22/06/2026
ایک ننھی سی بچی جس کا نام منتہی ہے گھر سے کوئی سامان لینے کے لیے قریبی دکان پر گئی اور کسی درندے کے ہاتھوں یہ معصوم کلی ہمیشہ کے لیے مسل دی گئی، جس کی آنکھوں میں خواب تھے، جس کے ہاتھوں میں ابھی کھلونے ہونے چاہیے تھے، وہ آج خاموش ہے۔ اس کی خاموشی ہم سب سے ایک سوال کر کہ رہی ہے کہ میرا کیا قصور تھا۔
یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا المیہ ہے۔ جب ایک معصوم بچی اپنے ہی گلی محلے میں محفوظ نہ رہے تو ہمیں صرف افسوس نہیں، بلکہ اپنے رویوں اور ذمہ داریوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔
والدین سے ایک عاجزانہ گزارش ہے کہ اپنے بچوں، خصوصاً چھوٹی بچیوں کو اکیلے دکان، گلی یا سنسان جگہوں پر بھیجنے سے حتیٰ الامکان گریز کریں۔ چند منٹ کی احتیاط ایک پوری زندگی کو محفوظ بنا سکتی ہے۔ بچوں کو "گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ" کی تعلیم دیں، انہیں سکھائیں کہ کسی بھی غیر مانوس شخص کے ساتھ نہ جائیں اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں فوراً گھر والوں کو اطلاع دیں۔
ہمیں بھی بطور معاشرہ خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔ اگر کسی بچے کو پریشان، اکیلا یا مشکوک حالات میں دیکھیں تو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس کی مدد کریں اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم صرف سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار نہیں کریں گے بلکہ اپنے گھروں، محلوں اور شہروں کو بچوں کے لیے محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
ہر معصوم بچہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اللہ تعالیٰ اس ننھی جان پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، اس کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور جو اسکا مجرم ثابت ہو تو مجرموں کو قانون کے مطابق عبرتناک انجام تک پہنچانے میں آسانی عطا فرمائے۔
آمین۔