03/05/2026
*موضوع: اٹھارہ سال سے کم عمر شادی پر پابندی کا بل غیر شرعی ہے*
1. *شریعت میں عمر کی قید نہیں، بلوغت شرط ہے*
قرآن و سنت میں نکاح کے لیے کوئی خاص عمر مقرر نہیں۔ فقہ کی تمام کتب میں نکاح کی بنیادی شرط "بلوغت" ہے۔ جب لڑکا یا لڑکی بالغ ہو جائے اور نکاح کے قابل ہو جائے تو شریعت نے اسے حق دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہؓ سے نکاح فرمایا جب وہ 6 سال کی تھیں اور رخصتی 9 سال کی عمر میں ہوئی۔ بخاری 5134۔ اگر 18 سال سے کم شادی غیر شرعی ہوتی تو نبی کریم ﷺ کا عمل کیا کہلائے گا؟
2. *بلوغت کے بعد نکاح میں تاخیر معاشرتی بگاڑ کا سبب ہے*
آج زنا، بے حیائی اور حرام تعلقات عام ہیں۔ اس کی بڑی وجہ نکاح کو مشکل بنانا ہے۔ جب شریعت نے بالغ کو نکاح کا حق دیا تو ریاست کس اختیار سے روک رہی ہے؟ اللہ کا حکم ہے: `وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ` - اپنے بے نکاح لوگوں کا نکاح کراؤ۔ النور: 32۔ ریاست کا کام نکاح آسان بنانا ہے، نہ کہ عمر کی پابندی لگا کر گناہ کا دروازہ کھولنا۔
3. *یہ بل مغربی دباؤ کا نتیجہ ہے، اسلامی نہیں*
18 سال کی قید اقوام متحدہ اور NGOs کا ایجنڈا ہے۔ پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا۔ آرٹیکل 227۔ جب قرآن و سنت میں عمر کی قید نہیں تو پارلیمنٹ کو کس نے حق دیا کہ وہ اللہ کے حلال کو حرام کر دے؟ یہ براہ راست شریعت میں مداخلت ہے۔ترجمان تحریک لبیک پاکستان ضلع ایبٹ آباد
4. *فقہاء کا اجماع*
چاروں فقہ کے امام - امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل - سب کا اس پر اتفاق ہے کہ بالغ لڑکی کا نکاح ولی کی اجازت سے ہو سکتا ہے، عمر کی کوئی قید نہیں۔ پھر آج کے حکمران کس فقہ پر چل رہے ہیں؟ ترجمان تحریک لبیک پاکستان ضلع ایبٹ آباد
5. *عملی نقصان*
دیہات میں آج بھی بلوغت کے فوراً بعد شادی ہوتی ہے۔ اس بل کے بعد لاکھوں نکاح "غیر قانونی" قرار پائیں گے۔ کیا ریاست ہر گھر میں پولیس بھیجے گی؟ اس سے عدالتی بوجھ، رشوت اور بچوں کے نسب کے مسائل پیدا ہوں گے۔ترجمان تحریک لبیک پاکستان ضلع ایبٹ آباد
*مطالبہ:*
اس غیر شرعی بل کو فوراً واپس لیا جائے۔ نکاح کے لیے شریعت کی شرط "بلوغت اور رضامندی" ہے، اسے ہی قانون بنایا جائے۔ ریاست کا کام اللہ کا قانون نافذ کرنا ہے، اسے بدلنا نہیں۔ترجمان تحریک لبیک پاکستان ضلع ایبٹ آباد علامہ عتیق الرحمان فاروقی