06/01/2022
دار العلوم عزیز یہ میرا روڈ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا شرافت حسین صاحب پر قاتلانہ حملہ
دوستوں
کیا ہوا بدھ کی رات یعنی کے پانچ تاریخ کی رات کو
یہ جاننے سے پہلے یہ بھی جاننا زیادہ ضروری ہے کہ کون ہیں حضرت مولانا شرافت صاحب دامت برکاتہم ؟
حضرت کی عمر 49 سال ہے اور حضرت تقریباً تیس سالوں سے دارالعلوم عزیزیہ (نیانگر میرا روڈ) میں مدرس ہیں۔ اور بطورِ صدر المدرسین 20 بیس سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔اور علاوہ ازیں ذکر کی اور نوجوانوں کی اصلاح کی مجالس بھی منعقد کرتے ہیں۔
حضرت کا قیام پوری فیملی کے ساتھ میرا روڈ میں ہی ہے۔
اب میں آپ کو بتاؤں کہ کیا ہوا بدھ کی رات کو
حضرت نے عشاء کی نماز عزیزیہ مسجد میں ادا کی اور حضرت کی اسی رات مسجد عمر کے پاس میں ایک شادی ہال میں دعوت تھی۔
چنانچہ حضرت اپنی بلڈنگ کے نیچے آنے کے بعد کچھ کتابیں ایک طالب علم کے ذریعے گھر پہنچوا دیں اور حضرت دعوت کے لیے جانے لگے۔
حضرت کی اہلیہ نے بتایا کہ انہوں نے پہلے دعوت میں جانے سے انکار کیا تھا۔ کہا تھا کہ میں نہیں جاؤں گا اس لیے کہ میری طبیعت خراب ہے۔ تو اس وجہ سے میں نے ان کے لئے کھانا تیار کیا ہوا تھا جب کھانے کا وقت ہوگیا اور حضرت گھر نہیں آئے تو مجھے گھبراہٹ سی محسوس ہوئی اور میں نے فوراً کال لگائی تو پتہ چلا کہ دعوت میں جا رہے ہیں۔
بیک روڈ عمر مسجد کے پاس حضرت جا رہے تھے کی ایک نوجوان جس کا نام عبدالرزاق ہے جو حضرت کی مجلس میں آیا بھی کرتا ہے اس نے حضرت کی ٹانگ میں ٹانگ پھنسا کر گرا دیا۔حضرت منہ کے بل گر گئے اور پھر اس نوجوان نے ایک نوکیلے پتھر سے حضرت کے سر پر ایک دو تین نہیں بلکہ کل 12 سے زائد وار کیے۔
جس کے نتیجے میں حضرت کا سر پھٹ گیا دو سے زائد دانت جبڑے کے ساتھ نکل گئے، ایک آنکھ کافی شدید زخمی ہوئی،ناک کے اطراف میں شدید چوٹ لگی اور حضرت پورے خون سے لت پت ہوگئے۔
جب تک لوگوں نے دیکھا کافی دیر ہو چکی تھی وہاں پر موجود لوگوں نے اس نوجوان کو پکڑ لیا۔
حضرت کے جسم سے خون بہتا رہا۔وہیں پر ایک طالب علم نے جب حضرت کو خون میں لت پت دیکھا تو فوراً اٹھا کر رکشے میں بیٹھایا اور مدرسہ عزیزیہ کے اساتذہ کو مطلع کیا۔
بعدہُ حضرت کو فوراً تنور ہاسپیٹل لے جایا گیا ڈاکٹر تنور نے دیکھا اور حضرت کو آئ-سی-یو میں ایڈمیٹ کر دیا گیا۔ علاج شروع ہوگیا۔تقریباً دو گھنٹے کے کامیاب اوپریشن کے بعد پتہ چلا کہ حضرت کو کل 42 بیالیس ٹاکے لگے ہیں۔ اور چوٹ نا قابلِ دید ہے۔
ڈاکٹر کے مشورے سے آنکھ کے علاج کے لیے پلس ہوسپیٹل سے MRI کرانے کے بعد بقیہ علاج کے لیے بھکتی ویدانت ہاسپیٹل لے جایا گیا۔
جب کہ عبدالرزاق کو پولیس کی تحویل میں رکھا گیا ہے اور جانچ پڑتال چالو ہے۔
ساتھ ہی عبدالرزاق کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ یہ دماغی اعتبار سے درست نہیں ہے اور ڈاکٹرز کی فائل بھی ہمارے پاس موجود ہے۔
جب کہ حضرت کے صاحبزادے کا کہنا ہے کہ اگر وہ دماغی اعتبار سے درست نہیں ہے تو میرے ہی والد صاحب پر کیوں حملہ کیا؟
اور اس کے دماغی اعتبار سے درست نہ ہونے پر بہت سے سوالات کھڑے ہوتے ہیں جیسے کہ
*اگر وہ پاگل ہے تو گھر والوں نے اس کو اکیلا کیوں چھوڑا؟
*اگر وہ پاگل ہے تو موبائل کا استعمال وہ کیسے جانتا ہے اور اس کے پاس پرسنل موبائل کیوں کر ہے؟
*اگر وہ پاگل ہے تو حضرت پر ہی کیوں وار کیا جبکہ اس کے اپنے اہل خانہ پر کبھی وار نہیں کیا اور نہ ہی کسی اور پر؟
*اگر وہ پاگل ہے تو ایک دو وار بہت تھا لیکن 12 سے زائد وار کیوں کیے؟
یہ سب سوالات لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ضرور یہ سازش تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت کو بری طرح زخمی کر دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد موقع واردات پر میں خود گیا جہاں پر کافی خون بہا پڑا تھا۔اسی خون میں لت پت حضرت کے دو دانت جبڑے کے ساتھ لگے ہوئے بھی ملے ہیں۔ پولیس کی پوری ٹیم تفتیش میں لگی ہے۔
فورینسک رپورٹ کے لیے بلڈ سیمپل، جس پتھر سے حملہ کیا گیا وہ پتھر، کپڑا اور موقع واردات پر پائی گئی دیگر چیزیں لے لی گئی ہے۔
اخیر میں آپ سبھی سے خصوصی دعاء کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت کو شفاء کاملہ عاجلہ دائمہ مستمرہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔