20/05/2024
بسم الله الرحمن الرحيم
صلی اللہ علیٰ حبیبہ محمِّد وٰ آلِہ وسلم
اشقیا را دیده بینا نه بود
نیک و بد در دیده شان یکسان نمود
(بد بختوں کی دیکھنے والی آنکھ نہ تھی، اچھا اور برا اُن کی آنکھ میں یکساں نظر آیا)
مولانا رومؒ اس شعر میں سابقہ حقیقت کو اور واضح فرماتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ اچھے اور بُرے میں تمیزکرنی چاہیے سارے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ فقراء اللہ کی محبت میں شامل ہو کر قرب ِ الٰہی پاچکے ہوتے ہیں اُن کی بات اور ہے اور عوام الناس کی بات اور ہے۔یہاں مولانا رومؒ نے اپنے شعر میں اشقیاء کا لفظ استعمال کیا ہے، یہ شقی سے نکلا ہے جس کے معنیٰ بد بخت کے ہیں۔ تو مولانا رومؒ فرماتے ہیں جو بد بخت ہوتا ہے اُسے دیکھنے والی آنکھ کبھی نہیں ملے گی، یعنی وہ آنکھ جو اُونچ نیچ اور اچھائی یا بُرائی کی تمیز کر سکے۔ گو یا مولانا رومؒ واضح کر رہے ہیں کہ جو اللہ کے ولی اور عام بندے میں تمیز نہیں کر سکتاوہ بدبخت ہے اور بد بخت کو کبھی حق بینی نہیں ملتی، اور نیک اور بد اُس کی آنکھ میں یکساں اور ایک جیسے نظر آتے ہیں، اُس کی بد بختی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ سب کو ایک جیسا سمجھنا شروع ہو جاتا ہے۔
(مخدوم محمود مستوار قلندر)
اقتباس از:اسرار مستوار
Asraar e MastwaarBooks Download Sharh Bukhari SharifGoing to publish (Soon…) Download Read More Maqam Mahmood Download Read More Silsila Dilbar Download Read More Makeen e Dil Download Read More Asraar e Mastwaar Download Read More Tafseer e Mastwaar Download Read More Mehr e Munawwar Download ...