Mohd Rashid alam ashrafi

Mohd Rashid alam ashrafi Hello guys Please follow and Sport My reels

बिहार किशनगंज के ठाकुरगंज के भोगडावर बाखोटोली गॉंव के रहने वाले मौलाना तौसीफ़ की ट्रेन न. 04314 में बरेली कैंट के पास धा...
30/04/2026

बिहार किशनगंज के ठाकुरगंज के भोगडावर बाखोटोली गॉंव के रहने वाले मौलाना तौसीफ़ की ट्रेन न. 04314 में बरेली कैंट के पास धार्मिक पहचान के आधार पर पिटाई करके चलती ट्रेन से फेंकने का परिजनों द्वारा आरोप हैरतनाक है, बाद में रेलवे ट्रैक के पास लाश मिली, मृतक की पत्नी का आरोप है कि घटना के समय उनके पति ने उन्हें वीडियो कॉल करके अपने साथ मारपीट होने की घटना बताई थी और उसी समय फोन कटने के बाद से ट्रैक के पास से उनके पति की लाश बरामद हुई।
का ये स्पष्टीकरण की खिड़की के पास बैठने से झपकी आने पर गिर जाने से मृत्यु हुई है ये दर्शाता है इस घटना की व्यापक जॉंच की आवश्यकता है।
क्योंकि मृतक की पत्नी के पास पति से बातचीत की रिकॉर्डिंग मौजूद है जिसमें वो झगड़े की बात अपनी पत्नी को बता रहे हैं।
रेल मंत्री अश्विनी वैष्णव जी से अनुरोध है कि इस मामले की उच्चस्तरीय जॉंच करवायें, ताकि स्थानीय पुलिस के साथ साथ रेलवे के उच्च अधिकारी इस मामले का सच सामने लायें और अपराधी चिंहित हो सकें।

30/04/2026

*« قرآن سے نرالی محبت »*

ایمان والوں کی قران کریم سے محبت بڑی نرالی ہوتی ہے
قرآن کریم یاد کرنے و لکھنے اور پھر اس کی مختلف علوم و فنون میں تفاسیر کی کثرت اِس عظیم کتاب سے محبت کا ثبوتِ واضح ہے
ابو عبد اللہ محمد بن عبد الله بن محمد بن علي ابن مفرّج الأنصاري المعروف `ابن غَطُّوس` قرآن کریم کے نسخہ جات تیار کرنے کے لحاظ سے مشہور ہیں
یہ اس کاریگری کے ساتھ قرآن کریم لکھتے تھے کہ *روشنائی میں مشک و عنبر کا استعمال کرتے تھے اور فتح نصب جر کے لیئے الگ الگ رنگ استعمال کرتے تھے*
ملوک و سلاطین و امراء ان کے لکھے نسخے بڑھ چڑھ کر خریدتے تھے
یہ ایک نسخہ ایک ہزار دینار کا ہدیہ کرتے تھے
> انہوں نے اپنے ہاتھ سے قرآن کریم ایک ہزار نسخے لکھے تھے اور قسم کھائی تھی کہ قرآن کریم کے سوا کوئی حرف نہیں لکھیں گے
ان کی ایک خاص جگہ جہاں ان کے سوا گھر والوں میں سے کوئی داخل نہیں ہوتا تھا n
یہ وہاں کتابت کرتے تھے
❗ اعلام للزرکلی ❗
ایک شخص نے ان سے قرآن کریم کا نسخہ ہدیتاً لیا اور اپنے ملک چلا گیا
*کچھ دن بعد ابن غطوس کو خیال آیا کہ فلاں آیت لکھنے میں غلطی ہو گئی ہے*
وہ رات کے وقت ہی گھر سے نکل پڑے
چالیس روز کا مسلسل سفر کر کے رات کے وقت اس آدمی کے گھر پہنچے
دروازہ کھٹکھٹایا
وہ آدمی باہر آیا تو ابن غطوس نے کہا قران کریم کا وہ نسخہ لاؤ
وہ آدمی کہنے لگا
میں کیوں لاؤں
`میں نے نہ چھینا نہ چوری نہ بلکہ پیسے دیئے ہیں`
ابن غطوس نے کہا
بالکل ایسا ہی ہے مگر ایک آیت کے لکھنے میں مجھ سے خطاء ہوگئی ہے
مجھے چین نہیں آ رہا آپ وہ نسخہ لائیں
وہ آدمی نسخہ لایا تو اس میں واقعی ایک جگہ لکھنے میں غلطی تھی
ابن غطوس نے جیب سے قلم نکالا اور درست کر دیا
پھر کہنے لگے
*الحمد للہ اب میں ذمہ سے بری ہوگیا ہوں*
قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ رب العالمین کا ہے اور وہ مؤمنین کے دِلوں میں قرآن کریم کی عزت و ہیبت ڈالتا ہے
`مؤمنین اپنے ایمان کی مقدار قرآن کریم سے محبت کرتے ہیں`
اس کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں
مگر افسوس آج کے مسلمان قرآن کریم پڑھنے سننے اور سمجھنے سے بہت دور ہیں
✍️

25/04/2026

اقبال
آغوش جوانی میں ہم لاکھوں گناہ کر بیٹھے اقبال
ہمیں معلوم ہی نہ تھا کے خُدا کو منانے کی اصل عمر جوانی ہے۔

24/04/2026

Bina dekhe bhi kisi se Mohabbat ho sakti hai kya?
Hmm Aashiq-e-Rasool ﷺ se hi puch lo🙂🥰

16/04/2026

"NAMAZ"
Allah Se Guftagu Ki
Aadat Ho Jaye Toh
Sajda Kiye Bagair Sukoon Nahi Milta..🤲❤️

16/04/2026

*ایک ہندسہ (1) کی اہمیت*
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﺎﻣﯽ ﺷﺨﺺ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺗﺎ تھا

ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ، ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﺗﮑﺮﯾﻢ ﺳﮯﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ، ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎﮨﮯ؟

ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﯾﮟ ! ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﮨﻨﺪﺳﮧ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﻟﯽ ﮔﺰﺭﮮ ، ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯﺑﮭﯽ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮐﺮﮐﮩﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ ، ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﺧﺪﺍ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﮈﺍﻝ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ، ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺻﻔﺮ ﻟﮕﺎﺩﻭﮞ ؛ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺻﻔﺮ ﻟﮕﺎﺩﯼ ﺍﺏ ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺩﺱ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﻣﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﻟﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﮧ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ، ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺳﻮﺭﻭﭘﯿﮧ ﻧﻔﻊ ﻣﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﻋﺮﺻﮯﺑﻌﺪﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﻄﺐ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮ ؟ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺮ ﮐﺎ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺯﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮨﻮﺗﺎ ، ﺩﻥ ﺑﮧ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﮔﺌﮯ ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﺎﻟﺪﺍﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﻮ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﺩ ﮐﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻣﺎﮦ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﮯ ، ﺟﻮ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ ؟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﺣﻀﺮﺕ ! ﻭﮦ ﯾﮧ ﮐﺎﺭﺧﯿﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﭼﻠﻮ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﻝ ﻭﻣﻨﺎﻝ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮐﮭﺎﺅ ! ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﭩﺎ ﺩﯾﺎ ؛ ﺍﯾﮏ ﻣﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻔﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻗﻌﺖ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ، ﺍﺳﮯ ﺟﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ ؛ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺻﻞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺻﻔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻭﺟﻮﺩ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ !! ﺑﻼﺗﻤﺜﯿﻞ ﻭﺗﺸﺒﯿﮧ ، ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧﷺ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ همارا ﺍﯾﮏ هے۔۔۔۔!!!

اور ﻧﻤﺎﺯ ﺭﻭﺯﮦ ، ﺣﺞ ، ﺯﮐﻮﺓ ، ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﺻﻔﺮﯾﮟ ؛ ﯾﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺳﻮ ، ﮨﺰﺍﺭ ، ﻻﮐﮫ ، ﮐﺮﻭﮌ ﮨﮯ ؛ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮯ ﻗﯿﻤﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ، ﭼﺎﮨﯿﮟ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ اللَّهَ ﮨﻤﺎﺭﺍ "ﺍﯾﮏ " ﺳﻼﻣﺖ ﺭﮐﮭﮯ !!

ﺁﻣﯿــﻦ ﺛﻢ ﺁﻣﯿــﻦ ﻳﺎ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎلمین

Copyبے میل شادیاں !!غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمیروشن مستقبل دہلی_____اب تک سنیما اور سیاست سے وابستہ افراد ہی بے میل شادیاں ک...
15/04/2026

Copy
بے میل شادیاں !!

غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمی
روشن مستقبل دہلی

_____اب تک سنیما اور سیاست سے وابستہ افراد ہی بے میل شادیاں کرنے کے لیے بدنام تھے لیکن اب گلی کوچوں میں بے موسم بیل کی طرح اُگ آنے والے سوشل میڈیا انفلوئنسر (Influencer) بھی بین المذاہب شادیاں کرکے ماحول کو پراگندہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں یوٹیوبر ثاقب سیفی اور کَنِکا شرما، کمبھ میلے سے مشہور ہوئی مونالیسا اور فرمان خان کی شادی بھی اسی بدنام روایت کی تازہ ترین کڑی ہے۔جس کے باعث شدت پسندوں کو اسلام پر انگلی اٹھانے اور پر امن ماحول میں نفرت پھیلانے کا موقع مل رہا ہے۔

________شادی اور قانون

بھارت ایک کثیر ثقافتی ملک ہے،جہاں مختلف مذاہب کے پیروکار آباد ہیں۔جمہوری ملک ہونے کے ناطے شادیوں کو مذہبی روایت اور ذاتی پسند پر موقف رکھا گیا ہے۔جس کی قدرے تفصیل اس طرح ہے:
1۔ ہندو میرج ایکٹ 1955
اس قانون کے تحت ہندو، جَین، بودھ اور سِکھ کمیونٹی کی شادیاں کی جاتی ہیں۔حالانکہ اب سِکھ کمیونٹی کے لیے الگ قانون کی سہولت دے دی گئی ہے۔ہندو میرج ایکٹ کے تحت ہندو مرد و عورت ہی ایک دوسرے سے شادی کر سکتے ہیں۔لڑکا لڑکی کا کنوارا ہونا اور پہلے سے شادی شدہ نہ ہونا بھی ضروری ہے۔خلاف ورزی پر سزا اور جرمانے دونوں کا التزام ہے۔

2۔ مسلم پرسنل لا ایکٹ 1937
اس قانون کے تحت مسلم مرد و عورت کے مابین شادی کی جاتی ہے۔مسلم پرسنل لا ایکٹ اور شرعی اعتبار مسلمان کسی غیر مسلم سے شادی نہیں کر سکتا۔نکاح کے لیے لڑکا لڑکی دونوں کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔بصورت دیگر نکاح منعقد نہیں ہوگا۔مذکورہ قانون میں مسلم مرد کے لیے اہل کتاب خاتون سے نکاح کا تذکرہ بھی درج ہے۔

3۔ آنند کارج ایکٹ 2012
یہ قانون سِکھ کمیونٹی کے لیے بنایا گیا ہے۔اب تک سِکھ سماج کی شادیاں ہندو میرج ایکٹ کے تحت ہوا کرتی تھیں لیکن سال 2012 سے اب سکھ سماج کی شادیاں اس قانون کے تحت منعقد ہونے لگی ہیں اور حکومت نے اسے منظوری دے دی ہے۔

4۔ اسپیشل میرج ایکٹ 1954
یہ قانون دو مختلف مذاہب یا مذہب بیزار افراد کے درمیان رشتہ ازدواج کو قانونی منظوری دیتا ہے۔اس قانون کے تحت کوئی بھی مرد و عورت کسی بھی مذہب کے ماننے والے سے شادی کر سکتے ہیں۔مذکورہ شادی رجسٹرار یا کورٹ کی نگرانی میں بغیر کسی مذہبی رسم کے کی جاتی ہے۔

مذکورہ تفصیل سے ظاہر ہے کہ آئینی طور پر شادی کے ضمن میں مذہبی احکام کو فوقیت اور ترجیح دی گئی ہے۔ہاں اسپیشل میرج ایکٹ ضرور لبرل اور مذہب بیزاروں کے لیے بنایا گیا ہے۔قانون میں اتنی وسعت کے باوجود کچھ لوگ مذہبی طریقے پر شادی کرتے ہیں نہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت، یہ لوگ جان بوجھ کر مذہبی شناخت کی ادلا بدلی کے ساتھ شادیاں کرتے ہیں۔مسلمان لڑکا پھیرے لیتا ہے اور ہندو لڑکی روزہ رکھنے کا دکھاوا کرتی ہے۔اس طرح انہیں سوشل لائم لائٹ ملتی ہے۔تنازع بڑھتا ہے۔انہیں اس تنازع سے وائرل ہونے اور مشہور ہونے میں مدد ملتی ہے۔

_____ٹرینڈ کیوں؟

ماضی میں سنیما اور سیاست کی دنیا میں مذہبی طور پر بے میل شادیوں کا چلن تھا۔جس کی بنیادی وجہ دولت اور عہدے کا حصول تھا، لیکن عوامی سطح پر ایسی شادیوں کو معیوب ہی سمجھا جاتا تھا۔مگر پیسہ کمانے کی حرص اور Different content کی بھوک میں اب سوشل میڈیا انفلوئنسر بھی بین المذاہب شادیوں پر اتر آئے ہیں۔کیوں کہ اس کے ذریعے بھرپور ویوز اور لائکس ملتے ہیں۔ہندو لڑکی مسلم تہذیب اور مسلم لڑکا ہندو کلچر کو As A Content پیش کرتے ہیں اور سوشل میڈیا سے کمائی کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک ایسا حلقہ تیار ہو گیا ہے جو عجیب و غریب اور امیدوں کے بر عکس مواد کو نہایت دل چسپی سے دیکھتا اور پسند کرتا ہے۔یہاں بوڑھے مرد کے ساتھ بچی، عورت کے ساتھ نوخیز لڑکے ،ہندو کے ساتھ مسلم اور مسلم کے ساتھ ہندو جیسے متضاد اور متنازع مناظر کو بہت زیادہ دل چسپی کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔عوام کے اسی ذوق کا خیال رکھتے ہوئے یوٹیوبروں کے درمیان بین المذاہب شادی کا تصور مضبوط ہو رہا ہے کیوں کہ اس کے ذریعے انہیں بھرپور سبسکرائبر اور لائکس مل رہے ہیں جس کی بدولت کمائی اور شہرت دونوں مل رہی ہے۔اسی وجہ سے جو برائی سنیما اور سیاست کے گلیاروں تک محدود تھی وہ اب چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں تک پھیل رہی ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ مسلم لڑکے لڑکیاں بھی اس برائی میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں۔

_________روک تھام کیسے ہو؟

سوشل میڈیا کے اس نشے کو روک پانا اتنا آسان نہیں رہ گیا ہے۔وائرل ہونے کی بھوک اور پیسہ کمانے کی ہوس نے یوٹیوبروں کی نگاہوں سے حیا، شرم اور لحاظ سب ختم کر دیا ہے۔اسے مذہبی طبقے کی سادہ لوحی ہی کہا جائے گا کہ "مذہبی ٹچ" والے دو چند ویڈیو کی بنیاد پر علما و ائمہ ایسے یوٹیوبروں کو جلسوں میں بلا کر خصوصی استقبال کرتے ہیں۔جس سے دوسروں کو بھی اس فیلڈ میں جانے کی ترغیب مل رہی ہے۔اس برائی کی روک تھام کے لیے چند نکات درج کئے جاتے ہیں شاید مفید ہوں:
🔹اس سلسلے میں اچھے خطاب اور مؤثر انداز میں عوامی ذہن سازی کی جائے۔
🔸جو لوگ ان کاموں میں ملوث ہیں، انہیں ترجیحی طور پر ہر ممکن طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی جائے۔
🔹علما و ائمہ کی جانب سے "مذہبی ٹچ" کی بنیاد پر کسی بھی یوٹیوبر کی حوصلہ افزائی ہرگز نہ کی جائے۔
🔸صرف مسلم نام کی وجہ سے ایسے دین بیزار افراد کی رتّی بھر بھی حمایت نہ کی جائے۔
🔹سماجی طور ایسے عناصر کے خلاف سماجی اور قانونی اقدامات کیے جائیں۔
🔸کمائی کے لیے جائز ذرائع اپنانے کی ترغیب دلائی جائے۔

سوشل میڈیائی نشہ اس وقت بہت بڑی بیماری بن گیا ہے۔اگر وقت رہتے اس بیماری کا علاج نہیں کیا گیا تو اس کے مہلک اثرات سے معاشرہ اور آنے والی نسلیں تباہ ہو جائیں گی۔

26 شوال المکرم 1447ھ
15 اپریل 2026 بروز بدھ

15/04/2026

*« وقف درست جگہ پہ کریں »*

63

ایک بچہ قاری صاحب کو سبق رہا تھا تھا
سورۃ الحجر کی اس آیت پر بھول گیا
> و اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ
اور جب بچہ بھولتا ہے تو حفاظ بخوبی جانتے ہیں وہ اس آیت کو بار بار پڑھتا ہے
اس آیت کا ترجمہ بنتا ہے
بے شک تجھ پر لعنت ہے
اب جب بچے نے آیت کا تکرار کیا تو قاری صاحب تپ کر کہنے لگے
> عليكَ وعلى والديك
تجھ پہ لعنت اور تیرے ماں باپ پہ لعنت 😅
❗ محاضرات الادباء ❗

جب ترجمہَ قرآن کو سمجھا جاتا ہے تو واضح ہوتا ہے کہ غلط جگہ پر وقف کتنا معنی بدل دیتا ہے
ایک دیہاتی جماعت سے نماز پڑھ رہا تھا
امام صاحب نے سورہ ملک شروع کی اور اس آیت کریمہ پہ آ کے رک گئے
> اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ
اگر الله مجھے اور میرے ساتھ والوں کو ہلاک کرے
تو دیہاتی کہنے لگا
الله صرف تجھے ہلاک کرے تیرے ساتھ والوں کا کیا قصور 😅

سب نمازی اتنا ہنسے کہ نماز ہی ٹوٹ گئی
امام صاحب بھول گئے آگے نہ پڑھ سکے تو دیہاتی صبر نہ کر سکا اور نماز میں ہی بول اٹھا اور قاری صاحب تو سمجھے بچہ مجھی پہ جما جما کے لعنتیں ڈال رہا ہے 😅
جو قران کریم درست نہیں پڑھتا وصل و وقف کا لحاظ نہیں کرتا قران خود اس پر لعنتیں ڈالتا ہے
✍️

13/04/2026

*امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زہد و ورع کا ایک واقعہ*

✍🏻 : نثار احمد خان (خلیل آباد)

امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کپڑے کے تاجر تھے، اور علمِ قراءت کے مشہور امام ، حضرت حفص بن سلیمان الأسدی الکوفی رَحِمَہُ اللہُ تعالٰی(90ھ – 180ھ) اُن کے شریکِ تجارت تھے۔!!
یہ قراءتِ عاصم بروایتِ حفص والے امام حفص رحمہ اللہ ہیں، جن کی قراءت و روایت کے مطابق ہم لوگ قرآنِ کریم پڑھتے ہیں۔ امام عاصم بن ابی النجود علیہ الرحمہ(متوفی 127ھ) قُرّاے سبعہ میں سے ایک مشہور امام ہیں۔
امام حفص کی جو قراءت ہے وہ امام حفص نے امام عاصم سے سیکھی، امام عاصم نے تلمیذِ مولا علی حضرت امام ابو عبد الرحمن السُلمی(متوفی 74ھ) سے، اور انھوں نے مولا علی کرّم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے۔ یعنی ہم جو قراءتِ حفص کے مطابق قرآن پڑھتے ہیں وہ مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کی قراءت و روایت ہے۔ امام عاصم نے امام حفص سے کہا تھا: أقرأتُك بما أقرأني أبو عبد الرحمن السُّلميُّ عن عليِّ بن أبي طالب۔اھ۔ [غاية النهاية لابن الجزري ١/٢٥٤]
امام حفص امام عاصم کے سوتیلے بیٹے اور ربیب تھے، اور انہی کے ساتھ رہتے تھے۔ اسی لیے امام عاصم سے روایت کرنے والے ان کے شاگردوں میں قراءتِ عاصم کے سب سے بڑے عالِم اور سب سے صحیح راوی امام حفص ہی ہیں۔ امام یحیی بن مَعین قدس سرہ(متوفی 233ھ) فرماتے ہیں: الرواية الصحيحة التي رُوِيت عن قراءة عاصم: رواية أبي عُمَر حفص بن سليمان. [غاية النهاية لابن الجزري ١/٢٥٤]

امام حفص نے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شراکت میں لگ بھگ تیس سال کپڑے کی تجارت کی ہے۔ اور امام ابو حنیفہ کی پاکیزگی، دیانت اور ورع کی گواہی بھی دی ہے۔ اُن کی موجودگی میں پیش آیا درج ذیل واقعہ ہم نے جب پڑھا تو حیران رہ گئے۔ آپ بھی پڑھیے:

ایک دن مدینہ کے ایک صاحب آئے اور امام ابو حنیفہ کی دُکان پر کپڑا خریدنے پہنچے۔ اس وقت امام حفص -رحمہ اللہ- دُکان پر تھے۔ امام اعظم -رحمہ اللہ- نہیں تھے۔ خریدار نے انہی کو امام ابو حنیفہ سمجھا۔ اور ایک کپڑا پسند کر اس کا دام پوچھا۔ امام حفص نے کہا : ایک ہزار درہم!! (جب کہ امام اعظم کے مطابق وہ کپڑا چار سو درہم میں بیچا جانا چاہیے تھا۔)
گاہک نے ایک ہزار درہم ادا کیے۔ کپڑا لیا اور پھر مدینہ شریف واپس چلے گئے۔
امام ابو حنیفہ جب دکان پر آئے تو امام حفص نے بتایا کہ فلاں کپڑا ایک ہزار درہم میں میں نے فروخت کر دیا ہے۔ (آج کا کوئی دکان دار ہوتا تو شاید خوش ہوتا اور انعام دیتا، مگر وہ میرے امام تھے جو متورعین اور زاہدین کے پیشوا ہیں۔) یہ خبر سنتے ہی ارشاد فرمایا:
آپ کو خریدار پر رحم نہیں آیا؟ اس کپڑے کی قیمت چار سو درہم تھی اور آپ نے ایک ہزار میں بیچ دیا۔؟!!!
پھر امام ابو حنیفہ -رحمہ اللہ- مدینہ حاضر ہوئے۔(نوٹ : مدینہ سے کوفہ کی دوری لگ بھگ ڈیڑھ ہزار کلومیٹر ہے)
امام اعظم نے مدینہ پہنچ کر خریدار کو تلاش کیا۔ ان سے بیع فسخ کی۔ ایک ہزار درہم انھیں دے کر کپڑا واپس لیا۔ اور پھر فرمایا کہ : چار سو میں یہ دوبارہ مجھ سے خرید لو۔
اس طرح دوبارہ سودا ہوا اور خریدار کو اپنا پسندیدہ کپڑا بھی مل گیا، اور چھ سو درہم بھی مل گئے!!!

(مناقب الإمام أبی حنیفۃ للاِمام شمس الأئمہ الزرنجری، ص ۱۶۶ ، ۱۶۷)

ایسا تھا امام ابو حنیفہ کا زہد و ورع!!

[[ نوٹ : اس واقعے میں "جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَجَاءَ إِلَى حَانُوتِ أَبِي حَنِیفَۃَ"..."و رَجَعَ إلى المَدِينَةِ" اور "فَخَرَجَ أَبُو حَنِيفَةَ إِلَى الْمَدِينَةِ" کے الفاظ ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ "المدینۃ" سے "مدینہ شریف" مراد ہے۔ اس کے علاوہ اس واقعے میں ہے کہ خریدار امام حفص کو ہی امام ابو حنیفہ سمجھ رہا تھا۔ یعنی وہ امام ابو حنیفہ کو نہیں پہچانتا تھا۔ اس سے بھی ظاہر یہی ہے کہ وہ خریدار کوفہ کے نہیں تھے، ورنہ امام ابو حنیفہ کو ضرور پہچانتے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں "المدینۃ" سے "مدینہ منورہ" مراد ہے۔ اسی لیے ہم نے "المدینۃ" کا ترجمہ "مدینہ" کیا ہے۔ اور اگر "المدینۃ" سے لغوی معنی "شہر"(کوفہ) ہی مراد ہو –جو خلافِ ظاہر ہے– تب بھی ہمارے مدعا پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ واقعہ امام ابو حنیفہ کے غایتِ ورع کی ایک روشن دلیل ہے۔ رضی اللہ تعالی عنہ و أرضاہ عنا۔]]

- نثار احمد خان
22 جنوری 2026ء

11/04/2026

*« سُستوں کا جہان »*

61

*ایک شخص کا غلام نہایت سست تھا*
ایک بار آقا نے کہا پھل لے آؤ
غلام
*انگور لاؤں یا انجیر لاؤں ؟*
آقا
انگور لاؤ
غلام
سیاہ لاؤں سے سفید ؟
آقا
سیاہ لے آؤ
غلام
`چھوٹے یا بڑے ؟`
آقا غصے میں آ گیا
کہنے لگا
خدا کی قسم میں تمہیں ماروں گا
غلام
*ڈنڈے سے ماریں گے یا کوڑے سے ؟*
آقا چیخ پڑا
دفع ہو جاؤ میں تمہیں آزاد کرتا ہوں
غلام
آپ اس کی گواہی دیتے ہیں یا نہیں ؟
آقا
میں گواہی دیتا ہوں
غلام
قاضی کے سامنے یا پڑوسیوں کے سامنے ؟
*آقا ڈنڈا اٹھا کے غلام کے پیچھے بھاگا*
غلام بھاگا اور کہنے لگا
آپ میرے پیچھے چل کر آ رہے ہیں یا بھاگ کر ؟
آقا غش کھا کے گِر پڑا
غلام واپس پلٹا اور کہنے لگا
آپ منہ کے بل گرے ہیں یا گدی کے بل گرے ہیں ؟
آقا چیخا نہ اِس طرح نہ اُس طرح بلکہ میں مر گیا ہوں
غلام
*آپ کو آج دفنانا ہے یا کل ؟*

❗ محاضرات الادباء ❗
دنیا میں بہت عجوبے ہیں
سست لوگوں کا بھی اپنا ہی جہان ہوتا ہے
سست لوگوں کی عجیب و غریب کہانیاں لکھی گئی ہیں
*ویسے تو سستی ہر ایک میں ہوتی ہے مگر جتنا سست فند تھا کوئی نہ تھا*
✍️

Address

Islampur
JAINGAON

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mohd Rashid alam ashrafi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share