Aine Don’t forget to share and hit the like button if you had a laugh. Comments on the video please share.

07/10/2025

بسم اللہ الرحمن الرحیم__
☆ دهڑکن ☆
______قسط 11
تحریر ناصر حسین اس رات ستارے بادلوں نے بالکل چهپا رکهے تهے. .ٹهنڈی ٹهنڈی ہوا چل رہی تهی. .بارش اسے ہمیشہ سے پسند تهی وہ کهڑکهی کهولے بارش اور ہواؤں کا کهیل دیکھ رہی تهی..کهبی کهبی جب بجلی چمکتی تو زمین پہ روشنی پهیل جاتی ..وہ اس نظارے سے خوب لطف اندوز ہو رہی تهی اتنی سردی میں اچانک اسے چائے کی طلب محسوس ہوئی اس لیے وہ کمرے سے باہر نکل آئی ....آج ڈنر کے بعد سے اس نے دعا کو بالکل بھی نہیں دیکها...شاید وہ کمرے میں اپنا ڈرامہ دیکهنے میں مصروف ہو گی ..اسے کسی کی باتیں کرنے کی آوازیں آئی..سیڑھیوں پر پہنچ کر اس نے دیکها سارے گهر والے صوفوں پہ بیٹھ کر چائے بھی پی رہی ہیں اور سنجیدگی سے کسی معاملے پہ بات بھی کر رہے ہیں. ...دعا وہاں موجود نہ تهی اس نے نیچے جانے کا ارادہ ترک کر دیا سب کے سامنے سے ہوتی ہوئی وہ کیسے کچن میں جا سکتی تهی...وہ واپس جانے کے لیے پلٹ ہی رہی تهی کہ آرب کی آواز پہ اس کے قدم رک گئے....... ....
" تو آپ لوگ چاہتے ہیں میں شادی کرلوں....اور آپ کو اپنی پسند بتاوں."....
اس کی دهڑکن بے ترتیب ہونے لگی. ..شرم کے مارے اس کی نگاہیں جهک گئیں..ایک دلکش مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چهو کر نکل گئی.....وہ انتظار میں تهی کہ کب آرب کہ منہ سے اس کا نام ادا ہو گا...بے ساختہ اس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکها. ..... .
" میں دعا سے شادی کرنا چاہتا ہوں بابا جان.."...اسے آرب کی آواز سنائی دی.....
اس کی مسکراہٹ اچانک غائب ہو گئی..نہیں. .نہیں. .نہیں. ..اس نے ضرور غلط سنا ہوگا...آرب نے دعا نہیں فرشتے کہا ہوگا ..ضرور اس کے سماعتوں نے اسے دهوکہ دیا ہوگا...وہ دل کو سمجهانے لگی ....
"ارے واہ...آرب تم نے تو میرے دل کی بات چهین لی ہمیشہ سے میری خواہش رہی تهی کہ دعا کو تمہاری دلہن کے روپ میں دیکهوں."....بابا جان کی آواز آئی....
اب اسے سننے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی...اچانک اس کی دهڑکن رکنے لگی. ..اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تهی...جسم سے سارے خون ایک پل میں خشک ہو گیا....وہ گرنے والے انداز میں سیڑھیوں پر بیٹھ گئی اگر اس وقت وہ سیڑھیوں کا سہارا نہ لیتی تب شاید لڑهکتی ہوئی نیچے گر جاتی...آرب اور بھی کچھ کہہ رہا تها لیکن اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تها ہر آواز بند ہو چکی تهی....وہ تو صرف ایک آواز سن رہی تهی....
"میں دعا سے شادی کرنا چاہتا ہوں". ....
باہر تیز بجلی کڑکی اچانک اس نے وہ بجلی خود پہ گرتی محسوس کی.......
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #.
وہ بستر پہ زندہ لاش کی طرح لیٹی تهی اسے نہیں پتا کب وہ وہاں سے اٹهی اور کب اپنے مردہ قدموں کے ساتھ اندر آئی کب اس نے دروازہ بند کیا کب وہ بستر پہ لیٹ گئی...........
اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تها کچھ دکهائی نہیں دے رہا تها وہ کچھ محسوس نہیں کر پا رہی تهی احساسات اور جذبات زندہ انسانوں کے لئے ہوتے ہیں اور وہ زندہ کب تهی...وہ تو ختم ہو چکی تهی..صرف سانسیں چل رہی تهیں صرف سانسوں کے چلنے اور دل دهڑکنے کو زندگی تو نہیں کہتے........
باہر بجلی گر رہی تهی شاید آج وہ بھی اس بجلی کی زد میں آ گئی ...تهوڑی دیر پہلے سہانہ اور حسین لگنے والا موسم اب کتنا بهیانک اور خوفناک لگ رہا تها اس کا اندازہ صرف وہی کر سکتی تهی ..........
یہ کیا ہوا اس کے ساتھ کیوں ہوا. ..کیسے ہوا...کیوں بار بار اس کے ساتھ ایسا ہوتا ہے.......
" آرام سے رہو نہیں تو دوسرا ہاتھ بهی کاٹ دوں گا.."...
" کاش کوئی ہمارے لیے بهی اتنی رات کو کچھ کهانے کو بناتا.".....
" اگر کسی سے پیار ہو جائے تو اس کا اظہار کیسے کرنا چاہیے". .
وہ کچھ سوچنے سمجهنے کے قابل ہوئی تو مختلف سوچ اور مختلف سوالات اس کے دل میں تهے جن کے جواب اس کے پاس نہیں تهے...سوال ہزاروں تهے جواب کسی ایک کا بھی نہیں تها اس کے پاس........
" یہ سب کیا ہوا کیوں ہوا کیسے ہوا...".کیا آرب اس سے محبت نہیں کرتا تها ..مگر کیسے اس نے تو خود اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکهی تهی تو کیا مطلب تها ان نگاہوں کا ....کیا آرب نے دهوکہ دیا بے وفائی کی مگر کیوں. ..وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے.....وہ تو ایسا نہیں لگتا....وہ جتنا سوچ رہی تهی اتنا ہی الجهتی جا رہی تهی. ..آنکهیں خشک تهیں...یا پھر وہ اس سے محبت کرتا ہی نہیں تها وہ خود اتنی بے وقوف تهی اس کی نظروں کا مطلب محبت سمجهنے لگی .........پهر اسے یاد آیا اس نے کهبی اس سے یہ نہیں کہا کہ اسے اس سے محبت ہے وہ تو خود اتنی بے وقوف تهی جو اس کی ہمدردی کو محبت سمجهنے لگی...
ہاں شاید ایسا ہی ہوگا وہ اس سے ہمدردی کرتا تها وہ اس یتیم لاوارث لڑکی پہ ترس کهاتا تها اور وہ خود اتنی بهولی تهی اس کی اس ہمدردی کو محبت سمجهنے لگی تهی....لیکن اس کی آنکھیں اسے کیسے دهوکہ دے گئیں وہ تو خود دیکھ چکی تهی اس کی آنکھوں میں محبت......
نہیں. .اگر وہ اس سے محبت کرتا تو اس نے شادی کے لئے دعا کا نام کیوں کیا...کیا وہ دعا سے محبت کرتا تها یا گهر والوں کی مرضی کے لیے اس نے دعا سے شادی کی رضا مندی دے دی....نہیں یہ بھی نہیں ہو سکتا...گهر والے اسے کهبی مجبور نہیں کرتے اگر وہ کہتا کہ اسے فرشتے سے شادی کرنی ہے تو کیا سب منع کر دیتے...نہیں. ..نہیں. ..بات یقیناً کچھ اور ہی ہے .اس نے اس کا نام کیوں نہیں لیا دعا کا نام کیوں لیا....اس کی زبان سے نکلنے والا وہ نام دعا کا ہی کیوں تها فرشتے کیوں نہیں. ....دل ویران ہو چکا تها ایک بنجر زمین کی طرح اچانک ایک پل میں ہی سب ختم ہو گیا...ایک گهر ایک خواب بسنے جا رہا تها اور ایک گهر ایک خواب اجڑ چکا تها.....
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
کتنی طوفانی رات تهی وہ جس میں اس کے سارے خواب سارے سپنے بکهر گئے..کاش اس کی زندگی میں یہ رات کهبی نہیں آتی کاش وہ اس نے جو سنا ہو وہ سب خواب ہو سپنا ہو جهوٹ ہو......
نہیں. .وہ خواب نہیں تها وہ حقیقت تهی جو اس کے ساتھ ہوا وہ سب سچ تها...آج کی رات اسے نیند کیسے آ سکتی ہے آج تو ماتم کرنے کی رات ہے...آج رات تو محبت کے قتل پہ رونے کی رات ہے..آج تو محبت کا جنازہ اٹها آج تو پیار کا وجود دفن ہو گیا......
وہ ہوش میں نہیں تهی اسے کچھ پتا نہیں تها..نا موسم کا نہ اندر باہر کچھ بھی وہ محسوس نہیں کر پا رہی تهی ..ہر احساس تو مر چکا تها...اسے نہیں پتا کب دعا دستک دے کر اندر آئی...اور آکر اس کے پاس بیٹھ گئی. .وہ بھی ویران آنکهیں لیے اٹهنے کی کوشش کرنے لگی...دعا کا موڈ ہمیشہ کی طرح خوشگوار تها ..اور آج تو وہ ہمیشہ سے بھی زیادہ خوش لگ رہی تهی...وہ نہیں دیکھ پا رہی تهی اس کی آنکھوں میں. .وہ اس کا درد نہیں دیکھ پا رہی تهی...اچها ہوا جو وہ نہیں دیکھ پا رہی اس کے دل کے زخموں کو ورنہ سوالات کا سلسلہ چل پڑتا اور وہ کچھ بول ہی نہ پاتی....
" تمہیں پتا ہے بابا جان نے میرا رشتہ طے کر دیا"...
کتنی آسانی سے وہ بول رہی تهی یہ جانے بنا کہ اس کے ان لفظوں سے اسے کتنی تکلیف ہو رہی ہے...دعا جیسی لڑکی سے شرم کی توقع تو ویسے بھی نہیں کی جا سکتی..وہ بس خاموش نظروں سے دعا کو دیکهنے لگی. ..ایسا کیا تها اس میں جو آرب نے اسے پسند کیا....اس کی آنکھیں نم ہو گئیں اب کسی بھی پل سیلاب جاری ہو سکتا تها..........
" اور تمہیں پتا ہے کس کے ساتھ آرب کے ساتھ. "...
دعا نے مسکراتے ہوئے بتایا.....وہ دعا سے کہنا چاہتی تهی " بس کرو خدا کے لیے بس کرو اب ..اور تیر مت چلاو ..میرے دل میں. ."..اور امتحان مت لو میرے صبر کا..پتا نہیں کیوں وہ اتنی بے اختیار ہو گئی دعا کے گلے لگ کر پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی. .دعا اس کے اس اچانکی رد عمل پہ بالکل حیران ہوئی ..وہ اس کے بال سہلانے لگی اور اسے دلاسا دینے لگی .......
" تم کیوں فکر کرتی ہو...سب ٹهیک ہو جائے گا...ابهی تک امی والی باتوں کو نہیں بهولیں..."..
اپنے طور پر دعا صرف یہی اندازہ لگا پائی کہ وہ گهر والوں کے رویے کی وجہ سے پریشان ہے. .....
دعا اب اپنی انگلیوں سے اس کے آنسو پونچھنے لگی. .اسے اپنے رویے پہ پیشمانی ہونے لگی. ..دعا بیچاری کتنی خوشی سے اسے اپنے رشتے کی بات بتانے آئی تهی اور اس نے رنگ میں بهنگ ڈال دی.....دعا اسے بیڈ پہ سلا کر اس پہ چادر اوڑھنے لگی..وہ کافی دیر اس کے پاس بیٹھ کر اسے دلاسا دیتی رہی...پهر اسے سوتا پا کر وہ چلی گئی. .لیکن آج اسے نیند کہانی آنی تهی...محبتوں کے جنازے والے دن نیند کہاں سے آنی تهی .....
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
وہ ساری رات روتی رہی ایک پل کے لیے بھی وہ سو نہ سکی..اس کی آنکھیں سوجهی ہوئیں تهیں..وہ ساری رات رو رو کر اللہ تعالیٰ سے شکوے کرتی رہی..دور کہیں صبح کی اذان سنائی دی اسے...شکوے شکائتیں بہت کر چکی تهی اب اسے اللہ کو منانا تها..مرے ہوئے قدموں کے ساتھ واش روم گئی...وہیں منہ دهو کر اپنا چہرہ آئینے میں دیکها تو اسے آئینے میں ایک اجنبی لڑکی نظر آئی وہ اسے بالکل بھی نہیں پہچان سکی...وہ فرشتے جنید تو ہر گز نہیں تهی.....
وضو کر کے اس نے نماز پڑھی. .نماز کے بعد وہ اپنے ہاتھ اٹها کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگی....
" یا اللہ اس دن میرے پاس مانگنے کو کچھ نہیں تها..لیکن آج میں آپ سے آرب مانگتی ہوں. ..آرب مجھے دے دیں اس کے بدلے مجھے اور کچھ نہیں چاہیے میرا سب کچھ لے لیں ..لیکن صرف آرب مجهے دے دیں...بهلے ہی آخرت میں میرے لیے کوئی حصہ نہ رکهیں لیکن آرب مجهے دے دیں....وہ میرا ہے اسے آپ کسی اور کو کیسے دے سکتے ہیں. ..میری چیز میری ملکیت مجهے ہی دیں....آپ تو سب کچھ کر سکتے ہیں نا...آپ تو ناممکن کو ممکن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آپ جب کہتے ہیں کن تو ہو جاتا ہے...پوری کائنات ساری دنیا آپ کے ماتحت ہے. ..آپ اپنی اس پوری دنیا میں وہی ایک شخص مجهے دے دیں ..میں نے اس سے بہت محبت کی ہے خدایا ....وہ میرا ہے صرف میرا"....
" وہ میری سانس ہے میری زندگی میری دهڑکن ہے...اسے مجھ سے مت چهینیں...پلیز. .آپ کے گواہ ہیں میری محبت کے صرف آپ ہی گواہ ہیں اس محبت کے. ".....
اس کے آنسو سے رخسار بهیگ چکے تهے...قرآن پاک کی تلاوت کے دوران بھی اس کے آنسو نہیں رکے...وہ رونا چاہتی تهی اارے آنسو ختم کرنا چاہتی تهی تا کہ اس سیلاب کو کوئی اور نہ دیکھ سکے...وہ کسی کے سامنے اپنا باطن نہیں ظاہر کرنا چاہتی تهی. ...
" اک نام ہے میرے دل میں جو _____
وہ ہے زندگی کسی اور کی _____
میری روح کا جو سکون تها ______
وہ ہے بندگی کسی اور کی _
دعا اس کے لیے ناشتہ لے آئی اس کا کچھ کهانے کا موڈ نہیں تها..وہ اب کافی حد تک نارمل ہو چکی تهی یا پھر شاید وہ دل کے حالات چهپانا سیکه چکی تهی..جو ہونا تها وہ ہو چکا تها جو قیامت اس پہ ٹوٹنی تهی وہ ٹوٹ چکی تهی..اب زندگی پہلے جیسی کهبی نہیں ہو سکتی ..فرشتے جنید اب پہلے جیسی کهبی نہیں ہو سکتی وہ انسانوں پر کهبی دوبارہ بهروسہ نہیں کر سکتی وہ دنیا پر بهروسہ کهو چکی تهی وہ محبت پر سے بهروسہ کهو چکی تهی. ..........
یہ گهر نہ تو اس کے لیے تها اور نہ ہی اس گهر میں اسے کوئی خوشی مل سکتی تهی..جس گهر میں اس کے باپ کی آہیں اور آنسو دفن ہوں اس گهر میں اسے خوشی کیسے مل سکتی ہے...یہ تو بابا جان کا گهر ہے ان کی ملکیت ہے. .اس ظالم وڈیرے کے سامنے وہ بے بس تهی ..جس نے کهبی اس کے باپ کو معاف نہیں کیا....محبت میں اس کے والدین نے ساری زندگی سزا پائی محبت ان کی زندگی کا سب سے بڑا گناہ بن گیا...یہی اس کے ساتھ ہوا.........
دعا کالج جانے کے لیے تیار کهڑی تهی اور اسے ہمیشہ خوش رہنے کی نصیحت کر رہی تهی..وہ دعا سے شرمندہ تهی جو ہوا اس میں دعا کا کوئی قصور نہیں تها کسی نے اس یہ زخم دیا تها...وہ تو بے قصور تهی بہت معصوم. .....وہ دعا کے لیے اپنے دل میں محبت محسوس کرنے لگی لیکن اچانک اس کے دل میں نفرت کی چنگاری پیدا ہو گئی .. ........
میری زندگی میں صرف ایک خوشی تها صرف ایک اپنا تها ایک ہی امید تهی وہ بھی تم نے چهین لی....
" اب میں کیسے خوش رہوں گی..کیونکہ کیا تم نے ایسا کیا تمہیں مجھ پہ ترس نہیں آیا دعا ..اس کے دل نے پکارا .."....وہ خالی برتن رکهنے کچن میں گئی کچن بھی اس کے دل کی طرح ویران تها .ایک ہی رات میں دنیا بدل گئی موسم بدل گئے رشتے بدل گئے....
پہلے اس نے زندگی میں کب خود کو اتنا تنہا اور مایوس پایا....
ماں کی موت پر ..ہاں...ماں کی موت پر لیکن آج وہ کیوں اداس تهی آج کس کی موت ہوئی ہے...پهر اسے یاد آیا جو تو اس کی محبت کا قتل کیا گیا..اس لیے وہ اتنی ویران اور ٹوٹی ہوئی ہے.......وہ کچن میں کهڑی اپنے دکهوں پہ ماتم کر رہی تهی جب آرب کچن میں داخل ہوا.....اور اس سے کافی بنانے کی فرمائش کر دی...وہ بڑے غور سے اس کے چہرے کو دیکهنے لگی جو فریج سے کچھ نکال رہا تها...... .ہمیشہ وہ اس شخص سے محبت کرتی آئی تهی لیکن اچانک اس کے دل میں اس شخص کے لیے نفرت پیدا ہو گئی .....
": کیوں آرب کیوں..."؟ کیوں اتنے سفاک اور ظالم بن گئے..کیوں مجھ سے میری خوشیاں میرے سپنے چهین لیے...کیا ملا تمہیں مجھ سے میرا سب کچھ چهین کر...اگر مجھ سے پیار نہیں کرتے تهے تو مجھے بتا دیتے ..میری خوشیاں میرے خواب اس طرح برباد تو نہ کرتے..".
" میں کسی غلط فہمی کسی امید پہ تو نہ رہتی..کوئی خواب تو نہ دیکهتی. ..نہ میں دل کو لگاتی نہ میرا اتنا نقصان ہوتا ....دیکهو آکر دیکهو میرے دل میں جهانک کر کتنا بڑا نقصان کر دیا تم نے .".....اس کا دل چاہا آرب کا گریبان پکڑ کر اس سے پوچهے کیوں کیا اس نے ایسا ..کیا ملا اسے یہ سب کر کے ....اس شخص کے چہرے پہ کوئی پچهتاوا کوئی ندامت نہیں تهی ..کیا اس شخص کے پاس دل بھی نہیں ہے. ..
" آپ کی آنکھوں کو کیا ہوا فرشتے جی."...
وہ چونک گئی وہ اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تها. . .
وہ اس سے کہنا چاہتی تهی یہ سب تمہارے ہی دیے ہوئے تحفے ہیں. .آنکهوں میں لالی دیکھ سکتے ہو وہ " محبت کیوں نہیں جو میں تم سے کرتی ہوں".....
کچھ نہیں شاید آنکهوں میں کچھ چلا گیا ہے ....
وہ نگاہیں چرا کر بتانے لگی.. آرب وہیں کهڑے ہو کر اسے کام کرتے ہوئے دیکهنے لگا.........
" چلے جاو آرب پلیز یہاں سے چلے جاو..میرے سامنے مت آو...مجھے اپنی شکل مت دکهاو ..جب تم میرے نہیں ہو تو میرے سامنے بهی مت آو.......تمہیں دیکھ کر میرے زخم تازہ ہو جاتے ہیں". ...
کافی میز پہ رکھ کر وہ تقریباً بهاگتی ہوئی وہاں سے چلی گئی........
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
وہ صبح سے کمرے میں قید تهی اس کا باہر جانے کو بالکل دل نہیں کر رہا تها. .وہ ڈر رہی تهی اگر باہر گئی تو آرب کا سامنا ہو جائے گا اور وہ اس کا سامنا بالکل بھی نہیں کرنا چاہتی تهی. ..وہ کیوں جاتی اس کے سامنے کس منہ سے جاتی وہ انسان اسے دهوکہ دے چکا تها .حبت کے سفر میں وہ اسے تنہا چهوڑ گیا اس نے ثابت کر دیا وہ چنگیز خان کا پوتا ہے...
اس چنگیز خان کو جو اس کے باپ سے ساری عمر نفرت کرتے رہے.....تو وہ بھی ان سے الگ کیوں ہوتا.....
دعا اس کے کمرے میں آئی وہ صوفے پہ سر ٹیک لگا کر سوچوں میں گم تهی..دعا نے چٹکی بجا کر اپنے آنے کی اطلاع دی وہ جهوٹے خوابوں اور خیالوں کی دنیا سے باہر نکل آئی....اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی دعا کے پاس باتیں کرنے کے لیے بہت سے ٹاپک تهے...اس نے غور سے دعا کے چہرے کو دیکها جس پہ صرف خوش تهی اور کوئی رنگ نہیں تها...کتنی خوش تهی وہ اس انسان کو پا کر تو کوئی بھی خوش ہو سکتا ہے..وہ انسان تو کسی کے بھی خوابوں کا شہزادہ ہو سکتا ہے..تو دعا خوش کیوں نہیں ہوتی بهلا.......
وہ بس خاموشی سے دعا کو دیکھ رہی تھی اسے دعا کی قسمت پہ رشک آیا..اور وہیں دعا کے سامنے بیٹھ کر دعا سے باتیں کرتے ہوئے اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ دعا سے حسد کرنے لگی تهی........
" اللہ میاں. .میں بہت جوش ہوں فرشتے...آرب مجهے مل گیا...تمہیں پتا ہے وہ مجهے بچپن سے ہی اچها لگتا تھا. .اسے تو میں نے بچپن سے ہی اپنا تسلیم کر لیا تها...وہ بہت اچها ہے...ہم دونوں لڑتے جھگڑتے ہیں لیکن وہ مجهے بہت پسند ہے میں نے آج تک یہ بات کسی کو نہیں بتائی صرف تمہیں بتا رہی ہوں فرشتے."...
" ہاں وہ اچها ہے دعا ..بہت اچها ہے..لیکن وہ میرا نہیں تمہارا ہے..جو چیز میرا ہے ہی نہیں اس کے بارے میں کیوں سوچوں ..اس کی باتیں کیوں سنوں." .
" خدا کے لیے دعا چپ ہو جاو ..پلیز میرے سامنے اس انسان کا نام مت لو..:"..........
وہ بس دعا کے ہونٹوں پہ پهیلی مسکراہٹ کو دیکهتی رہ گئی.
" فرشتے بچپن میں جب بابا جان کہتے تھے تمہاری شادی آرب سے کریں گے تب میں بہت غصہ کرتی تهی اور بابا جان سے بہت ناراض ہوتی تهی..لیکن نہ تو اب بچپن رہا اور نہ ہی وہ بچپنا...اب میں بڑی ہو گئی ہوں رشتے سمجھ چکی ہوں....اور مجھے یقین ہے آرب سے بیسٹ میرے لیے کوئی ہو ہی نہیں سکتا. ..".......
" دعا...آرب مجھے دے دو...پلیز آرب مجھے دے دو..میرے پاس آرب کے علاوہ کوئی نہیں ہے میری زندگی میں یہی ایک رشتہ ہے...اس ایک رشتے کو مجھ سے مت چهینو ..میری زندگی میرے خواب مجھ سے مت چهینو....میرا آرب مجھ سے مت چهینو.".....
" تمہارے پاس تمہاری ماں ہے...بابا جان ہیں...جبکہ میرے پاس صرف آرب ہے..ایک آرب...وہ آرب مجھے دے دو...میرا آرب مجھے دے دو."....
اس کا دل چاہا ایک بار جهنجوڑ کر دعا سے یہ سب کہے...مگر اس کی زبان پہ تالے پڑ چکے تهے...
تهوڑی دیر میں نجمہ ان دونوں کے لیے کهانا اوپر لے آئی شاید دعا نے آتے وقت آرڈر دیا تها...اسے بهوک کا شدت سے احساس ہو..جانے وہ کب سے بهوکی تهی..اب ساری زندگی بهوکی تو نہیں رہ سکتی تهی اور نہ ہی اس نہ ملنے والی محبت کا روگ منا سکتی تهی...جب اسے کوئی پرواہ نہیں تهی تو وہ کیوں اتنا سوچتی. ....
وہ بڑی رغبت سے کهانا کهانے لگی. .لیکن کهانا کهاتے وقت اسے احساس ہوا وہ ذائقہ بالکل بھی نہیں محسوس کر پا رہی...اس خواب کیا ٹوٹے جیسے ساری دنیا ہی ٹوٹ گئی..سب ختم ہو گیا......
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
جاری ہے


07/10/2025

ناول : ☆ دھڑکن ☆
قسط .................10

فرشتے کچھ دن سے اداس رہنے لگی تهی ..اور اس اداسی کا سبب دعا جانتی تهی اس کی ماں نے اس رات جو باتیں اس کے ساتھ کیں تهیں اس کے بعد سے وہ اداس رہنے لگی ہے.وہ ہمیشہ سوچتی...امی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہوا اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں تها وہ قسمت کا ایک فیصلہ تها اور اگر ان سب میں کسی کا قصور تها بھی تو فرشتے کا کوئی قصور نہیں تها وہ تو معصوم تهی اسے تو کچھ پتا بھی نہیں. ..وہ تو برسوں پہلے والی سچائی سے انجان تهی...وہ تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئی تهی جب رشتوں کی پامالی ہوئی تهی...
" لیکن امی بھی غلط نہیں ہیں وہ بدل سے مجبور ہیں جس عورت سے وہ ساری زندگی نفرت کرتی آئی ہوں اچانک اس کی بیٹی سامنے آ جائے تو بہت تکلیف ہوتی ہوگی انہیں. ...ان کا ہر پرانا زخم تازہ ہو جاتا ہے...پتا نہیں جو ہوا اس میں کس کا قصور تها کون غلط تها...لیکن جو ہوا وہ اچها نہیں ہوا...".اس طوفان نے کئی خونی رشتوں کو اپنی زد میں لے لیا...
" کیا ایسا نہیں ہو سکتا سب ٹهیک ہو جائے بابا جان اور اس کی امی فرشتے کو قبول کر لیں تب شاید سب مکمل ہو جائے"...یہ دوریاں ختم ہو جائیں...
" تم اتنی اداس کیوں ہو فرشتے امی کی باتوں کا برا مت مناو پلیز. ".....ایک دن دعا نے فرشتے سے پوچھ ہی لیا وہ اس کی یہ حالت مزید نہیں دیکھ پا رہی تهی. .
"دعا ...میں واپس جانا چاہتی ہوں...میں یہاں نہیں رہ سکتی. ."...اس نے بھی صاف صاف اپنے دل کی بات دعا سے کہہ دی......
دعا تو یہ سن کر ساکت ہو گئی...وہ اس کے دور جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تهی..ان کچھ دنوں میں فرشتے اس کے اتنے قریب آ چکی تهی کہ وہ چاہ کر بھی اسے خود سے دور نہیں کر سکتی تهی...وہ سمجھ نہیں پا رہی تهی اپنی چهوٹی بہن کو کیسے دلاسہ دے........
"یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو فرشتے...کیا تم ہم سب کو چهوڑ کر جانا چاہتی ہو...یہ سب تمارے اپنے ہیں کهبی نہ کهبی سب تمہیں اپنا لیں گے...دیکهنا ایک نہ ایک دن تم سب کا دل جیت لو گی....مجھے تو تمہاری عادت ہو گئی ہے میں تو ایک پل بھی تم بن نہیں رہ سکتی ."....دعا نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بڑے پیار سے اسے سمجهایا....وہ بس خاموش چہرے کے ساتھ دعا کو دیکهتی رہی. ..وہ جانتی تھی کچھ ٹهیک نہیں ہوگا...کچھ بھی نہیں بدلے گا........
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
" آج کالج سے چهٹی کے بعد ہم لنچ باہر کریں گے او کے تیار رہنا"....دعا حسبِ معمول کالج جانے کے لیے تیار تهی اور جاتے جاتے اسے آج کے پلان سے بھی آگاہ کر رہی تهی.......
دعا کے جانے کے بعد اس کا کمرے میں بالکل بھی دل نہیں لگا. .کچھ پڑهنے یا ٹی وی دیکهنے کا بھی موڈ نہیں تها...وہ کمرے کا دروازہ کهول کر باہر نکلی اس کے قدم آرب کے کمرے کی طرف تهے...وہ خود بھی نہیں جانتی تهی وہ وہاں کیا کرنے جا رہی ہے...
آرب کے کمرے میں پہنچ کر وہ والہانہ انداز میں اس کی تصویریں دیکهنی لگی. ..آرب اس وقت آفس میں ہوگا اس لیے اس کوئی ٹینشن نہیں تهی....یہ پیار بھی عجیب چیز ہے اچانک سب کچھ اچها لگنے لگتا ہے ہر جزبہ ہر احساس ہر شے...اور جس سے پیار ہوتا ہے اس کا سب کچھ اچها لگنے لگتی ہے...اس کے وجود سے منسلک تمام چیزیں. ........
پتا نہیں جس سے وہ محبت کرتی ہے کیا وہ بھی اس سے محبت کرتا ہے...محبت تو وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ چکی ہے اگر وہ محبت کرتا ہے تو اظہار کیوں نہیں کرتا کب کرے گا وہ اظہار. ......
" بس ایک بار آرب مجھے مل جائے وہ میرا ہاتھ تهام لے ..پهر مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں وہ لوگ جتنی نفرت کرتے ہیں کرتے رہیں مجھ سے."..آرب تو اس کے ساتھ ہوگا ناں اس کی محبت تو ہوگی ناں اس کے پاس. ..اس کے لیے وہ محبت ہی کافی ہے...ان لوگوں کی نفرت وہ کهبی بهی ختم نہیں کر پائے گی...بابا جان جیسے ضدی انسان سے جیتنا آسان نہیں. .انہوں نے اپنے سگے بیٹے کو کهبی معاف نہیں کیا...وہ اس سے آج بھی نفرت کرتے ہیں. .اس کے مرنے کے بعد بھی. .کوئی ایسا پتهر دل کیسے ہو سکتا ہے.....وہ دل ہی دل میں آرب کی تصویر سے مخاطب تهی.......
دعا چهٹی کے بعد سیدهی اس کے کمرے میں آئی جہاں وہ بیڈ پہ لیٹی تهی. ..دعا اسے صبح والا وعدہ یاد دلانے آئی...وعدے کے مطابق اسے دعا اور آرب کے ساتھ لنچ پہ چلنا تها...وہ جانا نہیں چاہتی تهی لیکن دعا کے جوش و خروش کے سامنے کچھ کہہ نہ سکی...وہ بنا چینج کیے اور بنا ہاتھ منہ دهوئے دعا کے ساتھ چلتی ہوئی پورچ تک آئی....جہاں آرب ان کے انتظار میں بیٹها تها.....فرشتے کو آرب کے چہرے پہ ایک عجیب اداسی نظر آئی لیکن وہ وجہ نہیں سمجھ سکی...ایسا لگتا تھا وہ لنچ پہ زبردستی باہر جا رہا ہے....
کهانے کے دوران وہ خاموشی سے کهانا کهاتی ہوئی آرب کا جائزہ بھی لے رہی تهی وہ بھی خاموش تها وہ ہمیشہ کی طرح دعا کے ساتھ چهیڑ خانی اور باتیں نہیں کر رہا تها....شاید اسے آفس کی کوئی پریشانی ہو اس نے دل ہی دل میں اندازہ لگایا......اس وہاں کچھ بھی اچها نہیں لگ رہا تها وہاں کا کهانا وہاں کے لوگ .....جب انسان کا موڈ خراب ہو تو اچهی سے اچهی جگہ بھی اس کا موڈ درست کرنے میں ناکام رہتی ہے....جبکہ دعا ان دونوں کے برعکس اپنی ہی دهن میں باتیں کرتی رہی......
کهانا کها کر وہ لوگ جلدی ہی واپس آ گئے...وہ سیدھا اپنے کمرے میں گهس گئی........
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
کتنی سوچیں کتنی یادیں اس کے اور نیند کے درمیان حائل تهیں..وہ اپنے کمرے میں لیٹی چهت کو گهور رہی تهی آنکهیں ویران تهیں..سکون تو ان میں کہیں نہیں تها..اس کی امی اس کے ابو اسے شدت سے یاد آ رہے تهے...کتنی اجنبی تهی وہ اس گهر میں سب اپنوں کے ہوتے ہوئے وہ سب سے کتنی دور تهی...سب تهے مگر کوئی نہیں تها...پهر اچانک اس کے ڈسٹرب ذہن میں آرب کا خیال آیا ..یہی ایک خیال ہی اسے سکون پہنچا سکتا تها ..اس وقت وہ ہر دکھ ہر غم بهلا کر صرف اور صرف آرب کے بارے میں سوچ رہی تهی...........
" آپ نے جب میرا کلاک توڑا تو یہ بات میرے سامنے بهی کہہ سکتی تهیں..میں کوئی شوٹ تهوڑی کرتا آپ کو."..
" اگر کسی سے محبت ہو جائے تو اظہار کیسے کرنا چاہیے. ."
" اب اگر تم نے ہاتھ کهینچا تو تمہیں شوٹ کر دوں گا"...
اس کے لبوں پہ خود بخود مسکراہٹ آئی یہ محبت بھی کیا چیز ہے دل میں سکون نہ ہو آنکهوں میں نیند نہ ہو پھر بھی ہونٹ مسکراتے ہیں. .اب نیند اس کی آنکھوں سے زیادہ دور نہیں تهی......
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
اتور کا دن تها وہ حسبِ معمول اپنے مقررہ وقت پہ اٹهی. .نماز ادا کرنے کے بعد زرا دیر قرآن پاک کی تلاوت کی ...صبح کی ہلکی ہلکی روشنی ہر طرف پهیل رہی تهی...تهوڑی دیر میں ہی نجمہ اس کے لیے ناشتہ کے آئی...اتوار کے علاوہ باقی دنوں ناشتہ دعا لاتی تهی لیکن اتوار چونکہ چهٹی کا دن تها اس لیے وہ گیارہ بجے تک گهوڑے اونٹ سب بیچ کر سوتی..وہ آہستہ آہستہ ناشتہ کرنے لگی....دستک دے کر آرب اندر آیا...وہ اتنی جلدی آیا کہ وہ بوکهلا کر اپنا دوپٹہ درست کرتی کهڑی ہو گئی......
" Sorry..."
" وہ مجھے لگا دعا شاید آپ کے پاس ہو گی....اتنا کہہ کر وہ واپس پلٹ گیا.".اس کا لہجہ حد سے زیادہ سنجیدہ اور اجنبی تها...وہ حیران رہ گئی....اس نے کهبی اسے اتنا سنجیدہ نہیں دیکها وہ شاید پہلی بار اتنا سنجیدہ تها اور اس کے چہرے پہ دکھ کے آثار بھی تهے....
حیرانی میں اس کی بهوک بھی مٹ گئی وہ سارے برتن سمیٹ کر کچن میں چلی گئی جہاں رخشندہ دعا کے لیے ناشتہ بنا رہی تهیں اسے کچن میں آتا دیکھ کر وہ وہاں سے چلی گئیں. .ایسا ہمیشہ ہوتا تها جہاں رخشندہ ہوتی اور وہ بھی وہاں جاتی تو وہ ایک پل بھی ضائع کیے بنا وہاں سے چلی جاتیں...اس لیے وہ زیادہ خود بھی ان کے سامنے نہیں جاتی.........
وہ ابهی کچن میں ہی تهی کہ دعا بھی وہاں آ گئی اور نجمہ سے ناشتے کے بارے میں پوچهنے لگی. .ایسا لگا محترمہ بنا ہاتھ منہ دهوئے ہی آ گئیں...فرشتے کی تو اسے دیکھ کر ہنسی چهوٹ گئی....وہ فرشتے کے ہنسنے پہ اپنے حلیے پہ غور کرنے لگی. ..اور شرمندہ ہوتی کچن سے ایک پل میں ہی نکل گئی....
# # # # # # # # # # # # # # # #
وہ دعا کے ساتھ لان میں آ گئی...جہاں بابا جان اور آرب شطرنج کی بازی لگائے ہوئے تهے..چچا ان کے پاس دوسری کرسی پہ بیٹهے اخبار پڑھ رہے تهے ..انہیں ان دونوں کے کهیل میں کوئی دلچسپی نہیں تهی...سردیوں کی ہلکی دهوپ بہت لطف دے رہی تهی...دعا اسے لے کر بالکل بابا جان اور آرب کی کرسی کے پاس لے گئی...بابا کے چہرے پہ یک دم سنجیدگی آ گئی اور آرب بهی سنجیدہ ہو گیا وہ دعا کی سنجیدگی پہ حیران نہیں تهی اسے آرب کی سنجیدگی حیران کر رہی تهی.....
دعا ہمیشہ کی طرح بابا جان کو سپورٹ کر رہے تهے اور آرب کو منہ سے چڑا رہے تهے...دعا کے سپورٹ کو دیکھ کر بابا جان کے جوش میں مزید اضافہ ہو گیا جبکہ وہ بظاہر اس گیم سے لاتعلق تهی لیکن دل ہی دل میں آرب کو سپورٹ کر رہی تهی اور وہ جانتی تهی وہی جیتے گا کیونکہ اکثر شطرنج میں وہی جیتتا تها...اس نے محسوس کیا آرب کی دلچسپی کهیل میں نہ ہونے کے برابر ہے ایسا لگ رہا تها جیسے وہ زبردستی کهیل رہا ہو..........وہ بغور آرب کے چہرے کو دیکھ رہی تھی. ..دعا نے اچانک ایک زور دار چیخ مار ..تب اسے پتا چلا بابا جان جیت چکے ہیں اور آرب ہار گیا...وہ حیران ہوئی ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ تو ہمیشہ سے جیتتا رہا ہے اور آج بھی وہ آسانی سے جیت سکتا تها تو پھر وہ کیوں ہارا.....کس لیے. ...
اس رات ستارے بادلوں نے بالکل چهپا رکهے تهے. .ٹهنڈی ٹهنڈی ہوا چل رہی تهی. .بارش اسے ہمیشہ سے پسند تهی وہ کهڑکهی کهولے بارش اور ہواؤں کا کهیل دیکھ رہی تهی..کهبی کهبی جب بجلی چمکتی تو زمین پہ روشنی پهیل جاتی ..وہ اس نظارے سے خوب لطف اندوز ہو رہی تهی اتنی سردی میں اچانک اسے چائے کی طلب محسوس ہوئی اس لیے وہ کمرے سے باہر نکل آئی ....آج ڈنر کے بعد سے اس نے دعا کو بالکل بھی نہیں دیکها...شاید وہ کمرے میں اپنا ڈرامہ دیکهنے میں مصروف ہو گی ..اسے کسی کی باتیں کرنے کی آوازیں آئی..سیڑھیوں پر پہنچ کر اس نے دیکها سارے گهر والے صوفوں پہ بیٹھ کر چائے بھی پی رہی ہیں اور سنجیدگی سے کسی معاملے پہ بات بھی کر رہے ہیں. ...دعا وہاں موجود نہ تهی اس نے نیچے جانے کا ارادہ ترک کر دیا سب کے سامنے سے ہوتی ہوئی وہ کیسے کچن میں جا سکتی تهی...وہ واپس جانے کے لیے پلٹ ہی رہی تهی کہ آرب کی آواز پہ اس کے قدم رک گئے....... ....
" تو آپ لوگ چاہتے ہیں میں شادی کرلوں....اور آپ کو اپنی پسند بتاوں."....
اس کی دهڑکن بے ترتیب ہونے لگی. ..شرم کے مارے اس کی نگاہیں جهک گئیں..ایک دلکش مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چهو کر نکل گئی.....وہ انتظار میں تهی کہ کب آرب کہ منہ سے اس کا نام ادا ہو گا...بے ساختہ اس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکها. ..... .
" میں دعا سے شادی کرنا چاہتا ہوں بابا جان.."...اسے آرب کی آواز سنائی دی.....
اس کی مسکراہٹ اچانک غائب ہو گئی..نہیں. .نہیں. .نہیں. ..اس نے ضرور غلط سنا ہوگا...آرب نے دعا نہیں فرشتے کہا ہوگا ..ضرور اس کے سماعتوں نے اسے دهوکہ دیا ہوگا...وہ دل کو سمجهانے لگی ....
"ارے واہ...آرب تم نے تو میرے دل کی بات چهین لی ہمیشہ سے میری خواہش رہی تهی کہ دعا کو تمہاری دلہن کے روپ میں دیکهوں."....بابا جان کی آواز آئی....
اب اسے سننے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی...اچانک اس کی دهڑکن رکنے لگی. ..اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تهی...جسم سے سارے خون ایک پل میں خشک ہو گیا....وہ گرنے والے انداز میں سیڑھیوں پر بیٹھ گئی اگر اس وقت وہ سیڑھیوں کا سہارا نہ لیتی تب شاید لڑهکتی ہوئی نیچے گر جاتی...آرب اور بھی کچھ کہہ رہا تها لیکن اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تها ہر آواز بند ہو چکی تهی....وہ تو صرف ایک آواز سن رہی تهی....
"میں دعا سے شادی کرنا چاہتا ہوں". ....
باہر تیز بجلی کڑکی اچانک اس نے وہ بجلی خود پہ گرتی محسوس کی.......
جاری ہے____

07/10/2025

بسم اللہ الرحمن الرحیم__
☆ دهڑکن

_قسط 9۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر ناصر حسین
کہتے ہیں والدین اپنے سبهی اولاد سے ایک جتنا پیار کرتے ہیں. .ان کی محبت ہر بچے کے لیے مختلف نہیں ہوتی.. لیکن بچوں کی محبت اور ان میں موجود اچهائیاں والدین کو ہر بچے میں فرق کرنے پہ مجبور کر دیتے ہیں. .چنگیز خان (بابا جان) بھی ایک ایسے ہی باپ تهے..ان کے دو بیٹے تهے جنید چنگیز خان اور جمشید چنگیز خان. ..جمشید ان کا بڑا بیٹا تها جنید چهوٹا تها لیکن صرف عمر کے انداز سے.........
باقی وہ ہر کام ہر میدان میں جمشید خان سے آگے تها.جمیشد خان بچپن سے ہی لاپرواہ اور غیر سنجیدہ واقع ہوا ہے..چاہے وہ پڑهائی ہو چاہے والدین کی محبت. ..
جنید جمشید کی نسبت کہیں زیادہ مچیور اور سنجیدہ مزاج تها..وہ اپنے والدین سے جان سے زیادہ محبت کرتا تها..اور بابا جان بهی جنید پہ جان چهڑکتے تهے وہ انہیں اپنا بازو اپنا آسرا اور آخری عمر کی لاٹھی سمجهتے تهے..جنید زندگی کے ہر میدان میں ان کی امیدوں پر پورا اتر رہا تها ..سکول سے لے کر کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک وہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے بابا جان کے دل میں ایک خاص جگہ بنا گیا وہ..اس کے پڑھنے کا انداز اس کے بولنے کا انداز اس کا اخلاق سب سے منفرد تها.وہ عام بچوں جیسا نہیں تها وہ چهوٹی عمر میں ہی حد سے زیادہ مچیور تها...اس لیے وہ بابا جان کا غرور ان کا سب سے پیارا بیٹا تها..اب ایسا نہیں تها وہ جمشید سے بالکل نفرت کرتے تهے وہ بھی ان کا ہی بیٹا تها ان کا خون وہ اس سے بھی پئار کرتے تھے لیکن ان کے دل میں ایک فرق ضرور تها وہ محبت میں فرق ضرور کرتے تهے...اور یہی حال اماں جی ( جنید کی ماں ) کا بهی تها وہ بھی بابا جان کی طرح جنید سے ہی پیار کرتی تهیں. ......
جب اولاد جوان ہوتی ہے تو والدین کو ان کی شادی کی فکر پڑ جاتی ہے جمشید کی تو خیر بچپن سے ہی بات طے تهی اس کی فکر نہیں تهی بابا جان کو...انہیں تو اپنے لاڈلے جنید کی فکر کهائے جا رہی تهی..وہ اس کے لیے سب سے منفرد سب سے الگ لڑکی لانا چاہتے تھے لیکن ہوتا وہی ہے جو قسمت کو منظور ہوتا ہے....
رخشندہ ان کے بڑے بھائی کی اکلوتی بیٹی تهی اور بابا جان کو رخشندہ ہمیشہ سے عزیز تهی وہ شریف سادہ لڑکی بچپن سے ہی ان کے دل میں گهر کر گئی البتہ انہوں نے جنید اور رخشندہ کی شادی کے بارے میں کهبی نہیں سوچا...کیونکہ رخشندہ معمولی صورت رکهنے والی ایک عام سی لڑکی تهی ..جنید کے مقابلے میں وہ کچھ بھی نہیں تهی...بابا جان کے بڑے بهائی کو کینسر تها اور انہیں صرف اپنے بیٹی کی فکر تهی ان کا کینسر آخری سٹیج پر تها زندگی کی ڈور کهبی بهی ٹوٹ سکتی تهی...
ان کی زندگی کی ہر آس ہر امید ختم ہو چکی تهی ڈاکٹرز جواب دے چکے تهے ..وہ ابدی نیند سونے سے پہلے اپنی رخشندہ کو سہارا دینا چاہتے تھے .اسی طرح ایک رات انہوں نے بابا جان کو اپنے پاس بلا کر ان سے ان کا سب سے قیمتی بیٹا ان کی سب سے قیمتی متا ان کا بیٹا مانگ لیا. .وہ ہاتھ جوڑ کر بابا جان سے اپنی بیٹی کی خوشیاں مانگ رہا تھا. ..اور وہ جو اپنے بڑے بهائی کو جان سے زیادہ عزیز سمجهتے تهے وہ بهلا کیسے انکار کر سکتے تهے..انکار کا تو کوئی سوال ہی نہیں تها انہوں نے بنا ایک پل بھی سوچے اپنا بیٹا اپنا جنید ان کے حوالے کر دیا......
جب جنید کو بابا جان نے یہ خبر سنائی تو وہ گہرے صدمے سے دو چار ہوا..انہیں ایسی کوئی امید نہیں تهی..اس کی اپنی زندگی میں بھی کچھ خواب تهے کچھ خواہشیں تهیں اس کی...لیکن بابا جان اور چاچا جان کی اس آخری خواہش کے سامنے ان کی ہر امید دم توڑ گئی...وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تها بابا جان اپنے بهائی سے وعدہ کر چکے تهے...چاچا جی کے سامنے ہی جنید اور رخشندہ کا نکاح کیا گیا ..اس دن چاچا جان اور بابا جان دونوں بهائی حد سے زیادہ خوش تهے لیکن اس کی خوشی اسی دن سے ہی ختم ہو گئی...وہ جو چاہتا تها اور جسے چاہتا تها وہ اسے نہیں ملی......پهر ایک اداس صبح چاچا جان اس فانی دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے اور رخشندہ اس کی بیوی کے طور پر اس کے گهر میں آگئی...رخشندہ اس رشتے سے بہت خوش تهی..وہ ہر طرح سے بیوی کا فرض نبها رہی تهی لیکن شاید کهبی بهی وہ جنید کے دل میں جگہ نہیں بنا پائی...وہ جنید کے دل کو نہ جیت سکی...اور کیسے جیت سکتی تهی وہ اس کے دل کو جبکہ اس کے دل میں تو کوئی اور تهی..
جنید عروشہ سے پیار کرتا تها اس نکاح سے بھی پہلے. .یہ نکاح اس نے صرف بابا جان کے احترام میں کیا..وہ ان کے سر جهکانا نہیں چاہتا تها اپنے بهائی کے سامنے...یہ حقیقت جب اب پہ کهلی تو سب غمزدہ ہو گئے..اتنی بڑی بات کا سامنے کرنے کی ہمت کسی میں نہیں تهی..رخشندہ تو ٹوٹ ہی گئی..وہ کهبی یہ برداشت نہیں کر سکتی تهی کہ اس کا شوہر اس کا ہم سفر اس کی زندگی کا ساتهی کسی اور سے پیار کرے...کوئی بھی بیوی یہ برداشت نہیں کر سکتی..لیکن رخشندہ بہت صابر و شاکر عورت تهیں وہ سب کچھ سہہ رہی تهیں..اس نے کهبی بهی اپنے دل کی حاکت کس کے سامنے ظاہر نہیں کی...لیکن بابا جان ازلی چہرہ شناس کیا اپنی بهتیجی کے چہرے پہ دکھ کا سایا نہیں دیکھ سکتے تھے. ..انہوں نے جنید کو سخت الفاظ میں وارننگ دی ...
" جو ہونا تها وہ ہو گیا..اب وہ اس لڑکی کو بهول جائے."...
بابا جان نے تو کہہ دیا لیکن یہ کیسے ممکن تها وہ اپنی محبت کو بهول جاتا ..اس کے لیے تو یہ ناممکن بات تهی اور عروشہ بھی تو جان سے بڑھ کر چاہتی تهی جنید کو ...وہ اس سے کیا ہوا ہر وعدہ کیسے توڑ سکتا تها...جنید تو عروشہ کو کهبی بهلا ہی نہیں پایا تها..وہ اپنی محبت کو کهونے کی طاقت ہر گز نہیں رکهتا تها..ایک رات اس نے ہمت کر کے بابا جان سے اپنے اور عروشہ کے رشتے کی بات کر دی..بابا جان شاکڈ بھی تهے اور غصے میں بهی تهے..وہ جنید سے ایسی بے وقوفی کی امید ہر گز نہیں کر رہے تهے اگر پہلے کهبی وہ کچھ ایسا سوچ بھی لیتے تو اب کم از کم یہ نا ممکن تها...رخشندہ کے پیٹ میں جنید کا دوسرا روپ پل رہا تها..اس کی ذمہ داری بھی جنید پر تهی..
زندگی میں بعض دفعہ سنجیدہ ہونا پڑتا ہے. .ہم جوانی میں بچپن نہیں گزار سکتے..اور صرف محبت ہی سب کچھ نہیں ہوتی..زندگی میں انسان کو ہر چیز نہیں ملتی انسان کی ہر خواہش پوری نہیں ہوتی .تو انسان کو ضد اور غصے کی بجائے صبر سے کام لینا چاہیے. .ہو سکتا ہے آج تمہیں تمارا یہ بچپنا سہی لگے مگر زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پہ تم پچهتاو گے ضرور. .جنید کے فیصلے پہ بابا جان نے بڑے تحمل سے اسے سمجهایا...
وہ بابا جان کی بات سمجھ گیا یا نہیں لیکن اس نے مزید بحث نہیں کی..جنید اب رخشندہ سے نفرت کرنے لگا تھا. .اس لڑکی کی وجہ سے اس کی زندگی طوفان کی زد میں آ گئی..وہ اسے کیسے معاف کر سکتا تها......
رخشندہ جنید کی نفرت برداشت نہ کر سکی اس لیے ایک دن سب سے چهپتے چهپاتے وہ عروشہ سے ملنے چلی گئی...
" آپ تو جوان ہیں خوبصورت ہیں آپ کو تو کوئی بھی مل سکتا ہے. .مجھ سے میرا شوہر مت چهینو...میری بنی بنائی گرہستی مت اجاڑنا..میں تم سے اپنے گهر کے لیے اپنے ہونے والے بچے کے لیے بهیک مانگ رہی ہوں...ایک عورت ہی دوسری عورت کا درد سمجھ سکتی ہے...خدا کے لیے میرے ساتھ ایسا مت کرنا..".وہ رو رو کر عروشہ سے التجا کرنے لگی.....
عروشہ سے ملنے کے بعد اس کے سر سے بہت بڑا بوجھ اتر گیا تها وہ پر سکون ہو کر دوبارہ اپنی زندگی میں مصروف ہو گئی اور اپنے ننھے وجود کے بارے میں سوچنے لگی جو کچھ ہی دونوں میں اس کے گهر میں آ سکتا تها یا آ سکتی تهی...جنید کے رویے میں البتہ کوئی کمی نہیں آئی اس کا رویہ رخشندہ کے ساتھ پہلے جیسا تها.....
تین مہینوں تک اس موضوع پی دوبارہ کهبی کوئی بات نہیں ہوئی رخشندہ کے ساتھ ساتھ بابا جان اور اماں جی بهی مطمئن ہو گئیں تهیں..اس دوران جمشید خان کی بهی شادی ہو گئی...اور جنید کی ایک ننهی گڑیا بھی اس گهر میں آ چکی تهی .....
اس شام موسم بہت خوبصورت تها لیکن خوبصورت موسم بھی اکثر اپنے اندر بہت بڑے طوفان لیے ہوئے ہوتے ہیں. .سورج کو بادلوں نے چهپا رکها تها ہوا تیز تیز چل رہی تهی...آسمانی بجلی زمین پہ ایک عجیب چمک پیدا کر رہی تهی ایسا لگتا یہ بجلی زمین پر گر کر سب کچھ تباہ کر دے گی.....
گهر کے سبهی افراد اتنی سرد شام پکوڑے کهانے میں مصروف تهے اور ساتھ ہی ہلکی ہلکی گفتگو بھی کر رہے تهے...اچانک چرچراہٹ سے وہ لڑکی کا بڑا دروازہ کهلا سب کی نگاہیں دروازے کی طرف گهوم گئیں...جنید گلے میں پهولوں کا ہار ڈالے اندر داخل ہوا. ..سب کے سب حیرت سے کهڑے ہو گئے وہ جنید کو دیکھ کر حیران نہیں تهے جنید کے پیچھے جو لڑکی کهڑی تهی جس نے عروسی لباس پہنا تها وہی لڑکی انہیں حیرت کے ساتھ ساتھ صدمے میں بھی مبتلا کر رہی تهی....وہ عروشہ تهی...جو جنید کے برابر کهڑی تهی...سب پہ آسمان گر گیا ..کسی کو بھی سمجهنے میں دیر نہ لگی جنید عروشہ سے شادی کر چکا ہے..آج کی شام وہ طوفانی بجلی رخشندہ پہ گری وہ نڈهال ہو کر صوفے پہ گر گئیں...
بابا جان بهی اس دن ٹوٹ کر بکھر گئے اچانک جیسے زمین و آسمان ختم ہو گیا..ان کا سب کچھ ختم ہو گیا..وہ اپنے پیارے لاڈلے بیٹے کا یہ روپ کیسے دیکھ سکتے تهے...ان کا وہ بهروسہ ان کا اعتماد جو انہیں جنید پر تها ایک پل میں سب کچھ ختم ہو گیا..ان کا وہ جان سے زیادہ عزیز بیٹا ان کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے ان کے لیے یقین کرنا مشکل ہو گیا.......
وہ جیسے بے جان ہو کر فرش پر گر گئے...جنید بهاگتے ہوئے ان کے پاس آیا اور ان کے قدم پکڑ کر روتے ہوئے ان سے التجا کرنے لگا...
" بابا جان پلیز مجھے معاف کر دیں اور اس رشتے کو قبول کر لیں "..انہوں نے ایک نظر اپنے بیٹے کو دیکها.. ان کا وہ بیٹا تھا جس سے انہوں نے زندگی میں سب سے پیار کیا..اس کی جگہ ان کے دل میں کهبی کوئی نہیں لے سکا انہوں نے اپنے اس بیٹے کو دل کے سب سے اونچے درجے پہ بٹها رکها تها جہاں ہر محبت ہر رشتے کی رسائی نہ تو کهبی تهی اور نہ ہی ہو سکتی تهی..لیکن اس نے خود کو ان کی نظروں سے نیچے گرا دیا ایک پل میں سب ختم کر دیا اس نے....
وہ بچہ جسے انہوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکهایا تها وہ بہت بڑا ہو گیا اتنا بڑا کہ اس نے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے شروع کر دیے...جسے بابا جان کے فیصلے غلط لگنے لگے...جب کوئی کس انسان کو سب سے زیادہ چاہتا ہے جس پہ وہ سب سے زیادہ بهروسہ کرتا ہے جب وہی اس کا مان توڑ جائے تو صرف مان بهروسہ ہی نہیں وہ انسان بھی ٹوٹ جاتا ہے......
بابا جان نے آہستہ سے اپنے پاوں اس کی گرفت سے چهڑائے اور کهڑے ہو گئے...ایک مضبوط انسان کی طرح. .....
" تم نے اپنی مرضی کی تم جو چاہتے تو وہ ہو گیا...تماری ہر خواہش پوری ہو گئی..تمارے سامنے انتخاب رکها گیا تها والدین اور اپنی محبت کے درمیاں فیصلہ کرنے کا..اور تم نے اپنا فیصلہ کر لیا ...اب اگر ہو سکے تو زندگی میں مجھے دوبارہ کهبی اپنی شکل مت دکهانا....یہ اس گهر میں تمارا آخری دن ہے..ہمارا ہر رشتہ ٹوٹ چکا ہے.....بهول جاو کہ کهبی تمارا اس حویلی سے کوئی رشتہ تها...ہر رشتہ تم نے خود ختم کر دیا.... اس حویلی کے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں. ..تم جانتے ہو ہم ہر فیصلہ آخری کرتے ہیں یہ بھی ہمارا آخری فیصلہ ہے جو مرتے دم تک نہیں بدلے گا..چلے جاو یہاں سے.."....بابا جان نے لرزتے ہاتهوں اور کانپتی زبان سے اپنا فیصلہ سنا دیا...اور سیڑھیوں پر چڑھ کر اوپر جانے لگے....یہ فیصلہ تها یا خنجر جو بابا جان اس کے سینے میں گهوپ کر چلے گئے...وہ بابا جان کو آوازیں دیتا رہا روتا رہا مگر بابا جان کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تها...ایسے کیسے ہو سکتا تها وہ بابا جان کے بنا کیسے جی سکتا تها....وہ سمجھ نہیں سکا اس نے کیا پایا ہے اور کیا کهویا ہے....ایک محبت پا کر اس نے کئی محبتیں کهو دیں...کیا محبت اتنا بڑا جرم ہے جس کی اتنی بڑی سزا ملی اسے....اسے صرف محبت نہیں چاہیے تهی اس محبت کا ساتھ ہر رشتہ چاہیے تها..جان سے زیادہ بابا جان کو کهونے کی ہمت نہیں تهی اس میں لیکن فیصلہ ہو چکا تها.....رشتوں کے خون کا دن تها وہ جہاں سب سے بڑے رشتوں کا خون ہو گیا....جنازہ اٹها کئی رشوں کا...ماں باپ بیوی اولاد بهائی کئی رشتوں کے مطلب بدل گئے اس ایک دن میں...
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
جاری ہے

Address

Kulai
Kuala Lumpur
81000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aine posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share