Tahaffuz e Nisa

Tahaffuz e Nisa حق آیا اور باطل مٹا اور باطل مٹنے والا ہے ���

جس طرح اگر کوئی بیت الخلاء میں قرآن کی تلاوت کریگا تو اس پر اللہ کی لعنت برسے گی اسی طرح نورانی محفل ہونے کے باوجود اس م...
19/02/2026

جس طرح اگر کوئی بیت الخلاء میں قرآن کی تلاوت کریگا تو اس پر اللہ کی لعنت برسے گی اسی طرح نورانی محفل ہونے کے باوجود اس مولوی پر بھی اور پوری مجلس پر بھی اللہ کی لعنت برس رہی ہے۔
اس طرح کھلے طور پر بے پردگی اور پھر اس کو وائرل کرنا قطعا ناجائز اور حرام ہے ۔
کون ہے یہ مولوی یہ دین اور اسلام کا دشمن ہے
کیا اس مولوی کو " فاسئلوھن من وراء حجاب " کی تفسیر نہیں معلوم , کیا حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ کا قصہ اس نے نہیں پڑھا ہے ۔
یہ چمار قسم کے لوگ اسلام کی بیٹیوں کی عزتوں اور عصمتوں کے لٹیرے ہیں۔
خدارا کوئی ذمہ دار عالم یا پھر عوام الناس ان جیسے بدبختوں پر لگام لگائیں یہ ظاہر سے صوفی نظر آتے ہیں لیکن حقیقت کچھ اور ہے
اگر یہ حقیقت میں صوفی ہوتا تو اس طرح کھلے عام غیر شرعی کام نہ کرتا ۔
افسوس افسوس افسوس
اگر کسی کے پاس ان کا نمبر ہو تو ارسال کریں

خون کی روشنائی سے تحریر تھی , وقت کی لوح پر داستان وفانوک خنجر سے اس کو مٹایا گیا , اب ثبوت وفا کس طرح لائیں کتنے ارباب ...
30/01/2026

خون کی روشنائی سے تحریر تھی , وقت کی لوح پر داستان وفا
نوک خنجر سے اس کو مٹایا گیا , اب ثبوت وفا کس طرح لائیں
کتنے ارباب ہمت نے ان کے لئے , بڑھ کے میدان میں جان بھی ہار دی
اب بھی ان کی نگاہوں میں ہے بدظنی , اب بھی ان کو وفا کی سند چاہیے

05/09/2025

وادیئ کشمیر کی معروف و مشہور شخصیت استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت اقدس مفتی
نذیر احمد قاسمی صاحب حفظہ اللہ تعالٰی

07/06/2025

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
آج بقرہ عید پر عید کی نماز پڑھ کر جب عید گاہ سے نکلا تو لوگوں کی کثرت تعداد دیکھ کر ایک طرف سے دل خوشیوں سے مچل رہا تھا اور دوسری طرف سے دل غمزدہ , افسردہ , غم خردہ اور بے چینی میں اشک بہا رہا تھا خوشی اس لئے کہ مسلمانوں کی کثرت ہیں اور غمزدہ اس لئے کہ فلسطین کو دیکھ کر کبھی فلسطین میرے تخیلات کا مرکز بن رہا تھا اور کبھی چلتے چلتے مسلمانوں کی بے بسی کانٹا بن کر پاؤں میں چب رہا تھا اور چاروں اطراف سے عید مبارک کی دھاروں سے دل زخمی ہو رہا تھا یہ اس وجہ سے کہ ہمیں کیا عید کی مبارکباد دینا جب کہ غزہ کٹ رہا ہے کیونکہ عیدین خوشی کے ایام ہیں اور ان خوشیوں کے مواقع اس وقت ہوتے ہیں جب ہم کوئی فریضہ سرانجام دیتے ہیں اسی لیے اسلامی شعائر میں سے رمضان کے اختتام پر اور قربانی کے ایام میں خوشی منانے کا حکم ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو آج بقرہ عید کے موقع پر خوشی کے سب سے زیادہ مستحق غزہ والے ہیں سلام ہو تم پر اے غزہ والو سلام ہو کیونکہ
ہم جانوروں کی قربانی دیتے ہیں اور تم جانوں کی قربانی دیتے ہو
ہم قربانی کرتے ہیں اور تم قربان ہو رہے ہو
ہم فحاشی اور عریانیت کو خوشی سمجھ رہے ہیں اور تم ادنی سا سنت زندہ کرنے کو خوشی سمجھ رہےہو۔
ہم خوشیوں کے موقعوں پر دین کو ذبح کرتے ہیں اور تم خود دین کی سرفروشی کے لئے ذبح ہو رہے ہو۔ نہ کھانے کو کچھ نہ پینے کو کچھ نہ بچوں میں خوشیاں نہ بڑوں میں مسکراہٹیں۔ ہر طرف ظلم کی بربریت , مظلوموں کی چیخ و پکار ننھے ننھے بچوں کی سسکیاں امت کو عید کی خوشیاں مناتے اشک بار انکھوں سے دیکھ رہی ہیں اور بزبان حال کہہ رہے ہیں کہ تھوڑی سی پابندیوں پر تم نے جہاد کو چھوڑ دیا اور ہم نے سب کچھ لٹا کر کے بھی جہاد کو نہیں چھوڑا ۔۔۔ 😭😭😭

۱۰ -- ذی الحجہ -- ۱۴۴۶
بروز سنیچر
07/06/2025
محرر : غازی غضنفر

مغیبات کا علم مختص باللہ ہے              عالم الغیب کا ہونا خاصئہ باری تعالٰی ہے۔        اللہ تعالی کی صفات یعنی صفات مح...
15/01/2025

مغیبات کا علم مختص باللہ ہے
عالم الغیب کا ہونا خاصئہ باری تعالٰی ہے۔

اللہ تعالی کی صفات یعنی صفات محکمات کی دو قسموں میں سے ایک قسم صفات ذاتیہ کے ان سات اقسام میں سے جن کی ضد کے ساتھ اللہ تعالی کبھی موصوف نہیں ہو سکتے ایک قسم علم بھی ہے اور اسی علم سے متعلق زیر بحث ایک مختلف فی مسئلہ بیان کرنا اور سمجھنا ضروری ہے وہ یہ کہ غیر اللہ کے لیے علم غیب کا تحقق ممکن ہے یا نہیں ۔
قبل اس کے کہ اس کی تفصیل بیان کروں دو باتوں کا سمجھنا ضروری ہے وہ یہ کہ مغیبات دو قسم پر ہے
تشریعی اور تکوینی ۔۔۔ تشریعی جیسے وحی تمام از قبیلہ غیب ہیں اور تشریعات میں سے کچھ کلیات بقدر ضرورت تلقین کیے جاتے ہیں تکوینات میں سے کلیات نہیں بتلائے جاتے انہی کلیات کو مفاتیح سے تعبیر فرمایا ہے ۔ خزانے سے وہی کچھ نکال سکے گا جس کے پاس مفاتیح ہوگی بس ظاہر ہوا کہ علم کلیات مفاتیح جزئیات ہے خلاصہ یہ کہ کلیات تکوینیہ اور اسی طرح جملہ فروع کا اس طرح علمی احاطہ کہ کچھ بھی خارج نہ رہے خاصئہ باری تعالی ہے غیر کو یہ نہیں حاصل ہو سکتے لہذا اگر کسی ایک جزئی کے علم کی بھی غیر سے نفی ثابت ہو جائے تو احاطہ کی نفی ثابت ہو جائے گی چونکہ اہل بدعت ایجاب کلی کے قائل ہیں لہذا ہزاروں جزئیات کے علم کا ثبوت بھی ان کے لیے مفید نہیں اور اہل سنت رفع ایجاب کلی کے قائل ہیں اس لیے ایک جزئی جزئیہ منفیہ بھی ہمارے لیے دلیل ہوگا
اہل دانش کے لیے ایک ہی نقلی دلیل کافی ہے
قل لا املک لنفسی نفعا ولاضرا ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر۔
پہلی بات یہ سمجھ لیں کہ معالم التنزیل میں اس آیت کے شان نزول کے متعلق کفار کی جو گفتگو نقل کی گئی ہے وہ دنیاوی خیر و سوء کے متعلق ہے
دوسری بات یہ کہ جلب منفعت اور دفع مضرت کے لیے علم ذاتی ہونا ضروری نہیں عطائی بھی کافی ہے
تیسری بات یہ ہے کہ لو آتا ہے انتفاع ثانی بوجہ انتفاع اول کے یعنی دوسرے جملے کی نفی اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ پہلا جملہ منفی ہے تو معلوم ہوا کہ حضورﷺ نے دنیا میں خیر جمع نہیں کیا بلکہ ان کو وفات تک تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا جس کی مثال حضور کا مرض وفات کی تکلیف میں مبتلا ہونا اظہر من الشمس ہے تیسری بات یہ کہ حضور ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے " اللھم انی اعوذبک من علم لاینفع و قلب لایخشع " کسی کو جرءت ہے کہ اس دعا کے عدم استجابہ کا تصور کرے جبکہ اول جزء کا بھی ثانی جزء کی طرح مقبول ہونا اظہر من الشمس ہے بلکہ اس کا انکار کفر ہے
فتد بر
🤔🤔🤔

مروجہ جھیز کی شرعی حیثیت ۔۔شادی کی رسومات میں سےایک رسم رسم جھیزبھی ہےجس کا آج کل تقریبا ہرکوئی مرتکب ہے اس لئے اسکا خات...
21/12/2024

مروجہ جھیز کی شرعی حیثیت ۔۔
شادی کی رسومات میں سےایک رسم رسم جھیزبھی ہےجس کا آج کل تقریبا ہرکوئی مرتکب ہے اس لئے اسکا خاتمہ ضروری ہے ۔
اس رسم کی دو صورتیں ہیں : ۱۔۔ جواز ۔ ۲۔۔ عدم جواز
چونکہ صورت ثانی ان امور قبیحہ ( شان و شوکت، شہرت و تفاخر ، اسراف و تبذیر اور وراثت سے محرومی کا جزبہ اور عدم استطاعت کے باوجود دین لے کر اس کا التزام کرنا وغیرہ ) کو مستلزم ہیں
اس لئے اگر جہیز میں مذکورہ تصورات کا التزام ہو تو جہیز کی یہ رسم سراسر ناجائز ہے۔
اور پیلی صورت ( جوجہیزتونہیں البتہ ) وہ تعاون ، صلہ رحمی اور ہدیے( تحفے عطیے ) کے طور پراپنی لڑکی کوشادی کےموقعے پرکچھ دیناہےجوبالکل جائز،بلکہ مستحسن اورپسندیدہ ہے۔
نیز جہیز کاکوئی تصوراسلام میں نہیں ہےاحادیث میں اس مروجہ جہیز کاکوئی ذکرنہیں ہے۔حضور ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کوئی بھی اپنے ساتھ جہیز لےکر نہیں آئی، اسی طرح حضور ﷺ نے اپنی چار بیٹیوں میں سے کسی ایک بیٹی کو بھی، قبل ازنبوت یابعدازنبوت جہیز نہیں دیاالبتہ حضرت فاطمہ
کےبارےمیں جومشہورہے اس کامروجہ رسم جہیزسےکوئی تعلق نہیں ہےاس کی دلیل سمجھنے سےپہلے یہ بات سمجھ لیناضروری ہےکہ جہیزکامعنی کیاہے۔ جہیز عربی زبان کا لفظ ہے جس کامادہ جہاز( سامان ) ہے۔ جہز باب تفعیل سے ہے جس کے معنی ہے "اس نے سامان تیارکیا" اور یہ مختلف الفاظ سے ملکر اپنامفہوم اداکرتاہے مثلا کہاجاتاہے جہازالعروس(دلہن کوتیارکرنا)جہازالمیت(میت کاسامان تیارکرنا)اسی طرح جہازالسفر،جہازالغازی وغیرہ۔ یہ لفظ قرآن پاک میں بھی آیاہے "ولماجہزھم بجھازھم" اور احادیث میں یہ لفظ دوموقعوں کےلئےاستعمال ہواہےایک غازی کہ اس کا سامان جہادتیارکرنادوسرادلہن کوشب زفاف کےلئےآراستہ کرکےدولہاکےپاس بھیجنا۔ چنانچہ احادیث میں تین خواتین کاذکراس ضمن میں ملتا ہے۔
۱۔ حضرت صفیہ: جہزتھالہ ام سلیم فاھدتھالہ من اللیل۔
حضرت ام سلیم نے حضرت صفیہ کو تیار کیا اور انکو شب باشی کےلئےنبیﷺکی خدمت میں پیش کردیا۔
۲۔ حضرت ام حبیبہ: ثم جھزھامن عندہ وبعث بھاالی رسول اللہ ﷺوجھازھاکل من عندالنجاشی۔
پھرنجاشی نےحضرت ام حبیبہ کواپنےپاس سےتیارکیااورانکورسول اللہ ﷺکی طرف بھیج دیااورانکی ساری تیاری نجاشی کی طرف سےتھی۔ان دونوں احادیث میں تجھیز دلہن سازی،یعنی دلہن کوعروسی لباس اورآرائش وزیبائش سےآراستہ کرنےکےمعنی میں ہے۔اثاث البیت(گھریلوسامان)دینےکےمعنی میں نہیں ہے۔
۳۔ رہاحضرت فاطمہ کو جہیزدینےکاواقعہ، جس سےجہیزکےجوازپراستدلال کیاجاتاہے،اس کی حقیقت کیاہے? اس واقعہ پرغوروخوض کرنےاوراس سےمتعلقہ روایات کےمختلف طرق کاجائزہ لینےسےیہی بات واضح ہوتی ہےکہ اسکاتعلق بھی اثاث البیت سےنہیں ہےبلکہ یہ بھی دراصل دلہن کوپہلی مرتبہ دولہاکےپاس بھیجنےہی کی تیاری تھی جیسےکہ آتاہےجھزرسول اللہﷺفاطمۃ فی خمیل وقربۃ ووسادۃ حشوھااذخر۔
رسولﷺنے(پہلےپہل حضرت علی کےپاس بھجنے کے لیے)حضرت فاطمہ کوتیارکیاایک چادر،مشک اورتکیہ کےساتھ جسمیں اذخرگھاس بھری ہوئی تھی ۔ اس روایت میں جھزاورجھازکےمعنی وہی ہیں جومذکورہ دونوں حدیثوں میں اس لفظ کےگزرےہیں۔ ہماری بیان کردہ وضاحت کی ایک اور دلیل یہ بھی ہے۔ قدکان رسول اللہﷺجھزھمابھاووسادۃمحشوۃاذخراوقربۃ
اس چادرکےساتھ ہی رسولﷺنے ان دونوں کوتیارکیاتھااورایک تکیہ،اذخرگھاس کابھراہوااورایک مشک بھی عنایت کی تھی۔احادیث میں ان تین واقعات کے علاوہ تجھیز کالفظ استعمال نہیں ہواہےبجزحدیث جھادکے(من جھزغازیا)۔لہذا اس سے مروجہ جہیز مراد لینایکسربےجوازاورخلاف واقعہ ہےاس بناپرپورےیقین اورقطعیت کےساتھ کہاجاسکتاہےکہ مروجہ جہیزکاکوئی تعلق اسلام سے نہیں ہے۔
✍️ ا ل ح س ی ن ی

جہاد فی سبیل اللہ  : اس لفظ سے لوگوں کو بہت ہی متنفر کیا جارہا ہے اور اس کے معنی اور مفہوم کو غلط طریقے سے بیان کیا جارہ...
25/09/2024

جہاد فی سبیل اللہ :
اس لفظ سے لوگوں کو بہت ہی متنفر کیا جارہا ہے اور اس کے معنی اور مفہوم کو غلط طریقے سے بیان کیا جارہا ہے اور لوگوں کو بزدلی کا سبق دے کر اس بات کی تعلیم دی جاتی ہے کہ تبلیغ میں جانا افضل جہاد ہے , نفس کے خلاف جہاد کرنا یا ظالم بادشاہ کے سامنے کلمئہ حق کہنا جہاد اکبر ہے یا یہ کہ والدین کی خدمت کرنا بھی تو جہاد ہے یا اس حدیث کو پیش کرتے ہیں جس کی کوئی اصل نہیں کہ تم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی جانب لوٹے ہو وغیرہ وغیرہ غرض کہ ان تمام باتوں میں یا تو تاویلات سے کام لیا جاتا ہے یا تو اپنی طرف سے من گھڑت معنی اور مطلب بیان کر کے لوگوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے اور ان کے ایمان کو خطرے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جبکہ حقیقت کچھ اور ہے یہ ایک سازش ہے جس کے ذریعے سے مسلمانوں کو ایک اہم فریضہ سے متنفر کر کے رسوا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ حدیث میں جہاد کو اسلام کی کوہان قرار دیا گیا ہیں اور ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ صرف اور صرف جہاد ہے ۔
لوگو ! سمجھو اس سازش کو حضورﷺ کی طرح شہادت کا جذبہ دل میں رکھو اور جہاد کی تمنا نہ کر کے منافق نہ مرنا۔
☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️

11/09/2024

الحق مر ( حق بات کڑوی لگتی ہے )۔
امام ابو حنیفہ جیل میں ڈالے گئے۔
امام احمد جیل میں ڈالے گئے
امام شافعی جیل میں ڈالے گئے
امام مالک جیل میں ڈالے گئے
اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کو قید کیا گیا۔
امام العز بن عبد السلام جیل میں داخل ڈالے گئے ۔

مسلمانوں کے بیشتر امام اور علماء قید ہوئے۔ کیوں کہ وہ سلاطین و امراء کو راضی کرنے کے لئے کلمہ حق سے دستبردار نہیں ہوئے۔

اگر آپ اہل حق کو تلاش کرنا چاہتے ہیں تو ہر گز دھوکہ نہ کھایئں علماء سلاطین سے جن پر دن رات کیمروں کا فوکس ہوتا ہے۔ جو کفار کے وحشیانہ مظالم کے جواب میں رواداری کا درس دیتے ہیں۔ جو حکمرانوں کے کفر نافذ کرنے کے باوجود انکو ولی الامر کا درجہ دیتے ہیں۔

آج بھی ہزاروں اہل حق علماء جیلوں میں قید ہیں۔ انکا موقف جانیں۔ انکے بیانات سننے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا۔
مجھے اہل حق علماء کہاں ملیں گے؟
شیخ نے کیا شاندار جواب دیا۔۔

*"قید میں یا*
*میدان جہاد میں*
*یا زمین کے نیچے"*❤️

*تحریکِ خدمتِ اسلام*

31/08/2024

ومالکم لاتقاتلون فی سبیل اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں
جہاد نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Address

Sopore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tahaffuz e Nisa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share