01/09/2024
The Goat Life:
سعودی عرب کی ایک متنازع تصویر اور اس کے پیچھے کی حقیقت
حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم "دی گوٹ لائف" نے سعودی عرب کی تصویر کشی کے باعث سوشل میڈیا پر ایک زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ لوگ اس فلم کو سعودی معاشرے کی ایک درست عکاسی قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے منفی پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔ اس فلم کے گرد چھڑی اس بحث نے سعودی شہریوں کو بھی اپنے ملک کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کچھ سعودی باشندے اپنے ملک کی مثبت تصویر پیش کرنے کے لیے ملک میں مقیم کارکنوں یا دیگر غیر ملکیوں کے ساتھ اپنے مثبت تجربات شیئر کر رہے ہیں۔
تاہم، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر ملک میں اچھائی اور برائی دونوں موجود ہوتی ہیں، اور سعودی عرب بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس لیے نہ تو فلم "دی گوٹ لائف" کو مکمل طور پر مسترد کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے مکمل طور پر درست قرار دیا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب میں تقریباً 12 سال گزارنے کے بعد، مجھے خود بھی مختلف قسم کے واقعات سننے کو ملے ہیں۔
جب سے شاہ سلمان تخت پر بیٹھے ہیںان کے بیٹے محمد بن سلمان نے لیبر قوانین میں کئی اصلاحات کی ہیں، سعودی عرب میں صورتحال پہلے سے کافی بہتر ہوئی ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام مسائل حل ہو چکے ہیں۔ "دی گوٹ لائف" جیسی فلمیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
سعودی عرب ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہے جو اپنے ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں، اور یہاں کی ثقافت بھرپور ہے۔ تاہم، یہاں کچھ مسائل بھی ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ "دی گوٹ لائف" جیسی فلمیں ان مسائل پر روشنی ڈالنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ صرف ایک فلم ہے، نہ کہ پوری حقیقت۔
ہمیں سعودی عرب کو ایک مکمل تصویر کے طور پر دیکھنا چاہیے، اس کی خوبیوں اور خامیوں سمیت۔ صرف اس صورت میں ہم اس ملک اور اس کے عوام کو واقعی سمجھ سکیں گے۔