Mahir Editor

Mahir Editor حق کی صدا ہے، دل کی گہرائی سے اٹھی،
ظلمت کے بیچ روشنی بن کر وہی پھٹی
Islamic Scholar / activist / writer ✍️

کرش مش ڈے: جہالت کی علامت اور اسلام کی سربلندیآج کے دور میں سوشل میڈیا اور مغربی تہذیب کے زیرِ اثر نوجوانوں میں مختلف غی...
24/12/2025

کرش مش ڈے: جہالت کی علامت اور اسلام کی سربلندی

آج کے دور میں سوشل میڈیا اور مغربی تہذیب کے زیرِ اثر نوجوانوں میں مختلف غیر اسلامی دن رائج ہو چکے ہیں، جن میں کرش مش ڈے بھی شامل ہے۔ یہ دن بظاہر محبت کے اظہار کے نام پر منایا جاتا ہے، مگر درحقیقت یہ جہالت، وقتی جذبات اور اخلاقی زوال کی ایک شکل ہے۔

اسلام محبت کا منکر نہیں، بلکہ اسلام نے محبت کو پاکیزگی، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑا ہے۔ غیر محرم سے جذباتی تعلقات، بے مقصد گفتگو، اور دل لگی پر مبنی رشتے نہ صرف ایمان کو کمزور کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں فتنہ اور بے راہ روی کو جنم دیتے ہیں۔ کرش مش ڈے جیسے مواقع نوجوانوں کو اسی بے راہ روی کی طرف دھکیلتے ہیں، جہاں حیا، غیرت اور شرم کو کمزوری سمجھا جانے لگتا ہے۔

یہ دن کسی آسمانی مذہب، اخلاقی نظام یا انسانی فلاح سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ یہ مغربی تقلید کا نتیجہ ہے۔ اسلام نے ہمیں سکھایا کہ عزت اور محبت کا راستہ نکاح سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ وقتی کرش اور جذباتی کھیل سے۔

اسلام کی سربلندی اسی میں ہے کہ مسلمان اپنی شناخت کو پہچانے، اپنی نسل کو پاکیزہ تربیت دے اور ایسے غیر اسلامی رجحانات سے خود کو اور اپنے معاشرے کو محفوظ رکھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نوجوانوں کو یہ شعور دیں کہ اصل محبت وہ ہے جو اللہ کی رضا کے مطابق ہو، جو دلوں کو جوڑے مگر گناہ سے بچائے۔

نتیجہ:
کرش مش ڈے جہالت اور فکری غلامی کی علامت ہے، جبکہ اسلام حیا، پاکیزگی اور عزت کا علمبردار ہے۔ جو قوم اپنے دین پر فخر کرتی ہے، وہ دوسروں کی اندھی تقلید نہیں کرتی بلکہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتی ہے۔

از قلم: ماہر ایڈیٹر

Today
23/12/2025

Today

22/12/2025

20/12/2025

مناظرۂ حق و الحاد

(ایک علمی سوال و جواب — مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے تناظر میں)

سوال 1:

ملحد کا دعویٰ ہے کہ چونکہ خدا نظر نہیں آتا، اس لیے اس کا وجود ثابت نہیں۔ کیا یہ دعویٰ علمی ہے؟

جواب:
یہ دعویٰ نہ سائنسی ہے اور نہ فلسفیانہ۔ دنیا کی بے شمار حقیقتیں ایسی ہیں جو نظر نہیں آتیں مگر اپنے اثرات سے مانی جاتی ہیں، جیسے عقل، شعور، کششِ ثقل، وقت اور قوانینِ فطرت۔ اگر “نظر آنا” وجود کی شرط مان لی جائے تو آدھی کائنات کا انکار لازم آتا ہے۔ مفتی شمائل ندوی نے بالکل درست کہا کہ اثر، علت کی گواہی ہوتا ہے۔ منظم کائنات ایک عظیم علت کی متقاضی ہے۔



سوال 2:

جاوید اختر جیسے ملحدین کہتے ہیں کہ کائنات خود بخود وجود میں آ گئی، اس کے لیے کسی خدا کی ضرورت نہیں۔

جواب:
یہ بات خود عقل کے خلاف ہے۔ تاریخِ فلسفہ کا مسلم اصول ہے کہ عدم سے وجود نہیں آتا۔ اگر کائنات حادث ہے (اور سائنس بھی Big Bang کے ذریعے اس کے آغاز کو مانتی ہے) تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ آغاز کس نے کیا؟
خود بخود ہونا، دراصل لاعلمی کو خوبصورت لفظوں میں بیان کرنا ہے، دلیل نہیں۔



سوال 3:

ملحد کہتا ہے کہ مذہب انسان کو تقسیم کرتا ہے، جبکہ الحاد انسانیت کی بات کرتا ہے۔

جواب:
یہ محض دعویٰ ہے، تاریخ اس کی تردید کرتی ہے۔ اگر مذہب ظلم کی جڑ ہوتا تو دنیا کی سب سے بڑی قتل گاہیں مذہبی ہوتیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ خونریزی لامذہب نظریات (ناززم، کمیونزم، سٹالن، ماؤ) کے تحت ہوئی۔
اسلام نے انسان کو نسل، رنگ اور قوم سے اوپر اٹھا کر اخلاقی ذمہ داری دی — یہی حقیقی انسانیت ہے۔



سوال 4:

اخلاقیات کا کیا ہوگا؟ اگر خدا نہ ہو تو اچھا اور برا کیسے طے ہوگا؟

جواب:
یہ سوال الحاد کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔ اگر خدا نہیں تو اخلاقیات محض سماجی معاہدہ ہیں، جو وقت، طاقت اور اکثریت کے ساتھ بدل سکتا ہے۔
آج اگر اکثریت ظلم کو جائز قرار دے دے تو ملحد کے پاس انکار کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں رہتی۔
اسلام کہتا ہے: خیر و شر کا معیار انسان نہیں، خالقِ انسان طے کرے گا۔



سوال 5:

آج کے مناظرے میں ایک بات یہ بھی کہی گئی کہ مذہب سوال پوچھنے سے روکتا ہے۔

جواب:
یہ بات سراسر غلط ہے۔ قرآن خود سوالات سے بھرا ہوا ہے:
کیا وہ غور نہیں کرتے؟ کیا وہ سوچتے نہیں؟
اسلام اندھی تقلید نہیں، بلکہ عقل + وحی کا متوازن نظام ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسلام عقل کو خدا نہیں بناتا۔



سوال 6:

شعور (Consciousness) کیا ہے؟ کیا سائنس اس کی وضاحت کر پائی ہے؟

جواب:
آج کی جدید سائنس بھی شعور کی حقیقت بیان کرنے سے قاصر ہے۔ دماغ کے خلیے تو نظر آتے ہیں، مگر “میں کون ہوں” کا احساس کہاں سے آیا؟
یہ وہ مقام ہے جہاں الحاد خاموش ہو جاتا ہے، اور ایمان کہتا ہے:
یہ روح ہے، اور روح میرے رب کا امر ہے۔



میری طرف سے ایک بات (بطور ایک صاحبِ ایمان فرد):

میں یہ سوال ملحد سے کرنا چاہتا ہوں کہ اگر سب کچھ اتفاق ہے، تو سچ بولنا کیوں ضروری ہے؟ انصاف کیوں اچھا ہے؟ ظلم کیوں برا ہے؟
جب تک ان سوالوں کا جواب خدا کے بغیر نہیں دیا جاتا، الحاد ایک مکمل نظریہ نہیں بن سکتا، صرف انکار رہ جاتا ہے۔



نتیجہ:

آج کے مناظرے نے یہ واضح کر دیا کہ ایمان دلیل سے نہیں ڈرتا، بلکہ الحاد دلیل کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے۔
یہ مناظرہ کسی شخص کے خلاف نہیں، بلکہ اس سوچ کے خلاف تھا جو انسان کو مقصد، جواب دہی اور آخرت سے محروم کرنا چاہتی ہے۔

از قلم: ماہر ایڈیٹر

17/12/2025

نتیش کمار اور حجاب کا واقعہ — ایک تشویشناک خبر پر مضمونحالیہ دنوں میں بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے منسوب ایک ویڈیو سوش...
17/12/2025

نتیش کمار اور حجاب کا واقعہ — ایک تشویشناک خبر پر مضمون

حالیہ دنوں میں بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب ہٹانے کا منظر دکھایا گیا۔ اس واقعے نے ملک بھر میں شدید ردِعمل کو جنم دیا اور مذہبی آزادی، خواتین کے احترام اور آئینی اقدار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔

خبروں کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خاتون ڈاکٹر اپنی تقرری کا خط لینے اسٹیج پر آئیں۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ وزیراعلیٰ نے عوامی طور پر ان کا حجاب نیچے کیا، جسے بہت سے لوگوں نے نامناسب اور قابلِ اعتراض عمل قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر عوام، سماجی کارکنوں اور مختلف سیاسی جماعتوں نے اس واقعے کی مذمت کی اور اسے ایک خاتون کی ذاتی آزادی اور مذہبی شناخت کی توہین کہا۔

حجاب محض لباس نہیں بلکہ بہت سی مسلم خواتین کے لیے مذہبی عقیدے اور ذاتی وقار کی علامت ہے۔ کسی بھی عوامی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے اس طرح کا رویہ نہ صرف اخلاقی سوالات کھڑے کرتا ہے بلکہ آئینِ ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کی ضمانت پر بھی ضرب سمجھا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری تقاریب میں وقار، شائستگی اور ہر شہری کے مذہبی جذبات کا احترام لازم ہے۔

اس واقعے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے معافی اور وضاحت کا مطالبہ بھی سامنے آیا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے سنجیدگی سے لینے پر زور دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ طاقت اور منصب کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے، اور کسی بھی رہنما کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر شہری کے وقار اور عقیدے کا احترام کرے۔

آخر میں، یہ معاملہ صرف ایک ویڈیو یا ایک فرد تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے سماجی رویّوں، خواتین کے احترام اور مذہبی ہم آہنگی کے امتحان کا نام ہے۔ ایسے واقعات پر سنجیدہ غور و فکر اور درست اصلاحی اقدامات ہی ایک مضبوط اور منصفانہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

از: ماہر ایڈیٹر

17/12/2025

मुस्लिम महिला के हिजाब खींचने के मामले में ये अबतक का सबसे आपत्तिजनक ब्यान है।
यूपी सरकार के मंत्री संजय निषाद कह रहे हैं कि- “नक़ाब छू दिया तो इतना पीछे पड़ गए, कहीं और छू देते तो क्या होता”
इतना ही नहीं, पत्रकार को देखिए, किस बेशर्मी से हंस रहे हैं, और उसपर उल्टा सवाल कर रहे।

Address

Muzaffarnagar
251311

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mahir Editor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share