07/04/2026
,______ تاریخ تلمبہ قسط 3 _________
ماموں شیر کا مزار شہر تلمبہ سے بجانب جنوب مغرب چار کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ آپ کا اصل نام سید شیر شاہ ہے۔ حضرت سید علی ہجویری گنج بخش جن کا مزار لاہور شہر میں ہے. رشتہ میں آپ کے بھانجے لگتے ہیں۔ یوں سید علی ہجویری کے ماموں ہونے کی بنا پر ماموں شیر کے نام سے مشہور ہوئے ۔ اصل وطن افغانستان کا شہر ہجویر تھا۔ تاریخ سرزمین خانیوال کے مصنف محمد بشیر سہو کے مطابق لاہور کی طرف ایک معرکے میں آپ کی گردن پر کاری زخم آیا تھا۔ اس حالت میں آپ اس علاقے میں آگئے اور تلمبہ کے قریب بستی میر پور میں انتقال فرمایا اور یہیں مدفون ہوئے۔ قیام پاکستان کے وقت تلمبہ کی آبادی 8016 افراد پر مشتمل تھی ۔ 1981ء کی مردم شماری کے مطابق قصبہ کی آبادی 17363 جبکہ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 24120 افراد تھی ۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 31986 نفوس پر مشتمل ہے۔
علم و ادب کے اعتبار سے تلمبہ ماضی قدیم سے برصغیر کے ایک اہم مرکز کے طور پر پہچانا جاتا رہا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ اجھن کی عظیم درسگاہ یہاں قائم تھی ۔ اجھن شہر تلمبہ کی ذیلی آبادی تھی۔ بعد میں دور ایام کے ساتھ بدل کر اردھن بن گیا۔ مہا بھارت کی جنگ میں یہ عظیم درسگاہ تباہ و برباد ہوگئی تھی۔ تاہم کچھ عرصہ کے سکوت کے بعد اجھن دوبارہ علم وفن کا مرکز بن گیا۔
اس زمانے میں تعلیم کے مراکز پرشاد کہلاتے تھے۔ اس درسگاہ میں شاہی خاندان اور کھشتری خاندان کے افراد کو ابتداء ہی سے فنون جنگ، تیراندازی، نیزہ بازی اور شمشیر زنی کے جوہر سکھائے جاتے تھے۔ نیچ ذات پا چنڈال کو علمی مراکز میں داخلہ کی اجازت نہ تھی۔ تلمبہ شہر 1200 ق م سے 800 ق م تک علم و عرفان کا ایک عظیم الشان مرکز تھا یہاں کی یونیورسٹی اپنے وقت کی عظیم ترین یونیورسٹیوں میں سے تھی۔ وہاں نہ صرف پورے برصغیر کے آرین شہزادے تعلیم پاتے تھے بلکہ عوام بھی علم کی اس رواں دواں ندی سے علمی تشنگی بجھاتے تھے۔ یہاں کے کئی اساتذہ کی شہرت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ راجہ چچ جب یہاں کا حکمران تھا، اس زمانے میں مشہور چینی سیاح ہیون تسانگ اس علاقہ میں وارد ہوا۔ تلمبہ ان دنوں بھی مرکز علم کی حیثیت سے ممتاز مقام کا حامل تھا۔ وہ لکھتا ہے دور دراز ممالک سے متعدد عالم فاضل لوگ یہاں جمع ہوتے ہیں۔ محمد بن قاسم کے حملہ کے بعد یہاں کی قدیم یونیورسٹی اسلامی جامعہ میں تبدیل ہوگئی ۔ مورخ ضیاء الدین برنی نے لکھا ہے کہ دہلی اور لکھنو کی طرح تلمبہ بھی علم و ادب کا مرکز تھا۔ سلاطین کے دور میں بھی یہاں قائم مدارس نے تلمبہ کو علی دنیا میں اہم مقام کا حامل بنادیا تھا۔ بعض روایات میں یہاں ایک جامعہ کے علاوہ کلیات (کالج) اور مکتب کی تعداد 110 بیان کی گئی ہے۔ یہاں کی جامعہ کے مشہور ریئس علامہ محمد عبداللہ جیسے عالم فاضل رہے۔ یہاں پر نحو، تفسیر، حدیث، فقہ الکلام ، منطق و فلسفہ، تصوف اور عربی ادب جیسے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ وقت کے نشیب و فراز کے باعث رفتہ رفتہ زوال پذیر ہو کر یہ جامعہ اپنا وجود کھو بیٹھی۔
ادب کے حوالے سے بھی تلمبہ کی بعض شخصیات کے نام بڑے نمایاں ہیں ۔ ان میں علی حیدر جو 1690ء میں موضع چونترہ ہمجانہ میں پیدا ہوئے اور جامعہ تلمبہ میں زیر تعلیم رہے، یہاں کے پنجابی زبان کے بلند پایہ شاعر تھے۔ ان کا کلام پہلی مرتبہ 1889ء میں چھپا۔ ایک اور پنجابی شاعر نورا نہنگ مشہور تھے ۔ جن کا اصل نام نورمحمد اور نہگ قبیلہ تھا۔ آپ سکھ دور میں تلمبہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا غیر مطبوعہ کلام زیادہ تر نعت اور مدح اہل بیت پر مشتمل ہے۔ واقعہ سسی پنوں بھی لکھا۔ آخری عمر میں تحصیل شورکوٹ کے گاؤں جلالپور کملا نہ چلے گئے ۔ وہیں وفات پائی ۔ تلمبہ کے نواحی گاؤں جراحی کے رہنے والے ایک پنجابی شاعر سید شاہ محمد جمیل کا نام بھی قابل ذکر ہے ۔ وہ 1904ء میں پیدا ہوئے بعد ازاں کمالیہ کے علاقہ میں جا کر آباد ہو گئے تھے۔ قصہ لڑائی ہراجاں ، رسالہ اتفاق، تحفہ بے نظیر تے چولا حقیقی ، قصہ بھور بھونڈ ، کافیاں گلزار محلوی ان کی تصانیف ہیں۔ موجودہ دور میں یہاں کے شعراء میں فیصل قدیر عجمی کا نام نمایاں ہے۔ وہ 1951ء میں پیدا ہوئے ۔ بنکاک سے انجینئر نگ کی تعلیم حاصل کی۔ شاعری کے علاوہ آرٹ آف کار پینٹنگ پر ایک عمدہ کتاب لکھی۔ غضنفر روہتکی بھی یہاں کے معروف شاعر تھے انہوں نے ڈراموں میں اداکاری بھی کی۔ آپ صاحب دیوان شاعر تھے۔ ان کا انتقال 25 جون 1999ء کو ہوا تھا۔ یہاں کے ایک شاعر ملک خادم حسین ہیں۔ یادوں کی بارات ، زر خواب اور پیڑاں آپ کی تخلیقات ہیں۔
تاریخی معلومات کیلئے فالو کریں 👈 M Hasnain Hiraj
تحریر / مہر محمدحسنین ہراج