Mufti Harunrashid Qasmi

Mufti Harunrashid Qasmi دیوبندیت نام ہے عاشق رسول ﷺ کا ♥️

*www.fb.com Abna e Deoband*
تھوڑا دیوبندیت کو دیکھتے ہیں آخر یہ ہیں کون۔۔؟؟؟

‏‏1857 کی انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی میں علماء و مجاہدین کی قیادت کرنے والا اور پوری دنیا میں سب سے زیادہ علماء کے مرشد کا لقب پانے والا حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ دیوبندی تھا“
برصغیر میں شرک و بدعت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں توحید و سنت کا علم لہرانے والا بانی دارالعلوم دیوبند قاسم نانوتویؒ دیوبندی تھا“
‏انگریز کے اقتد

ار کے خلاف حضرت نانوتوی کی قیادت میں پہلی عسکری کاروائی کے دوران شہید ہونے والا پہلا مجاہد حافظ محمدضامنؒ دیوبندی تھا“
کفر و دجل اور عیسائیت کا سرخم کرنے والا فقہیہ امت رشید احمد گنگوہیؒ دیوبندی تھا“
انگریز کو کتے کی طرح دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کرنے والا اورتحریک ریشمی رومال کی قیادت و راہنمائی کرنے والا گلستان دیوبند کا پہلا پھول حضرت شیخ الہند محمود حسنؒ دیوبندی تھا“
وطن سے بہت دور جزیره مالٹا میں طویل مدت تک پس دیوار زنداں رہنے والے
شیخ الہندؒ حسین احمد مدنیؒ مولانا عزیز گلؒ و دیگر احبابؒ دیوبندی تھے“
عقائد و نظریات اسلامی کے مقابلے میں کفر و شرک کو مات دینے والا مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ دیوبندی تھا“
‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور کی دیوار کے سائے میں 18 سال احادیث شریف پڑھانے والا سیدنا حسین احمد مدنیؒ دیوبندی تھا“
امت کی صراط مستقیم پر رہنمائی کے لیے تصانیف کے انبار لگانے والا حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ دیوبندی تھا“
‏ختم نبوت کے منکر جھوٹےمدعی نبوت مرزا قادیانی کوذلیل و رسوا کرکے اس کے کفر کو طشت از بام کرنے والا
انور شاہ کاشمیریؒ دیوبندی تھا“
تحریک ختم نبوت میں لاہور کی سڑکوں پر دس ہزار لوگوں کی قربانی دینے والوں کی قیادت کرنے والاعطا اللہ شاہ بخاریؒ دیوبندی تھا“
افغانستان کی سرزمین پر خلافتِ راشدہ کا نمونہ پیش کرنے والا ملا عمر مجاہد دیوبندی تھا“
اسلام کا پیغام دنیا میں کونے کونے تک پہچانے والی تبلیغی جماعت کا بانی مولانا الیاسؒ دیوبندی تھا“
فضائل اعمال لکھ کر عام مسلمانوں میں نیک اعمال کی رغبت پیدا کرنے والا شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلویؒ دیوبندی تھا“
قومی اسمبلی میں قادیانیت کے خلاف معرکتہ آراء مقدمہ لڑ کر سرخرو ہونے والا مفتی محمودؒ دیوبندی تھا“
غالی رافضیت کے کفر کو برسرِعام برہنہ کرنے والا حق نواز جھنگوی دیوبندی تھا“
تحفظ صحابہ کے لیئے اسمبلی میں گرجنے والا اعظم طارق شہید دیوبندی تھا۔
جستس سجاد علی شاہ کی عدالت میں ۴ کھنٹے شیعہ کے کفر پر دلائل دینے والا علامہ علی شیر حیدری دیوبندی تھا۔
آج بھی کشمیر کی وادی میں لڑنے والا جیش محمد کا امیر مولانا مسعود ازہر دیوبندی ہے۔پ

﴿📜مسجدِ رشید کے باہر ایک چھوٹی سی سلطنت: ٹھیلے والوں کی بے تاج بادشاہی﴾*✍🏻۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندیم اشرف> *یہ مضمون تیار کرتے وقت ا...
01/05/2026

﴿📜مسجدِ رشید کے باہر ایک چھوٹی سی سلطنت: ٹھیلے والوں کی بے تاج بادشاہی﴾

*✍🏻۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندیم اشرف

> *یہ مضمون تیار کرتے وقت ایک ایسی تحریر سے بھی استفادہ کیا گیا جس پر مصنف کا نام درج نہ تھا، ورنہ خوشی سے اُن کا حوالہ بھی شامل کیا جاتا۔ تاہم اس مضمون میں بیان کردہ بیشتر مناظر محض نقلِ تحریر نہیں بلکہ راقم کا ذاتی مشاہدہ بھی ہیں۔ کئی برسوں سے یہ منظر نگاہوں کے سامنے بار بار آتا رہا ہے، اسی لیے جو کچھ قلم بند کیا گیا ہے، وہ مشاہدے، تجربے اور احساس کی مشترکہ ترجمانی ہے۔*

*دارالعلوم دیوبند کا احاطہ صرف درسِ حدیث، فقہ و تفسیر، اور علمی مجالس ہی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل زندگی کا عنوان ہے؛ ایسی زندگی جس میں کتابوں کی خوشبو بھی ہے، طلبہ کی بے فکری بھی، اساتذہ کی شفقت بھی، اور ان گلیوں کی اپنی ایک جداگانہ تہذیب بھی۔ یہاں ہر در و دیوار ایک داستان سناتا ہے، ہر راہداری کے اپنے اسرار ہیں، اور ہر کونے میں ایک الگ دنیا آباد ہے۔ انہی دنیاؤں میں ایک دنیا مسجدِ رشید کے باہر بھی آباد ہے، جہاں علم و زہد کی فضا کے ساتھ ساتھ خوانچہ فروشوں کی ایک مستقل سلطنت قائم ہے، ایسی سلطنت جس کا نہ کوئی تاج ہے، نہ تخت، مگر حکومت ایسی کہ ہر نووارد طالب علم آخرکار اس کی رعیت بن ہی جاتا ہے۔*
*مسجدِ رشید کے اطراف، خصوصاً رشید کے دروازے اور اعظمی گیٹ کے سامنے، شام ڈھلتے ہی ایک عجیب منظر نمودار ہوتا ہے۔ کہیں تازہ پھلوں کے رنگین ڈھیر ہیں، کہیں پکوڑوں کی کڑاہیوں سے اٹھتی ہوئی خوشبو ہوا میں تیر رہی ہے، کہیں چاٹ اور کچوڑی کی صدائیں طلبہ کے صبر کا امتحان لے رہی ہیں، اور کہیں شربت و جوس کے گلاس ایسے چمک رہے ہوتے ہیں جیسے کسی فقیر کے خواب میں خزانہ اتر آیا ہو۔ یہ سب محض ٹھیلے نہیں، ایک باقاعدہ مملکت ہے؛ ایک ایسی ریاست جس کے باشندے روز بدلتے ہیں مگر نظام ہمیشہ قائم رہتا ہے۔*
*اہلِ مشاہدہ فرماتے ہیں کہ دارالعلوم میں سال کے دو موسم ایسے آتے ہیں جن میں بعض چہروں کی بہار دیدنی ہوتی ہے۔ ایک رمضان المبارک، جب چندہ کے دروازے کھلتے ہیں اور منتظمین کی پیشانیوں پر اطمینان کے آثار نمودار ہوتے ہیں، اور دوسرا شوال، جب نئے طلبہ دیوبند کی گلیوں میں بھوک، حیرت اور جیب کی محدود وسعت کے ساتھ داخل ہوتے ہیں، اور آخرکار انہی ٹھیلوں کو اپنا مسکنِ عافیت پاتے ہیں۔ شوال کے ایام میں ان خوانچہ فروشوں کے ہاں جو ہجوم برپا ہوتا ہے، وہ گویا قیامتِ صغریٰ کا منظر پیش کرتا ہے؛ ہر ہاتھ میں پلیٹ، ہر آنکھ میں امید، اور ہر جیب میں محدود سرمایہ۔*
*باقی سال ان ٹھیلوں کی حالت نسبتاً خاموش رہتی ہے، مگر یہ خاموشی بھی بڑی معنی خیز ہوتی ہے۔ مکھیاں اپنی مستقل حاضری سے وفاداری نبھاتی ہیں، مچھر اپنی حکومت کا اعلان کرتے ہیں، اور چند ایسے طلبہ بھی ہوتے ہیں جو اپنی جیب کی نزاکت کے باوجود یہاں کی رونق میں شریک رہتے ہیں۔ گویا یہ صرف کھانے پینے کی جگہ نہیں بلکہ ایک سماجی مرکز بھی ہے، جہاں خبریں بھی ملتی ہیں، تبصرے بھی ہوتے ہیں، اور بعض اوقات پوری سیاسی و عالمی صورتحال کا تجزیہ بھی ایک سموسے کے ساتھ مکمل کر دیا جاتا ہے۔*
*ایک مرتبہ ایک نووارد طالب علم نے ایک پکوڑے والے سے بڑے ادب سے پوچھا کہ آخر آپ کے پکوڑوں میں وہ کون سا راز ہے جو بڑی بڑی دکانوں میں نہیں؟ اس نے مسکرا کر کہا: “حضرت! بیسن وہی، نمک وہی، مرچ بھی وہی، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ ان پکوڑیوں پر دارالعلوم کے طلبہ کے قدموں کی خاک شامل ہو جاتی ہے، اور یہی برکت انہیں بے مثال بنا دیتی ہے۔” سننے والا خوش ہوا، اور میں اس جملے کے اندر چھپی ہوئی تجارت کی حکمت پر حیران رہ گیا۔ دیوبند کے خوانچہ فروش محض بیوپاری نہیں، نفسیات کے ماہر بھی ہوتے ہیں؛ وہ جانتے ہیں کہ طالب علم کے دل تک پہنچنے کا راستہ صرف معدے سے نہیں، تعریف سے بھی جاتا ہے۔*
*ایک اور ٹھیلے پر حلیم اور بریانی کی ایسی شان تھی کہ دیکھنے والا خود کو کسی شاہی دسترخوان کے قریب محسوس کرے۔ ایک صاحب نے لقمہ لیتے ہی گوشت کی نوعیت پر شبہ ظاہر کیا، تو جواب ملا: “حضور! یہ سب دارالعلوم کی برکت ہے۔” اس جملے کی وسعت اتنی تھی کہ سوال بھی خاموش ہوگیا اور جواب بھی مکمل محسوس ہوا۔ چند دن بعد جب احاطے میں بلیوں کی تعداد میں نمایاں کمی محسوس ہوئی تو اس “برکت” کی کچھ پرتیں خود بخود کھلنے لگیں۔*
*پھر ایک گوشے میں گنے کے جوس والے کی اپنی فلسفیانہ حکومت قائم تھی۔ نرخ پوچھے گئے تو معلوم ہوا کہ قیمت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ وجہ دریافت کی گئی تو اس نے بڑے اطمینان سے فرمایا: “جناب! مسئلہ صرف گنے کا نہیں، آبنائے ہرمز کا بھی ہے!” جب حیرت کا اظہار کیا گیا تو مزید وضاحت فرمائی کہ چونکہ چائے بارہ روپے کی ہو چکی ہے، اور شربت اس کی ضد ہے، لہٰذا ضد بھی برابر کی ہونی چاہیے۔ ایسے دلائل صرف دیوبند کے ٹھیلوں پر ہی سننے کو ملتے ہیں، جہاں منطق بھی بھوک کے تابع ہوتی ہے اور فلسفہ بھی گلاس کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔*
*ہمارے بعض اساتذۂ کرام بھی ان ٹھیلوں کے بارے میں خاص رائے رکھتے تھے۔ ایک مشفق استاد جب کبھی سبق جلد ختم کرتے تو تبسم کے ساتھ فرماتے: “جاؤ، اب اعظمی کی نالیوں کو آباد کرو۔” اور جب اصولِ فقہ میں عدالتِ راوی کی تعریف پڑھاتے تو یہ بھی بتاتے کہ ثقہ آدمی وہ نہیں جو ہر وقت خوانچہ فروشوں کے گرد طواف کرتا پھرے۔ اس نصیحت کا اثر بعض ذہنوں پر ایسا ہوا کہ ایک طالب علم نے امتحان میں “عدل” کی تعریف ہی یوں لکھ دی کہ انسان نہ ٹھیلوں کے پاس کھڑا ہو کر کھائے اور نہ اعظمی کی نالیوں کو اپنی موجودگی سے معمور کرے۔*
*یہ سب واقعات بظاہر مزاح معلوم ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں یہی دارالعلوم کی زندگی کی اصل خوبصورتی ہیں۔ علم صرف کتابوں میں نہیں ہوتا، بلکہ ان گلیوں میں بھی بکھرا ہوتا ہے جہاں طلبہ اپنی جوانی کے دن گزارتے ہیں۔ مسجدِ رشید کے باہر یہ ٹھیلے محض تجارت نہیں، یادوں کے ستون ہیں۔ یہاں کھایا ہوا ایک معمولی پکوڑا بھی برسوں بعد یاد آتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ دوستوں کی ہنسی، جیب کی تنگی، امتحان کا دباؤ، اور طالب علمی کی بے فکری جڑی ہوتی ہے۔*
*وقت گزر جاتا ہے، طالب علم رخصت ہو جاتے ہیں، عمریں بدل جاتی ہیں، مگر مسجدِ رشید کے باہر ٹھیلے والوں کی یہ بے تاج بادشاہی قائم رہتی ہے۔ نئے چہرے آتے ہیں، پرانی یادیں تازہ ہوتی ہیں، اور یہ سلطنت خاموشی سے اپنی حکومت جاری رکھتی ہے۔ شاید اسی کا نام زندگی ہے کہ جہاں علم کے ساتھ ذائقہ بھی ہو، نصیحت کے ساتھ مسکراہٹ بھی، اور مسجد کے سائے میں دنیا کی ایک چھوٹی سی مملکت بھی آباد ہو*

مولانا محمد ادریس کاندھلوی برصغیر کے ایک جید عالمِ دین، محدث اور مفسر تھے۔ آپ کا شمار اکابر علماءِ دیوبند میں ہوتا ہے۔📚 ...
01/05/2026

مولانا محمد ادریس کاندھلوی برصغیر کے ایک جید عالمِ دین، محدث اور مفسر تھے۔ آپ کا شمار اکابر علماءِ دیوبند میں ہوتا ہے۔
📚 تعارف
پیدائش: 1899ء (کاندھلہ، ضلع مظفر نگر، انڈیا)
وفات: 1974ء (لاہور، پاکستان)
مسلک: دیوبندی
شعبہ: حدیث، تفسیر، فقہ
🎓 تعلیم و اساتذہ
مولانا نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، پھر دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے۔
آپ کے مشہور اساتذہ میں شامل ہیں:
علامہ شبیر احمد عثمانی
شیخ الہند محمود الحسن
🏫 تدریسی خدمات
آپ نے کئی بڑے مدارس میں تدریس کی، جن میں:
دارالعلوم دیوبند
جامعہ اشرفیہ لاہور
آپ حدیث کے بڑے استاد مانے جاتے تھے اور ہزاروں طلبہ نے آپ سے علم حاصل کیا۔
📖 علمی خدمات (تصانیف)
مولانا ادریس کاندھلوی نے کئی اہم کتابیں لکھیں، جیسے:
سیرۃ المصطفیٰ ﷺ (نبی کریم ﷺ کی سیرت پر مفصل کتاب)
معارف القرآن (تفسیر قرآن)
التعلیق الصبیح علی مشکوٰۃ المصابیح (حدیث کی شرح)
🌟 خصوصیات
حدیث اور سیرت میں خاص مہارت رکھتے تھے
انتہائی سادہ اور زاہدانہ زندگی گزاری
علمی گہرائی اور مدلل انداز بیان کے لیے مشہور تھے
🪦 وفات
آپ کا انتقال 1974ء میں لاہور میں ہوا اور وہیں مدفون ہیں۔
اللہ پاک کامل مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے آمین

فکر نانوتوی کے علمبردار مولانا ڈاکٹر شکیب صاحب قاسمی دامت برکاتھم العالیہ نائب مھتمم و استاذ حدیث و ڈائریکٹر حجتہ الاسلا...
01/05/2026

فکر نانوتوی کے علمبردار مولانا ڈاکٹر شکیب صاحب قاسمی دامت برکاتھم العالیہ نائب مھتمم و استاذ حدیث و ڈائریکٹر حجتہ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند ۔
اور
استاذ محترم جناب مولانا بدر الاسلام صاحب قاسمی دامت برکاتھم العالیہ

مرقد مبارک حضرت شیخ محمد عاقل صاحب نوراللہ مرقدہ 😔
01/05/2026

مرقد مبارک حضرت شیخ محمد عاقل صاحب نوراللہ مرقدہ 😔

مفتی Yasir Nadeem Al Wajidi صاحب نے ابو جعفر  تنولی کا موئے موئے کر دیا 😁😁😁
30/04/2026

مفتی Yasir Nadeem Al Wajidi صاحب نے ابو جعفر تنولی کا موئے موئے کر دیا 😁😁😁


دارالعلوم دیوبند
30/04/2026

دارالعلوم دیوبند

اکابر علمائے دیوبند کو سلام
30/04/2026

اکابر علمائے دیوبند کو سلام

دارالعلوم دیوبند کے پہلے استاد
30/04/2026

دارالعلوم دیوبند کے پہلے استاد

مسجد رشید کے باہر ٹھیلے والوں کی مملکتشیدیہ کے دروازے اور اعظمی کے سامنے ٹھیلے والے (خوانچہ فروش) اپنی اپنی سلطنت آباد ک...
30/04/2026

مسجد رشید کے باہر ٹھیلے والوں کی مملکت

شیدیہ کے دروازے اور اعظمی کے سامنے ٹھیلے والے (خوانچہ فروش) اپنی اپنی سلطنت آباد کیے ہوئے ہیں ۔ کہیں پھلوں کے انبار، کہیں پکوڑوں کی کڑاہیاں، کہیں کچوڑی و چاٹ، اور کہیں شربت و جوس وغیرہ وغیرہ ۔ یہ قطار گویا ایک مستقل مملکت ہے ۔
اہل نظر کا بیان ہے کہ سال میں دو موسم ایسے آتے ہیں جن میں دو طبقوں کی عید ہوا کرتی ہے: ایک رمضان المبارک کہ چندہ کے فیضان سے مہتممین کے چہرے تمتما اٹھتے ہیں، اور دوسرا شوال کہ نووارد طلبہ، جو دیوبند کی گلیوں میں خورد و نوش کی جستجو میں سرگرداں پھرتے ہیں، بالآخر انہی ٹھیلوں کے آستانۂ کرم پر سر نیاز خم کرتے ہیں ۔
شوال میں تو ان ٹھیلوں پر طلبہ کا ہجوم ایسا ہوتا ہے کہ گویا حشر برپا ہے، اور بقیہ سال مفت خوروں کی ایک خاموش جماعت ان کا رزق چاٹتی رہتی ہے ۔ جن میں سرفہرست مکھیاں، مچھر اور دیگر حشرات الارض ہیں۔ مگر یہ صاحبان ، تمام سال مکھیاں گننے کے باوجود، شوال میں ایسی برکت سمیٹ لیتے ہیں کہ ان کی سالانہ معیشت، سلطان عادل شیر شاہ سوری کے نظام زر کو بھی شرمندہ تعبیر کر دیتی ہے ۔
ایک روز ایک طالب علم ایک پکوڑے کے ٹھیلے والے سے ذائقے کا راز دریافت کرنے لگا ۔ ٹھیلے والا گویا ہوا کہ “حضرت یہ سب آپ ہی کی عنایت ہے ” جب اس اجمال کی تفصیل چاہی گئی تو بولا “اجزائے ترکیبی تو وہی معمولی بیسن، نمک، مرچ ہیں ۔ لیکن ایک خاص مسالہ ہے جو ہمیں عالی شان دکانوں سے ممتاز کرتا ہے؛ وہ آپ حضرات کے قدموں کی غبار ہے ، جو آپ کے پاپوش سے اڑ کر ان پکوڑیوں پر جلوہ افروز ہوتی ہے!
ابھی یہ عقدہ کھلا ہی تھا کہ ایک اور سادہ لوح نووارد طالب علم آیا اور یہی سوال دہرایا، تو خوانچہ فروش نے کہا “یہ ذائقہ تو آپ کے قدموں کی خاک کے برابر ہے” وہ بیچارہ اس تعظیم پر پھولا نہ سمایا، اور میں اس توریہ کو ٹھیک ٹھاک سمجھ چکا تھا ۔
مؤرخین ٹھیلے کا دعویٰ ہے کہ جب مغلیہ سلطنت عالمگیر کے بعد زوال پذیر ہوئی اور مراہٹوں کی یورش نے کمر توڑ دی، تو نجیب الدولہ کی وساطت سے احمد شاہ ابدالی کو جو ہند میں دعوت مداخلت دی گئی، اس میں اعزاز و اکرام کے ساتھ انہی پکوڑوں کی پیش کش بھی شامل تھی ۔ اور یہی وہ لذیذ ترغیب تھی جس پر ابدالی نے لبیک کہا!

جب دوسری طرف نظر دوڑائی تو ادھر ایک نو وارد ٹھیلے پر حلیم بریانی کا شغل فرمارہے تھے ۔ اچانک فرمانے لگے گوشت کی بوٹی میں کچھ اجنبیت محسوس ہورہی۔ سبب پوچھا تو جواب ملا “یہ سب دارالعلوم کی برکت ہے” نووارد اس جواب پر شاداں ہورہا تھا ، مگر میں اس جملے پر غور کرنے لگا ۔ چند روز بعد جب دارالعلوم کے صحن میں آوارہ بلیوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی، تو اس “برکت” کا مفہوم مجھ پر کچھ کچھ منکشف ہونے لگا۔
اب یہاں کے ایک شاعر بے نوا کا یہ بھی اصرار ہے کہ ساحر لدھیانوی کے مشہور کلام میں تحریف کی گئی، اصل یوں تھا:

تم نے جس حلیم کو دکانوں میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار ( ٹھیلوں ) میں آ نکلا ہے
کہیں حلیم، کہیں دلیم، کہیں کھچڑا بن کر
حلیم چلتا ہے تو رکتا نہیں جلجیروں سے

ابھی دو خوانچہ فروش ( ٹھیلے والوں) سے نمٹا ہی تھا کہ تیسرے ٹھیلے کی طرف توجہ کی ، تو اس پر گنے کے جوس کا چرچا تھا۔ قیمت دریافت کی گئی تو معلوم ہوا کہ “بڑا گلاس بیس روپے ، چھوٹا گلاس دس روپے ، ادھر چلے آئے ادھر ” کا شہرہ اب قصہ پارینہ ہوا چاہتا ہے، اور نرخ بڑھ کر بارہ روپے تک پہنچنے کو ہیں۔ وجہ پوچھی گئی تو جواب ملا ۔ جناب! مسئلہ آبنائے ہرمز ہے ۔ جب اس بے ڈھنگی بات پر مزید استفسار کیا تو خوانچہ فروش کہنے لگا " تتبين الاشياء باضدادها " اور چونکہ چائے (جو حرارت سے پکتی ہے) بارہ روپے کی ہوچکی، لہذا اس کی ضد یعنی شربت بھی بارہ ہی کا ہوگا!

اس خوانچہ فروش (ٹھیلے والے ) کا بھی اپنا مؤرخ ہے، جو دعویٰ کرتا ہے کہ فرانس کے جمہوری انقلاب کے ہنگاموں میں، جب نپولین یورپ کو زیر کرنے نکلا، تو نہ کوئی ریڈ بل اس کی مددگار تھی نہ مانٹن ڈیو ۔ بلکہ اسی ٹھیلے کے گنے کے جوس نے اسے وہ توانائی بخشی ، جس نے اسپین اور ہالینڈ جیسے حریف کو نپولین کا حلیف بننے مجبور کردیا ۔ مگر جب وہ مصر پہنچا اور اسکا توشے دان اس جوس سے خالی ہوا تو پھر شکست اس کا مقدر بن گئی!
دیوبند والے جانتے ہیں کہ اعظمی منزل کے ان خوانچہ فروش کی ایک الگ تاریخ ہے۔ ہمارے ایک مشفق استاذ، جب کبھی گھنٹہ بجنے سے کچھ پہلے چھٹی کردیتے ، تو طنزاً کہتے “جاؤ، اعظمی کی نالیوں کو آباد کرو” اور جب اصول فقہ میں راوی کے ثقہ ہونے کی شرائط بیان فرماتے، تو یہ بھی فرماتے کہ “وہ ایسا نہ ہو جو خوانچہ فروشوں کے پاس کھڑے ہو کر کھاتا ہو” اس قول کا اثر مجھ پر ایسا ہوا کہ ایک روز امتحان میں، جب “اصول فقہ والے عدل” کی تعریف یاد نہ آئی، تو میں نے یہی لکھ دیا دیا کہ “عدل یہ ہے کہ آدمی نہ اعظمی کی نالیوں کو آباد کرے، نہ خوانچہ فروشوں ( ٹھیلے والوں ) کے پاس کھڑے ہو کر خوار ہو!

سمرہ عبدالرب

30/04/2026

سر اٹھا کر چلنے کے لئے
وجود بے داغ رکھنا پڑھتاہے

مفتی ابو القاسم نعمانی مھتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند تعلیمی رپورٹ سنہ 1387 دورہ حدیث شریف میں اول پوزیشن ❤️روداد ع...
30/04/2026

مفتی ابو القاسم نعمانی مھتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند
تعلیمی رپورٹ سنہ 1387 دورہ حدیث شریف میں اول پوزیشن ❤️
روداد عمل دار العلوم دیوبند مرتبہ قاری طیب صاحب نور اللہ مرقدہ سابق مھتمم دارالعلوم دیوبند

اکابر علمائے دیوبند ❤️
30/04/2026

اکابر علمائے دیوبند ❤️

Address

JAMKHANDI
Jamkhandi
587301

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Harunrashid Qasmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mufti Harunrashid Qasmi:

Share