی، جس سے دل انتہائی دکھی ہوا۔
میں ہمیشہ ہماری جمہوریت کی طاقت پر اٹل یقین رکھنے والا رہا ہوں اور نوجوانوں کی امنگوں، خوابوں اور توقعات کا گہرا احترام کرتا آیا ہوں۔ وہ صرف ہندوستان کا مستقبل ہی نہیں ہیں بلکہ ایک نئے اور وکست بھارت کے علمبردار، تخلیق کار اور مستقبل کے معمار بھی ہیں۔

گزشتہ 10 دنوں کے واقعات کو دیکھ کر میرا دل دکھی ہے۔ یہ میرے لیے ذاتی وقار کا معاملہ نہیں ہے۔ ہندوستان کی نوجوان طاقت ہی اس ملک کی اصل طاقت ہے۔

ہم ملک کی نوجوان طاقت کو غلط فہمیوں کے چکر میں پھنسنے نہیں دیں گے، یہی میرا عزم ہے۔ جنتر منتر اور ملک میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس صورتحال کا ملک مخالف طاقتیں فائدہ نہ اٹھائیں، ملک کا اتحاد برقرار رہے، ہندوستان کے کسی بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہ الجھے، ہمارے بچے اپنا وقت پڑھائی میں لگائیں اور اپنے کیریئر بنانے پر توجہ دیں، اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنا استعفیٰ محترم وزیر اعظم جی کو بھیج دیا ہے۔
میں محترم وزیر اعظم جی کی رہنمائی، اعتماد اور مسلسل تعاون کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔ اس کے ساتھ ہی کابینہ کے اپنے تمام معزز ساتھیوں، وزارت کے افسران اور ملازمین اور ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے ساتھ مجھے کام کرنے کا موقع ملا۔ قوم کی خدمت میری زندگی کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ میں اس کے لیے ہمیشہ وقف رہوں گا۔


Syed Fazil Hussain Parvez@

 Fazil Hussain Parvez
24/07/2026



Fazil Hussain Parvez

Amid ongoing student protests over the NEET paper leaks issue, the central government has further tightened the existing...
24/07/2026

Amid ongoing student protests over the NEET paper leaks issue, the central government has further tightened the existing laws against paper leaks and cheating. A day after Prime Minister Narendra Modi's late-night video message promising more action, the government made amendments to the Public Examinations (Prevention of Unfair Means) Act, 2024, to give it more teeth.

Listing out likely changes, sources told NDTV that a provision for setting up fast-track courts to try paper leak cases has been added to the law.

Prime Minister Modi had on Thursday morning posted that he has directed the setting up of fast-track courts for paper leak cases.

The fast-track courts would be mandated to dispose off a matter and announce punishment within three months.

Sources further said that amendments are also likely to increase both the jail term and monetary penalties for those involved in paper leaks


Syed Fazil Hussain Parvez

Union Ministers J P Nadda and Jitendra Singh met CJP delegation at the Constitution Club even as the two sides meet to f...
24/07/2026

Union Ministers J P Nadda and Jitendra Singh met CJP delegation at the Constitution Club even as the two sides meet to find resolution to the ongoing protest. This comes after an action-packed night on Thursday when Prime Minister Narendra Modi released a video message assuring the student protestors that a tough new law was on its way. Prime Minister’s message came hours after he announced fast-track courts to punish those behind paper leaks.

Activist Sonam Wangchuk, who was on a hunger strike for 26 days, ended his fast early Friday after MPs from both ruling and opposition blocs urged him to do so. The activist ended his fast at the Medanta Hospital in Gurugram in presence of Union Ministers JP Nadda and Jitendra Singh. The CJP and government are likely to hold talks at the Constitution Club at 12:30 pm on Friday.
After Wangchuk announced the end of his hunger strike, Prime Minister Narendra Modi said in a social media post, “I urge Sonam ji to follow his daily routine as advised by the doctors and regain his weight as soon as possible.” “I pray to the Almighty that Sonam ji remains healthy,” he added.
Cockroach Janta Party founder Abhijeet Dipke said he was relieved that Wangchuk has ended his fast, but announced that the peaceful protest will continue until Education Minister Dharmendra Pradhan resigns. Wangchuk has urged protesters to remain peaceful, saying he was pained by reports that “anti-social elements” were trying to provoke violence.

Address

Media Plus 5-9-322, Gun Foundry, Basheer Bagh, Telangana
Hyderabad
500001

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gawah Urdu Weekly posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Gawah Urdu Weekly:

Shortcuts

Share