18/10/2024
جمعرات 10 اکتوبر, 2024 کی صبح ساڑھے تین بجے میں نے اپنا ہیرو کھو دیا—میرے والد، سید بشیر حسین شاہ۔ ابو چھیاسی سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وہ ایک بےپناہ مضبوط، نظم و ضبط اور محبت والے انسان تھے۔
پاکستان آرمی کے ایک قابل فخر سابق فوجی، انہوں نے مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں خدمات انجام دیں اور 1965 کی پاک بھارت جنگ میں بہادری سے لڑے، اور بھارت کے اندر تک پیش قدمی کی۔ ان کی ملک کے لیے خدمات ہمیشہ ہمارے لیے باعث فخر رہیں گی۔ لیکن ان کی فوجی خدمات کے علاوہ، وہ ایک باصلاحیت شخص تھے—سرگودھا کے مشہور کبڈی کے کھلاڑی، ایک ماہر پہلوان، اور ایک بہترین نشانے باز۔
میرے والد اصولوں کے پکے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے اچھے دوست بنانے کی ترغیب دی، نظم و ضبط کی زندگی گزارنے کی تلقین کی، اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز نہ کرنے کا درس دیا۔ ان کی عادت تھی کہ رات کو گھر کا معائنہ کرتے، یہ دیکھنے کے لیے کہ سب کچھ محفوظ ہے یا نہیں۔ اگر کچھ لاک نہ ہوتا تو صبح آپ کو ان کا تالا لگا ہوا ملتا اور پھر آپ کو ان سے چابی کی درخواست کرنی پڑتی! جو تھوڑی ڈانٹ یا جرمانہ ادا کرنے پر ملتی، وہ جرمانہ کوئی میٹھی چیز ہوتی۔ وہ زندگی میں نظم و ضبط اور ذمہ داری کے اصولوں کے پابند تھے۔
انہوں نے ہمیشہ محنت کی ، ہم سب کے لیے—اپنے بچوں کے لیے جن سے وہ بے حد محبت کرتے تھے، اور ان کی محبت کا دوسرا پہلو ان کے اپنے پوتے پوتیوں اور نواسوں سے محبت تھی، جو دیکھ کر بہت حیرت ہوتی کہ اپنی جوانی مٰیں اتنا سخت انسان، اپنے بچوں کو نظم و ضبت سکھانے والا، ان بچوں کی باری کیسے موم ہو گیا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں انہوں نے صوفی ورد میں سکون اور مقصد پایا، دعا اور غور و فکر میں وقت گزارا۔ رات ۱ بجے سے صبح سورج طلوع ہونے تک ورد کرتے رہتے، اور اسی ورد کے دوران اللہ کو پیارے ہوئے۔
میرے والد میری سب سے بڑی مثال تھے—لگن، قوت، اور محبت کی۔ دعا ہے کہ، اللہ کہ ذات آپ کی مغفرت فرمائے، آمین، ہمیں آپ کی ہمیشہ کمی رہے گی، لیکن آپ کا ورثہ اور وہ سبق جو آپ نے ہمیں سکھائے، ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔