Shafique Faizi

Shafique Faizi For Political views and analysis and support value bassed politics please like our page and share it

یوپی مدرسہ بورڈ کے کامل اور فاضل کی اسناد کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے جوڑے جانے کی خبر آئی تو بہت سے لوگوں نے سمجھ لیا ...
15/09/2026

یوپی مدرسہ بورڈ کے کامل اور فاضل کی اسناد کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے جوڑے جانے کی خبر آئی تو بہت سے لوگوں نے سمجھ لیا کہ شاید خطرہ ٹل گیا ہے۔ لیکن میں نے اسی وقت کہا تھا کہ حکومت کی کہنی اور کرنی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

اس وقت مدارس سے وابستہ بعض افراد کی او پی راجبھر سے ملاقات ہوئی تو انہیں یہ بات بے سر و پیر محسوس ہونے لگی۔ انہیں یقین دلایا گیا اور شاید یہی سمجھا گیا کہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔

لیکن اب اسی او پی راجبھر کے حوالے سے ایک بار پھر یہ خبر گردش میں ہے کہ کامل اور فاضل کی ڈگریاں مسترد کی جائیں گی اور ان اسناد کی بنیاد پر پہلے سے ملازمت کر رہے افراد کی نوکریاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

فی الحال اس خبر کی چرچا کم ہے، لیکن آنے والے دنوں میں اس کے زور پکڑنے کے امکانات موجود ہیں۔

ممکن ہے مدارس کے ذمہ داران کو پوری قوت کے ساتھ یقین دلایا جائے کہ یہ خبر جھوٹی ہے، بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف یقین دہانیوں سے خطرہ ٹل جاتا ہے؟

میرا خدشہ آج بھی وہی ہے۔

جیسے جیسے یوپی میں بی جے پی کے لیے انتخابی صورتِ حال مشکل ہوتی دکھائی دے گی، مین اسٹریم میڈیا کے ذریعے اس معاملے کو سرخیوں میں لائے جانے کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔ فی الحال ڈیمیج کنٹرول کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اگر بی جے پی کو اپنی گرتی ہوئی ساکھ سنبھالنے میں دشواری پیش آئی تو مدارسِ اسلامیہ کے خلاف اچانک کریک ڈاؤن کی مہم تیز کی جا سکتی ہے۔

اور ایسی صورتِ حال میں کامل اور فاضل کی اسناد ایک انتہائی مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہیں۔

اصل خطرہ کہاں ہے؟

بہرحال ذرائع کے حوالے سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ کامل اور فاضل کی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازمت کرنے والے افراد کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔

یہ محض کسی ایک سند کا مسئلہ نہیں۔ اس سے ان تمام افراد کا مستقبل وابستہ ہے جو انہی اسناد کی بنیاد پر برسوں سے ملازمت کر رہے ہیں۔

لیکن افسوس یہ ہے کہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے فی الحال کوئی مؤثر راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

اور مدرسہ ٹیچروں کی جانب سے کوئی مؤثر مہم چلائی جائے گی، اس کی امید بھی بہت کم ہے۔

کیوں؟

کیونکہ مدرسہ ٹیچروں کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ رشوت کے دم پر حاصل کی گئی نوکری کو وہ اپنی دانش مندی اور صلاحیت کا معیار سمجھنے لگے ہیں۔ اجتماعی صلاح و مشورہ، قانونی جدوجہد اور منظم مہم ان کی ترجیحات میں کہیں نظر نہیں آتی ہے۔

محکمۂ تعلیم کے افسران کے سامنے جس انداز میں مدرسہ ملازمین سجدہ ریز ہیں وہ اس بات کا غماز ہے کہ ان کے پاس شاید رشوت کے علاوہ کوئی دوسرا ہتھیار باقی نہیں رہا۔

آئینی لڑائی کا جذبہ ختم۔

زمینی جدوجہد کا حوصلہ ختم۔

اجتماعی مزاحمت کی صلاحیت ختم۔

بس کسی طرح معاملہ دب جائے، کسی طرح کچھ وقت مل جائے، کسی طرح نوکری بچ جائے۔

ممکن ہے اس طریقے سے کچھ عرصے کی مہلت مل بھی جائے، لیکن یہ مستقل حل نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ رشوت کسی مسئلے کا حل نہیں، صرف مسئلے کو کچھ وقت کے لیے ٹالنے کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔ آج اگر کسی طرح نوکری بچ بھی گئی تو کل کیا ہوگا؟ اگر سند ہی سوالیہ نشان بن گئی تو پھر کس کے دروازے پر جائیں گے؟

اب بھی وقت ہے

اس مسئلے کو محض افواہ سمجھ کر نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

آج خاموشی ہے، کل شور ہو سکتا ہے۔

آج خبر محدود ہے، کل سرخی بن سکتی ہے۔

آج یقین دہانیاں دی جا رہی ہیں، کل حکم نامہ سامنے آ سکتا ہے۔

اس لیے مدارس کے ذمہ داران کو وقتی اطمینان کے بجائے مستقل حل کی طرف سوچنا ہوگا۔

کیونکہ جو لوگ ہر بحران کے وقت صرف یہ انتظار کرتے ہیں کہ کوئی صاحبِ اقتدار انہیں یقین دلا دے کہ ’’ایسا کچھ نہیں ہوگا‘‘، وہ دراصل مسئلے کا حل نہیں ڈھونڈ رہے ہوتے، صرف اپنے آپ کو تسلی دے رہے ہوتے ہیں۔

کامل اور فاضل کی اسناد کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

اور اگر خطرہ واقعی سامنے آیا تو اس وقت گھبراہٹ، افسران کے چکر اور رشوت کے راستے تلاش کرنے کے بجائے آج ہی یہ سوچنا ہوگا کہ آئینی، قانونی اور زمینی سطح پر اس کا مستقل حل کیا ہے؟

اس مستقل حل پر آئندہ تفصیل سے بات ہوگی۔

میری اگلی تحریر چھوٹ نہ جائے، اس لیے پیج کو فالو کریں اور اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں۔

شفیق فیضی

15/09/2026

آپ نے کبھی نہیں دیکھا یا سنا ہوگا کہ عیسائیوں نے اپنے تعلیمی اداروں کی کثرت پر زور دیا ہو۔ عیسائی شہروں میں محض ایک یا د...
14/09/2026

آپ نے کبھی نہیں دیکھا یا سنا ہوگا کہ عیسائیوں نے اپنے تعلیمی اداروں کی کثرت پر زور دیا ہو۔ عیسائی شہروں میں محض ایک یا دو تعلیمی ادارے قائم کرتے ہیں، لیکن وہ انتہائی قابلِ اعتبار اور معیاری ہوتے ہیں، جن میں اپنے بچوں کو پڑھانا ہر شہری کا خواب ہوتا ہے۔ رسائی کے لحاظ سے بھی یہ ادارے شہر اور قریبی گاؤں، دیہات سے اس طرح مربوط ہوتے ہیں کہ کوئی بھی اپنے بچوں کو ادارے کے بھروسے چھوڑ سکتا ہے۔

اس کے برخلاف مسلمانوں نے معیاری تعلیمی اداروں کے قیام کے بجائے ان کی کثرت پر زیادہ توجہ دی۔ خاص طور پر تعلیمِ نسواں کے نام پر پورے ملک میں ایک زبردست انقلاب آیا ہے۔ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لیے نئے نئے ادارے قائم کیے گئے۔ لڑکوں کے لیے جزوی طور پر قائم کیے گئے نئے اداروں کو نظرانداز کر دیا جائے تو آج بھی وہی پرانے ادارے موجود ہیں جو پچھلے 60، 70 برسوں سے چل رہے ہیں اور جن کا تعلیمی معیار کافی مخدوش ہو چکا ہے۔ دوسری طرف لڑکیوں کے لیے ہر گاؤں اور ہر گلی میں جامعات کی باڑھ آ چکی ہے۔

سدھارتھ نگر، بستی، گورکھپور، بلرامپور، کانپور شہر، کانپور دیہات، لکھنؤ، بارہ بنکی، گونڈہ، بہرائچ، شراوستی اور سنت کبیر جیسے اضلاع، جہاں میرا خود کا تجربہ ہے، لڑکیوں کے لیے سینکڑوں ادارے کھل چکے ہیں۔ ان اداروں کے مطابق لڑکیوں کو اسلامی زیورِ علم سے آراستہ کیا جاتا ہے اور انہیں بی بی فاطمہؓ اور امہات المؤمنینؓ کو بطور رول ماڈل اپنانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔

ایک تعلیم یافتہ عورت کئی خاندانوں کے لیے رحمت کا سبب ہوتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ عورت حقیقی اعتبار سے اسلام کو اپنا منہجِ حیات تسلیم کرے۔ ورنہ محض حروف اور نقوش کی پہچان یا ان کی ادائیگی زندگی کو جنت کے بجائے جہنم میں جانے کا سبب بھی بنا سکتی ہے۔

مدارسِ اسلامیہ کے گرتے ہوئے تعلیمی معیار اور جامعات کی بہتات نے ملت کی تعلیمی گتھیوں کو سلجھانے کے بجائے مزید مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ بالخصوص جامعات سے تعلیم یافتہ لڑکیاں خود ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہیں۔ تعلیم کی آڑ میں انہوں نے ہر وہ کام کرنا شروع کر دیا ہے جس کا ہم تصور بھی گناہِ عظیم سمجھتے ہیں۔

جامعات کے ذمہ داروں نے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت سے زیادہ ان کے بناؤ سنگار پر توجہ دی ہے۔ ’’قال اللہ، قال الرسول‘‘ کی صداؤں کے بجائے فلمی گانوں اور پاکستانی ڈراموں نے ان کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔ باپردہ رہنے کی تعلیمات جامعات کی دہلیز پر ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ فیشن ایبل برقعے کی نت نئی ایجادات نے معلمات اور طالباتِ علومِ نبویہ کو حجاب میں رہتے ہوئے بھی بے پردہ کر دیا ہے۔ جشنِ ردائے قرأت و فضیلت کی باڑھ نے تکمیلِ نصاب کے سارے معیار بالائے طاق رکھ دیے ہیں۔

چند سکوں کی لالچ نے جامعات کے ذمہ داروں کو اتنا مفاد پرست اور دنیا دار بنا دیا ہے کہ کورس کی تکمیل کے بغیر ہی لڑکیوں کو عالمیت، فضیلت اور قرأت کی ڈگریاں فراہم کی جا رہی ہیں۔

ذاتی طور پر میں کئی ایسے جامعات سے واقف ہوں جہاں رسمِ ردائے فضیلت کی تقریبات کو ایک ایونٹ کی طرح منعقد کیا جاتا ہے، جہاں لڑکیاں انتہائی بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ردائے فضیلت کی تقریبات کی ویڈیوگرافی کر کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کرتی ہیں۔ والدین اور گھر کے دوسرے افراد کو اس حرکت کی بھنک نہ لگے، اس کے لیے فرضی ناموں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بات تلخ ہے، لیکن انتہائی افسوسناک بھی، کہ گھر کے ذمہ داروں کو بھلے ہی لڑکیوں کی ان حرکات کا علم نہ ہو، لیکن ان کے شناسا لوگوں کو ان کی سوشل میڈیا آئی ڈی کا بخوبی علم ہوتا ہے۔

آٹھ، دس برسوں تک جامعات میں گزارنے کے بعد دین کی بنیادی معلومات بھلے ہی نہ ہوں، لیکن سوشل میڈیا ایپ سے چیٹ ہسٹری کیسے مٹانی ہے، کیسے اور کس کو کب آن لائن رہنے کا سگنل دینا ہے، کب موبائل ان کے پاس اور کب موبائل پر اہلِ خانہ کی گرفت ہوتی ہے، اس کے لیے جدید ترین ٹرکس کا استعمال بہت اچھی طرح جان لیتی ہیں۔

کیسے بنا فون کال یا واٹس ایپ چیٹ کے بھی اسٹیٹس کے ذریعے کسی کو اپنی جانب مائل کرنا ہے، کب کس موبائل سے کون سا ایپ ہائیڈ یا اَن انسٹال کرنا ہے، یہ انہی کا خاصہ ہے۔

ردائے فضیلت کی تقریب کی آڑ میں طالبات کے ساتھ ساتھ معلمات بھی جم کر ٹانڈو مچاتی ہیں۔ شاندار اسٹیج کے ساتھ بہترین ایکو ساؤنڈ سسٹم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مختلف انداز میں سیلفیاں لے کر اپنے شناسا لوگوں کو بھیجی جاتی ہیں۔ نوخیز طالبات جس انداز سے فوٹوشوٹ اور ویڈیوگرافی کراتی ہیں، اسے دیکھ کر بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی اداکارائیں بھی شرما جائیں۔ وکٹری نشان، لو کی علامت، فلائنگ کس انداز، ہاتھوں کی مہندی کے ڈیزائن اور پیروں کی الگ الگ اینگل سے نمائش، یہاں تک کہ آنکھوں سے سینے کے ابھارکی جانب توجہ دلانا تک شامل ہے۔

یقین مانیں!۔۔۔ جامعات میں لڑکیاں تعلیم کے نام پر جس بے حیائی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اس کا دس فیصد حصہ بھی آپ کے سامنے نہیں رکھ پا رہا ہوں۔

ایک آخری بات، جو انتہائی شرمناک اور قابلِ افسوس ہے، وہ یہ ہے کہ جامعات کی فارغات بوائے فرینڈز (مرد دوست) بنانا معیوب نہیں سمجھتیں۔ کئی بار یہ تجاوز حلقۂ اسلام سے باہر غیرمسلموں تک پہنچ جاتا ہے۔ جنہیں ہم عالمہ فاضلہ بنا کر فخر محسوس کرتے ہیں، وہ غیروں سے مراسم بنا کر نہ صرف چادرِ عصمت تار تار کر رہی ہیں بلکہ مرتد بھی ہو رہی ہیں۔

دراصل تعلیمِ نسواں کے نام پر ہم نے خیانت کی ہے۔ معیاری اداروں کے بجائے ہم نے اداروں کی کثرت پر توجہ دی۔ باصلاحیت لوگوں کی عدمِ پذیرائی کے باعث نااہلوں نے مدارس اور جامعات قائم کرنا شروع کر دیے، جہاں تعلیم کی آڑ میں ہر وہ کام انجام دیا جاتا ہے جس سے بچنے کے لیے ہم لڑکیوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم اور تربیت تو ہو نہیں پاتی، البتہ مدرسہ جانے اور آنے کے نام پر ملنے والی آزادی اور اعتماد کا بھرپور غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

ہر وہ شخص جس کے تعلقات سرمایہ داروں سے ہو جاتے ہیں، وہ لڑکیوں کے موجودہ ارتدادی طوفان پر قابو پانے کے نام پر جامعات قائم کرتا ہے۔ پہلے قوم سے سرمایہ وصول کرتا ہے، بعد میں قوم کی بیٹیوں کی عصمت تار تار کرتا ہے۔

میں خود کئی ایسے اداروں کو جانتا ہوں جہاں نوجوان لڑکیوں کو جامعات کے ذمہ داروں نے اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ جیل گئے، مقدمات چل رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود پرانی روش بدستور جاری ہے۔

پانی سر سے نکل چکا ہے۔ ہر ایرے غیرے کے تعلیمی ادارے میں بچیوں کو بھیجنے سے بہتر ہے کہ گھر پر ہی ان کی تعلیم و تربیت پر دھیان دیا جائے۔

جامعات کے نام پر بیوقوف نہ بنیں۔ جامعات کے پیچھے جہاں مالی منفعت کارفرما ہے، وہیں کچھ افراد ذہنی آوارگی کی تسکین کے لیے بھی جامعات قائم کرنے لگے ہیں۔ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔

کثرتِ ادارہ کے بجائے معیاری اداروں کی فکر کیجیے، جہاں معقول تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ بچیوں کی شرم و حیا بھی برقرار رہے۔

شفیق فیضی



کیا یہ سارے لوگ جاہل ہیں؟ اور ان کے اس عمل کو صرف انہیں جاہل بول کر نظرانداز کیا جانا چاہئے؟جس تیزی سے یہ خرافات عام ہور...
14/09/2026

کیا یہ سارے لوگ جاہل ہیں؟ اور ان کے اس عمل کو صرف انہیں جاہل بول کر نظرانداز کیا جانا چاہئے؟

جس تیزی سے یہ خرافات عام ہورہی ہے، کیا ذمہ دار علماء کو اس کی روک تھام کے لئے آگے نہیں آنا چاہیے؟ یا صرف جاہل بول کر اپنا دامن بچا لئیے جانے کا بھوت سوار ہے؟

مسلم مسائل پر متوقع مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کی تصاویر دیکھ رہا تھا۔ کافی غور سے دیکھنے کے باوجود راہل گاندھی اور اکھل...
14/09/2026

مسلم مسائل پر متوقع مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کی تصاویر دیکھ رہا تھا۔ کافی غور سے دیکھنے کے باوجود راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کی تصویر کہیں دکھائی نہیں دی۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں؟

پارٹی کے چند لیڈروں کی تصاویر دکھا کر یہ تاثر دینے کی کوشش ضرور کی گئی ہے کہ سب ہمارے ساتھ ہیں، لیکن اصل سوال وہی ہے: دوسری پارٹیوں کی ٹاپ لیڈرشپ کہاں ہے؟ ہمارے وجود اور حقوق کی لڑائی میں بڑے نام غائب کیوں ہیں؟

اگر ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تھانے جایا جاسکتا ہے تو جنتر منتر جانے سے پرہیز کیوں؟ اور یہ پرہیز بھی انہی معاملات میں کیوں ہوتا ہے جن کا براہِ راست تعلق مسلمانوں سے ہو؟

ایک دلت بیٹی کو انصاف دلانے کے لیے ہاتھرس میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا جارحانہ انداز قابلِ تعریف تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ وہی تیور مسلمانوں کے مسائل میں کہاں چلے جاتے ہیں؟

اکھلیش یادو سے گلہ شاید اس لیے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمان تو سماجوادی پارٹی کے ’’بے مول غلام‘‘ بن کر ہر حال میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ پھر بھی ان کے بعض طرزِ عمل پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

کچھ لوگ اسے ’’پولرائزیشن سے بچنے کی حکمتِ عملی‘‘ قرار دے کر اس رویے کا دفاع کرسکتے ہیں۔ لیکن سوال پھر بھی اپنی جگہ ہے:

اگر مسلمانوں کو مسلسل کنارے لگا کر بھی پولرائزیشن پر روک نہیں لگی، تو اب مسلمانوں سے دوری اسے کیسے روک سکتی ہے؟

17 ستمبر کو مسلم پرسنل لا بورڈ کی کال پر جنتر منتر پر احتجاج صرف ایک مظاہرہ نہیں، بلکہ یہ دیکھنے کا موقع بھی ہے کہ مسلمانوں کے مسائل پر ان کے نام پر سیاست کرنے والے سیاسی رہنما عملی طور پر کہاں کھڑے ہیں۔

سوال تصویروں کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔
سوال موجودگی کا نہیں، نیت کا ہے۔

شفیق فیضی

मुस्लिम मुद्दों पर प्रस्तावित प्रदर्शन में शामिल होने वालों की तस्वीरें देख रहा था। काफी गौर से देखने के बावजूद राहुल गांधी और अखिलेश यादव की तस्वीर कहीं दिखाई नहीं दी। सवाल यह है कि ऐसा क्यों?

पार्टी के कुछ नेताओं की तस्वीरें दिखाकर यह संदेश देने की कोशिश जरूर की गई है कि सब हमारे साथ हैं, लेकिन असली सवाल वही है: दूसरी पार्टियों की शीर्ष नेतृत्व कहां है? हमारे अस्तित्व और अधिकारों की लड़ाई में बड़े नाम गायब क्यों हैं?

अगर एफआईआर दर्ज कराने के लिए थाने जाया जा सकता है तो जंतर-मंतर जाने से परहेज क्यों? और यह परहेज भी उन्हीं मामलों में क्यों होता है जिनका सीधा संबंध मुसलमानों से हो?

एक दलित बेटी को इंसाफ दिलाने के लिए हाथरस में राहुल गांधी और प्रियंका गांधी का आक्रामक रुख काबिले-तारीफ था, लेकिन सवाल यह है कि वही तेवर मुसलमानों के मुद्दों में कहां चले जाते हैं?

अखिलेश यादव से शिकायत शायद इसलिए भी नहीं की जा सकती कि मुसलमान तो समाजवादी पार्टी के "बेमोल गुलाम" बनकर हर हाल में उसके साथ खड़ा है। फिर भी उनके कुछ तौर-तरीकों पर सवाल उठना स्वाभाविक है।

कुछ लोग इसे "ध्रुवीकरण से बचने की रणनीति" बताकर इस रवैये का बचाव कर सकते हैं। लेकिन सवाल फिर भी अपनी जगह है:

अगर मुसलमानों को लगातार किनारे लगाने के बावजूद ध्रुवीकरण नहीं रुका, तो अब मुसलमानों से दूरी बनाकर यह कैसे रुक सकता है?

17 सितंबर को मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड के आह्वान पर जंतर-मंतर पर होने वाला प्रदर्शन सिर्फ एक प्रदर्शन नहीं, बल्कि यह देखने का मौका भी है कि मुसलमानों के मुद्दों पर उनके नाम पर राजनीति करने वाले राजनीतिक नेता व्यावहारिक रूप से कहां खड़े हैं।

सवाल तस्वीरों का नहीं, प्राथमिकताओं का है।
सवाल मौजूदगी का नहीं, नीयत का है।

शफीक फैज़ी

شکوے اور گلے کا وقت ختم، اب عملی جدوجہد کا وقت ہے۔اسی عزم کے ساتھ JUSTAID — Justice Uprising & Support Through Advocacy,...
14/09/2026

شکوے اور گلے کا وقت ختم، اب عملی جدوجہد کا وقت ہے۔

اسی عزم کے ساتھ JUSTAID — Justice Uprising & Support Through Advocacy, Inclusion & Defense کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس کا مقصد ان معاملات میں قانونی اور عملی مدد فراہم کرنا ہے جہاں مسجد، مدرسہ، مزار، قبرستان یا ملت کی آواز اٹھانے والے نوجوانوں کو قانونی کارروائی، انتظامی دباؤ یا تشدد کا سامنا ہو۔

ہماری پہلی ترجیح ایسے مخلص اور بااصول وکلا کی ٹیم تشکیل دینا ہے جو ملت کی قانونی لڑائی کو مضبوطی سے لڑ سکیں۔ اس سلسلے میں سدھارتھ نگر کے بعض وکلا کی ابتدائی معلومات جمع کی جاچکی ہیں۔ جلد ہی ان سے ملاقات کرکے JUSTAID کے مقاصد اور اصول سامنے رکھے جائیں گے، اور موزوں وکلا کو اپنے پینل میں شامل کیا جائے گا۔

ریاست کے دوسرے اضلاع اور ملک کی دوسری ریاستوں میں اس کی توسیع آپ احباب کی صوابدید پر مبنی ہے اگر کچھ مخلص احباب ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے اس کو سب سے پہلے یوپی اور بعد میں دیگر ریاستوں تک عام کیا جائے گا۔

ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کام آسان نہیں، عدلیہ اور انتظامیہ پر کتنا دباؤ ہے یہ ہم سب جانتے ہیں، اس کے باوجود مسلسل جدوجہد کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔ کامیابی کی شرح کم بھی ہو تو بھی ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کا جواز نہیں ہے۔

ایک خاص بات ہم سبھی جانتے ہیں کہ یہ کام محض چند افراد کے بل پر نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے افرادی قوت اور بڑا سرمایہ درکار ہے۔ جو ہمیں خود جمع کرنا ہوگا۔

ہمارے اس پیج پر 17 ہزار سے زائد افراد موجود ہیں۔ اگر ان میں سے صرف 10 ہزار، یا کم از کم 5 ہزار افراد بھی خلوص کے ساتھ اپنا حصہ ادا کرنے کا عزم کرلیں تو ایک مضبوط عملی تحریک کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔

ہر شخص کو میدان میں اترنے کی ضرورت نہیں، لیکن ہر شخص کو اپنا حصہ ضرور ادا کرنا ہوگا۔ اس کے لئے نہ بڑی قربانی درکار ہے، نہ روزمرہ کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی۔ صرف خلوص، اعتماد اور عزم چاہیے۔

اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ ملت کے مسائل پر صرف افسوس اور احتجاج کافی نہیں، بلکہ قانونی اور عملی جدوجہد ضروری ہے، تو JUSTAID کے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہوجائیں۔ فی الحال صرف گروپ جوائن کریں، کوئی پیغام نہ بھیجیں۔ بعد میں JUSTAID کی ٹرسٹ ڈیڈ، مقاصد اور آپ کی ممکنہ ذمہ داری کے بارے میں تفصیل سے بتایا جائے گا۔

جس کے بعد اگر آپ ہماری اس مہم کا حصہ بننا نہ چاہیں تو آپ گروپ چھوڑ بھی سکتے ہیں۔

JUSTAID ایک چھوٹا قدم یا اس کی شروعات ہے، مگر یہ ہماری عملی جدوجہد کا امتحان بھی ہے۔

اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے:
ہم واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں، یا صرف بڑی بڑی بات کرتے ہیں؟

وہاٹس ایپ گروپ سے جڑنے کے لئے نیچے لنک پر کلک کریں۔

https://chat.whatsapp.com/HxZAZc06Yvv1oXQbxgYAYH

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں

इस पैटर्न को समझिए, बस इतना ही...1. उन्नाव में बलात्कार किसने किया? भाजपा विधायक कुलदीप सिंह सेंगर ने।   एफआईआर किस पर द...
13/09/2026

इस पैटर्न को समझिए, बस इतना ही...

1. उन्नाव में बलात्कार किसने किया? भाजपा विधायक कुलदीप सिंह सेंगर ने।
एफआईआर किस पर दर्ज हुई? पीड़िता पर।
बाद में उसके परिवार पर ट्रक चढ़ाने की घटना ने पूरे मामले को और भयावह बना दिया।

2. बलात्कार का आरोप किस पर लगा? भाजपा नेता और पूर्व केंद्रीय गृह राज्यमंत्री स्वामी चिन्मयानंद पर।
एफआईआर किस पर दर्ज हुई? पीड़िता पर ही।

3. भीमा कोरेगांव हिंसा के मामले में कार्रवाई किसके खिलाफ हुई? उन प्रोफेसरों, लेखकों और सामाजिक कार्यकर्ताओं के खिलाफ, जिन्हें बाद में "अर्बन नक्सल" तक कहा गया।
जबकि हिंसा भड़काने के आरोप संभाजी भिड़े सहित अन्य लोगों पर भी लगे थे।

4. आदिवासी कार्यकर्ता सोनी सोरी के चेहरे पर तेजाब जैसी जलन पैदा करने वाला पदार्थ किसने फेंका? सोनी सोरी ने तत्कालीन पुलिस अधिकारी एस.आर.पी. कल्लूरी पर गंभीर आरोप लगाए थे।
मामले में कार्रवाई किस दिशा में गई? पीड़िता ही पुलिस कार्रवाई का सामना करती रही।
और कल्लूरी का क्या हुआ? उनके करियर पर इसका वैसा असर नहीं पड़ा जैसा एक आम नागरिक पर पड़ता।

5. मोहम्मद अखलाक की हत्या किसने की? दादरी में भीड़ ने।
कार्रवाई किस दिशा में हुई? मृतक के परिवार के खिलाफ भी मामला दर्ज किया गया और कथित गोहत्या का मुकदमा सामने आया।

6. गोरखपुर के बीआरडी मेडिकल कॉलेज में बच्चों की मौत के बाद जिम्मेदारी किसकी बनती थी? सरकार और प्रशासन की।
लेकिन कार्रवाई का बड़ा निशाना बने डॉ. कफील खान, जबकि उस रात ऑक्सीजन की व्यवस्था के लिए भाग-दौड़ करने की उनकी भूमिका भी चर्चा में थी।
सवाल यही था: जिम्मेदारी तय करने के बजाय दोष का ठीकरा किसी एक व्यक्ति पर क्यों फोड़ा गया?

7. बुलंदशहर में इंस्पेक्टर सुबोध कुमार सिंह की हत्या किसने की? हिंसक भीड़ ने।
लेकिन बाद में इस मामले के आरोपियों के प्रति राजनीतिक संरक्षण और सम्मान के आरोपों ने व्यवस्था पर गंभीर सवाल खड़े किए।

8. जेएनयू में हिंसा के दौरान छात्रसंघ अध्यक्ष आइशी घोष घायल हुईं।
आरोप एबीवीपी से जुड़े लोगों पर लगे और दोनों पक्षों की ओर से शिकायतें दर्ज हुईं।
सवाल यह है कि हिंसा के पीड़ितों को ही आरोपी बनाने की प्रवृत्ति आखिर क्यों बार-बार दिखाई देती है?

9. योगी आदित्यनाथ के मुख्यमंत्री बनने के बाद उनके खिलाफ दर्ज कई मुकदमे वापस लिए गए।
गुजरात दंगों के मामले में नरेंद्र मोदी को एसआईटी की जांच के बाद क्लीन चिट मिली, जिसे सुप्रीम कोर्ट ने भी बरकरार रखा।
वहीं अमित शाह से जुड़े मामलों में जस्टिस लोया की मौत आज भी सार्वजनिक बहस का विषय बनी हुई है।

10. और फिर रक्षा मंत्री राजनाथ सिंह का वह चर्चित बयान याद आता है:
"इस सरकार में मंत्रियों के इस्तीफे नहीं होते। ये एनडीए है, यूपीए नहीं।"

सवाल यह है कि अगर सत्ता में बैठे लोगों के लिए जवाबदेही, जांच और इस्तीफे ही असंभव हो जाएं, तो लोकतंत्र में जवाबदेही बचेगी कैसे?

और सबसे महत्वपूर्ण सवाल...

देश में कानून-व्यवस्था की जिम्मेदारी आखिर किसकी है?
पुलिस व्यवस्था और आंतरिक सुरक्षा केंद्र में गृह मंत्रालय के अधीन आती है। गृह मंत्रालय की जिम्मेदारी केंद्रीय गृह मंत्री की होती है।

तो फिर सवाल सिर्फ किसी एक घटना का नहीं है। सवाल उस पूरी व्यवस्था का है, जिसमें आरोपी और पीड़ित के बीच फर्क सत्ता और प्रभाव के आधार पर तय होने लगे, तो आम आदमी न्याय की उम्मीद किससे करे?

लेकिन आप चिंता मत कीजिए।

जब तक सरकारी कार्रवाई का शिकार आपका अपना भाई, दोस्त, रिश्तेदार या कोई करीबी नहीं बनता, तब तक व्हाट्सऐप पर गुड मॉर्निंग भेजते रहिए, देशभक्ति के संदेश साझा करते रहिए और मानते रहिए कि सब ठीक चल रहा है।

क्योंकि

सबेरा सिर्फ सूर्योदय से नहीं होता,
उजाला तब होता है जब इंसान अपनी आंखें भी खोलता है।

13/09/2026

13/09/2026

عورت اپنے باپ اور بھائی کے قاتل سے بھی محبت کر سکتی ہے، لیکن عام طور پر مرد کی فطرت یہ ہے کہ کوئی اُس کے باپ کو ایک گالی...
12/09/2026

عورت اپنے باپ اور بھائی کے قاتل سے بھی محبت کر سکتی ہے، لیکن عام طور پر مرد کی فطرت یہ ہے کہ کوئی اُس کے باپ کو ایک گالی بھی دے دے تو وہ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

آج کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ مسلمانوں کو سرِعام ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مساجد اور دیگر اسلامی مقامات کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں، چوراہوں پر مسلمانوں اور اسلامی شعائر کی توہین کی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہماری ہی بعض لڑکیاں حجاب کے ساتھ غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ گھومتی، ہوٹلوں میں وقت گزارتی اور ایسے تعلقات میں مبتلا نظر آتی ہیں جنہیں اسلام جائز قرار نہیں دیتا۔

اور یہ صرف وہ واقعات ہیں جو سامنے آ جاتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ایسے تعلقات ہیں جو پردۂ اخفا میں جاری ہیں اور جن کا کسی کو علم نہیں۔

مزید افسوس ناک صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی مسلمان نوجوان انہیں اس راستے سے روکنے یا سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ جواب میں بعض لڑکیاں یہ کہہ کر اسے خاموش کر دیتی ہیں: ’’تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے؟ میری مرضی ہے، میں جو چاہوں کروں، تمہیں جیل بھجوا دوں گی۔‘‘

یہاں اصل سوال کسی فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی دینی اور اخلاقی ترجیحات کا ہے۔

اگر ایک مسلمان لڑکی اپنی جوانی کا ایک حصہ ایسے ناجائز تعلق میں گزارتی ہے جو اس کے دین کے بنیادی تصورات سے متصادم ہے، تو پھر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ مستقبل میں وہ اپنی اولاد کی دینی، اخلاقی اور تہذیبی تربیت کس بنیاد پر کرے گی؟

ماں صرف بچے کو جنم نہیں دیتی، وہ اس کی پہلی درس گاہ بھی ہوتی ہے۔ بچے کی شخصیت، اس کے اخلاق، اس کی دینی وابستگی اور حلال و حرام کے تصورات کی تشکیل میں ماں کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔

اس لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کون کس کے ساتھ گھوم رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟ اگر آج ہم اپنی دینی شناخت، اخلاقی حدود اور خاندانی تربیت کو معمولی سمجھیں گے تو کل اپنی اولاد سے مضبوط ایمان، کردار اور دینی وابستگی کی توقع کیسے کریں گے؟

Address

Itwa

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shafique Faizi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shafique Faizi:

Shortcuts

Share