15/09/2026
یوپی مدرسہ بورڈ کے کامل اور فاضل کی اسناد کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے جوڑے جانے کی خبر آئی تو بہت سے لوگوں نے سمجھ لیا کہ شاید خطرہ ٹل گیا ہے۔ لیکن میں نے اسی وقت کہا تھا کہ حکومت کی کہنی اور کرنی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
اس وقت مدارس سے وابستہ بعض افراد کی او پی راجبھر سے ملاقات ہوئی تو انہیں یہ بات بے سر و پیر محسوس ہونے لگی۔ انہیں یقین دلایا گیا اور شاید یہی سمجھا گیا کہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔
لیکن اب اسی او پی راجبھر کے حوالے سے ایک بار پھر یہ خبر گردش میں ہے کہ کامل اور فاضل کی ڈگریاں مسترد کی جائیں گی اور ان اسناد کی بنیاد پر پہلے سے ملازمت کر رہے افراد کی نوکریاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
فی الحال اس خبر کی چرچا کم ہے، لیکن آنے والے دنوں میں اس کے زور پکڑنے کے امکانات موجود ہیں۔
ممکن ہے مدارس کے ذمہ داران کو پوری قوت کے ساتھ یقین دلایا جائے کہ یہ خبر جھوٹی ہے، بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف یقین دہانیوں سے خطرہ ٹل جاتا ہے؟
میرا خدشہ آج بھی وہی ہے۔
جیسے جیسے یوپی میں بی جے پی کے لیے انتخابی صورتِ حال مشکل ہوتی دکھائی دے گی، مین اسٹریم میڈیا کے ذریعے اس معاملے کو سرخیوں میں لائے جانے کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔ فی الحال ڈیمیج کنٹرول کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اگر بی جے پی کو اپنی گرتی ہوئی ساکھ سنبھالنے میں دشواری پیش آئی تو مدارسِ اسلامیہ کے خلاف اچانک کریک ڈاؤن کی مہم تیز کی جا سکتی ہے۔
اور ایسی صورتِ حال میں کامل اور فاضل کی اسناد ایک انتہائی مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہیں۔
اصل خطرہ کہاں ہے؟
بہرحال ذرائع کے حوالے سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ کامل اور فاضل کی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازمت کرنے والے افراد کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
یہ محض کسی ایک سند کا مسئلہ نہیں۔ اس سے ان تمام افراد کا مستقبل وابستہ ہے جو انہی اسناد کی بنیاد پر برسوں سے ملازمت کر رہے ہیں۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے فی الحال کوئی مؤثر راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
اور مدرسہ ٹیچروں کی جانب سے کوئی مؤثر مہم چلائی جائے گی، اس کی امید بھی بہت کم ہے۔
کیوں؟
کیونکہ مدرسہ ٹیچروں کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ رشوت کے دم پر حاصل کی گئی نوکری کو وہ اپنی دانش مندی اور صلاحیت کا معیار سمجھنے لگے ہیں۔ اجتماعی صلاح و مشورہ، قانونی جدوجہد اور منظم مہم ان کی ترجیحات میں کہیں نظر نہیں آتی ہے۔
محکمۂ تعلیم کے افسران کے سامنے جس انداز میں مدرسہ ملازمین سجدہ ریز ہیں وہ اس بات کا غماز ہے کہ ان کے پاس شاید رشوت کے علاوہ کوئی دوسرا ہتھیار باقی نہیں رہا۔
آئینی لڑائی کا جذبہ ختم۔
زمینی جدوجہد کا حوصلہ ختم۔
اجتماعی مزاحمت کی صلاحیت ختم۔
بس کسی طرح معاملہ دب جائے، کسی طرح کچھ وقت مل جائے، کسی طرح نوکری بچ جائے۔
ممکن ہے اس طریقے سے کچھ عرصے کی مہلت مل بھی جائے، لیکن یہ مستقل حل نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ رشوت کسی مسئلے کا حل نہیں، صرف مسئلے کو کچھ وقت کے لیے ٹالنے کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔ آج اگر کسی طرح نوکری بچ بھی گئی تو کل کیا ہوگا؟ اگر سند ہی سوالیہ نشان بن گئی تو پھر کس کے دروازے پر جائیں گے؟
اب بھی وقت ہے
اس مسئلے کو محض افواہ سمجھ کر نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
آج خاموشی ہے، کل شور ہو سکتا ہے۔
آج خبر محدود ہے، کل سرخی بن سکتی ہے۔
آج یقین دہانیاں دی جا رہی ہیں، کل حکم نامہ سامنے آ سکتا ہے۔
اس لیے مدارس کے ذمہ داران کو وقتی اطمینان کے بجائے مستقل حل کی طرف سوچنا ہوگا۔
کیونکہ جو لوگ ہر بحران کے وقت صرف یہ انتظار کرتے ہیں کہ کوئی صاحبِ اقتدار انہیں یقین دلا دے کہ ’’ایسا کچھ نہیں ہوگا‘‘، وہ دراصل مسئلے کا حل نہیں ڈھونڈ رہے ہوتے، صرف اپنے آپ کو تسلی دے رہے ہوتے ہیں۔
کامل اور فاضل کی اسناد کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
اور اگر خطرہ واقعی سامنے آیا تو اس وقت گھبراہٹ، افسران کے چکر اور رشوت کے راستے تلاش کرنے کے بجائے آج ہی یہ سوچنا ہوگا کہ آئینی، قانونی اور زمینی سطح پر اس کا مستقل حل کیا ہے؟
اس مستقل حل پر آئندہ تفصیل سے بات ہوگی۔
میری اگلی تحریر چھوٹ نہ جائے، اس لیے پیج کو فالو کریں اور اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں۔
شفیق فیضی