PIK United

PIK United اگر آپ کو پیج اچھا لگے تو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں ۔

یوتھیوں کو روکنے کے لیے 40 ارب کی فائر وال بھی وڑ گئی ، 40 ارب کا نقصان کر کے بند کر دی گئی۔‏لاہور کی سڑکوں پر ہرا رنگ ک...
22/02/2026

یوتھیوں کو روکنے کے لیے 40 ارب کی فائر وال بھی وڑ گئی ، 40 ارب کا نقصان کر کے بند کر دی گئی۔
‏لاہور کی سڑکوں پر ہرا رنگ کروانے کا کروڑوں کا چونا ایک بارش میں بہہ گیا۔
میڈیکل آن ویلز کا اربوں کا پراجیکٹ ناکامی کے بعد پرائیواٹائز کردیا۔
پی آئی اے دس ارب کی بیچ کے 11 ارب کا ایک جہاز لاڈو رانی کے لئے خرید لیا گیا۔
ایک سال میں 900 بندہ مریم احکامات پر ق .تل کردیا گیا۔
جیل میں بیٹھے شخص کو کیا پتہ کہ ملک کتنی ترقی کر رہا ہے۔

05/01/2026

کہیں پر زمینی کارروائی کرنی پڑتی ہے ، کہیں پر سائفر سے ہی کام بن جاتا ہے!
🫣

17/12/2025

' تم ہو کون ' پوچھنے والوں کے لیے خوبصورت جواب

06/12/2025

پاکستان میں عمران خان کو “سیکیورٹی تھریٹ” قرار دینا کوئی نئی کہانی نہیں—
یہ وہی پرانا فارمولا ہے جس کے تحت ہر دور میں عوامی پسندیدہ لیڈرز کو خطرہ بنا کر پیش کیا گیا۔

فاطمہ جناح سے لے کر بھٹو، بے نظیر، نواز شریف اور اب عمران خان—
جس کو عوام نے چنا، طاقت کے مراکز نے اسے سیاسی یا سیکیورٹی خطرہ قرار دیا۔

یہ وہی سسٹم ہے جس کی غلطیوں نے بنگلہ دیش کو ہم سے جدا کیا،
جس نے دہائیوں تک سیاسی انجینئرنگ کی،
اور جس نے بار بار عوام کے مینڈیٹ کو روند کر ملک کو کمزور کیا—
پھر بھی “خطرہ” ہمیشہ عوام کے لیڈرز ہی ٹھہرتے ہیں،
غلطی کرنے والا کبھی نہیں۔

عمران خان کو سیکیورٹی تھریٹ کہنا دراصل یہ تسلیم کرنا ہے کہ
اصل خوف ملک کو نہیں—اس اقتدار کے ڈھانچے کو ہے
جو خود کو عوامی فیصلوں سے اوپر سمجھ بیٹھا ہے۔
یہاں عوامی مرضی کا تو نام تک نہیں،
یہ وہ لوگ ہیں جو خود ساختہ بڑے بنے بیٹھے ہیں،
اور اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں—
جیسے ملک کا ہر فیصلہ صرف وہی کرنے کے مجاز ہوں۔

پاکستان کی بدقسمتی یہی ہے کہ یہاں
سچ بولنے والا باغی ہوتا ہے،
عوامی لیڈر خطرہ بن جاتا ہے،
اور غلطی کرنے والا مقدس بنا رہتا ہے۔

جب تک یہ نظام عوام کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرے گا،
اور سیاست کو سیکیورٹی کے نام پر یرغمال رکھا جاتا رہے گا—
ملک ترقی نہیں کر سکتا،
اور ہر مقبول لیڈر کو تھریٹ کا لیبل لگا کر خاموش کرنے کی کوشش چلتی رہے گی۔

01/10/2025
27/08/2025

گرمیوں میں شور کرتے ہیں بھارت نے پانی چھوڑ دیا
سردیوں میں شکایت کرتے ہیں بھارت نے پانی روک لیا

کبھی ڈوبتے ہیں، کبھی ترستے ہیں…
مگر ڈیم بنانے کا فیصلہ کبھی نہیں کرتے

نہ پانی سنبھالتے ہیں، نہ مستقبل کی سوچ رکھتے ہیں۔
ہر سال سیلاب کی تباہی میں ایک نئی کہانی شامل کر دیتے ہیں…
افسوس

عطاء اللہ تارڑ اسحاق ڈار خواجہ آصف بلاول بھٹوزرداری محسن نقوی اعظم نذیر تارڑ کی ملک و قوم کے لیے عظیم خدمات کے اعتراف می...
14/08/2025

عطاء اللہ تارڑ
اسحاق ڈار
خواجہ آصف
بلاول بھٹوزرداری
محسن نقوی
اعظم نذیر تارڑ
کی ملک و قوم کے لیے عظیم خدمات کے اعتراف میں انہیں صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے "ستارہ امتیاز" سے نواز دیا گیا ھے۔
لیکن آپریشن بنیان المرصوص ڈیزائن کرنے والے عظیم محب وطن ڈیزائنر میاں نواز شریف المعروف باؤ جی کو "ستارۂ امتیاز" سے محروم رکھنا بہت بڑی زیادتی ھے۔جسے پچیس کروڑ عوام کبھی معاف نہیں کریں گے ۔۔۔

21/06/2025

جو چیخیں مار رہے ہیں کہ عمران خان قید میں بیٹھ کے ٹویٹ نہیں کر رہا وہ اپنے لیڈران کے کرتوت بھی دیکھ لے

وائٹ ہاؤس کے باہر جنرل عاصم منیر سے صحافیوں نے سوال پوچھا ان حالات میں آپ کے امریکی دورے کا مقصد کیا ہے؟جس پر جنرل عاصم ...
19/06/2025

وائٹ ہاؤس کے باہر جنرل عاصم منیر سے صحافیوں نے سوال پوچھا ان حالات میں آپ کے امریکی دورے کا مقصد کیا ہے؟
جس پر جنرل عاصم منیر نے بتایا میں تیسری عالمی جنگ روکنے کیلئے اسرائیل اور ایران کے درمیان صُلح کروانے کے ارادے سے آیا ہوں۔
جنرل عاصم منیر کا جواب سن کر صدر ٹرمپ نے کہا یہ ہماری خوش قسمتی ہے دنیا کا اتنا بڑا سپہ سالار ہمارے درمیان موجود ہے۔
تحفے کے طور پر میں آپ کو پانچ ایف 35 طیارے اور دس ارب ڈالرز دینے کا اعلان کرتا ہوں۔
عاصم منیر: مسٹر ٹرمپ آپ مذاق تو نہیں کر رہے نا ؟
ٹرمپ : شروع کس نے کیا تھا!!!!
😜😜

ماسکو کے چینی سفارت خانے نے ان ممالک کی فہرست شائع کی ہے، جن پر جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکا نے بمباری کی:جاپان: 6 اور 9 ...
19/06/2025

ماسکو کے چینی سفارت خانے نے ان ممالک کی فہرست شائع کی ہے، جن پر جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکا نے بمباری کی:
جاپان: 6 اور 9 اگست 1945
کوریا اور چین: 1950–1953 (جنگِ کوریا)
گواتی مالا: 1954، 1960، 1967–1969
انڈونیشیا: 1958
کیوبا: 1959–1961
کانگو: 1964
لاؤس: 1964–1973
ویتنام: 1961–1973
کمبوڈیا: 1969–1970
گریناڈا: 1983
لبنان: 1983، 1984 (لبنان اور شام میں اہداف پر حملے)
لیبیا: 1986، 2011، 2015
ایل سلواڈور: 1980
نکاراگوا: 1980
ایران: 1987
پاناما: 1989
عراق: 1991 (خلیجی جنگ)، 1991–2003 (امریکی و برطانوی حملے)، 2003–2015
کویت: 1991
صومالیہ: 1993، 2007–2008، 2011
بوسنیا: 1994، 1995
سوڈان: 1998
افغانستان: 1998، 2001–2015
یوگوسلاویہ: 1999
یمن: 2002، 2009، 2011، 2024، 2025
پاکستان: 2007–2015
شام: 2014–2015
یہ فہرست تقریباً 30 ممالک پر مشتمل ہے۔ چین نے زور دیا ہے کہ "ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا کے لیے اصل خطرہ کون ہے۔"
پھر سوال اُٹھتا ہے:
کیا کبھی مغربی معاشرے نے امریکا پر برہمی ظاہر کی؟
کیا کبھی اس کے خلاف زوردار آوازیں بلند ہوئیں؟
کیا کسی ایک بار بھی امریکا پر پابندیاں عائد ہوئیں؟
یہ پورا دنیاوی نظام، جسے ہم "بین الاقوامی برادری" کہتے ہیں، خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے، جبکہ امریکا دنیا بھر کے ممالک پر ڈاکوؤں کی طرح حملہ آور ہو کر ان کے خوابوں کو بھی خوفناک کابوس میں بدل دیتا ہے۔
نہ کوئی مذمت، نہ کوئی سرزنش، نہ کسی قسم کی ناراضگی۔
ایک بزدل، بے شرم، اور منافق عالمی ضمیر۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فہرست کو ہر ممکن پلیٹ فارم پر بار بار نشر کیا جائے۔ ایسی ویڈیوز بنائی جائیں جو ان تمام مغربی منافقوں کو بے نقاب کریں اور امریکا کے ہاتھوں دنیا بھر میں ہونے والے جرائم کی ہر حقیقت یاد دلاتی رہیں۔
چینی سفارتخانے کی جانب سے یہ فہرست سفارتِ چین برائے روس (ماسکو) نے ایک سیاسی اور اخلاقی پیغام کے طور پر اُس وقت جاری کی، جب عالمی میڈیا اور مغربی ممالک ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کی شدید مذمت کر رہے تھے، لیکن خود امریکا کے ماضی کو مکمل نظرانداز کیا جا رہا تھا۔
یہ فہرست اس دوہرے معیار (double standards) کو بے نقاب کرنے کے لیے شائع کی گئی، جو امریکا اور مغرب انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور عالمی سلامتی کے معاملات میں اپناتے ہیں۔
جب ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کیا تو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران کو "عالمی خطرہ" قرار دینا شروع کر دیا۔ چینی سفارتخانے نے اس تنقیدی مہم کے جواب میں یہ فہرست جاری کی تاکہ یاد دلایا جا سکے کہ حقیقی خطرہ وہ ملک ہے جس نے جنگِ عظیم دوم کے بعد 30 سے زائد ممالک پر بمباری کی ہے۔
چین کا موقف ہے کہ امریکا کسی بھی اخلاقی مقام سے بات کرنے کے اہل نہیں، کیونکہ خود اس کا ماضی اور حال انسانی حقوق کی پامالیوں اور عالمی جارحیت سے بھرا پڑا ہے۔
چین نے اس فہرست کو جاری کر کے ایک وسیع تر پیغام دیا:
"دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ کون اصل خطرہ ہے۔ مغربی میڈیا اور حکومتیں منافقت سے کام لیتے ہیں، اور جب امریکا قتل عام کرتا ہے تو وہ خاموش رہتے ہیں۔"
یہ اقدام صرف سفارتی یا معلوماتی نہیں، بلکہ سیاسی جواب اور اخلاقی چارج شیٹ بھی ہے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جاری یک طرفہ بیانیے کے خلاف۔

Inna Lillahi Wa Inna Elyhi Rajioon Famous comedian Sardar Kamal Passes away .May Allah forgive him and grant him highest...
31/07/2024

Inna Lillahi Wa Inna Elyhi Rajioon
Famous comedian Sardar Kamal Passes away .May Allah forgive him and grant him highest place in Jannah Ameen.

Address

Kuwait City

Telephone

+96560021138

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PIK United posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share