STS Pakistan

STS Pakistan On STS Pakistan🇵🇰 page you will find News,Vlog,IT and other important information.

15/07/2026

بلوچستان کی کہانی (قسط ون)

اگر کل صبح دنیا سے تمام کیڑے ختم ہو جائیں تو کیا ہوگا؟زیادہ تر لوگ جب کسی کیڑے کو دیکھتے ہیں تو پہلا خیال یہی آتا ہے کہ ...
14/07/2026

اگر کل صبح دنیا سے تمام کیڑے ختم ہو جائیں تو کیا ہوگا؟

زیادہ تر لوگ جب کسی کیڑے کو دیکھتے ہیں تو پہلا خیال یہی آتا ہے کہ اسے مار دینا چاہیے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ صرف نقصان پہنچاتے ہیں۔ مگر ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ کل صبح آپ کی آنکھ کھلے اور زمین پر ایک بھی کیڑا موجود نہ ہو۔

شروع کے چند دن شاید آپ کو خوشی ہو۔ نہ مچھر، نہ مکھی، نہ چیونٹیاں۔ لیکن پھر خاموشی سے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوگا جس کا انجام انسان کی اپنی بقا کے لیے خطرہ بن جائے گا۔

کھیتوں میں پھول تو کھلیں گے، مگر ان میں سے بے شمار پھل کبھی بن ہی نہیں پائیں گے، کیونکہ ان کی پولینیشن کرنے والے شہد کی مکھیاں، تتلیاں اور دوسرے حشرات موجود نہیں ہوں گے۔ فصلیں کم ہوں گی، پھلوں کی شدید قلت ہوگی اور بہت مہنگے ہوں گے اور خوراک کی قلت آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے لگے گی۔

جنگلات میں پرندوں کے گھونسلے خالی ہونے لگیں گے، کیونکہ ان کے بچوں کی پہلی خوراک ہی کیڑے ہوتے ہیں۔ مینڈک، چھپکلیاں، مچھلیاں اور بے شمار جانور بھوک سے مرنے لگیں گے۔ ایک چھوٹے سے جاندار کی غیر موجودگی پورے غذائی سلسلے کو توڑ دے گی۔

صرف یہی نہیں، مردہ پتے، جانوروں کی باقیات اور نامیاتی مادہ بھی پہلے کی طرح ختم نہیں ہوگا۔ بہت سے کیڑے قدرت کے صفائی کرنے والے ملازم ہیں۔ وہ زمین کو صاف رکھتے ہیں، غذائی اجزاء دوبارہ مٹی میں واپس پہنچاتے ہیں اور نئی زندگی کے لیے راستہ بناتے ہیں۔ ان کے بغیر زمین آہستہ آہستہ فضلے اور گلتے سڑتے مادوں کا ڈھیر بنتی جائے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی معلوم جاندار ہیں، ان میں نصف سے زیادہ صرف کیڑے ہیں۔ یعنی فطرت نے انہیں اتفاقاً نہیں بنایا، بلکہ زندگی کے پورے نظام میں ایک بنیادی کردار دیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نقصان دہ کیڑوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔ زرعی آفات، بیماری پھیلانے والے مچھر اور گھریلو نقصان دہ حشرات کا کنٹرول ضروری ہے۔ مگر ہر کیڑے کو دشمن سمجھ کر ختم کر دینا دانشمندی نہیں۔ قدرت کا ہر نظام توازن پر قائم ہے، اور جب انسان اس توازن کو سمجھے بغیر چھیڑتا ہے تو نقصان آخرکار اسی کو اٹھانا پڑتا ہے۔

اگلی بار جب آپ کسی چھوٹے سے کیڑے کو دیکھیں تو صرف یہ نہ سوچیں کہ یہ کتنا معمولی ہے۔ شاید وہ اس دنیا کے اس عظیم نظام کا ایک ایسا پرزہ ہو، جس کے بغیر انسان خود بھی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکے۔

فطرت کی سب سے بڑی طاقت اکثر وہی ہوتی ہے، جسے ہم سب سے چھوٹا سمجھتے ہیں۔

موضوع :- محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار بیٹیوں کا ثبوت قرآن و احادیث کی روشنی میں ۔۔ازقلم :- سید توصیف شاہ ملعونوں ...
13/07/2026

موضوع :- محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار بیٹیوں کا ثبوت قرآن و احادیث کی روشنی میں ۔۔
ازقلم :- سید توصیف شاہ

ملعونوں کا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کی تعداد پر اعتراض کہ 25 سال کی عمر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شادی ہوئی، چارسال تک آپ کو کوئی اولاد نہیں ہوئی ، 29 سال میں پہلی اولاد قاسم پیدا ہوئی جس سے آپ ابوالقاسم مشہور ہوئے ۔ 40 سال میں نبوت ملی اور نبوت سے 5 سال پہلے 3 بیٹیوں کی شادی کردی تھی ۔ اتنا بیان کرنے کے بعدپھر یہ ملعون ریاضیات کے حساب سے نبی ﷺ کی بیٹیوں کی پیدائش اور نکاح کا حساب لگاتے ہیں کہ شادی اورنبوت میں 15 سال کا فاصلہ ہے ۔ 4 سال تک کوئی اولاد نہیں ،اگر پندرہ میں سے چار سال نکال دئے تو بچے 11 سال ۔ نبوت سے 5 سال پہلے ہی تین بیٹیوں کا نکاح ہوچکا تھا، اس وجہ سے 11 میں سے 5 نکال دئے تو اولاد کی پیدائش اور نکاح کا وقفہ بنا صرف 6 سال ، پھر کہتے ہے کہ عمریں پوری کرو۔ 6 سال میں بچے بھی پیداہوگئے ، جوان بھی ہوگئے اور شادی بھی ہوگئی ۔ یہ ہے شیعہ کذاب کا علم ریاضیات سے سیرت نبی اور بنات رسول اللہ پر حملہ ۔

"جواب"
مذکورہ بیان میں تاریخی حقائق کو گڈ مڈ کر کے ایک ایسا ریاضیاتی تضاد پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو نہ تو اسلامی تاریخ سے ثابت ہے اور نہ ہی عقل و منطق پر پورا اترتا ہے۔ اس اعتراض کا مکمل علمی، تاریخی اور ریاضیاتی جواب درج ذیل ہے: -اس پورے اعتراض کی بنیاد دو انتہائی کمزور اور تاریخی طور پر غیر مستند باتوں پر رکھی گئی ہے۔
پہلا مغالطہ: یہ دعویٰ کہ نبی کریم ﷺ کی تینوں صاحبزادیوں (حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہم) کا نکاح اعلانِ نبوت سے 5 سال پہلے ہو چکا تھا۔

دوسرا مغالطہ: یہ فرض کر لینا کہ تمام بیٹیوں کی پیدائش حضرت قاسم کے بعد (یعنی شادی کے 4 سال بعد) صرف اسی 6 سال کے عرصے میں ہوئی۔

جب بنیاد ہی غلط اور متنازع اقوال پر رکھی جائے، تو اس سے نکلنے والا ریاضی کا نتیجہ بھی ظاہر ہے کہ مضحکہ خیز ہی نکلے گا۔
اگر ہم قرآن، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور معتبر تاریخی روایات کا مطالعہ کریں، تو بیٹیوں کی پیدائش اور ان کے نکاح کا شیڈول بالکل واضح اور منطقی نظر آتا ہے

1:- "قرآن"

ہمارے لئے اللہ کے کلام میں کسی چیز کا ذکر اور فرمان رسول میں اس کا تذکرہ ہی کافی ہے ۔

١:- اللہ کا فرمان ہے
يا أيها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن ذلك أدنى أن يعرفن فلا يؤذين وكان الله غفورا رحيما(الأحزاب :59)
ترجمہ:اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں یہ بات اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اوراللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے بنات کا لفظ ذکر کیا ہے جو ایک سے زائد پر بولا جاتا ہے ، گویا قرآن کی آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کی ایک سے زائد بیٹیاں تھیں ، صرف فاطمہ ہی اکیلی بیٹی نہیں ہے بلکہ زینب ، رقیہ اور ام کلثوم بھی آپ کی بیٹیاں ہیں۔

٢:- سورہ لہب سے دلیل

اعلانِ نبوت سے کچھ عرصہ پہلے، جب رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک تقریباً 38 یا 39 سال تھی، تو مکہ کے اس وقت کے خاندانی رواج کے مطابق آپ ﷺ کی دو کم عمر صاحبزادیوں، حضرت رقیہؓ (عمر 5 سے 7 سال) اور حضرت ام کلثومؓ (عمر 4 سے 5 سال) کا ابو لہب کے دو بیٹوں (عتبہ اور عتیبہ) سے صرف عقد (بچپن کا نکاح/منگنی) ہوئی تھی۔اب یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ قدیم عرب معاشرے میں یہ ایک عام اور معروف رواج تھا کہ خاندان کے بڑے بچوں کے بچپن میں ہی آپس میں رشتے یا نکاح (عقد) طے کر دیتے تھے، جبکہ لڑکی کی رخصتی اس کے بالغ ہونے پر (عام طور پر 13 سے 15 سال کی عمر میں) کی جاتی تھی۔ چونکہ صاحبزادیاں ابھی بہت چھوٹی تھیں، اس لیے ان کی رخصتی بالکل نہیں ہوئی تھی اور وہ اپنے والدین (حضور ﷺ اور حضرت خدیجہؓ) کے گھر ہی میں مقیم تھیں۔
(مستند حوالہ: امام ابن سعد کی الطبقات الکبریٰ (جلد 8، صفحہ 36) اور علامہ حلبی کی السیرۃ الحلبیہ (جلد 1، صفحہ 441) میں صراحت ہے کہ یہ عقد نبوت سے پہلے ہوا تھا اور ان کی رخصتی نہیں ہوئی تھی )

اعلانِ نبوت کے ابتدائی تین سال دعوت کا کام خفیہ رہا۔ نبوت کے تیسرے سال جب اللہ کے حکم پر رسول اللہ ﷺ نے مکہ کی پہاڑی (کوہِ صفا) پر کھڑے ہو کر علانیہ دعوتِ اسلام کا آغاز کیا، تو آپ ﷺ کا سگا چچا ابو لہب شدید غصے میں آ گیا اور بدزبانی کرنے لگا۔ ابو لہب کی اس گستاخی اور سرکشی پر اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پوری سورت سورہ اللَّهَب نازل فرمائی، جس میں ابو لہب اور اس کی بیوی پر لعنت کی گئی اور ان کے جہنمی ہونے کا اعلان کیا گیا۔
(مستند حوالہ: صحیح بخاری (حدیث نمبر: 4971، کتاب التفسیر) میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ سورت نبوت کے تیسرے سال کوہِ صفا کے واقعے کے فوراً بعد نازل ہوئی۔)

جب سورہ لہب نازل ہوئی اور مکہ کی گلیوں میں پڑھی جانے لگی، تو ابو لہب اور اس کی بیوی (ام جمیل) غصے اور حسد سے پاگل ہو گئے۔ انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کو بلا کر کہا: "اگر تم نے محمد (ﷺ) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دی، تو میرا تم سے باپ بیٹے کا رشتہ ختم۔ باپ کے اس دباؤ اور مکہ کے کافروں کی طرف سے حضور ﷺ پر معاشرتی دباؤ ڈالنے کی سازش کے تحت ان دونوں بیٹوں نے حضور ﷺ کی دونوں صاحبزادیوں کو رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے کر رشتہ ختم کر دیا۔
(مستند حوالہ: امام بیہقی کی دلائل النبوۃ (جلد 2، صفحہ 338) اور حافظ ابن حجر عسقلانی کی الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (جلد 8، صفحہ 138) میں پوری تفصیل درج ہے کہ سورہ لہب کے نزول کے غصے میں انہوں نے رخصتی سے قبل ہی طلاق دی۔)

قرآن کی اس سورہ لہب، مستند تاریخ اور عرب کے اس رواج نے ملعونوں کے جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا۔ معلونوں کا دعویٰ تھا کہ "نبوت سے 5 سال پہلے شادیاں (بمعہ رخصتی) ہو چکی تھیں اور سب کچھ 6 سال میں ہو گیا"۔
اگر معلونوں کا اعتراض سچا ہوتا اور رخصتی نبوت سے 5 سال پہلے ہو چکی ہوتی، تو نبوت کے تیسرے سال (یعنی شادی کے پورے 8 سال بعد) وہ لڑکیاں ابو لہب کے گھروں میں آباد اور بچوں والی ہو چکی ہوتیں۔ لیکن تاریخ اور قرآن گواہ ہیں کہ طلاق "رخصتی سے پہلے" ہوئی، کیونکہ وہ صرف بچپن کا ایک عقد تھا جو مکے کے رواج کے مطابق ہوا تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ پیدائش حضور ﷺ کی شادی کے فوراً بعد کے سالوں میں ہوئی تھی ۔

2:-احادیث مبارکہ سے دلیل

فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جابجا زینب بنت رسول اللہ ، رقیہ بنت رسول اللہ ، ام کلثوم بنت رسول اللہ کا ذکر آیا ہے۔

١ :- (صحیح بخاری:1258)
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا، أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ.

ترجمہ: حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیوں میں سے ایک صاحبزادی فوت ہوگئی تو آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا:اسے تین بار یا پانچ بار اوراگر مناسب خیال کرو تو اس سے زیادہ بارغسل دو۔
اس حدیث میں بنات النبی کا لفظ آیا ہے جو ایک سے زائد بیٹیوں پر بولا جاتا ہےیعنی نبی ﷺ کی ایک سے زائد بیٹیاں تھیں۔

٢ :- (صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 516)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلِأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا".

ترجمہ :- ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے عامر بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے عمرو بن سلیم زرقی سے، انہوں نے ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامہ بنت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بعض اوقات) نماز پڑھتے وقت اٹھائے ہوتے تھے۔ ابوالعاص بن ربیعہ بن عبدشمس کی حدیث میں ہے کہ سجدہ میں جاتے تو اتار دیتے اور جب قیام فرماتے تو اٹھا لیتے۔
اس حدیٹ میں حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی حضرت امامہ کا ذکر آیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کندھے پر اٹھاتے تھے۔

٣ :- دوسری بیٹی حضرت رقیہؓ کا ثبوت
[صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3130]
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَوْهَبٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّمَا تَغَيَّبَ عُثْمَانُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ".
ترجمہ :- ہم سے موسیٰ بن اسمعٰیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن موہب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا بدر میں شریک ہونے والے کسی شخص کو ‘ اور اتنا ہی حصہ بھی ملے گا۔

٤ :- تیسری بیٹی حضرت ام کلثومؓ اور لقب 'ذوالنورین' کا ثبوت
(سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 110)
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِى الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقِيَ عُثْمَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا عُثْمَانُ" هَذَا جِبْرِيلُ، أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَكَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِمِثْلِ صَدَاقِ رُقَيَّةَ، عَلَى مِثْلِ صُحْبَتِهَا".
ترجمہ :- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے دروازے پر ملے، اور فرمایا: ”عثمان! یہ جبرائیل ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شادی ام کلثوم سے رقیہ کے مہر مثل پر کر دی ہے، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے (رقیہ کو) رکھتے تھے۔

٥ :- چوتھی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہراؓ کا ثبوت
سیدہ فاطمہؓ کا تذکرہ تو صحاح ستہ میں کثرت سے ہے۔ مگر ثبوت کے طور پر ایک حدیٹ بیان کررہا ہوں، جس میں حضور ﷺ نے اپنی وفات کے وقت ان سے سرگوشی کرتے ہوئے فرمایا تھا:
صحیح بخاری، حدیث: 6285
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ، قَالَتْ: إِنَّا كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ جَمِيعًا لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام تَمْشِي لَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ، قَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا، فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ، فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ، فَقُلْتُ لَهَا: أَنَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّكِ، قَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ لَهَا: عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ، لَمَّا أَخْبَرْتِنِي. قَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ، فَأَخْبَرَتْنِي، قَالَتْ: أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْأَمْرِ الْأَوَّلِ،" فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ، وَلَا أَرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ، قَالَتْ: فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ، قَالَ: يَا فَاطِمَةُ، أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
ترجمہ :- ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح نے، کہا ہم سے فراس بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے، ان سے مسروق نے کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ تمام ازواج مطہرات (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، کوئی وہاں سے نہیں ہٹا تھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہیں تھی (بلکہ بہت ہی مشابہ تھی) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا۔ فرمایا بیٹی! مرحبا! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا کہ ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال مجھ سے انہوں نے دو مرتبہ دور کیا اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تمہارے لیے ایک اچھا آگے جانے والا ہوں“ بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی، فرمایا ”فاطمہ بیٹی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا (فرمایا کہ) اس امت کی عورتوں کی سردار ہوگی۔

صحاح ستہ کی ان چاروں الگ الگ احادیث نے ثابت کر دیا کہ بناتِ رسول کا چار ہونا کوئی بعد کی گھڑی ہوئی کہانی نہیں، بلکہ قرآن اور احادیث سے ثابت شدہ سچائی ہے۔

3:- ریاضیات کے حساب سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادیوں کی عمریں، پیدائش اور شادیاں (عقد) کب ہوئیں؟ اسے بالکل آسان اور واضح ترتیب سے سمجھتے ہیں تاکہ معلونوں کا دوسرا مفروضہ بھی جھوٹا ثابت ہو جائے:

رسول اللہ ﷺ اور حضرت خدیجہؓ کی شادی مبارک 25 سال کی عمر میں ہوئی۔ نبوت آپ ﷺ کو 40 سال کی عمر میں ملی۔ یعنی شادی سے لے کر نبوت کے درمیان پورے 15 سال کا طویل عرصہ موجود ہے۔
مستند تاریخ کے مطابق اس 15 سال کے عرصے میں صاحبزادیوں کی پیدائش اور عمروں کا حساب درج ذیل ہے:

١ :- حضرت زینب رضی اللہ عنہا (سب سے بڑی بیٹی)
پیدائش: یہ حضور ﷺ کی شادی کے 5ویں سال پیدا ہوئیں، جب آپ ﷺ کی عمر مبارک 30 سال تھی۔

عقد (نکاح): نبوت سے قبل ان کا عقد ان کے خالہ زاد بھائی ابوالعاص بن ربیع سے ہوا (جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے) اس وقت حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا ان کی عمر تقریباً 9 سے 10 سال تھی، اور رخصتی نبوت کے آس پاس (بلوغت کے بعد) ہوئی۔

٢ :- حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا (دوسری بیٹی)
پیدائش: یہ حضور ﷺ کی عمر مبارک کے 33ویں سال پیدا ہوئیں (یعنی نبوت سے 7 سال پہلے)۔
عقد (نکاح): نبوت سے بالکل کچھ عرصہ پہلے (تقریباً 1 یا 2 سال قبل) مکہ کے رواج کے مطابق ان کا صرف عقد (بچپن کا نکاح) ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے ہوا، رخصتی نہیں ہوئی۔
عقد کے وقت ان کی عمر 5 سے 6 سال تھی (جو عرب کے رواج کے مطابق صرف رشتہ طے ہونا تھا)۔ نبوت کے تیسرے سال جب طلاق ہوئی، تو ان کی عمر 10 سال تھی اور وہ اسوقت گھر ہی میں تھیں، بعد میں حضرت عثمانؓ سے ان کی باقاعدہ شادی اور رخصتی ہوئی۔

٣ :- حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا (تیسری بیٹی)
پیدائش: یہ حضور ﷺ کی عمر مبارک کے 34ویں سال پیدا ہوئیں (یعنی نبوت سے 6 سال پہلے)۔
عقد (نکاح): ان کا عقد بھی نبوت سے کچھ عرصہ پہلے ابو لہب کے دوسرے بیٹے عتیبہ سے ہوا، رخصتی ان کی بھی نہیں ہوئی تھی۔
عقد کے وقت ان کی عمر 4 سے 5 سال تھی۔ نبوت کے تیسرے سال طلاق کے وقت ان کی عمر 9 سال تھی اور یہ اسوقت گھر ہی میں تھیں، بعد میں ان کی بھی حضرت عثمانؓ باقاعدہ شادی اور رخصتی ہوئی۔

٤:- سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا (سب سے چھوٹی بیٹی)
پیدائش: مستند ترین تاریخی روایات کے مطابق سیدہ فاطمہؓ کی پیدائش نبوت سے 5 سال پہلے ہوئی، جب قریش مکہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کر رہے تھے اور حضور ﷺ کی عمر 35 سال تھی۔

شادی و رخصتی: ان کا نکاح اور رخصتی مکہ میں نہیں بلکہ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں 2 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی، جب ان کی عمر مبارک تقریباً 18 سے 19 سال تھی۔
چھ سال کا فسانہ کیسے ٹوٹا؟ شادی سے نبوت تک کا عرصہ6 سال نہیں بلکہ15 سال ہے۔ اس 15 سال کے طویل عرصے میں بچیاں پیدا بھی ہوئیں، 10 سال کی عمر تک پہنچیں اور مکہ کے رواج کے مطابق ان کے بچپن کے عقد بھی ہوئے۔
لہذا، تاریخ کی درست ریاضی یہ ثابت کرتی ہے کہ بناتِ رسول کا چار ہونا ایک اٹل حقیقت ہے اور معترض کا فرضی اعتراض صرف اور صرف تاریخ کی تواریخ کو آگے پیچھے کر کے پیدا کی گئی ایک علمی بددیانتی ہے۔

موضوع حدیث نمبر 2812 (بخاری شریف) حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کا قاتل کون ؟ازقلم :- سید توصیف شاہ جواب :- صیح ب...
08/07/2026

موضوع حدیث نمبر 2812 (بخاری شریف)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کا قاتل کون ؟
ازقلم :- سید توصیف شاہ

جواب :-
صیح بخاری کی حدیث نمبر 2812 کے الفاظ ۔۔۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ لَهُ وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ، فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ، فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ، فَاحْتَبَى وَجَلَسَ، فَقَالَ: كُنَّا نَنْقُلُ لَبِنَ المَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسَحَ عَنْ رَأْسِهِ الغُبَارَ، وَقَالَ: «وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الفِئَةُ البَاغِيَةُ، عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ»

ترجمہ:- حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے حضرت عکرمہ اور اپنے صاحبزادے علی بن عبداللہ سے فرمایا کہ تم دونوں ابو سعید ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے حدیث سنو، چنانچہ وہ دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ وہ(حضرت ابو سعید خدری ؓ ) اور ان کے بھائی اپنے باغ کو پانی دے رہے تھے، جب انھوں نے ہمیں دیکھا تو تشریف لائے اور اپنی چادر لپیٹ کر بیٹھ گئے، اس کے بعد فرمایا کہ ہم مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے ایک ایک اینٹ اٹھا کر لارہے تھے جبکہ حضرت عمار بن یاسر ؓ دو، اینٹیں اٹھا کر لارہے تھے۔ اچانک نبی کریم ﷺ کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو آپ نے ان کے سر سے غبار جھاڑتے ہوئے فرمایا: ’’افسوس!عمار( رضي اللہ تعالیٰ عنه) کوا یک باغی گروہ قتل کرے گا۔ عمار انھیں اللہ کی طرف دعوت دیں گے اور وہ انھیں آگ کی طرف بلائیں گے۔‘‘

اب اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد گستاخ صحابہ والے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی گستاخی کرتے ہیں جو کہ سراسر گناہ ہے اور آج اس حدیث کی مکمل وضاحت بیان کرنے کا مقصد لوگوں کو گمراہی کے راستے سے واپس لانا ہے ۔

وضاحت نمبر ون :-
باغی گروہ سے مراد وہ خارجی عناصر ہیں جو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ دونوں کے لشکر میں شامل تھے انھوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کیا لہذا وہ خارجی گروہ باغی ہوا وہ خارجی گروہ جہنمی ہوا اور واقعہ تحکیم کے بعد جن لوگوں نے صلح کو مسترد کیا انھیں خارجی گروہ کہا گیا ۔۔
اب یہاں سوال یہ آتا ہے کہ واقعہ تحکیم کیا ہے ؟
جنگ صفین کے بعد جب امیر معاویہ و علی رضی اللہ عنھم کے درمیان صلح ہوئی تو امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے عبداللہ بن عمرو بن العاص اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے صلح کی شرائط طے کر نے کے لیے، اس وقت خوارج اور باغی جو دونوں گروہوں میں چھپے ہوئے تھے وہ علی الاعلان سامنے آئیں اور کہا کہ علی و معاویہ رضی اللہ تعالی عنہھم دونوں قران کی آیت کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے یہ دونوں دائرہ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں اب یہ دونوں خلیفہ نہیں رہے ،اب مسلمانوں کو نیا خلیفہ چن لینا چاہیے۔
چونکہ علی ومعاویہ رضی اللہ تعالی عنہھم نے ایک ایک نائب( حَکم) برائے ( فیصلہ و تحکیم و ثالثی ) مقرر کیا تھا اسی لیے اس واقعے کو تحکیم کہتے ہیں۔۔۔
ان خوارج اور باغیوں کے خلاف حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ کی اور ان سب کو واصل جہنم کیا۔
اب جس شخص نے عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کیا اس کا نام ابو غادیہ ہے۔

وضاحت نمبر 2:-
اب جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ تک یہ اطلاع پہنچی کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہوگئے ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل کا بدلہ کیوں نہیں لیا ؟ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا سارا کا سارا گروہ سمیت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نعوذبااللہ باغی گروہ ہوچکا تھا تو پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ بندی کیوں کی بلکہ وہ اس باغی گروہ سے لڑتے اور عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کا بدلہ لیتے یہ تو پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں کمی کی بات ہوئی کہ آج چودہ سو سال بعد کے مسلمانوں کو پتا چل گیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی باغی گروہ ہیں (نعوذباللہ) مگر نعوذبااللہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اس بات کا پتا ہی نہیں تھا حالانکہ اس سے پیچھے جاۓ جنگ نہروان ہوئی تھی اور عبداللہ بن راسبی اور عبداللہ بن وہب راسبی نام کے جو خارجی لوگ تھے جنھوں نے واقعہ تحکیم میں بغاوت کی تھی ان سب خارجیوں کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جنگ نہروان میں واصل جہنم کیا تھا اور یہاں جنگ بندی کر دی تھی لہذا اس سے بھی یہ ثابت ہوا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کا سارا کا سارا گروہ باغی گروہ نہیں تھا ۔

وضاحت نمبر3:-
سورہ الخجرات آیت نمبر نو
وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ-فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِۚ-فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ۔
ترجمہ:-
اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو بےشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں۔
شان نزول:-
ایک مرتبہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دراز گوش پر سوار ہو کر تشریف لے جارہے تھے ،اس دوران انصار کی مجلس کے پاس سے گزرہوا تووہاں تھوڑی دیر ٹھہرے ، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو عبداللہ بن اُبی نے ناک بند کرلی۔یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے۔ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تو تشریف لے گئے لیکن ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑپڑیں اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی، صورتِ حال معلوم ہونے پر سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرادی، اس معاملے کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
اب اس آیت کی روح سے اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دی جاۓ اور اگر جو گروہ صلح کو تسلیم نہ کرے اور ظلم و زیادتی کرے تو وہ گروہ باغی گروہ ہوگا لہذا اس کے خلاف لڑا جاۓ اور جنگ صفین کے موقع پر دو جماعتوں نے قتال کیا اور پھر ان کے درمیان تحکیم کا واقعہ پیش آیا، اب جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان صلح ہوگئی تو یہ دونوں گروہ قرآن کی آیت کے مطابق مومنین ہیں البتہ صلح کو مسترد کرنے والی جماعت کو باغی قرار دیا گیا ہے اور واقعہ تحکیم کے بعد جن لوگوں نے صلح کو مسترد کیا انھیں خوارج کہا جاتا ہے اور قرآن کی اس آیت کے مطابق وہ ہی باغی ہیں ۔
اب یہاں اس حدیث سے مراد وہ باغی گروہ ہے جنھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان جنگ کرواہی جنہیں خوارجی گروہ بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔
(جاری)

29/06/2026

Address

Abbottabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when STS Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to STS Pakistan:

Shortcuts

Share