22/06/2026
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
دل کو چیر دینے والی اور اندوہناک خبر…
ضلع رامبن کے علاقے گول، بھمداسہ سے تعلق رکھنے والا 19 سالہ نوجوان عابد حسین ٹھاچو ولد فاروق احمد ٹھاچو اب ہم میں نہیں رہا۔
یہ وہ عمر ہوتی ہے جب خواب آنکھوں میں بسے ہوتے ہیں، جب انسان اپنے گھر والوں کے لیے سہارا بننے نکلتا ہے… مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ عابد حسین، جو روزگار کی تلاش میں کشمیر گیا تھا، نہ جانے کس کرب اور کیفیت سے گزر رہا تھا کہ کل ہی اس نے اپنے احساسات کو ایک اسٹیٹس کے ذریعے بیان کیا۔ ایک ایسا درد، ایک ایسی فریاد… جسے سن کر ہر دل پسیج جائے:
"مجھے سب نے چھوڑ دیا میرے مولا… میں نے سنا ہے آپ اپنے بندوں کو معاف کرنے والے ہو… میں آپ کے پاس آنے والا ہوں…"
یہ الفاظ اب ایک دردناک حقیقت بن چکے ہیں.
الفاظ میرے دل کے بوجھ کو سہار نہ سکے،
ہر حرف کانپ رہا تھا، ہر سطر درد میں ڈوبی ہوئی تھی…
جب مجھ سے یہ الفاظ نکل رہے تھے تو یوں لگ رہا تھا
جیسے میرا وجود بھی اس غم میں ٹوٹ رہا ہو…
"۔
21 جون کی صبح، سری نگر کے دودھ گنگا دریا میں نہانے کے لیے گیا… اور پھر وہی دریا اسے ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے گیا۔ ایک معصوم جان، ایک ادھورا خواب، ایک گھر کا چراغ… سب کچھ ایک لمحے میں بجھ گیا۔
یہ غم اس لیے اور بھی گہرا ہے کہ اس خاندان کا ایک اور کمسن بیٹا، محض 14 سال کی عمر میں، دو سال پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔ ماں باپ ابھی اُس زخم سے سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ آج ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی۔ یہ دکھ، یہ صدمہ… الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے دل پر دوبارہ گولی چل گئی ہو۔
پورے علاقے میں کہرام مچ گیا ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر دل غمزدہ… اور ہر زبان پر یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نوجوان کی مغفرت فرمائے اور اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔
اللہ رب العزت مرحوم کے تمام گناہوں کو معاف فرمائے، اس کی لغزشوں سے درگزر کرے، اور اسے اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو، اہل خانہ کو، اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اپ کا دعا گو۔ — ساقی مشتاق نائیک
�