07/05/2026
وہ ساڈھے تین سو کروڑ سے زیادہ روپے کا مالک بنا لیکن کچھ ہی عرصے بعد پیٹ پالنے کے لیے کچرا اٹھانے کی نوکری کر رہا تھا۔۔۔
میں ذکر کر رہا ہوں۔۔۔ مائکل کارول کا۔۔ جو کہ برطانیہ میں ایک ویسٹ کلیکٹر(کچرا اٹھانے والا) تھا۔۔۔ پھر 2002 میں اس نے برطانیہ کی سب سے بڑی نیشنل لاٹری جیتی جس کی مالیت نو عشاریہ سات ملین پاؤنڈ، یعنی ستانوے لاکھ پاؤنڈ تھی۔۔پاکستانی روپے میں دیکھا جائے تو تقر یباً 365 کروڑ روپے سے زائد۔۔۔!! یہ اتنی بڑی رقم تھی کہ تھوڑی سی دانشمندی سے استعمال کرنے پر ، درست جگہ پر لگا کر وہ اگلی ساری زندگی بہترین لگژری لائف سٹائل کے ساتھ گزار سکتا تھا۔۔اور جنریشنل ویلتھ چھوڑ کر مرتا۔۔۔ لیکن آٹھ سال بعد صرف آٹھ سال بعد ہی 2010 میں وہ مکمل طور پر کنگلا ہو کر واپس کچرا اٹھانے کی جاب پر چلا گیا۔۔۔ اس پر ایک ڈاکیومنٹری بھی موجود ہے۔۔۔
یہاں یہ بتانے کا مقصد کہ میں بار بار فنانشل لیٹریسی پر اور مائنڈ سیٹ پر لکھتا ہوں کہ فنانشل فریڈم کے لیے آپکو پیسے کو سمجھنا، پیسے کو چلانا آنا، منی مینجمنٹ کو سمجھنا ضروری ہے۔۔۔ ورنہ کروڑوں بھی اگر ایک دم سے ہاتھ میں تھما دیے جائیں تو آپکو سمجھ ہی نہیں آئے گی اب کرنا کیا اپ سب سے پہلے لائف سٹائل انفلیشن کا شکار ہوں گے اور سب اجاڑ کر بیٹھ جائیں گے۔۔۔!!
ایک غریب "مائنڈ سیٹ" کے بندے کو آپ آج دس کروڑ تھما دیں چند سال میں وہ واپس زیرو پر کھڑا ہوگا۔۔۔
جیسے آج کئی نوجوان یہ خواب دیکھتے ہوں گے کہ اچانک کہیں سے بہت سارا پیسہ آ جائے کوئی لاٹری لگ جائے، کوئی پیسوں کا بھرا بیگ مل جائے تو بس قسمت کھل جائے ، وارے نیارے ہو جائیں۔۔۔نہیں ہوں گے بھائی۔۔!! اگر ایسا کوئی جگاڈ لگ بھی گیا تو بھی قسمت نہیں کھلنے والی۔۔۔
آپ وہ ہی بنیں گے۔۔ آپ وہ ہی رہیں گے جیسی آپ کی سوچ ہے ، جیسا آپکا مائنڈ سیٹ ہے۔۔۔ لہٰذا اپنے مائنڈ سیٹ پر کام کیجیے۔۔معاشی خواندگی حاصل کیجئے ۔۔۔ اپنا علم۔۔ اپنے وزڈم پر کام کیجئے ۔۔۔ جب یہ ہو جائے گا تو پیسہ بھی آ جائے گا۔۔۔آپ خود ہی کما لیں گے۔۔۔ لیکن اگر فنانشل لیٹریسی اور درست مائنڈ سیٹ کے بغیر دس بیس کروڑ تو کیا سو کروڑ بھی اکٹھا ہاتھ میں آ جائے تو وہ رہے گا نہیں۔۔۔ چند سالوں میں واپس گھوم کر انہیں ہاتھوں میں چلا جائے گا جنہیں پیسے کی سمجھ ہے پیسہ کمانا، بچانا، سنمبھالنا اور لگانا آتا ہے۔۔۔!!
تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز
انٹرپرینیور | بزنس کنسلنٹ | ایف پی اے پروفیشنل