16/07/2026
جب باطل نے حق کو مٹانے کی آخری سازش کی... (دارالندوہ کی وہ خوفناک رات!)
جب مکہ کی گلیوں میں توحید کا نور تیزی سے پھیلنے لگا، تو باطل نظام لرز اٹھا۔ قریش کے سرداروں نے محسوس کر لیا کہ محمد ﷺ کی دعوتِ توحید ان کے جھوٹے خداؤں اور ان کی جھوٹی چودھراہٹ کے ستون گرا رہی ہے۔ لہٰذا، مکہ کی پارلیمنٹ "دارالندوہ" میں ایک ہنگامی اور تاریخ کی سب سے خطرناک میٹنگ بلائی گئی تاکہ اسلام کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔
اس شیطانی مجلس میں ابوجہل، ابوسفیان، امیہ بن خلف اور عتبہ جیسے تمام بڑے سردار جمع ہوئے۔ غور و خوض کے بعد تین بڑی تجاویز پیش کی گئیں:
1. قید کی تجویز: ایک سردار نے کہا، انہیں بیڑیاں پہنا کر قید کر دو۔ مگر یہ تجویز رد ہو گئی کہ ان کے جاں نثار ساتھی جان پر کھیل کر انہیں چھڑا لیں گے۔2. جلاوطنی کی تجویز: کہا گیا کہ انہیں مکہ سے نکال دو۔ یہ بھی مسترد ہو گئی کہ وہ اپنے بہترین اخلاق اور شیریں کلام سے باہر کے قبائل کو اکٹھا کر کے مکہ پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔3. قتل کی سازش (ابوجہل کا خونی منصوبہ): آخر میں ابوجہل نے تجویز دی کہ قریش کے ہر قبیلے سے ایک مضبوط نوجوان چنا جائے۔ سب مل کر رات کے اندھیرے میں ایک ساتھ وار کریں تاکہ خون تمام قبائل میں بٹ جائے اور بنو ہاشم اکیلے پورے مکہ سے بدلہ نہ لے سکیں۔
مجمعے میں ابلیس کی انٹری:
تاریخ بتاتی ہے کہ اس سازشی مجلس میں ابلیس خود ایک "بوڑھے نجدی شیخ" کے روپ میں شریک تھا۔ اس نے پہلی دونوں تجاویز کو رد کیا اور ابوجہل کے خونی منصوبے کی بھرپور تائید کی!
زمین والوں کی سازش بمقابلہ آسمان والے کی تدبیر:
منصوبہ مکمل تھا۔ رات کے اندھیرے میں قریش کے ننگی تلواریں لیے نوجوانوں نے نبیِ رحمت ﷺ کے گھر کا گھیراؤ کر لیا۔ مگر کافر یہ بھول گئے تھے کہ وہ کس سے ٹکرا رہے ہیں! اللہ تعالیٰ نے عین اسی وقت اپنے حبیب ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا۔ آپ ﷺ حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر لٹا کر، ان قاتلوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ان کے بیچ سے باحفاظت نکل گئے۔
قرآن مجید نے اس منظر کو کیا ہی خوبصورت اور جلال والے انداز میں بیان کیا ہے:
"وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ، وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ"
(اور وہ (کافر) مکر کر رہے تھے، اور اللہ بھی اپنی خفیہ تدبیر کر رہا تھا، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ - الأنفال: 30)
✨ حاصلِ کلام (آج کے دور کا سبق):
یہ واقعہ آج کے ہر اس مسلمان کے لیے ایک امید کا پیغام ہے جو باطل کی طاقتوں سے مایوس ہے۔ یاد رکھیں! جب پوری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی حق کے خلاف سازش کریں، تب بھی آخری فیصلہ اللہ کی تقدیر کا ہی ہوتا ہے۔ دارالندوہ کی اس سازش نے اسلام کو ختم نہیں کیا، بلکہ "ہجرتِ مدینہ" کی صورت میں اسے ایک عظیم الشان ریاست، قوت اور عالمی نظام عطا کر دیا!
✍ تحریر: مولانا مشتاق الاسلام ملک القاسمی