21/08/2026
موجودہ دور میں ہمارے اسکول؟
تعلیم کسی قوم کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اسکول صرف کتابیں پڑھنے، امتحان دینے اور اسناد حاصل کرنے کی جگہ نہیں؛ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک نسل کے ذہن، کردار، سوچ اور مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بچے کتنے نمبر حاصل کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیسے انسان بن رہے ہیں۔
آج کا بچہ معلومات کے ایک ایسے سیلاب میں زندگی گزار رہا ہے جو پہلے کبھی موجود نہیں تھا۔ موبائل، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت نے علم تک رسائی آسان کر دی ہے، مگر معلومات کی فراوانی نے رہنمائی کی ضرورت بھی بڑھا دی ہے۔ بچہ بہت کچھ جانتا ہے، مگر اسے یہ سکھانا زیادہ ضروری ہے کہ کیا درست ہے، کیا غلط ہے اور علم کو زندگی میں کیسے استعمال کرنا ہے۔
بدقسمتی سے تعلیم کا دائرہ اکثر نصاب، امتحان اور نمبروں تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ ریاضی، سائنس، زبان اور ٹیکنالوجی ضروری ہیں، مگر سچائی، احترام، برداشت، محنت، ذمہ داری، ناکامی کا سامنا اور دوسروں کے کام آنا بھی تعلیم ہی کا حصہ ہیں۔ علم اگر کردار سے جدا ہو جائے تو کامیابی تو دے سکتا ہے، انسانیت نہیں۔
آج بچوں پر مقابلے کا دباؤ بھی غیر معمولی ہے۔ والدین کی خواہش، معاشرتی توقعات اور اسکولوں کی کارکردگی کی دوڑ میں بچے کی پوری شخصیت چند نمبروں میں سمٹ جاتی ہے، حالانکہ ہر بچہ اپنی صلاحیت اور مزاج میں منفرد ہے۔ کسی میں سائنس، کسی میں ادب، کسی میں فن، کسی میں کھیل اور کسی میں قیادت کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اسکول کا کام سب کو ایک سانچے میں ڈھالنا نہیں، صلاحیت کو پہچان کر شخصیت کو نکھارنا ہے۔
استاد اس عمل کا سب سے اہم کردار ہے۔ وہ صرف سبق پڑھانے والا نہیں بلکہ شخصیت سازی کرنے والا مربی ہے۔ مگر جس استاد پر انتظامی بوجھ، معاشی دباؤ اور نتائج کا مسلسل دباؤ ہو، اس سے غیر معمولی تربیتی کردار کی توقع بھی ناانصافی ہے۔ استاد کو عزت، تربیت، اعتماد اور مناسب سہولت دینا دراصل مستقبل کو سنوارنا ہے۔
والدین اور اسکول کا تعلق بھی محض فیس، شکایت اور رزلٹ تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بچے کی تربیت تبھی مؤثر ہوگی جب گھر اور اسکول ایک دوسرے کے معاون ہوں، حریف نہیں۔
نجی اسکولوں نے تعلیم کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، مگر تعلیم کے بڑھتے ہوئے کاروباری پہلو پر بھی غور ضروری ہے۔ معیار اور سہولت اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جب فیس، ظاہری نمائش اور تجارتی ترجیحات تعلیم کے مقصد پر غالب آ جائیں تو اسکول تعلیم گاہ کے بجائے مارکیٹ بننے لگتا ہے۔
دوسری طرف سرکاری اسکولوں کا معیار صرف حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرے کے مستقبل کا سوال ہے۔ کسی غریب بچے کی صلاحیت اس لیے محدود نہیں ہونی چاہیے کہ وہ مہنگے اسکول کی فیس ادا نہیں کر سکتا۔ معیاری تعلیم ہر بچے کا حق ہے، امیر اور غریب کی بنیاد پر مراعات نہیں۔
ٹیکنالوجی نے تعلیم کے دروازے وسیع کیے ہیں، مگر اس کے ساتھ تنقیدی شعور کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔ بچوں کو صرف معلومات حاصل کرنا نہیں، معلومات کو پرکھنا بھی سکھانا ہوگا؛ کیونکہ ہر آن لائن بات علم نہیں، ہر وائرل چیز حقیقت نہیں اور ہر آسان راستہ درست نہیں ہوتا۔
اس پورے منظرنامے میں سوال بہت سادہ ہے: ہم اسکولوں سے کیا چاہتے ہیں؟
صرف امتحان پاس کرنے والے بچے یا سوچنے والے انسان؟
صرف ملازمت کے قابل نوجوان یا ذمہ دار شہری؟
صرف مقابلے میں آگے بڑھنے والے افراد یا ایسے انسان جو دوسروں کو بھی ساتھ لے کر چل سکیں؟
اسکول کی کامیابی صرف رزلٹ، عمارت یا جدید سہولیات سے نہیں ناپی جانی چاہیے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہاں سے نکلنے والا بچہ علم کے ساتھ شعور، کامیابی کے ساتھ اخلاق، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور اختلاف کے ساتھ برداشت بھی لے کر نکلے۔
ہمیں اسکول بدلنے سے پہلے تعلیم کے بارے میں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ تعلیم کا مقصد صرف روزگار نہیں؛ روزگار اس کا ایک نتیجہ ہے، جبکہ اصل مقصد انسان کی فکری، اخلاقی اور سماجی تعمیر ہے۔
کیونکہ آج اسکول میں جو ذہن اور کردار تشکیل پا رہا ہے، وہی کل ہمارے معاشرے، سیاست، معیشت اور تہذیب کی صورت اختیار کرے گا۔
اس لیے اسکول کا مسئلہ صرف اسکول کا مسئلہ نہیں؛ یہ ہمارے مستقبل کا مسئلہ ہے۔
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری