24/12/2025
کرش مش ڈے: جہالت کی علامت اور اسلام کی سربلندی
آج کے دور میں سوشل میڈیا اور مغربی تہذیب کے زیرِ اثر نوجوانوں میں مختلف غیر اسلامی دن رائج ہو چکے ہیں، جن میں کرش مش ڈے بھی شامل ہے۔ یہ دن بظاہر محبت کے اظہار کے نام پر منایا جاتا ہے، مگر درحقیقت یہ جہالت، وقتی جذبات اور اخلاقی زوال کی ایک شکل ہے۔
اسلام محبت کا منکر نہیں، بلکہ اسلام نے محبت کو پاکیزگی، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑا ہے۔ غیر محرم سے جذباتی تعلقات، بے مقصد گفتگو، اور دل لگی پر مبنی رشتے نہ صرف ایمان کو کمزور کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں فتنہ اور بے راہ روی کو جنم دیتے ہیں۔ کرش مش ڈے جیسے مواقع نوجوانوں کو اسی بے راہ روی کی طرف دھکیلتے ہیں، جہاں حیا، غیرت اور شرم کو کمزوری سمجھا جانے لگتا ہے۔
یہ دن کسی آسمانی مذہب، اخلاقی نظام یا انسانی فلاح سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ یہ مغربی تقلید کا نتیجہ ہے۔ اسلام نے ہمیں سکھایا کہ عزت اور محبت کا راستہ نکاح سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ وقتی کرش اور جذباتی کھیل سے۔
اسلام کی سربلندی اسی میں ہے کہ مسلمان اپنی شناخت کو پہچانے، اپنی نسل کو پاکیزہ تربیت دے اور ایسے غیر اسلامی رجحانات سے خود کو اور اپنے معاشرے کو محفوظ رکھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نوجوانوں کو یہ شعور دیں کہ اصل محبت وہ ہے جو اللہ کی رضا کے مطابق ہو، جو دلوں کو جوڑے مگر گناہ سے بچائے۔
نتیجہ:
کرش مش ڈے جہالت اور فکری غلامی کی علامت ہے، جبکہ اسلام حیا، پاکیزگی اور عزت کا علمبردار ہے۔ جو قوم اپنے دین پر فخر کرتی ہے، وہ دوسروں کی اندھی تقلید نہیں کرتی بلکہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتی ہے۔
از قلم: ماہر ایڈیٹر