01/06/2026
محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ (وزیراعلیٰ پنجاب)، جناب رانا عبد المنان خان صاحب (وزیر جیل خانہ جات پنجاب) اور جناب میاں فاروق نذیر صاحب (آئی جی پریزنز پنجاب) کی خدمت میں گزارش
محکمہ جیل خانہ جات پنجاب اس وقت کئی انتظامی اور مالی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ان میں سے ایک اہم مسئلہ Mutual Transfer Orders کی بندش ہے، جس کے باعث نہ صرف ملازمین مشکلات کا شکار ہیں بلکہ محکمہ کو بھی بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں باہمی تبادلوں (Mutual Transfers) کے ذریعے دو ملازمین اپنی باہمی رضامندی سے ایک دوسرے کی جگہ تعینات ہو جاتے تھے۔ اس عمل سے محکمہ پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑتا تھا کیونکہ دونوں ملازمین اپنی مرضی سے تبادلہ کرواتے تھے اور محکمانہ وسائل بھی کم استعمال ہوتے تھے۔
لیکن Mutual Orders کی بندش کے بعد صورتحال مختلف ہو چکی ہے۔ اب ہر ہفتے بڑی تعداد میں معمول کے تبادلوں کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں جن پر سرکاری خزانے سے TA/DA، سفری اخراجات اور دیگر انتظامی اخراجات ادا کیے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ سالانہ بنیادوں پر محکمہ کو کروڑوں روپے کے اضافی اخراجات میں مبتلا کر رہا ہے، جبکہ عملی طور پر کام وہی انجام دیا جا رہا ہوتا ہے۔ ایک وارڈر کی جگہ دوسرا وارڈر، ایک ہی نوعیت کی ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے، لہٰذا محکمہ کو اس سے کوئی نمایاں انتظامی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
مزید برآں، دور دراز اضلاع میں تعیناتی کے باعث ملازمین اپنے اہل خانہ سے دور رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ رہائش، سفر اور دیگر اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے جس سے ان کی معاشی اور ذہنی مشکلات بڑھتی ہیں۔ جب ملازمین مسلسل مالی اور خاندانی دباؤ کا شکار ہوں تو ان کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے، جس کا اثر بالآخر محکمہ پر پڑتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محکمہ کے بہت سے ملازمین پہلے ہی طویل ڈیوٹی اوقات، محدود آرام اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں Mutual Transfer کی سہولت نہ صرف ملازمین کے لیے آسانی پیدا کرے گی بلکہ محکمہ کے اخراجات میں بھی واضح کمی لائے گی۔
اگر ان غیر ضروری تبادلوں پر خرچ ہونے والے فنڈز کو بچایا جائے تو یہی رقم:
جیلوں کی بہتری اور مرمت پر خرچ کی جا سکتی ہے۔
سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
جدید آلات اور سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔
ملازمین کی فلاح و بہبود اور تربیت پر سرمایہ..