Pak network

Pak network Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pak network, Media/News Company, Salalah.

میں ایک جیل پولیس ملازم ہوں، مجھے مار ڈالیے!لیکن اگر مجھے مارنے سے پہلے دو منٹ مل جائیں تو میری ایک بات ضرور سن لیجیے۔جی...
06/09/2026

میں ایک جیل پولیس ملازم ہوں، مجھے مار ڈالیے!

لیکن اگر مجھے مارنے سے پہلے دو منٹ مل جائیں تو میری ایک بات ضرور سن لیجیے۔

جیل پولیس میں بھرتی ہونے سے پہلے میں بھی ایک عام نوجوان تھا۔

زندگی سے بھرپور، ہنستا مسکراتا، دوستوں کے ساتھ بیٹھتا، رشتہ داروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا۔
خوشی کے موقع پر خوش ہوتا اور غم میں بھی اپنوں کے ساتھ کھڑا رہتا تھا۔

پھر غمِ روزگار نے ملازمت کی طرف دھکیلا اور مقدر نے مجھے جیل کی چار دیواری کے اندر پہنچا دیا۔

شروع میں وردی پہن کر فخر محسوس ہوا۔
لوگوں نے مبارک باد دی۔
سرکاری ملازمت تھی، عزت تھی، مستقبل محفوظ سمجھا۔

مگر آہستہ آہستہ سب کچھ بدلنے لگا۔

چہرے پر تھکن آگئی۔
آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے۔
مزاج میں چڑچڑاپن آنے لگا۔
دوستوں سے رابطے کم ہوگئے۔
رشتہ داروں کی خوشیوں اور غموں میں شرکت تقریباً ختم ہوگئی۔

کیونکہ جیل پولیس کی ڈیوٹی صرف 8 گھنٹے نہیں ہوتی۔

کئی بار ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد بھی جیل نہیں چھوڑ سکتے۔

کبھی ہنگامی صورتحال، کبھی قیدیوں کی گنتی، کبھی سکیورٹی، کبھی سرچ، کبھی ہسپتال، کبھی عدالت، کبھی بیرکوں کی نگرانی اور کبھی اچانک اضافی ڈیوٹی۔

ہماری گھڑی میں ڈیوٹی کا وقت ختم ہو جاتا ہے، مگر ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔

عام آدمی عید پر اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے،
ہم جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔

رمضان میں لوگ افطار کے لیے گھروں میں جمع ہوتے ہیں،
ہم ڈیوٹی پوائنٹ پر موجود ہوتے ہیں۔

محرم ہو، عید ہو، یومِ آزادی ہو یا کوئی اور قومی تہوار—
ہم دوسروں کی حفاظت کرتے کرتے اپنی خوشیاں بھول جاتے ہیں۔

ہم بھی انسان ہیں۔

ہمیں بھی اپنے بچوں کی یاد آتی ہے۔
ہم بھی چاہتے ہیں کہ عید کی نماز گھر والوں کے ساتھ پڑھیں۔
ہم بھی چاہتے ہیں کہ بچے ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔
ہم بھی چاہتے ہیں کہ ماں باپ کے پاس کچھ وقت گزاریں۔

مگر جیل کی ڈیوٹی میں اکثر ڈیوٹی پہلے اور گھر بعد میں آتا ہے۔

اور سہولت؟

وہ صرف فائلوں میں نظر آتی ہے۔

کبھی نفری کم۔
کبھی اضافی ڈیوٹی۔
کبھی چھٹی کا مسئلہ۔
کبھی رہائش کا مسئلہ۔
کبھی سفری مشکلات۔
کبھی کھانے پینے کی دشواری۔
کبھی مناسب آرام کی جگہ نہیں۔

اور پھر توقع یہ کہ ملازم ہر وقت مکمل توانائی، مکمل توجہ اور مکمل برداشت کے ساتھ کام کرے۔

جیل میں ایک معمولی غلطی بھی بڑی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔

ایک لمحے کی غفلت سکیورٹی کا مسئلہ بن سکتی ہے۔

اس لیے جیل پولیس ملازم صرف ڈیوٹی نہیں کرتا،
وہ ہر وقت ذہنی دباؤ کے ساتھ ذمہ داری نبھاتا ہے۔

قیدیوں کی حفاظت بھی کرنی ہے،
جیل کی سکیورٹی بھی دیکھنی ہے،
افسران کے احکامات بھی پورے کرنے ہیں،
عدالتوں میں قیدی بھی پیش کرنے ہیں،
ہسپتال بھی لے کر جانا ہے،
گنتی بھی کرنی ہے،
تلاشی بھی لینی ہے،
اور ہر وقت کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار بھی رہنا ہے۔

لیکن جب یہی ملازم اپنے مسائل کی بات کرے تو جواب ملتا ہے:

“یہ تو آپ کی ڈیوٹی ہے!”

جی ہاں، ڈیوٹی ہے۔

مگر ڈیوٹی کرنے والا بھی انسان ہے۔

اس کے گھر میں بھی بچے ہیں۔
اس کے والدین بھی ہیں۔
اس کی بیوی بھی ہے۔
اس کے اپنے مسائل بھی ہیں۔
اس کا جسم بھی تھکتا ہے۔
اس کا ذہن بھی تھکتا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر،
اس کا بھی ایک خاندان ہے جو اسے وقت دینا چاہتا ہے۔

ہم سے ایمانداری کا مطالبہ بالکل ہونا چاہیے۔

ہم سے قانون کی پابندی کا مطالبہ بھی ہونا چاہیے۔

جو ملازم بدعنوانی کرے، اختیارات کا ناجائز استعمال کرے یا قیدیوں کے حقوق پامال کرے، اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔

لیکن سوال یہ بھی ہے:

کیا ہم نے کبھی جیل پولیس کے اس ملازم کا حساب کیا ہے جو سال کے 365 دنوں میں کتنے دن اپنے خاندان سے دور رہا؟

کیا ہم نے کبھی پوچھا:

* اسے مناسب نفری دی گئی؟
* مناسب آرام کا وقت ملا؟
* بروقت چھٹی ملی؟
* ڈیوٹی کے دوران بنیادی سہولیات میسر تھیں؟
* رہائش کا مناسب انتظام تھا؟
* کھانے اور پینے کی سہولت تھی؟
* مسلسل ڈیوٹی کے بعد ذہنی سکون کے لیے کوئی نظام تھا؟
* خطرناک حالات میں کام کرنے والے ملازم کے لیے مناسب حفاظتی سہولیات تھیں؟

اور سب سے اہم:

جو شخص دوسروں کی حفاظت کے لیے اپنی زندگی کے قیمتی سال جیل کی چار دیواری میں گزار رہا ہے، کیا ادارہ اس کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے کافی کر رہا ہے؟

یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے:

ہر جیل پولیس ملازم شکایت کرنے والا نہیں ہوتا۔

بہت سے ملازمین خاموشی سے اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں۔

نہ سوشل میڈیا پر شور کرتے ہیں،
نہ افسران کے سامنے اپنی مشکلات گنواتے ہیں،
نہ گھر والوں کو اپنی پریشانی بتاتے ہیں۔

بس وردی پہنتے ہیں،
ڈیوٹی پر جاتے ہیں،
اور واپس آ کر اگلی ڈیوٹی کا انتظار کرتے ہیں۔

کبھی کبھی ہمیں قیدی کی اصلاح کے ساتھ ساتھ
جیل کے محافظ کی حالت بھی دیکھنی چاہیے۔

کیونکہ تھکا ہوا، پریشان اور مسلسل دباؤ میں رہنے والا ملازم بھی ایک انسان ہے۔

اگر ہم جیلوں کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو صرف دیواریں اونچی کرنا کافی نہیں۔

جیل کے محافظ کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔

اسے مناسب نفری دینی ہوگی۔
اسے آرام دینا ہوگا۔
اسے بنیادی سہولیات دینا ہوں گی۔
اس کے مسائل سننے ہوں گے۔
اس کے خاندان کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔

کیونکہ جیل کی سلاخوں کے اندر قیدی نظر آتا ہے،
مگر ان سلاخوں کے باہر کھڑا محافظ اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔

میں جیل پولیس کا ایک ملازم ہوں۔

مجھے مار ڈالیے۔

مگر میرے مرنے سے پہلے ایک بار میری وردی کے اندر چھپے انسان کو ضرور دیکھ لیجیے۔

دیکھیے، اس کے چہرے پر کتنی تھکن ہے۔

اس کی آنکھوں میں کتنی نیند ہے۔

اس کے دل میں اپنے بچوں سے ملنے کی کتنی خواہش ہے۔

اور اس کے ذہن میں کتنے سوال ہیں۔

جیل کا محافظ بھی انسان ہے۔

اسے صرف ڈیوٹی، حکم اور ذمہ داری نہ سمجھیں۔

اسے بھی سہولت دیں،
اسے بھی عزت دیں،
اسے بھی آرام دیں،
اسے بھی جینے کا حق دیں۔

کیونکہ اگر ہم جیل کے محافظ کو ہی مسلسل تھکاتے، دباؤ میں رکھتے اور سہولیات سے محروم کرتے رہیں گے—

تو ایک دن شاید جیل کی دیواریں تو مضبوط رہیں…

مگر ان دیواروں کی حفاظت کرنے والا انسان اندر سے ٹوٹ جائے گا۔

29/08/2026

ڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد میں فائر فائٹنگ کے حوالے سے فرضی مشق کا انعقاد

ڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد میں فائر فائٹنگ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے ایک فرضی مشق (Mock Exercise) کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد جیل افسران و ملازمین کو آگ لگنے کی صورت میں بروقت اور مؤثر کارروائی کے طریقوں سے آگاہ کرنا تھا۔

فرضی مشق کے دوران جیل ملازمین کو مختلف اقسام کی آگ اور انہیں بجھانے کے مناسب طریقہ کار کے بارے میں عملی تربیت فراہم کی گئی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ آگ کی نوعیت کے مطابق فائر ایکسٹنگوشر اور دیگر حفاظتی آلات کا درست استعمال کس طرح کیا جائے، جبکہ ہنگامی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ اور آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔

اس عملی مشق میں محکمہ سول ڈیفنس کے افسران و اہلکاروں نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور جیل ملازمین کو آگ بجھانے کے مختلف طریقوں کا عملی مظاہرہ کر کے دکھایا۔

مشق کا بنیادی مقصد جیل کے عملے کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری، محفوظ اور مؤثر انداز میں کارروائی کرنے کے لیے تیار رکھنا اور جیل میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانا تھا۔

محمد صدیق گل سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل میانوالی تعینات
29/08/2026

محمد صدیق گل سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل میانوالی تعینات

عارف شہزاد گل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل بھکر تعینات
29/08/2026

عارف شہزاد گل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل بھکر تعینات

26/08/2026

ڈسٹرکٹ جیل حافظ اباد میں 12 ربیع الاول عید میلاد النبی کے موقع پر محفل نعت کا انعقاد زیر صدارت سپرنٹنڈنٹ جیل مدثر خان صاحب۔

ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں سپرنٹنڈنٹ جیل میاں عمیراکرام کی طرف سے عیدمیلادالنبی کے موقع پر 2 عمرہ ٹکٹ کی قرعہ اندازی۔1_جیل ...
26/08/2026

ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں سپرنٹنڈنٹ جیل میاں عمیراکرام کی طرف سے عیدمیلادالنبی کے موقع پر 2 عمرہ ٹکٹ کی قرعہ اندازی۔
1_جیل وارڈر ابوبکر
2_کمپیوٹر اپریٹر انعم گلزمان
عمرہ پیکج کی قرعہ اندازی میں کامیاب۔اس موقع پر ڈی ائی جی محسن رفیق مہمان خصوصی تھے۔
نوٹ: سپرنٹنڈنٹ جیل میاں عمیراکرام محکمہ جیل خانہ جات کی تاریخ میں بذریعہ قرعہ اندازی عمرہ پیکج دینے والے پہلے افسر ہیں۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرماۓ
(امین)

عمان کے سلطان کا عید میلاد النبی ﷺ پر شاندار اقدامسلطانِ عمان ہیثم بن طارق نے عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے شاہی فرمان ...
26/08/2026

عمان کے سلطان کا عید میلاد النبی ﷺ پر شاندار اقدام
سلطانِ عمان ہیثم بن طارق نے عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے 459 قیدیوں کی سزائیں معاف کرنے کا اعلان کر دیا۔ �

شاہی معافی پانے والوں میں عمانی شہریوں کے ساتھ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی قیدی بھی شامل ہیں۔ یہ اقدام قیدیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ہمدردی اور رحمت کے جذبے کے تحت کیا گیا۔ �

26/08/2026

آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سالک جلال کا یہ انتہائی با برکت نیک اور قابلِ تحسین اقدام ہے جس کے تحت ملازمین کے لیے قرعہ اندازی کے ذریعے عمرہ کی سعادت کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس خوبصورت اور روحانی پہل پر آئی جی صاحب اور تمام انتظامیہ مبارکباد اور دل سے ایپریشیشن کے مستحق ہیں۔ اللّہ تعالیٰ اس نیکی کو قبول فرمائے اور سب کے لیے برکت کا باعث بنائے۔
دفتر ہذا کے تمام آفیسران و ملازمین کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مورخہ 2026-08-28 بروز جمعۃ المبارک کو دفتر ہذا میں قرعہ اندازی برائے عمرہ کی جائے گی۔ جس میں شمولیت کے لئے تمام آفیسران و اہلکاران کے شناختی کارڈ اور مکمل تفصیل درکار ہے۔ تمام آفیسران و اہلکاران اپنی معلومات بمعہ شناختی کارڈ دفتر ہذا کی ایڈمن برانچ میں جمع کروائیں تاکہ قرعہ اندازی برائے عمرہ کی جا سکے۔

گوجرانوالہ ریجن علیحدہ ہونے سے جیل ملازمین کے لیے بہت اسانی ہو گئی ہے۔200 سے زائد کلومیٹر سفر کرکے ملازمین ڈیوٹی پر جاتے...
23/08/2026

گوجرانوالہ ریجن علیحدہ ہونے سے جیل ملازمین کے لیے بہت اسانی ہو گئی ہے۔200 سے زائد کلومیٹر سفر کرکے ملازمین ڈیوٹی پر جاتے تھے۔ خطیر رقم سفری اخراجات میں خرچ ہوجاتی تھی۔ابھی بھی مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ جس نے اس کاوش میں حصہ لیا اجر عظیم عطا فرماۓ۔
جیل وارڈر کی ڈائری سے۔۔۔

محکمہ جیل خانہ جات میں نئی ریجن کا نوٹیفکیشن جاری۔ پانچ جیلوں پر مشتمل گجرانوالہ ریجن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گ...
23/08/2026

محکمہ جیل خانہ جات میں نئی ریجن کا نوٹیفکیشن جاری۔
پانچ جیلوں پر مشتمل گجرانوالہ ریجن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

Address

Salalah
SALALA

Telephone

+923094638370

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share