28/05/2026
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
وہ “لبیک” کہتے ہوئے آئے تھے…
رب نے انہیں “لبیک” کہتے ہوئے ہی بلا لیا۔
احرام میں آئے تھے، کفن بن گیا۔ حج کی
نیت سے نکلے تھے، شہادت مل گئی۔ دنیا سے عرفات کے میدان میں رخصت ہوئے — اس سے بڑی خوش نصیبی اور کیا ہوگی؟
رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص
حج کے لیے نکلے اور راستے میں اُس کا انتقال ہو جائے
، اُس کے لیے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جاتا رہے گا۔”
یہ سفید کفن… یہ سفید احرام… قیامت کے دن یہ
سب اسی حالت میں “لبیک” کہتے ہوئے اٹھائے جائیں گے۔
یا اللہ! عرفات میں وفات پانے والے
تمام حاجیوں کی مغفرت فرما۔ ان کے درجات بلند
فرما۔ اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرما۔ آمین۔