28/10/2025
Qoute of the day
ایک سبق آموز دلچسپ واقعہ:
کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں ایک قاضی تھے جن کا نام نور الدین تھا۔ وہ اپنی عقلمندی، سمجھداری اور حکمت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ جو اپنے مالکوں اور مظلوموں کے حق میں ہونے والے ظلم کو دور کرنے میں کام آتے تھے۔ اس کے بعد اس نے ایک مقدمہ حل کیا جو بہت ہی کھٹن مقدمہ تھا۔۔۔۔
کہ دو آدمی ایک دوسرے کے پڑوس میں رہتے تھے۔ ان میں سے ایک نیک دل تھا اور دوسرا چلاک تھا۔ لیکن نیک دل پڑوسی اس بات سے بے خبر تھا۔ کہ اسکا پڑوسی مکار اور دھوکے باز ہے۔ ایک دن چلاک پڑوسی ایک مصیبت میں پڑ گیا اسکے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ تو وہ اپنے پڑوسی کے گھر قرض مانگنے گیا۔ لیکن وہاں اسے کچھ نہ ملا۔ حالانکہ کے اسکے پڑوسی کی بیوی نے اسے بتایا کہ اسکا شوہر صبح سے کام پر گیا ہے۔ اور ابھی تک لوٹا نہیں۔ تو وہ پڑوسی سیدھے اپنے پڑوسی کی طرف سیدھے اس کے کام پر چل پڑا۔ چلتے چلتے اسے اپنا پڑوسی کام سے لوٹتے وقت دیکھائی دیا۔۔۔۔۔۔
اس نے اسے روکا اور کہا۔ کہ میں بہت سخت مصیبت میں ہوں۔ مجھے دو ہزار درہم قرض دے دو۔ تو نیک دل پڑوسی نے بنا کسی ڈر کے اسے ایک اچھا قرض دینے کا ارادہ کیا۔ پاس ہی ایک کجھور کا درخت تھا۔ نیک دل پڑوسی نے اسے کہا کہ کل انشاءاللّٰہ میں دو ہزار درہم کا انتظام کر دوں گا۔ تم سے یہی اس کجھور کے درخت کے پاس ملاقات ہو گی۔ اگلے دن نیک پڑوسی وعدے کے مطابق وہاں پہنچا اس نے دو ہزار درہم اکٹھا کر کے اپنے پڑوسی کو دے دئیے۔ بدقسمت پڑوسی نے کہا میں یہ رقم تین مہنوں میں لوٹا دوں گا۔ نیک دل پڑوسی نے کسی قسم کی شرط یا ثبوت نہیں لیا۔۔۔۔
تین مہنے بعد نیک دل پڑوسی اپنے پڑوسی سے دو ہزار درہم لینے گیا۔ مگر وہ پڑوسی صاف مُکر گیا۔ نیک دل پڑوسی حیران رہ گیا۔ نیک دل پڑوسی نے اپنے دل میں سوچا کہ ہم ایسے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ جہاں بھلائی کو برائی سے لوٹا جاتا ہے اور برائی کو بھلائی سے لوٹا جاتا ہے۔ مگر نیک دل پڑوسی کو نور الدین قاضی کی انصاف پسندی اور مضبوط ضمیر کا علم تھا۔ اس نے سوچا اس معاملے کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔
نیک دل پڑوسی اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر عدالت پہنچ گیا۔ جب اس نے قاضی نورالدین کے سامنے اپنا سارہ حال بیان کیا۔ تو قاضی نے اپنے سپاہی کو حکم دیا کہ اس پڑوسی کو بلایا جائے۔۔۔۔
جب وہ پڑوسی آیا تو قاضی نورالدین نے اس سے پوچھا کہ تمہارا پڑوسی دعوا کرتا ہے کہ اس نے تمہیں دو ہزار درہم قرض دیا ہے۔
کیا یہ دعوا سچ ہے؟ اس بدتمیز پڑوسی نے صاف انکار کر دیا اس نے کہا کہ جناب میں نے اپنے پڑوسی سے کبھی قرض لیا ہی نہیں۔ اسکا دعوا جھوٹا ہے۔ تو نورالدین نے نیک پڑوسی کی طرف رخ کر کے کہا کہ تمہارے پاس کوئی گواہ یا ثبوت ہے۔ نیک پڑوسی نے کہا نہیں حضور۔
جب میں نے اسے قرض دیا تھا تو میں نے اس پر بھروسہ کیا۔ اسوقت میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا پڑوسی میرے حق سے مجھے اسطرح محروم کر دے گا۔۔۔۔۔۔۔
قاضی نورالدین کچھ دیر سوچ میں پڑ گئے کہ اگر تمہاری بات سچ ہے۔ تو جاؤ جہاں تم نے اسے قرض دیا تھا۔ اسی جگہ سے مُٹھی بھر مٹی لے کر آؤ۔ نیک پڑوسی حیران ہوا اور ادب سے چُپ چاپ چلا گیا۔ جب دیر ہو گئی تو وہ واپس نا آیا۔ تو قاضی نورالدین نے اس بد چلن پڑوسی کی طرف دیکھا اور اچانک پوچھا۔ کہ تمہارا پڑوسی اتنی دیر کیوں کر رہا ہے۔ کیا تم جانتے ہو؟ بِنا سوچے سمجھے اس بدتمیز پڑوسی نے جواب دیا۔
جناب وہ جگہ یہاں سے کافی دور ہے۔ قاضی مُسکرائے اور بولے کہ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ تم وہ جگہ جانتے ہو۔ اگر تم نے وہاں کبھی قرض لیا ہی نہیں۔ اب صاف ہو گیا کہ تمہارے پڑوسی کا دعوا سچ ہے۔ اسطرح قاضی نورالدین نے حق دار کا حق ثابت کیا۔ اور حکم دیا کہ اس قرض دار کو قید کیا جائے۔ جب تک وہ دو ہزار درہم واپس نا لوٹا دے۔
Like share and follow our page