Al Munir Media

Al Munir Media اللہ اور پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغام کو لو?

04/09/2026

*یا ترا تذکرہ کرے ہر شخص*
*یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے*

صلی اللہ علیہ وسلم 😭

01/07/2026

مالی مشکلات کے شکار شخص سے مشورہ لینا یا دینی رہنمائی حاصل کرنا

قال الشافعي رحمه الله۔۔۔
لا تستشر من ليس في بيته دقيق لأنه مدلّه العقل.

جس کے گھر میں آٹا نہ ہو ۔۔اس سے مشورہ نہ لیا کرو ۔۔۔کیونکہ فقر و فاقہ ( اکثر لوگوں کی) نظر و فکر دونوں کو معطل کر دیتی ہے ۔۔۔

یعنی جس شخص کی بنیادی ضروریات زندگی بآسانی پوری نہ ہوتی ہو۔۔۔اس کی عقل و شعور اس پریشانی میں مشغول رہتی ہے ۔۔۔

اور وہ درست ۔۔۔مشورہ نہیں دے سکتا ۔۔۔
اسی طرح۔۔۔جس معلم اور مدرس کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے ۔۔۔۔معقول تنخواہ نہ ملتی ہو ۔۔۔وہ کھبی بھی درس و تدریس کا حق ادا نہیں کر سکتا ۔۔۔۔

اس طرح تنگدستی کا شکار پیش امام بھی مسجد میں صرف وقت گزاری کرے گا ۔۔۔۔

سلف صالحین حلال مال و دولت کو دین پر عمل کرنے کا مضبوط سہارا خیال کرتے تھے ۔۔۔
عبدان روایت کرتے ہیں۔۔۔۔

میں عبداللہ بن المبارک کے پاس گیا، وہ رو رہے تھے۔ میں نے کہا۔۔۔۔

اے ابا عبدالرحمٰن! آپ کو کیا ہوا؟

فرمایا: “میرا کچھ مال ضائع ہوگیا ہے۔”

میں نے تعجب سے پوچھا: “کیا آپ مال کے ضائع ہونے پر رو رہے ہیں؟”

انہوں نے جواب دیا: “یہ مال ہی تو میرے دین کا سہارا تھا۔
عن عبدان قال: دخلت على عبد الله بن المبارك، وهو يبكي، فقلت له: ما لك، يا أبا عبد الرحمن؟ قال: بضاعة لي ذهبت، قال: فقلت: أو تبكي على المال؟ قال: إنما هو قوام ديني.

قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کو قوام الحياة یعنی زندگی کا سہارا قرار دیا ہے ۔۔۔

لہذا اس سہارا کو کسی بھی صورت میں کمزور نہیں ہونے دینا ہے ۔۔۔۔

جتنا یہ سہارا مضبوط ہوگا اتنی ہی زندگی آرام و سکون کے ساتھ گزری گی ۔۔۔۔

سعید اشبالی

07/02/2026

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“دعا اس صورت میں نفع دیتی ہے جب تقدیر کا حکم نازل نہ ہوا ہو۔ آزمائش اور دعا آسمان و زمین کے درمیان ایک دوسرے سے ملتی ہیں، پھر قیامت کے دن تک ایک دوسرے سے جھگڑتی رہتی ہیں۔”

📖 حوالہ: مجمع الزوائد، حدیث نمبر: 17194

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے دعا کی طاقت اور اس کے اثر کو نہایت گہرے انداز میں بیان فرمایا ہے۔ دعا محض ایک گزارش نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے دی گئی ایسی قوت ہے جو آنے والی آزمائشوں کے مقابل کھڑی ہو جاتی ہے۔ بہت سی بلائیں اور مصیبتیں ایسی ہوتی ہیں جو ابھی فیصلۂ الٰہی کے درجے تک نہیں پہنچتیں، ان کے مقابلے میں دعا ڈھال بن جاتی ہے۔

مثال کے طور پر کوئی شخص کسی مشکل، بیماری یا نقصان کے قریب ہوتا ہے، مگر وہ پہلے ہی سے اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کرتا رہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس دعا کے سبب اس آزمائش کو ٹال دیتے ہیں یا اس کی شدت کم فرما دیتے ہیں، اور یوں بندہ یہ بھی نہیں جان پاتا کہ وہ کس مصیبت سے بچا لیا گیا۔

اسی طرح مثال کے طور پر ایک انسان کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے، دعا کرتا ہے اور ساتھ ہی آزمائش آتی ہے، تو دعا اس آزمائش سے ٹکرا جاتی ہے۔ کبھی آزمائش غالب آتی ہے، کبھی دعا غالب ہو جاتی ہے، مگر بندے کے حق میں نتیجہ ہمیشہ خیر ہی کا ہوتا ہے، چاہے وہ ظاہری طور پر سمجھ آئے یا نہ آئے۔

یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دعا کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ دعا تقدیر کے دروازے پر دستک ہے۔ مومن کا کام دعا کرنا ہے، فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ جو شخص دعا کو نہیں چھوڑتا، وہ دراصل اللہ کی رحمت کے ساتھ جڑا رہتا ہے، اور یہی تعلق بندے کے لیے دنیا و آخرت میں سب سے بڑی حفاظت ہے۔

Address

Street No #3
Abbottabad
22010

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Munir Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Munir Media:

Shortcuts

Share

Category