01/05/2026
﴿📜مسجدِ رشید کے باہر ایک چھوٹی سی سلطنت: ٹھیلے والوں کی بے تاج بادشاہی﴾
*✍🏻۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندیم اشرف
> *یہ مضمون تیار کرتے وقت ایک ایسی تحریر سے بھی استفادہ کیا گیا جس پر مصنف کا نام درج نہ تھا، ورنہ خوشی سے اُن کا حوالہ بھی شامل کیا جاتا۔ تاہم اس مضمون میں بیان کردہ بیشتر مناظر محض نقلِ تحریر نہیں بلکہ راقم کا ذاتی مشاہدہ بھی ہیں۔ کئی برسوں سے یہ منظر نگاہوں کے سامنے بار بار آتا رہا ہے، اسی لیے جو کچھ قلم بند کیا گیا ہے، وہ مشاہدے، تجربے اور احساس کی مشترکہ ترجمانی ہے۔*
*دارالعلوم دیوبند کا احاطہ صرف درسِ حدیث، فقہ و تفسیر، اور علمی مجالس ہی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل زندگی کا عنوان ہے؛ ایسی زندگی جس میں کتابوں کی خوشبو بھی ہے، طلبہ کی بے فکری بھی، اساتذہ کی شفقت بھی، اور ان گلیوں کی اپنی ایک جداگانہ تہذیب بھی۔ یہاں ہر در و دیوار ایک داستان سناتا ہے، ہر راہداری کے اپنے اسرار ہیں، اور ہر کونے میں ایک الگ دنیا آباد ہے۔ انہی دنیاؤں میں ایک دنیا مسجدِ رشید کے باہر بھی آباد ہے، جہاں علم و زہد کی فضا کے ساتھ ساتھ خوانچہ فروشوں کی ایک مستقل سلطنت قائم ہے، ایسی سلطنت جس کا نہ کوئی تاج ہے، نہ تخت، مگر حکومت ایسی کہ ہر نووارد طالب علم آخرکار اس کی رعیت بن ہی جاتا ہے۔*
*مسجدِ رشید کے اطراف، خصوصاً رشید کے دروازے اور اعظمی گیٹ کے سامنے، شام ڈھلتے ہی ایک عجیب منظر نمودار ہوتا ہے۔ کہیں تازہ پھلوں کے رنگین ڈھیر ہیں، کہیں پکوڑوں کی کڑاہیوں سے اٹھتی ہوئی خوشبو ہوا میں تیر رہی ہے، کہیں چاٹ اور کچوڑی کی صدائیں طلبہ کے صبر کا امتحان لے رہی ہیں، اور کہیں شربت و جوس کے گلاس ایسے چمک رہے ہوتے ہیں جیسے کسی فقیر کے خواب میں خزانہ اتر آیا ہو۔ یہ سب محض ٹھیلے نہیں، ایک باقاعدہ مملکت ہے؛ ایک ایسی ریاست جس کے باشندے روز بدلتے ہیں مگر نظام ہمیشہ قائم رہتا ہے۔*
*اہلِ مشاہدہ فرماتے ہیں کہ دارالعلوم میں سال کے دو موسم ایسے آتے ہیں جن میں بعض چہروں کی بہار دیدنی ہوتی ہے۔ ایک رمضان المبارک، جب چندہ کے دروازے کھلتے ہیں اور منتظمین کی پیشانیوں پر اطمینان کے آثار نمودار ہوتے ہیں، اور دوسرا شوال، جب نئے طلبہ دیوبند کی گلیوں میں بھوک، حیرت اور جیب کی محدود وسعت کے ساتھ داخل ہوتے ہیں، اور آخرکار انہی ٹھیلوں کو اپنا مسکنِ عافیت پاتے ہیں۔ شوال کے ایام میں ان خوانچہ فروشوں کے ہاں جو ہجوم برپا ہوتا ہے، وہ گویا قیامتِ صغریٰ کا منظر پیش کرتا ہے؛ ہر ہاتھ میں پلیٹ، ہر آنکھ میں امید، اور ہر جیب میں محدود سرمایہ۔*
*باقی سال ان ٹھیلوں کی حالت نسبتاً خاموش رہتی ہے، مگر یہ خاموشی بھی بڑی معنی خیز ہوتی ہے۔ مکھیاں اپنی مستقل حاضری سے وفاداری نبھاتی ہیں، مچھر اپنی حکومت کا اعلان کرتے ہیں، اور چند ایسے طلبہ بھی ہوتے ہیں جو اپنی جیب کی نزاکت کے باوجود یہاں کی رونق میں شریک رہتے ہیں۔ گویا یہ صرف کھانے پینے کی جگہ نہیں بلکہ ایک سماجی مرکز بھی ہے، جہاں خبریں بھی ملتی ہیں، تبصرے بھی ہوتے ہیں، اور بعض اوقات پوری سیاسی و عالمی صورتحال کا تجزیہ بھی ایک سموسے کے ساتھ مکمل کر دیا جاتا ہے۔*
*ایک مرتبہ ایک نووارد طالب علم نے ایک پکوڑے والے سے بڑے ادب سے پوچھا کہ آخر آپ کے پکوڑوں میں وہ کون سا راز ہے جو بڑی بڑی دکانوں میں نہیں؟ اس نے مسکرا کر کہا: “حضرت! بیسن وہی، نمک وہی، مرچ بھی وہی، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ ان پکوڑیوں پر دارالعلوم کے طلبہ کے قدموں کی خاک شامل ہو جاتی ہے، اور یہی برکت انہیں بے مثال بنا دیتی ہے۔” سننے والا خوش ہوا، اور میں اس جملے کے اندر چھپی ہوئی تجارت کی حکمت پر حیران رہ گیا۔ دیوبند کے خوانچہ فروش محض بیوپاری نہیں، نفسیات کے ماہر بھی ہوتے ہیں؛ وہ جانتے ہیں کہ طالب علم کے دل تک پہنچنے کا راستہ صرف معدے سے نہیں، تعریف سے بھی جاتا ہے۔*
*ایک اور ٹھیلے پر حلیم اور بریانی کی ایسی شان تھی کہ دیکھنے والا خود کو کسی شاہی دسترخوان کے قریب محسوس کرے۔ ایک صاحب نے لقمہ لیتے ہی گوشت کی نوعیت پر شبہ ظاہر کیا، تو جواب ملا: “حضور! یہ سب دارالعلوم کی برکت ہے۔” اس جملے کی وسعت اتنی تھی کہ سوال بھی خاموش ہوگیا اور جواب بھی مکمل محسوس ہوا۔ چند دن بعد جب احاطے میں بلیوں کی تعداد میں نمایاں کمی محسوس ہوئی تو اس “برکت” کی کچھ پرتیں خود بخود کھلنے لگیں۔*
*پھر ایک گوشے میں گنے کے جوس والے کی اپنی فلسفیانہ حکومت قائم تھی۔ نرخ پوچھے گئے تو معلوم ہوا کہ قیمت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ وجہ دریافت کی گئی تو اس نے بڑے اطمینان سے فرمایا: “جناب! مسئلہ صرف گنے کا نہیں، آبنائے ہرمز کا بھی ہے!” جب حیرت کا اظہار کیا گیا تو مزید وضاحت فرمائی کہ چونکہ چائے بارہ روپے کی ہو چکی ہے، اور شربت اس کی ضد ہے، لہٰذا ضد بھی برابر کی ہونی چاہیے۔ ایسے دلائل صرف دیوبند کے ٹھیلوں پر ہی سننے کو ملتے ہیں، جہاں منطق بھی بھوک کے تابع ہوتی ہے اور فلسفہ بھی گلاس کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔*
*ہمارے بعض اساتذۂ کرام بھی ان ٹھیلوں کے بارے میں خاص رائے رکھتے تھے۔ ایک مشفق استاد جب کبھی سبق جلد ختم کرتے تو تبسم کے ساتھ فرماتے: “جاؤ، اب اعظمی کی نالیوں کو آباد کرو۔” اور جب اصولِ فقہ میں عدالتِ راوی کی تعریف پڑھاتے تو یہ بھی بتاتے کہ ثقہ آدمی وہ نہیں جو ہر وقت خوانچہ فروشوں کے گرد طواف کرتا پھرے۔ اس نصیحت کا اثر بعض ذہنوں پر ایسا ہوا کہ ایک طالب علم نے امتحان میں “عدل” کی تعریف ہی یوں لکھ دی کہ انسان نہ ٹھیلوں کے پاس کھڑا ہو کر کھائے اور نہ اعظمی کی نالیوں کو اپنی موجودگی سے معمور کرے۔*
*یہ سب واقعات بظاہر مزاح معلوم ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں یہی دارالعلوم کی زندگی کی اصل خوبصورتی ہیں۔ علم صرف کتابوں میں نہیں ہوتا، بلکہ ان گلیوں میں بھی بکھرا ہوتا ہے جہاں طلبہ اپنی جوانی کے دن گزارتے ہیں۔ مسجدِ رشید کے باہر یہ ٹھیلے محض تجارت نہیں، یادوں کے ستون ہیں۔ یہاں کھایا ہوا ایک معمولی پکوڑا بھی برسوں بعد یاد آتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ دوستوں کی ہنسی، جیب کی تنگی، امتحان کا دباؤ، اور طالب علمی کی بے فکری جڑی ہوتی ہے۔*
*وقت گزر جاتا ہے، طالب علم رخصت ہو جاتے ہیں، عمریں بدل جاتی ہیں، مگر مسجدِ رشید کے باہر ٹھیلے والوں کی یہ بے تاج بادشاہی قائم رہتی ہے۔ نئے چہرے آتے ہیں، پرانی یادیں تازہ ہوتی ہیں، اور یہ سلطنت خاموشی سے اپنی حکومت جاری رکھتی ہے۔ شاید اسی کا نام زندگی ہے کہ جہاں علم کے ساتھ ذائقہ بھی ہو، نصیحت کے ساتھ مسکراہٹ بھی، اور مسجد کے سائے میں دنیا کی ایک چھوٹی سی مملکت بھی آباد ہو*