Aham Malumaat

Aham Malumaat We will post all kinds of important information and good things in this patch.

"خوابوں کی اُڑان"احمد ایک غریب خاندان کا بیٹا تھا۔ اس کے والد کھیتوں میں مزدوری کرتے تھے اور بمشکل گھر کا خرچ پورا کر پا...
02/09/2025

"خوابوں کی اُڑان"

احمد ایک غریب خاندان کا بیٹا تھا۔ اس کے والد کھیتوں میں مزدوری کرتے تھے اور بمشکل گھر کا خرچ پورا کر پاتے۔ احمد کو پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر غربت کی وجہ سے اکثر کتابیں اور اسکول کی فیس کا انتظام مشکل ہو جاتا۔ کئی بار دوستوں نے بھی کہا:
“احمد! یہ سب غریبوں کے بس کی بات نہیں۔ پڑھ لکھ کر کیا کرو گے؟ بہتر ہے کام پر لگ جاؤ۔”

لیکن احمد کے دل میں ایک آگ جل رہی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ کچھ ایسا کرے جس سے نہ صرف اس کی زندگی بدلے بلکہ اس کے والدین کو بھی فخر ہو۔

وہ دن کو کھیتوں میں مزدوری کرتا اور رات کو چراغ جلا کر پڑھتا۔ کئی بار بھوک لگتی، لیکن وہ حوصلہ نہیں ہارتا۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ سے کہتا:
“اندھیری رات کے بعد ہی سورج نکلتا ہے۔”

کئی سالوں کی محنت کے بعد احمد نے ایک بڑے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ وہ اسکالرشپ پر شہر گیا اور وہاں اپنی محنت سے پڑھائی مکمل کی۔ آج وہ ایک کامیاب انجینئر بن گیا۔

جب وہ گاؤں واپس آیا تو وہی لوگ جو پہلے اس پر ہنستے تھے، اب تالیاں بجا کر اس کا استقبال کر رہے تھے۔ احمد نے سب کے سامنے کہا:
“کامیابی کے لیے دولت نہیں، حوصلہ اور محنت چاہیے۔ اگر خواب سچے ہوں تو اللہ راستے خود بنا دیتا ہے۔”

سبق: خواب بڑے دیکھو، حوصلہ مضبوط رکھو، محنت جاری رکھو۔
کامیابی ایک دن ضرور قدم چومے گی۔ ✨🌙📖

امید کی کرنایک بار ایک چھوٹے سے گاؤں میں حنا نامی لڑکی رہتی تھی، جو اپنے خاندان کی واحد کفیل تھی کیونکہ اس کے والد بیمار...
01/09/2025

امید کی کرن

ایک بار ایک چھوٹے سے گاؤں میں حنا نامی لڑکی رہتی تھی، جو اپنے خاندان کی واحد کفیل تھی کیونکہ اس کے والد بیمار تھے اور ماں گھر سنبھالتی تھی۔ حنا کو پڑھنے کا بہت شوق تھا، لیکن غربت کی وجہ سے اسے اسکول جانے کا موقع نہ مل سکا۔ وہ ہر روز گھر کے کام کاج کے بعد اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے بیٹھ کر پرانی کتابوں سے کچھ نہ کچھ سیکھتی۔
ایک دن گاؤں میں ایک نیکی کا کام کرنے والا شخص آیا، جس نے غریب بچوں کے لیے ایک چھوٹا سا اسکول بنانے کا اعلان کیا۔ حنا نے ہمت کی اور اس شخص سے ملاقات کی۔ اس نے اپنی کہانی سنائی اور اسکول میں بچوں کو پڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کی لگن دیکھ کر اس شخص نے حنا کو اسکول کا پہلا استاد بنایا۔
حنا نے دن رات محنت کی اور بچوں کو نہ صرف تعلیم بلکہ اچھے اخلاق بھی سکھائے۔ آج وہ اسکول گاؤں کا فخر بن چکا ہے، اور حنا ایک مشہور استاد کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ امید اور محنت سے تاریکی میں بھی روشنی ملتی ہے۔
پوسٹ کے لیے تجویز کردہ متن:
"حنا کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ امید اور محنت سے کوئی بھی خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے! 🌸
"

ایک چھوٹا سا خوابایک گاؤں میں رہنے والی عائشہ نامی لڑکی کی کہانی ہے، جو ستاروں سے باتیں کرنے کی شوقین تھی۔ وہ ہر رات اپن...
31/08/2025

ایک چھوٹا سا خواب

ایک گاؤں میں رہنے والی عائشہ نامی لڑکی کی کہانی ہے، جو ستاروں سے باتیں کرنے کی شوقین تھی۔ وہ ہر رات اپنے گھر کی چھت پر بیٹھتی اور آسمان کو تکتی، جہاں چاند اور ستارے اس کے خوابوں کے ساتھی بنتے۔ عائشہ کا ایک خواب تھا کہ وہ ایک دن اپنے گاؤں کے بچوں کے لیے ایک چھوٹا سا اسکول بنائے، جہاں ہر بچہ علم کی روشنی سے منور ہو۔
لیکن عائشہ کے گھر والوں کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے۔ اس کے باوجود اس نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے گاؤں کے بچوں کو مفت پڑھانا شروع کیا، کھلے آسمان تلے، ایک بڑے پیڑ کے سائے میں۔ وہ اپنی پرانی کتابوں سے بچوں کو پڑھاتی اور کہانیاں سناتی۔ اس کی محنت رنگ لائی۔ ایک دن گاؤں کے ایک مخیر شخص نے اس کی لگن دیکھی اور اسکول بنانے کے لیے مدد کی پیشکش کی۔
آج عائشہ کا اسکول گاؤں کی شان ہے۔ وہ چھوٹا سا خواب، جو کبھی ستاروں سے باتیں کرتا تھا، اب حقیقت بن چکا ہے۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر دل میں لگن ہو اور ہمت نہ چھوڑی جائے، تو کوئی بھی خواب ناممکن نہیں۔

"ہر خواب چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، بس اسے پورا کرنے کی لگن چاہیے۔ عائشہ کی کہانی سے سیکھیں کہ ہمت اور محنت سے سب کچھ ممکن ہے! 🌟 اپنے خوابوں کو حقیقت بنائیں اور دوسروں کو بھی متاثر کریں۔ "

کہانی: "نیکی کا بدلہ"ایک گاؤں میں زین نام کا لڑکا رہتا تھا۔ زین کا دل بہت نرم تھا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتا، چاہے وہ ...
30/08/2025

کہانی: "نیکی کا بدلہ"

ایک گاؤں میں زین نام کا لڑکا رہتا تھا۔ زین کا دل بہت نرم تھا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتا، چاہے وہ جانور ہوں یا انسان۔

ایک دن زین نے دیکھا کہ ایک پیاسا کتا ندی کے کنارے بیٹھا ہے مگر پانی پینے سے ڈر رہا ہے۔ زین نے اپنی مٹھی میں پانی بھرا اور کتے کو پلایا۔ کتا خوشی سے دم ہلانے لگا۔

کچھ دن بعد زین جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گیا۔ اچانک ایک سانپ اس پر حملہ کرنے لگا۔ وہی کتا بھاگ کر آیا اور سانپ کو بھگا دیا۔

زین نے سمجھا کہ دنیا میں نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی، وہ کسی نہ کسی شکل میں واپس لوٹتی ہے۔

سبق:

ہمیشہ دوسروں کی بھلائی کرو، نیکی وقت پر تمہاری حفاظت کرے گی۔ 🌿✨

علماء ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﺎ ﺷﺠﺮﮦ نسبﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎ...
30/08/2025

علماء ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﺎ ﺷﺠﺮﮦ نسب
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﻧﮯ
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﻤﺪﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﺳﮯ
ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﺳﮯ
ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﻧﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﻧﮯ
ﺩﻭ ﻭﺍﺳﻄﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﻋﯿﺴﯽ ﺗﺮﻣﺰﯼؒ ﺳﮯ
ﺍﺑﻮ ﻋﯿﺴﯽ ﺗﺮﻣﺰﯼؒ ﻧﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎؒ ﺳﮯ
ﺍﺑﻦ ﻣﺒﺎرﮎؒ ﻧﮯ
ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺣﻨﯿﻔﮧؒ ﺳﮯ
ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺣﻨﯿﻔﮧؒ ﻧﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻤﺎﺩؒ ﺳﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻤﺎﺩؒ ﻧﮯ
ﺍﻧﺲ ﺍﺑﻦ ﻣﺎﻟﮏؒ ﺳﮯ
ﺍﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﮏؒ ﻧﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮدؓ ﺳﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩؓ ﻧﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ
ﺍﮐﺎﺑﺮﯾﻦ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﭘﺮﭼﻢ ﻟﮩﺮﺍ ﯾﺎ ﮨﯿﮟ .....
ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﺍﻣﺎﻡ ﮬﯿﮟ
ﭼﺎہے ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ہوں
ﺧﺘﻢ نبوتﷺ ، ﺳﯿﺎﺳﺖ ، ﺩﻓﺎﻉ ﻋﻈﻤﺖ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﻢ ،
ﺩﻓﺎﻉ ﻓﻘﮧ ، ﺗﺒﻠﯿﻎ ، ﺩﺭﺱ ﻭ ﺗﺪﺭﯾﺲ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﺎﺩ ﻓﯽ ﺳﺒﯿﻞ ﺍﻟﻠﮧ
ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﻌﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺗﺎﺝ ہیں
ﻟﮭﺬﺍ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﺍﻣﺎﻡ ہیں
ﺍﻟﻠﮧتالا یہ نسبت ہمیشہ قائم دائم رکھے امین 🤲🏻❣️🌹

दुआओं की गुजारिश! अगर बोल‌ नहीं सकते तो बोलने वालो कि ताकत बनों...!!
30/08/2025

दुआओं की गुजारिश! अगर बोल‌ नहीं सकते तो बोलने वालो कि ताकत बनों...!!

"میں قبر ہوں"میں نے بادشاہ بھی نگلے ، فقیروں کو بھی ، میں نے ہنستے چہروں کو خاک کیا ، اور معصوم بچوں کو بھی ماں کی گود س...
30/08/2025

"میں قبر ہوں"
میں نے بادشاہ بھی نگلے ، فقیروں کو بھی ،
میں نے ہنستے چہروں کو خاک کیا ، اور معصوم بچوں کو بھی ماں کی گود سے چھین لیا۔
میں خاموش ہوں ، مگر۔۔۔۔ چیختی ہوں!
ہر گزرتے جنازے کے ساتھ تمہیں آواز دیتی ہوں؛
" تیاری کر لو ، تمہاری باری آنے والی ہے۔ "
تمہارے قیمتی کپڑے یہاں پھٹیں گے ،
تمہارا چہرا ، جس پر ہر روز سنوارتے ہو ، کیڑے کھا جائیں گے۔
تمہاری آواز جو سب کو متاثر کرتی تھی ، یہاں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی
تم ہو گے ، تمہارے اعمال ہوں گے ، اور۔۔۔۔ میں!
جب تیرے ماں باپ تجھے چھوڑ کر چلے جائیں گے ، اور دوست صرف آنکھیں نم کر کے واپس پلٹ جائیں گے ، میں تیری ساتھی بنوں گی!
لیکن۔۔۔۔۔ کیسی؟
وہ تیرے اعمال طے کریں گے۔
آج بھی اگر غفلت میں ہو ، تو پھر موت تیرے لیے اچانک ہو گی۔
تیاری کر لو ، وقت بہت کم ہے ،
میں قبر ہوں! اور۔۔۔۔ میں تمہاری منتظر ہوں۔

انسان کا دماغ ایک "بینک" کی مانند ہے۔جو کچھ آپ اس میں جمع کرتے ہیں، وہی وقت آنے پر آپ کو واپس ملتا ہے۔اگر آپ منفی سوچیں،...
30/08/2025

انسان کا دماغ ایک "بینک" کی مانند ہے۔
جو کچھ آپ اس میں جمع کرتے ہیں، وہی وقت آنے پر آپ کو واپس ملتا ہے۔

اگر آپ منفی سوچیں، شکایات، حسد اور غصہ اس میں جمع کریں گے تو یہ سب آپ کی شخصیت کا حصہ بن کر آپ کی زندگی کو تلخ کر دے گا۔
لیکن اگر آپ مثبت خیالات، علم، تجربات اور اچھے جذبے اس میں محفوظ کریں گے تو یہی سرمایہ ایک دن آپ کو کامیابی، سکون اور وقار کی صورت میں واپس ملے گا۔
لہذا اپنے دماغ کو زرخیز بنائیں
اپ دماغ کو جو سمت دیں گے اپ اپنی شخصیت میں محسوس کریں گے دماغ
ایک بینک کی طرح، اپکی ادائیگی اپکے اثاثے جو بھی ہوگا دماغ بھی وہی لوٹاتا ہے جو آپ اس میں جمع کرتے ہیں۔
اس لیے دانشمند وہ ہے جو اپنے ذہن کے "خزانے" میں صرف وہی جمع کرتا ہے جو اس کے کل کو بہتر بنا سکے۔

یاد رکھیں!
دماغ کا سب سے قیمتی سرمایہ "علم اور مثبت سوچ" ہے۔
اسی میں وہ طاقت ہے جو تقدیر کے دروازے کھول دیتی ہے۔

دو چورایک محل میں داخل ہوئے۔ انہوں نے محل کی تلاشی لی اور آخرکار خزانے کا صندوق ڈھونڈ لیا۔چالاکی میں ماہر بڑے چور نے بغی...
30/08/2025

دو چور
ایک محل میں داخل ہوئے۔ انہوں نے محل کی تلاشی لی اور آخرکار خزانے کا صندوق ڈھونڈ لیا۔
چالاکی میں ماہر بڑے چور نے بغیر کوئی نقصان پہنچائے صندوق کھول لیا۔ اندر صندوق پیسوں سے بھرا ہوا تھا۔
بڑے چور نے پیسوں کو باہر نکالا، ایک کرسی پر بیٹھا، اور چھوٹے، نوآموز چور سے کہا:
"اپنی جیب سے تاش نکالو۔"
چھوٹا چور حیران رہ گیا اور بولا:
"ہمیں فوراً یہاں سے نکلنا چاہیے۔ اگر کھیلنا ہے تو اپنے گھر جا کر کھیلیں۔"
بڑے چور نے سختی سے ڈانٹتے ہوئے کہا:
"میں قائد ہوں، جو میں کہوں وہی کرو۔
جا کر فریج کھولو اور تین بوتلیں کولڈ ڈرنک اور تین گلاس لے کر آؤ!"
چھوٹے چور نے خوف کے مارے تاش نکالی اور دونوں کھیلنے لگے۔
بڑے چور نے کہا:
"ٹی وی آن کرو اور آواز پوری کر دو۔"
چھوٹے چور نے ہچکچاتے ہوئے ایسا ہی کیا، لیکن اندر سے وہ کانپ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ بڑا چور پاگل ہو گیا ہے۔
اسے یقین تھا کہ انہیں پکڑ لیا جائے گا اور جیل میں ڈال دیا جائے گا۔
اسی دوران، محل کا مالک جاگ گیا۔ اس نے ہاتھ میں پستول لے کر آ کر پوچھا:
"تم دونوں چور یہاں کیا کر رہے ہو؟ حرکت کی تو گولی مار دوں گا!
لیکن بڑے چور نے بالکل پرواہ نہ کی اور چھوٹے چور سے کہا:
کھیل جاری رکھو، اسے نظرانداز کرو
محل کے مالک نے فوراً پولیس کو کال کر دی۔
پولیس آئی تو مالک نے کہا:
"یہ دونوں چور ہیں اور یہ دیکھو، یہ پیسے میرے محل سے چرائے گئے ہیں!"
بڑے چور نے پولیس سے کہا:
"یہ آدمی جھوٹ بول رہا ہے۔ اس نے ہمیں تاش کھیلنے کے لیے مدعو کیا تھا، اور ہم کھیل بھی رہے تھے۔
جب یہ ہم سے ہار گیا تو اس نے پستول نکال لیا اور دھمکی دی کہ یا تو اپنے پیسے واپس کرو ورنہ پولیس کو بلا کر کہے گا کہ ہم چور ہیں!"
پولیس افسر نے ٹی وی، اونچی آواز، تاش کے کھیل، اور میز پر پڑے پیسوں کو دیکھا۔
پھر کولڈ ڈرنک کی تین بوتلوں کو بھی نوٹ کیا اور دونوں چوروں کی بے فکری کو دیکھ کر محل کے مالک سے کہا:
"تم جوا کھیلتے ہو اور جب ہار جاتے ہو تو ہمیں بلاتے ہو۔
اگر آئندہ ایسا کیا تو تمہیں جیل میں ڈال دوں گا!"
افسر دروازے کی طرف بڑھا تو بڑے چور نے کہا:
"جناب، اگر آپ ہمیں یہاں چھوڑ گئے تو یہ ہمیں مار ڈالے گا۔"
پولیس نے دونوں چوروں کو پیسوں کے ساتھ اپنی حفاظت میں باہر نکال دیا۔
یوں دونوں چور پولیس کی مدد سے پیسوں سمیت محل سے نکل گئے۔
یہ کہانی خیالی ہے، لیکن یہ بڑے لوگوں کے دنیا کی دولت لوٹنے اور قانون کی حفاظت کے
ذریعے محفوظ رہنے کی تصویر کشی کرتی ہے۔

ایک بنک ڈکیتی کے دوران ڈکیت نے چیخ کر سب سے کہا"کوئی بھی ہلے مت۔چپ چاپ زمین پر لیٹ جائیں۔۔رقم لوگوں کی ہے اور جان آپ کی ...
28/08/2025

ایک بنک ڈکیتی کے دوران ڈکیت نے چیخ کر سب سے کہا
"کوئی بھی ہلے مت۔چپ چاپ زمین پر لیٹ جائیں۔۔رقم لوگوں کی ہے اور جان آپ کی اپنی ہے۔۔۔"
سب چپ چاپ زمین پر لیٹ گئے۔۔۔کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلا
اسے کہتے ہیں مائند چینج کانسیپٹ (سوچ بدلنے والا تصور)۔۔۔
ایک خاتون کچھ واہیات انداز میں زمین پر لیٹی ہوئی تھی۔۔ایک ڈاکو اس سے بولا
"تمیز سے لیٹو یہاں ڈکیتی ہو رہی ہے ، ریپ نہیں ہو رہا۔۔۔"
اسے کہتے ہیں "فوکس " بس وہی کام کریں جس کے لیے آپ کو ٹرینڈ کیا گیا ہے۔۔
ڈکیتی کے بعد گھر واپس آئے تو نوجوان ڈکیت( جو کہ ایم بی اے پاس تھا )نے بوڑھے ڈکیٹ ( جو کہ صرف پرائمری پا س تھا )سے کہا "چلو رقم گنتے ہیں۔۔
"تم تو پاگل ہو گئے ہو اتنے زیادہ نوٹ کون گنے۔۔رات کو خبروں میں سن لینا کہ ہم کتنا مال لوٹ کر لائے ہیں۔۔"
اسے کہتے ہیں تجربہ جو کہ آج کل ڈگریوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔۔
جب ڈاکو بنک سے چلے گئے تو منیجر نے سپروائزر سے کہا کہ پولیس کو فون کرو۔۔
سپروائز نے جواب دیا "رک جائیں سر ! پہلے بنک سے ہم دونوں اپنے لیے دس لاکھ نکال لیتے ہیں اور ہاں وہ چالیس لاکھ کا گھپلہ جو ہم نے حالیہ دنوں میں کیا ہے وہ بھی ڈاکووں پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ لوٹ کر لے گئے۔۔" اسے کہتے ہیں وقت کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا۔۔۔مشکل حالات کو اپنے فائدے کے مطابق استعمال کر لینا۔۔
منیجر ہنس کر بولا۔۔"ہر مہینے ایک ڈکیتی ہونی چاہیے۔۔" اسے کہتے ہیں بوریت ختم کرنا۔۔۔ذاتی مفاد اور خوشی جاب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔۔
اگلے دن اخبارات اور ٹی وی پر خبریں تھیں کہ ڈاکو بنک سے سو ملین لوٹ کر فرار۔۔۔ڈاکووں نے بار بار رقم گنی لیکن پچاس ملین سے زیادہ نہ نکلی۔۔۔بوڑھا ڈاکو غصے میں آ گیا اور چیخا
"ہم نے اسلحہ اٹھایا۔اپنی جانیں رسک پر لگائیں اور پچاس ملین لوٹ سکے اور بنک منیجر نے بیٹھے بیٹھے چند انگلیاں ہلا کر پچاس ملین لوٹ لیا۔۔اس سے پتا چلتا ہے کہ تعلیم کتنی ضروری ہے۔۔ ہم کو چور نہیں پڑھا لکھا ہونا چاہیے تھا۔۔"
اسے کہتے ہیں علم کی قیمت سونے کے برابر ہوتی ہے۔۔
بنک منیجر خوش تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں اسے جو نقصان ہو رہا تھا وہ اب ان پیسوں سے پورا ہو گا۔۔اسے کہتے ہیں موقع پرستی۔۔
آخر میں بس ایک سوال۔۔
کون ہے اصل ڈکیت؟

Address

Purnia. Post Ajhokopa
Purnea
854204

Website

https://www.urdumusafir.in/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aham Malumaat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share