23/12/2025
مرنے کے بعد اگر معلوم ہو جائے کہ اللہ ہے تو کیا ہوگا؟
(حریش کمار)
حریش کمار نے فزکس میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھارت کی ایک اہم یونیورسٹی میں لیکچرر کے عہدے پر تقرری حاصل کی۔
وہ پہلے ہی ہندو دھرم سے مطمئن نہیں تھے۔
سن 1986 میں لندن میں دورانِ تعلیم اسٹیفن ہاکنگ کے لیکچرز اور کتابوں سے ایسا متاثر ہوئے کہ خدا کے منکر ہو گئے۔ ان کا انکار اس حد تک بڑھا کہ بڑے بڑے مسلمان، عیسائی اور یہودی علما سے مناظرے کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر ذاکر نائک بھی انہیں متاثر نہ کر سکے۔
ڈاکٹر حریش کمار خود بیان کرتے ہیں کہ سن 2005 کی چھٹیوں کے ایک دن صبح ایک مسلمان سبزی فروش نے دروازے کی گھنٹی بجائی۔ ہم پچھلے بیس برسوں سے اسی سے سبزی خریدتے آ رہے تھے۔ اس دن میں نے اسے چائے کی پیشکش کی، جسے اس نے قبول کر لیا۔ حسبِ عادت میں نے اللہ کے وجود پر بحث چھیڑ دی۔
آدھے گھنٹے کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ ایک سیدھا سادہ مسلمان ہے، پانچ وقت کا نمازی، لین دین میں صاف گو اور ایماندار، مناسب داموں میں سودا بیچنے والا۔
جاتے وقت اس نے ایک ایسی بات کہی جس نے میری پوری زندگی بدل کر رکھ دی۔
وہ بولا:
“ڈاکٹر صاحب! آپ خود کہہ چکے ہیں کہ تقریباً 6000 سے 10000 سال کی انسانی تاریخ میں پیغمبروں کی باتیں چلتی آ رہی ہیں، اور سب ایک اللہ، جنت اور دوزخ کا ذکر کرتے ہیں۔
اور آپ کی سائنس مرنے کے بعد کے حالات کا کوئی جواب نہیں دے سکتی۔
اب صرف دو ہی امکانات ہیں:
اللہ کا وجود نہیں ہے
اللہ کا وجود ہے
اگر اللہ کا وجود نہیں ہوا تو مرنے کے بعد ہم دونوں برابر ہوں گے،
لیکن اگر اللہ موجود ہوا تو آپ پکڑے جائیں گے۔
تو دونوں صورتوں میں فائدے میں کون ہے؟ آپ خود فیصلہ کر لیجیے۔
اس لیے بہتر یہی ہے کہ اللہ کو مان لیا جائے اور اس کے حکم کے مطابق زندگی گزاری جائے، کیونکہ اس کا کلام انسان کو سیدھے راستے پر چلنے کی دعوت دیتا ہے۔”
میں نے ساری زندگی probability (امکانات) کے لیکچرز دیے تھے، مگر اس کے جانے کے بعد پہلی بار سوچا کہ اس probability پر میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا، کہ دونوں صورتوں میں اللہ کو ماننے والا ہی فائدے میں ہے۔
مختصر یہ کہ اسی سوچ کے بعد میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ کون سا آسمانی مذہب بہتر ہے؟
ادیان کا مطالعہ تو میں پہلے ہی کر چکا تھا۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کے ایک لیکچر میں سنا تھا کہ قرآن مجید چودہ سو سال سے ایک ایک لفظ کے ساتھ محفوظ ہے۔
جب میں نے انگلینڈ میں ایک عیسائی مشنری انسٹیٹیوٹ سے اس کی تحقیق کی تو سب نے اس بات کی تصدیق کی۔
الحمدللہ! آج مجھے اور میرے پورے خاندان کو مسلمان ہوئے پندرہ سال ہو چکے ہیں۔
میں اسلامی تعلیمات کے لیے کیرالا منتقل ہو گیا۔
اب میری تین بیٹیاں ہیں جو حافظۂ قرآن ہیں۔
اس کریم رب نے میری زندگی بدل دی۔
لیکن وہ سبزی فروش عبدالاحد دوبارہ کبھی نہیں ملا۔
البتہ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے اپنا نام بھی احد رکھ لیا، کیونکہ وہ سبزی فروش ایک سچا مسلمان تھا۔
اسلام درشن کیندر، بھوپال