24/08/2026
مڑ کے دیکھا بھی نہیں حال ہمارا اس نے
وہ کبھی حال ہمارا ہوا کرتا تھا
شوخ انداز ہیں اب اس کے بہاروں جیسے
وہ کبھی چپ چاپ ستارہ ہوا کرتا تھا
ایک سسکی پہ مری اس کا تڑپ سا جانا
وہ مرے دل کا سہارا ہوا کرتا تھا
دیکھنے جس کو ترس جاتی ہیں آنکھیں میری
کبھی ہر روز نظارہ ہوا کرتا تھا
وہ سنا کرتا تھا گھنٹوں مری باتیں ایسے
میں سمندر وہ کنارا ہوا کرتا تھا
https://www.facebook.com/share/p/1etbqXBXDd/