06/09/2026
میں ایک جیل پولیس ملازم ہوں، مجھے مار ڈالیے!
لیکن اگر مجھے مارنے سے پہلے دو منٹ مل جائیں تو میری ایک بات ضرور سن لیجیے۔
جیل پولیس میں بھرتی ہونے سے پہلے میں بھی ایک عام نوجوان تھا۔
زندگی سے بھرپور، ہنستا مسکراتا، دوستوں کے ساتھ بیٹھتا، رشتہ داروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا۔
خوشی کے موقع پر خوش ہوتا اور غم میں بھی اپنوں کے ساتھ کھڑا رہتا تھا۔
پھر غمِ روزگار نے ملازمت کی طرف دھکیلا اور مقدر نے مجھے جیل کی چار دیواری کے اندر پہنچا دیا۔
شروع میں وردی پہن کر فخر محسوس ہوا۔
لوگوں نے مبارک باد دی۔
سرکاری ملازمت تھی، عزت تھی، مستقبل محفوظ سمجھا۔
مگر آہستہ آہستہ سب کچھ بدلنے لگا۔
چہرے پر تھکن آگئی۔
آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے۔
مزاج میں چڑچڑاپن آنے لگا۔
دوستوں سے رابطے کم ہوگئے۔
رشتہ داروں کی خوشیوں اور غموں میں شرکت تقریباً ختم ہوگئی۔
کیونکہ جیل پولیس کی ڈیوٹی صرف 8 گھنٹے نہیں ہوتی۔
کئی بار ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد بھی جیل نہیں چھوڑ سکتے۔
کبھی ہنگامی صورتحال، کبھی قیدیوں کی گنتی، کبھی سکیورٹی، کبھی سرچ، کبھی ہسپتال، کبھی عدالت، کبھی بیرکوں کی نگرانی اور کبھی اچانک اضافی ڈیوٹی۔
ہماری گھڑی میں ڈیوٹی کا وقت ختم ہو جاتا ہے، مگر ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔
عام آدمی عید پر اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے،
ہم جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔
رمضان میں لوگ افطار کے لیے گھروں میں جمع ہوتے ہیں،
ہم ڈیوٹی پوائنٹ پر موجود ہوتے ہیں۔
محرم ہو، عید ہو، یومِ آزادی ہو یا کوئی اور قومی تہوار—
ہم دوسروں کی حفاظت کرتے کرتے اپنی خوشیاں بھول جاتے ہیں۔
ہم بھی انسان ہیں۔
ہمیں بھی اپنے بچوں کی یاد آتی ہے۔
ہم بھی چاہتے ہیں کہ عید کی نماز گھر والوں کے ساتھ پڑھیں۔
ہم بھی چاہتے ہیں کہ بچے ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔
ہم بھی چاہتے ہیں کہ ماں باپ کے پاس کچھ وقت گزاریں۔
مگر جیل کی ڈیوٹی میں اکثر ڈیوٹی پہلے اور گھر بعد میں آتا ہے۔
اور سہولت؟
وہ صرف فائلوں میں نظر آتی ہے۔
کبھی نفری کم۔
کبھی اضافی ڈیوٹی۔
کبھی چھٹی کا مسئلہ۔
کبھی رہائش کا مسئلہ۔
کبھی سفری مشکلات۔
کبھی کھانے پینے کی دشواری۔
کبھی مناسب آرام کی جگہ نہیں۔
اور پھر توقع یہ کہ ملازم ہر وقت مکمل توانائی، مکمل توجہ اور مکمل برداشت کے ساتھ کام کرے۔
جیل میں ایک معمولی غلطی بھی بڑی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔
ایک لمحے کی غفلت سکیورٹی کا مسئلہ بن سکتی ہے۔
اس لیے جیل پولیس ملازم صرف ڈیوٹی نہیں کرتا،
وہ ہر وقت ذہنی دباؤ کے ساتھ ذمہ داری نبھاتا ہے۔
قیدیوں کی حفاظت بھی کرنی ہے،
جیل کی سکیورٹی بھی دیکھنی ہے،
افسران کے احکامات بھی پورے کرنے ہیں،
عدالتوں میں قیدی بھی پیش کرنے ہیں،
ہسپتال بھی لے کر جانا ہے،
گنتی بھی کرنی ہے،
تلاشی بھی لینی ہے،
اور ہر وقت کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار بھی رہنا ہے۔
لیکن جب یہی ملازم اپنے مسائل کی بات کرے تو جواب ملتا ہے:
“یہ تو آپ کی ڈیوٹی ہے!”
جی ہاں، ڈیوٹی ہے۔
مگر ڈیوٹی کرنے والا بھی انسان ہے۔
اس کے گھر میں بھی بچے ہیں۔
اس کے والدین بھی ہیں۔
اس کی بیوی بھی ہے۔
اس کے اپنے مسائل بھی ہیں۔
اس کا جسم بھی تھکتا ہے۔
اس کا ذہن بھی تھکتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر،
اس کا بھی ایک خاندان ہے جو اسے وقت دینا چاہتا ہے۔
ہم سے ایمانداری کا مطالبہ بالکل ہونا چاہیے۔
ہم سے قانون کی پابندی کا مطالبہ بھی ہونا چاہیے۔
جو ملازم بدعنوانی کرے، اختیارات کا ناجائز استعمال کرے یا قیدیوں کے حقوق پامال کرے، اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
لیکن سوال یہ بھی ہے:
کیا ہم نے کبھی جیل پولیس کے اس ملازم کا حساب کیا ہے جو سال کے 365 دنوں میں کتنے دن اپنے خاندان سے دور رہا؟
کیا ہم نے کبھی پوچھا:
* اسے مناسب نفری دی گئی؟
* مناسب آرام کا وقت ملا؟
* بروقت چھٹی ملی؟
* ڈیوٹی کے دوران بنیادی سہولیات میسر تھیں؟
* رہائش کا مناسب انتظام تھا؟
* کھانے اور پینے کی سہولت تھی؟
* مسلسل ڈیوٹی کے بعد ذہنی سکون کے لیے کوئی نظام تھا؟
* خطرناک حالات میں کام کرنے والے ملازم کے لیے مناسب حفاظتی سہولیات تھیں؟
اور سب سے اہم:
جو شخص دوسروں کی حفاظت کے لیے اپنی زندگی کے قیمتی سال جیل کی چار دیواری میں گزار رہا ہے، کیا ادارہ اس کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے کافی کر رہا ہے؟
یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے:
ہر جیل پولیس ملازم شکایت کرنے والا نہیں ہوتا۔
بہت سے ملازمین خاموشی سے اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں۔
نہ سوشل میڈیا پر شور کرتے ہیں،
نہ افسران کے سامنے اپنی مشکلات گنواتے ہیں،
نہ گھر والوں کو اپنی پریشانی بتاتے ہیں۔
بس وردی پہنتے ہیں،
ڈیوٹی پر جاتے ہیں،
اور واپس آ کر اگلی ڈیوٹی کا انتظار کرتے ہیں۔
کبھی کبھی ہمیں قیدی کی اصلاح کے ساتھ ساتھ
جیل کے محافظ کی حالت بھی دیکھنی چاہیے۔
کیونکہ تھکا ہوا، پریشان اور مسلسل دباؤ میں رہنے والا ملازم بھی ایک انسان ہے۔
اگر ہم جیلوں کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو صرف دیواریں اونچی کرنا کافی نہیں۔
جیل کے محافظ کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔
اسے مناسب نفری دینی ہوگی۔
اسے آرام دینا ہوگا۔
اسے بنیادی سہولیات دینا ہوں گی۔
اس کے مسائل سننے ہوں گے۔
اس کے خاندان کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔
کیونکہ جیل کی سلاخوں کے اندر قیدی نظر آتا ہے،
مگر ان سلاخوں کے باہر کھڑا محافظ اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔
میں جیل پولیس کا ایک ملازم ہوں۔
مجھے مار ڈالیے۔
مگر میرے مرنے سے پہلے ایک بار میری وردی کے اندر چھپے انسان کو ضرور دیکھ لیجیے۔
دیکھیے، اس کے چہرے پر کتنی تھکن ہے۔
اس کی آنکھوں میں کتنی نیند ہے۔
اس کے دل میں اپنے بچوں سے ملنے کی کتنی خواہش ہے۔
اور اس کے ذہن میں کتنے سوال ہیں۔
جیل کا محافظ بھی انسان ہے۔
اسے صرف ڈیوٹی، حکم اور ذمہ داری نہ سمجھیں۔
اسے بھی سہولت دیں،
اسے بھی عزت دیں،
اسے بھی آرام دیں،
اسے بھی جینے کا حق دیں۔
کیونکہ اگر ہم جیل کے محافظ کو ہی مسلسل تھکاتے، دباؤ میں رکھتے اور سہولیات سے محروم کرتے رہیں گے—
تو ایک دن شاید جیل کی دیواریں تو مضبوط رہیں…
مگر ان دیواروں کی حفاظت کرنے والا انسان اندر سے ٹوٹ جائے گا۔