26/05/2026
تبلیغِ دین اور فکری اعتدال: اصلاحِ احوال تنقید نہیں، خیر خواہی ہے
"یہ تحریر اصل دعوتِ دین کی مخالفت نہیں، بلکہ تبلیغ کے نام پر رائج اُن غیر شرعی رویوں، فکری غلو، اور اکابرین کی توہین پر مبنی طرزِ عمل کی اصلاح کے لیے لکھی گئی ہے، جو دین کی روح کو مجروح کر رہے ہیں۔ کسی بھی عمل میں موجود خرابی کی نشاندہی کرنا اُس عمل کی دشمنی نہیں، بلکہ اُسے پاکیزہ اور مؤثر بنانے کی ایک علمی اور مخلصانہ کوشش ہے۔"
مضمون کا متن
دعوت و تبلیغ، انبیاء کرامؑ کا ورثہ اور امتِ مسلمہ کا بنیادی فریضہ ہے۔ اللہ رب العزت نے اس امت کو "خیرِ امت" اسی لیے قرار دیا ہے کہ یہ حق کی دعوت دیتی ہے اور خیر کی ترغیب دلاتی ہے۔ تاہم، یہ فریضہ جس قدر عظیم ہے، اسی قدر احتیاط اور بصیرت کا متقاضی بھی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تبلیغ کرنی چاہیے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ تبلیغ کس ڈھنگ سے کی جا رہی ہے؟
دعوت کا مقصد: گروہ بندی نہیں، اللہ سے جوڑنا
دعوتِ دین کا اصل جوہر "حکمت اور موعظتِ حسنہ" ہے۔ اس کا مقصد انسانوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے، نہ کہ اپنے کسی مخصوص گروہی خ*ل میں بند کرنا۔ جب تبلیغ کے نام پر ایسے رویے پروان چڑھیں جن میں دوسروں کو کمتر سمجھا جائے، اکابرین کی علمی خدمات کو ہدفِ تنقید بنایا جائے، یا مدارس و خانقاہوں جیسے دینی مراکز کو بدنام کیا جائے، تو یہ تبلیغ نہیں بلکہ دین کے وسیع دامن کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔
اصلاح، دشمنی نہیں؛ خیر خواہی ہے
یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ تبلیغی کام میں ہونے والی کسی بھی لغزش پر خاموش رہنا ہی 'وفاداری' ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تبلیغ کے نام پر جو بھی غیر شرعی یا غیر معتدل رویہ اپنایا جاتا ہے، اس کی نشاندہی کرنا اس کام کے ساتھ سب سے بڑی خیر خواہی ہے۔ اگر کوئی نماز کا طریقہ غلط بتائے تو اسے درست کرنا نماز کا احترام ہے، بالکل اسی طرح اگر تبلیغ کے نام پر علماء کی توہین یا احادیث میں تحریف کی جائے، تو اس کی اصلاح کرنا دعوتِ دین کا اصل احترام ہے۔
غلو اور فکری انحراف کا سدِباب
دین میں غلو ہمیشہ زوال کا پیش خیمہ رہا ہے۔ تبلیغ کے نام پر اگر ضعیف اور موضوع روایات کا سہارا لیا جائے، یا احادیثِ مبارکہ کے مفہوم کو بدل کر اپنے مخصوص بیانیے کو تقویت دی جائے، تو یہ علمی دیانت کے خلاف ہے۔ ایک داعی کا کام قرآن و سنت کی اصل روح کو پیش کرنا ہے، نہ کہ جذباتی نعروں سے ذہن سازی کرنا۔ جب تک دعوتِ دین علمائے حق کی سرپرستی اور سلف صالحین کے منہج پر قائم رہے گی، تب تک وہ امت کے لیے نورِ ہدایت ہے۔
ایک متوازن مستقبل کی ضرورت
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دعوت کے میدان میں علمی بصیرت، اعتدال اور اخلاقِ نبویؐ کو دوبارہ رائج کریں۔ ہمیں ایسی تبلیغ درکار ہے جو امت کو جوڑنے والی ہو، علم و عمل کا حسین امتزاج ہو، اور علمائے ربانیین کے احترام پر مبنی ہو۔
یاد رکھیے، تنقید کا مقصد تبلیغ کو ختم کرنا نہیں، بلکہ اسے اس اصل راستے پر واپس لانا ہے جو ہمارے اسلاف نے ہمیں دیا تھا۔ جو طریقہ دین کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہو، اس پر کلمہِ حق کہنا ہر صاحبِ علم کی ذمہ داری ہے، تاکہ دین کا نام بدنام نہ ہو اور دعوت کا کام اپنی اصل شان کے ساتھ جاری رہے۔