09/06/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انسانیت کا میزان: جو اپنے لیے پسند ہو، وہی دوسروں کے لیے بھی
انسان کی سب سے بڑی فکری لغزش یہ ہے کہ وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے الگ الگ پیمانے وضع کر لیتا ہے۔ اپنے لیے عزت چاہتا ہے، مگر دوسروں کی عزتِ نفس کو مجروح کر دیتا ہے۔ اپنے لیے انصاف کا طالب ہوتا ہے، مگر دوسروں کے حق میں ترازو کا رخ بدل دیتا ہے۔ اپنے لیے نرم لہجہ، خلوص اور محبت پسند کرتا ہے، مگر دوسروں کے حصے میں تلخی، بے اعتنائی اور سختی چھوڑ دیتا ہے۔
حالانکہ اخلاق کی بنیاد یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروں کی جگہ رکھ کر سوچے۔ جو لفظ اپنے بارے میں سننا پسند نہیں کرتا، وہ کسی اور کے بارے میں بھی نہ کہے۔ جو سلوک اپنے لیے گوارا نہیں کرتا، وہ کسی دوسرے کے ساتھ بھی نہ کرے۔ جو نقصان اپنے لیے برداشت نہیں کر سکتا، وہ کسی اور کے لیے بھی پسند نہ کرے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے انسانی تعلقات، معاشرتی عدل اور اخلاقی شعور کا ایسا جامع اصول عطا فرمایا جو ہر دور کے لیے رہنما ہے کہ انسان اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
یہ محض ایک نصیحت نہیں، بلکہ تہذیب کی اساس ہے۔ معاشروں کی تعمیر عمارتوں سے نہیں ہوتی، بلکہ ان دلوں سے ہوتی ہے جو دوسروں کے درد کو بھی اپنا درد سمجھتے ہیں۔
حکمت کی ایک بات یہ ہے کہ انسان کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہ اپنے حق کے لیے کتنا حساس ہے، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے حق کے لیے کتنا بیدار ہے۔
ایک اور حقیقت یہ ہے کہ ظلم ہمیشہ تلوار سے نہیں ہوتا؛ کبھی ایک لفظ ظلم بن جاتا ہے، کبھی ایک رویہ، کبھی ایک طنز، اور کبھی کسی کے حق کو معمولی سمجھ لینا بھی ظلم کی ایک صورت بن جاتا ہے۔
؎ جو درد اپنے لیے باعثِ آزار لگے
وہی درد اور کے حصے میں بکھرنا کیسا
؎ خود کو معیارِ صداقت ہی سمجھ بیٹھے ہو
پھر کسی اور کی عزت کا خیال آئے کہاں
؎ آدمی وہ ہے جو اپنے حق سے پہلے کبھی
دوسرے شخص کے حق کا بھی نگہباں نکلے
یاد رکھیے! انسانیت کا حقیقی میزان یہی ہے کہ جو عزت آپ اپنے لیے چاہتے ہیں، وہی دوسروں کو دیں؛ جو انصاف اپنے لیے چاہتے ہیں، وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کریں؛ اور جس تکلیف سے خود بچنا چاہتے ہیں، اس تکلیف کو کسی دوسرے کی تقدیر نہ بنائیں۔
یہی اخلاق کا جوہر ہے، یہی معاشرتی شعور کی بنیاد ہے، یہی روحانیت کا حسن ہے، اور یہی ایمان کی خوشبو ہے۔ #انسانیت #اخلاق #انصاف #احترام #اسلام #حدیث #فکر #روحانیت