07/10/2025
بسم اللہ الرحمن الرحیم__
☆ دهڑکن ☆
______قسط 11
تحریر ناصر حسین اس رات ستارے بادلوں نے بالکل چهپا رکهے تهے. .ٹهنڈی ٹهنڈی ہوا چل رہی تهی. .بارش اسے ہمیشہ سے پسند تهی وہ کهڑکهی کهولے بارش اور ہواؤں کا کهیل دیکھ رہی تهی..کهبی کهبی جب بجلی چمکتی تو زمین پہ روشنی پهیل جاتی ..وہ اس نظارے سے خوب لطف اندوز ہو رہی تهی اتنی سردی میں اچانک اسے چائے کی طلب محسوس ہوئی اس لیے وہ کمرے سے باہر نکل آئی ....آج ڈنر کے بعد سے اس نے دعا کو بالکل بھی نہیں دیکها...شاید وہ کمرے میں اپنا ڈرامہ دیکهنے میں مصروف ہو گی ..اسے کسی کی باتیں کرنے کی آوازیں آئی..سیڑھیوں پر پہنچ کر اس نے دیکها سارے گهر والے صوفوں پہ بیٹھ کر چائے بھی پی رہی ہیں اور سنجیدگی سے کسی معاملے پہ بات بھی کر رہے ہیں. ...دعا وہاں موجود نہ تهی اس نے نیچے جانے کا ارادہ ترک کر دیا سب کے سامنے سے ہوتی ہوئی وہ کیسے کچن میں جا سکتی تهی...وہ واپس جانے کے لیے پلٹ ہی رہی تهی کہ آرب کی آواز پہ اس کے قدم رک گئے....... ....
" تو آپ لوگ چاہتے ہیں میں شادی کرلوں....اور آپ کو اپنی پسند بتاوں."....
اس کی دهڑکن بے ترتیب ہونے لگی. ..شرم کے مارے اس کی نگاہیں جهک گئیں..ایک دلکش مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چهو کر نکل گئی.....وہ انتظار میں تهی کہ کب آرب کہ منہ سے اس کا نام ادا ہو گا...بے ساختہ اس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکها. ..... .
" میں دعا سے شادی کرنا چاہتا ہوں بابا جان.."...اسے آرب کی آواز سنائی دی.....
اس کی مسکراہٹ اچانک غائب ہو گئی..نہیں. .نہیں. .نہیں. ..اس نے ضرور غلط سنا ہوگا...آرب نے دعا نہیں فرشتے کہا ہوگا ..ضرور اس کے سماعتوں نے اسے دهوکہ دیا ہوگا...وہ دل کو سمجهانے لگی ....
"ارے واہ...آرب تم نے تو میرے دل کی بات چهین لی ہمیشہ سے میری خواہش رہی تهی کہ دعا کو تمہاری دلہن کے روپ میں دیکهوں."....بابا جان کی آواز آئی....
اب اسے سننے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی...اچانک اس کی دهڑکن رکنے لگی. ..اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تهی...جسم سے سارے خون ایک پل میں خشک ہو گیا....وہ گرنے والے انداز میں سیڑھیوں پر بیٹھ گئی اگر اس وقت وہ سیڑھیوں کا سہارا نہ لیتی تب شاید لڑهکتی ہوئی نیچے گر جاتی...آرب اور بھی کچھ کہہ رہا تها لیکن اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تها ہر آواز بند ہو چکی تهی....وہ تو صرف ایک آواز سن رہی تهی....
"میں دعا سے شادی کرنا چاہتا ہوں". ....
باہر تیز بجلی کڑکی اچانک اس نے وہ بجلی خود پہ گرتی محسوس کی.......
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #.
وہ بستر پہ زندہ لاش کی طرح لیٹی تهی اسے نہیں پتا کب وہ وہاں سے اٹهی اور کب اپنے مردہ قدموں کے ساتھ اندر آئی کب اس نے دروازہ بند کیا کب وہ بستر پہ لیٹ گئی...........
اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تها کچھ دکهائی نہیں دے رہا تها وہ کچھ محسوس نہیں کر پا رہی تهی احساسات اور جذبات زندہ انسانوں کے لئے ہوتے ہیں اور وہ زندہ کب تهی...وہ تو ختم ہو چکی تهی..صرف سانسیں چل رہی تهیں صرف سانسوں کے چلنے اور دل دهڑکنے کو زندگی تو نہیں کہتے........
باہر بجلی گر رہی تهی شاید آج وہ بھی اس بجلی کی زد میں آ گئی ...تهوڑی دیر پہلے سہانہ اور حسین لگنے والا موسم اب کتنا بهیانک اور خوفناک لگ رہا تها اس کا اندازہ صرف وہی کر سکتی تهی ..........
یہ کیا ہوا اس کے ساتھ کیوں ہوا. ..کیسے ہوا...کیوں بار بار اس کے ساتھ ایسا ہوتا ہے.......
" آرام سے رہو نہیں تو دوسرا ہاتھ بهی کاٹ دوں گا.."...
" کاش کوئی ہمارے لیے بهی اتنی رات کو کچھ کهانے کو بناتا.".....
" اگر کسی سے پیار ہو جائے تو اس کا اظہار کیسے کرنا چاہیے". .
وہ کچھ سوچنے سمجهنے کے قابل ہوئی تو مختلف سوچ اور مختلف سوالات اس کے دل میں تهے جن کے جواب اس کے پاس نہیں تهے...سوال ہزاروں تهے جواب کسی ایک کا بھی نہیں تها اس کے پاس........
" یہ سب کیا ہوا کیوں ہوا کیسے ہوا...".کیا آرب اس سے محبت نہیں کرتا تها ..مگر کیسے اس نے تو خود اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکهی تهی تو کیا مطلب تها ان نگاہوں کا ....کیا آرب نے دهوکہ دیا بے وفائی کی مگر کیوں. ..وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے.....وہ تو ایسا نہیں لگتا....وہ جتنا سوچ رہی تهی اتنا ہی الجهتی جا رہی تهی. ..آنکهیں خشک تهیں...یا پھر وہ اس سے محبت کرتا ہی نہیں تها وہ خود اتنی بے وقوف تهی اس کی نظروں کا مطلب محبت سمجهنے لگی .........پهر اسے یاد آیا اس نے کهبی اس سے یہ نہیں کہا کہ اسے اس سے محبت ہے وہ تو خود اتنی بے وقوف تهی جو اس کی ہمدردی کو محبت سمجهنے لگی...
ہاں شاید ایسا ہی ہوگا وہ اس سے ہمدردی کرتا تها وہ اس یتیم لاوارث لڑکی پہ ترس کهاتا تها اور وہ خود اتنی بهولی تهی اس کی اس ہمدردی کو محبت سمجهنے لگی تهی....لیکن اس کی آنکھیں اسے کیسے دهوکہ دے گئیں وہ تو خود دیکھ چکی تهی اس کی آنکھوں میں محبت......
نہیں. .اگر وہ اس سے محبت کرتا تو اس نے شادی کے لئے دعا کا نام کیوں کیا...کیا وہ دعا سے محبت کرتا تها یا گهر والوں کی مرضی کے لیے اس نے دعا سے شادی کی رضا مندی دے دی....نہیں یہ بھی نہیں ہو سکتا...گهر والے اسے کهبی مجبور نہیں کرتے اگر وہ کہتا کہ اسے فرشتے سے شادی کرنی ہے تو کیا سب منع کر دیتے...نہیں. ..نہیں. ..بات یقیناً کچھ اور ہی ہے .اس نے اس کا نام کیوں نہیں لیا دعا کا نام کیوں لیا....اس کی زبان سے نکلنے والا وہ نام دعا کا ہی کیوں تها فرشتے کیوں نہیں. ....دل ویران ہو چکا تها ایک بنجر زمین کی طرح اچانک ایک پل میں ہی سب ختم ہو گیا...ایک گهر ایک خواب بسنے جا رہا تها اور ایک گهر ایک خواب اجڑ چکا تها.....
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
کتنی طوفانی رات تهی وہ جس میں اس کے سارے خواب سارے سپنے بکهر گئے..کاش اس کی زندگی میں یہ رات کهبی نہیں آتی کاش وہ اس نے جو سنا ہو وہ سب خواب ہو سپنا ہو جهوٹ ہو......
نہیں. .وہ خواب نہیں تها وہ حقیقت تهی جو اس کے ساتھ ہوا وہ سب سچ تها...آج کی رات اسے نیند کیسے آ سکتی ہے آج تو ماتم کرنے کی رات ہے...آج رات تو محبت کے قتل پہ رونے کی رات ہے..آج تو محبت کا جنازہ اٹها آج تو پیار کا وجود دفن ہو گیا......
وہ ہوش میں نہیں تهی اسے کچھ پتا نہیں تها..نا موسم کا نہ اندر باہر کچھ بھی وہ محسوس نہیں کر پا رہی تهی ..ہر احساس تو مر چکا تها...اسے نہیں پتا کب دعا دستک دے کر اندر آئی...اور آکر اس کے پاس بیٹھ گئی. .وہ بھی ویران آنکهیں لیے اٹهنے کی کوشش کرنے لگی...دعا کا موڈ ہمیشہ کی طرح خوشگوار تها ..اور آج تو وہ ہمیشہ سے بھی زیادہ خوش لگ رہی تهی...وہ نہیں دیکھ پا رہی تهی اس کی آنکھوں میں. .وہ اس کا درد نہیں دیکھ پا رہی تهی...اچها ہوا جو وہ نہیں دیکھ پا رہی اس کے دل کے زخموں کو ورنہ سوالات کا سلسلہ چل پڑتا اور وہ کچھ بول ہی نہ پاتی....
" تمہیں پتا ہے بابا جان نے میرا رشتہ طے کر دیا"...
کتنی آسانی سے وہ بول رہی تهی یہ جانے بنا کہ اس کے ان لفظوں سے اسے کتنی تکلیف ہو رہی ہے...دعا جیسی لڑکی سے شرم کی توقع تو ویسے بھی نہیں کی جا سکتی..وہ بس خاموش نظروں سے دعا کو دیکهنے لگی. ..ایسا کیا تها اس میں جو آرب نے اسے پسند کیا....اس کی آنکھیں نم ہو گئیں اب کسی بھی پل سیلاب جاری ہو سکتا تها..........
" اور تمہیں پتا ہے کس کے ساتھ آرب کے ساتھ. "...
دعا نے مسکراتے ہوئے بتایا.....وہ دعا سے کہنا چاہتی تهی " بس کرو خدا کے لیے بس کرو اب ..اور تیر مت چلاو ..میرے دل میں. ."..اور امتحان مت لو میرے صبر کا..پتا نہیں کیوں وہ اتنی بے اختیار ہو گئی دعا کے گلے لگ کر پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی. .دعا اس کے اس اچانکی رد عمل پہ بالکل حیران ہوئی ..وہ اس کے بال سہلانے لگی اور اسے دلاسا دینے لگی .......
" تم کیوں فکر کرتی ہو...سب ٹهیک ہو جائے گا...ابهی تک امی والی باتوں کو نہیں بهولیں..."..
اپنے طور پر دعا صرف یہی اندازہ لگا پائی کہ وہ گهر والوں کے رویے کی وجہ سے پریشان ہے. .....
دعا اب اپنی انگلیوں سے اس کے آنسو پونچھنے لگی. .اسے اپنے رویے پہ پیشمانی ہونے لگی. ..دعا بیچاری کتنی خوشی سے اسے اپنے رشتے کی بات بتانے آئی تهی اور اس نے رنگ میں بهنگ ڈال دی.....دعا اسے بیڈ پہ سلا کر اس پہ چادر اوڑھنے لگی..وہ کافی دیر اس کے پاس بیٹھ کر اسے دلاسا دیتی رہی...پهر اسے سوتا پا کر وہ چلی گئی. .لیکن آج اسے نیند کہانی آنی تهی...محبتوں کے جنازے والے دن نیند کہاں سے آنی تهی .....
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
وہ ساری رات روتی رہی ایک پل کے لیے بھی وہ سو نہ سکی..اس کی آنکھیں سوجهی ہوئیں تهیں..وہ ساری رات رو رو کر اللہ تعالیٰ سے شکوے کرتی رہی..دور کہیں صبح کی اذان سنائی دی اسے...شکوے شکائتیں بہت کر چکی تهی اب اسے اللہ کو منانا تها..مرے ہوئے قدموں کے ساتھ واش روم گئی...وہیں منہ دهو کر اپنا چہرہ آئینے میں دیکها تو اسے آئینے میں ایک اجنبی لڑکی نظر آئی وہ اسے بالکل بھی نہیں پہچان سکی...وہ فرشتے جنید تو ہر گز نہیں تهی.....
وضو کر کے اس نے نماز پڑھی. .نماز کے بعد وہ اپنے ہاتھ اٹها کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگی....
" یا اللہ اس دن میرے پاس مانگنے کو کچھ نہیں تها..لیکن آج میں آپ سے آرب مانگتی ہوں. ..آرب مجھے دے دیں اس کے بدلے مجھے اور کچھ نہیں چاہیے میرا سب کچھ لے لیں ..لیکن صرف آرب مجهے دے دیں...بهلے ہی آخرت میں میرے لیے کوئی حصہ نہ رکهیں لیکن آرب مجهے دے دیں....وہ میرا ہے اسے آپ کسی اور کو کیسے دے سکتے ہیں. ..میری چیز میری ملکیت مجهے ہی دیں....آپ تو سب کچھ کر سکتے ہیں نا...آپ تو ناممکن کو ممکن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آپ جب کہتے ہیں کن تو ہو جاتا ہے...پوری کائنات ساری دنیا آپ کے ماتحت ہے. ..آپ اپنی اس پوری دنیا میں وہی ایک شخص مجهے دے دیں ..میں نے اس سے بہت محبت کی ہے خدایا ....وہ میرا ہے صرف میرا"....
" وہ میری سانس ہے میری زندگی میری دهڑکن ہے...اسے مجھ سے مت چهینیں...پلیز. .آپ کے گواہ ہیں میری محبت کے صرف آپ ہی گواہ ہیں اس محبت کے. ".....
اس کے آنسو سے رخسار بهیگ چکے تهے...قرآن پاک کی تلاوت کے دوران بھی اس کے آنسو نہیں رکے...وہ رونا چاہتی تهی اارے آنسو ختم کرنا چاہتی تهی تا کہ اس سیلاب کو کوئی اور نہ دیکھ سکے...وہ کسی کے سامنے اپنا باطن نہیں ظاہر کرنا چاہتی تهی. ...
" اک نام ہے میرے دل میں جو _____
وہ ہے زندگی کسی اور کی _____
میری روح کا جو سکون تها ______
وہ ہے بندگی کسی اور کی _
دعا اس کے لیے ناشتہ لے آئی اس کا کچھ کهانے کا موڈ نہیں تها..وہ اب کافی حد تک نارمل ہو چکی تهی یا پھر شاید وہ دل کے حالات چهپانا سیکه چکی تهی..جو ہونا تها وہ ہو چکا تها جو قیامت اس پہ ٹوٹنی تهی وہ ٹوٹ چکی تهی..اب زندگی پہلے جیسی کهبی نہیں ہو سکتی ..فرشتے جنید اب پہلے جیسی کهبی نہیں ہو سکتی وہ انسانوں پر کهبی دوبارہ بهروسہ نہیں کر سکتی وہ دنیا پر بهروسہ کهو چکی تهی وہ محبت پر سے بهروسہ کهو چکی تهی. ..........
یہ گهر نہ تو اس کے لیے تها اور نہ ہی اس گهر میں اسے کوئی خوشی مل سکتی تهی..جس گهر میں اس کے باپ کی آہیں اور آنسو دفن ہوں اس گهر میں اسے خوشی کیسے مل سکتی ہے...یہ تو بابا جان کا گهر ہے ان کی ملکیت ہے. .اس ظالم وڈیرے کے سامنے وہ بے بس تهی ..جس نے کهبی اس کے باپ کو معاف نہیں کیا....محبت میں اس کے والدین نے ساری زندگی سزا پائی محبت ان کی زندگی کا سب سے بڑا گناہ بن گیا...یہی اس کے ساتھ ہوا.........
دعا کالج جانے کے لیے تیار کهڑی تهی اور اسے ہمیشہ خوش رہنے کی نصیحت کر رہی تهی..وہ دعا سے شرمندہ تهی جو ہوا اس میں دعا کا کوئی قصور نہیں تها کسی نے اس یہ زخم دیا تها...وہ تو بے قصور تهی بہت معصوم. .....وہ دعا کے لیے اپنے دل میں محبت محسوس کرنے لگی لیکن اچانک اس کے دل میں نفرت کی چنگاری پیدا ہو گئی .. ........
میری زندگی میں صرف ایک خوشی تها صرف ایک اپنا تها ایک ہی امید تهی وہ بھی تم نے چهین لی....
" اب میں کیسے خوش رہوں گی..کیونکہ کیا تم نے ایسا کیا تمہیں مجھ پہ ترس نہیں آیا دعا ..اس کے دل نے پکارا .."....وہ خالی برتن رکهنے کچن میں گئی کچن بھی اس کے دل کی طرح ویران تها .ایک ہی رات میں دنیا بدل گئی موسم بدل گئے رشتے بدل گئے....
پہلے اس نے زندگی میں کب خود کو اتنا تنہا اور مایوس پایا....
ماں کی موت پر ..ہاں...ماں کی موت پر لیکن آج وہ کیوں اداس تهی آج کس کی موت ہوئی ہے...پهر اسے یاد آیا جو تو اس کی محبت کا قتل کیا گیا..اس لیے وہ اتنی ویران اور ٹوٹی ہوئی ہے.......وہ کچن میں کهڑی اپنے دکهوں پہ ماتم کر رہی تهی جب آرب کچن میں داخل ہوا.....اور اس سے کافی بنانے کی فرمائش کر دی...وہ بڑے غور سے اس کے چہرے کو دیکهنے لگی جو فریج سے کچھ نکال رہا تها...... .ہمیشہ وہ اس شخص سے محبت کرتی آئی تهی لیکن اچانک اس کے دل میں اس شخص کے لیے نفرت پیدا ہو گئی .....
": کیوں آرب کیوں..."؟ کیوں اتنے سفاک اور ظالم بن گئے..کیوں مجھ سے میری خوشیاں میرے سپنے چهین لیے...کیا ملا تمہیں مجھ سے میرا سب کچھ چهین کر...اگر مجھ سے پیار نہیں کرتے تهے تو مجھے بتا دیتے ..میری خوشیاں میرے خواب اس طرح برباد تو نہ کرتے..".
" میں کسی غلط فہمی کسی امید پہ تو نہ رہتی..کوئی خواب تو نہ دیکهتی. ..نہ میں دل کو لگاتی نہ میرا اتنا نقصان ہوتا ....دیکهو آکر دیکهو میرے دل میں جهانک کر کتنا بڑا نقصان کر دیا تم نے .".....اس کا دل چاہا آرب کا گریبان پکڑ کر اس سے پوچهے کیوں کیا اس نے ایسا ..کیا ملا اسے یہ سب کر کے ....اس شخص کے چہرے پہ کوئی پچهتاوا کوئی ندامت نہیں تهی ..کیا اس شخص کے پاس دل بھی نہیں ہے. ..
" آپ کی آنکھوں کو کیا ہوا فرشتے جی."...
وہ چونک گئی وہ اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تها. . .
وہ اس سے کہنا چاہتی تهی یہ سب تمہارے ہی دیے ہوئے تحفے ہیں. .آنکهوں میں لالی دیکھ سکتے ہو وہ " محبت کیوں نہیں جو میں تم سے کرتی ہوں".....
کچھ نہیں شاید آنکهوں میں کچھ چلا گیا ہے ....
وہ نگاہیں چرا کر بتانے لگی.. آرب وہیں کهڑے ہو کر اسے کام کرتے ہوئے دیکهنے لگا.........
" چلے جاو آرب پلیز یہاں سے چلے جاو..میرے سامنے مت آو...مجھے اپنی شکل مت دکهاو ..جب تم میرے نہیں ہو تو میرے سامنے بهی مت آو.......تمہیں دیکھ کر میرے زخم تازہ ہو جاتے ہیں". ...
کافی میز پہ رکھ کر وہ تقریباً بهاگتی ہوئی وہاں سے چلی گئی........
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
وہ صبح سے کمرے میں قید تهی اس کا باہر جانے کو بالکل دل نہیں کر رہا تها. .وہ ڈر رہی تهی اگر باہر گئی تو آرب کا سامنا ہو جائے گا اور وہ اس کا سامنا بالکل بھی نہیں کرنا چاہتی تهی. ..وہ کیوں جاتی اس کے سامنے کس منہ سے جاتی وہ انسان اسے دهوکہ دے چکا تها .حبت کے سفر میں وہ اسے تنہا چهوڑ گیا اس نے ثابت کر دیا وہ چنگیز خان کا پوتا ہے...
اس چنگیز خان کو جو اس کے باپ سے ساری عمر نفرت کرتے رہے.....تو وہ بھی ان سے الگ کیوں ہوتا.....
دعا اس کے کمرے میں آئی وہ صوفے پہ سر ٹیک لگا کر سوچوں میں گم تهی..دعا نے چٹکی بجا کر اپنے آنے کی اطلاع دی وہ جهوٹے خوابوں اور خیالوں کی دنیا سے باہر نکل آئی....اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی دعا کے پاس باتیں کرنے کے لیے بہت سے ٹاپک تهے...اس نے غور سے دعا کے چہرے کو دیکها جس پہ صرف خوش تهی اور کوئی رنگ نہیں تها...کتنی خوش تهی وہ اس انسان کو پا کر تو کوئی بھی خوش ہو سکتا ہے..وہ انسان تو کسی کے بھی خوابوں کا شہزادہ ہو سکتا ہے..تو دعا خوش کیوں نہیں ہوتی بهلا.......
وہ بس خاموشی سے دعا کو دیکھ رہی تھی اسے دعا کی قسمت پہ رشک آیا..اور وہیں دعا کے سامنے بیٹھ کر دعا سے باتیں کرتے ہوئے اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ دعا سے حسد کرنے لگی تهی........
" اللہ میاں. .میں بہت جوش ہوں فرشتے...آرب مجهے مل گیا...تمہیں پتا ہے وہ مجهے بچپن سے ہی اچها لگتا تھا. .اسے تو میں نے بچپن سے ہی اپنا تسلیم کر لیا تها...وہ بہت اچها ہے...ہم دونوں لڑتے جھگڑتے ہیں لیکن وہ مجهے بہت پسند ہے میں نے آج تک یہ بات کسی کو نہیں بتائی صرف تمہیں بتا رہی ہوں فرشتے."...
" ہاں وہ اچها ہے دعا ..بہت اچها ہے..لیکن وہ میرا نہیں تمہارا ہے..جو چیز میرا ہے ہی نہیں اس کے بارے میں کیوں سوچوں ..اس کی باتیں کیوں سنوں." .
" خدا کے لیے دعا چپ ہو جاو ..پلیز میرے سامنے اس انسان کا نام مت لو..:"..........
وہ بس دعا کے ہونٹوں پہ پهیلی مسکراہٹ کو دیکهتی رہ گئی.
" فرشتے بچپن میں جب بابا جان کہتے تھے تمہاری شادی آرب سے کریں گے تب میں بہت غصہ کرتی تهی اور بابا جان سے بہت ناراض ہوتی تهی..لیکن نہ تو اب بچپن رہا اور نہ ہی وہ بچپنا...اب میں بڑی ہو گئی ہوں رشتے سمجھ چکی ہوں....اور مجھے یقین ہے آرب سے بیسٹ میرے لیے کوئی ہو ہی نہیں سکتا. ..".......
" دعا...آرب مجھے دے دو...پلیز آرب مجھے دے دو..میرے پاس آرب کے علاوہ کوئی نہیں ہے میری زندگی میں یہی ایک رشتہ ہے...اس ایک رشتے کو مجھ سے مت چهینو ..میری زندگی میرے خواب مجھ سے مت چهینو....میرا آرب مجھ سے مت چهینو.".....
" تمہارے پاس تمہاری ماں ہے...بابا جان ہیں...جبکہ میرے پاس صرف آرب ہے..ایک آرب...وہ آرب مجھے دے دو...میرا آرب مجھے دے دو."....
اس کا دل چاہا ایک بار جهنجوڑ کر دعا سے یہ سب کہے...مگر اس کی زبان پہ تالے پڑ چکے تهے...
تهوڑی دیر میں نجمہ ان دونوں کے لیے کهانا اوپر لے آئی شاید دعا نے آتے وقت آرڈر دیا تها...اسے بهوک کا شدت سے احساس ہو..جانے وہ کب سے بهوکی تهی..اب ساری زندگی بهوکی تو نہیں رہ سکتی تهی اور نہ ہی اس نہ ملنے والی محبت کا روگ منا سکتی تهی...جب اسے کوئی پرواہ نہیں تهی تو وہ کیوں اتنا سوچتی. ....
وہ بڑی رغبت سے کهانا کهانے لگی. .لیکن کهانا کهاتے وقت اسے احساس ہوا وہ ذائقہ بالکل بھی نہیں محسوس کر پا رہی...اس خواب کیا ٹوٹے جیسے ساری دنیا ہی ٹوٹ گئی..سب ختم ہو گیا......
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
جاری ہے