20/11/2025
انسان پر جب ظلم و ناانصافی کی گرد پڑتی ہے تو دل کے چراغ بجھنے لگتے ہیں اور لہجہ تلخی کی راہ پکڑ لیتا ہے۔ مگر یاد رہے کہ تلخ زبان دلوں کے دروازے بند کر دیتی ہے، جبکہ نرم گفتار دلوں کی کنجیاں ہے۔
ہر سچائی کڑواہٹ میں نہیں سنائی جاتی، اور ہر تلخی حق کا روپ نہیں ہوتی۔ بہت سے دل سچ کو قبول کر لیتے ہیں، مگر سخت لہجہ انہیں دور دھکیل دیتا ہے۔
دینِ فطرت بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ سختی سے نہیں، بلکہ حلم، بردباری اور حکمت سے اصلاح کی جاتی ہے۔
قرآن نے بھی فرمایا: “ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ” بُرائی کا جواب اس طریقے سے دو جو بہتر ہو۔
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نرمی کو ہر شے میں پسند فرماتا ہے؛ جہاں نرمی ہوتی ہے وہاں برکت ہوتی ہے، اثر ہوتا ہے اور دلوں میں جڑیں اُگتی ہیں۔
جو شخص ظلم سہہ کر بھی نرمی سے بات کرتا ہے، وہ دراصل اپنے اخلاق سے ظالم کی سختی کو مات دیتا ہے۔ اس کا کلام دلوں میں اُجالہ بن کر اترتا ہے، اس کی بات صبر کی خوشبو دیتی ہے، اور اس کے لہجے میں وہ تاثیر ہوتی ہے کہ جو سننے والے کو سوچنے، سمجھنے اور بدلنے پر مجبور کرتی ہے۔
ادب یہ ہے کہ انسان دکھ کے لمحوں میں بھی زبان کو قابو میں رکھے اور اپنا پیغام اس انداز میں دے کہ نہ عزت مجروح ہو اور نہ حق کا وزن کم ہو۔
جو بات حکمت اور اخلاق میں ڈھل کر کہی جائے، وہ صرف کانوں تک نہیں جاتی۔ وہ نسلوں تک چراغ بن کر چلتی ہے۔
لہذا ظلم کا جواب تلخ لب و لہجے سے نہیں، بلکہ رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات، صبر، حلم اور اخلاق کے نور سے دیں۔
اس طرح آپ کی بات بھی قائم رہتی ہے، اثر بھی چھوڑتی ہے اور دلوں میں سبق بھی جگاتی ہے۔