Pull Bagar

Pull Bagar دکھ سکھ دیاں گلاں

14/04/2026

کوٹ اسلام ڈکیتی وقوعہ!
#ڈاکیتی

13/04/2026

اڈہ کوٹ اسلام گندم کے بیوپاری کو ڈکیتی کرنے کیلئے آئے ڈاکوؤں کو عوام اور پولیس نے کچہ کبیرہ میں پکڑ لیا!
دو ڈاکو احمد یار سرگانہ سکنہ موضع باگڑ اور اسدی گل سکنہ کنڈ سرگانہ عوام کے ہتھے چڑھ گئے ایک ڈاکو کے فرار ہونے کی اطلاع!
#ڈاکیتی

آج ہی!
11/04/2026

آج ہی!

احباب لازمی شرکت فرمائیں!
11/04/2026

احباب لازمی شرکت فرمائیں!

,______ تاریخ تلمبہ قسط 3 _________ماموں شیر کا مزار شہر تلمبہ سے بجانب جنوب مغرب چار کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ آپ کا...
07/04/2026

,______ تاریخ تلمبہ قسط 3 _________
ماموں شیر کا مزار شہر تلمبہ سے بجانب جنوب مغرب چار کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ آپ کا اصل نام سید شیر شاہ ہے۔ حضرت سید علی ہجویری گنج بخش جن کا مزار لاہور شہر میں ہے. رشتہ میں آپ کے بھانجے لگتے ہیں۔ یوں سید علی ہجویری کے ماموں ہونے کی بنا پر ماموں شیر کے نام سے مشہور ہوئے ۔ اصل وطن افغانستان کا شہر ہجویر تھا۔ تاریخ سرزمین خانیوال کے مصنف محمد بشیر سہو کے مطابق لاہور کی طرف ایک معرکے میں آپ کی گردن پر کاری زخم آیا تھا۔ اس حالت میں آپ اس علاقے میں آگئے اور تلمبہ کے قریب بستی میر پور میں انتقال فرمایا اور یہیں مدفون ہوئے۔ قیام پاکستان کے وقت تلمبہ کی آبادی 8016 افراد پر مشتمل تھی ۔ 1981ء کی مردم شماری کے مطابق قصبہ کی آبادی 17363 جبکہ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 24120 افراد تھی ۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 31986 نفوس پر مشتمل ہے۔

علم و ادب کے اعتبار سے تلمبہ ماضی قدیم سے برصغیر کے ایک اہم مرکز کے طور پر پہچانا جاتا رہا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ اجھن کی عظیم درسگاہ یہاں قائم تھی ۔ اجھن شہر تلمبہ کی ذیلی آبادی تھی۔ بعد میں دور ایام کے ساتھ بدل کر اردھن بن گیا۔ مہا بھارت کی جنگ میں یہ عظیم درسگاہ تباہ و برباد ہوگئی تھی۔ تاہم کچھ عرصہ کے سکوت کے بعد اجھن دوبارہ علم وفن کا مرکز بن گیا۔
اس زمانے میں تعلیم کے مراکز پرشاد کہلاتے تھے۔ اس درسگاہ میں شاہی خاندان اور کھشتری خاندان کے افراد کو ابتداء ہی سے فنون جنگ، تیراندازی، نیزہ بازی اور شمشیر زنی کے جوہر سکھائے جاتے تھے۔ نیچ ذات پا چنڈال کو علمی مراکز میں داخلہ کی اجازت نہ تھی۔ تلمبہ شہر 1200 ق م سے 800 ق م تک علم و عرفان کا ایک عظیم الشان مرکز تھا یہاں کی یونیورسٹی اپنے وقت کی عظیم ترین یونیورسٹیوں میں سے تھی۔ وہاں نہ صرف پورے برصغیر کے آرین شہزادے تعلیم پاتے تھے بلکہ عوام بھی علم کی اس رواں دواں ندی سے علمی تشنگی بجھاتے تھے۔ یہاں کے کئی اساتذہ کی شہرت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ راجہ چچ جب یہاں کا حکمران تھا، اس زمانے میں مشہور چینی سیاح ہیون تسانگ اس علاقہ میں وارد ہوا۔ تلمبہ ان دنوں بھی مرکز علم کی حیثیت سے ممتاز مقام کا حامل تھا۔ وہ لکھتا ہے دور دراز ممالک سے متعدد عالم فاضل لوگ یہاں جمع ہوتے ہیں۔ محمد بن قاسم کے حملہ کے بعد یہاں کی قدیم یونیورسٹی اسلامی جامعہ میں تبدیل ہوگئی ۔ مورخ ضیاء الدین برنی نے لکھا ہے کہ دہلی اور لکھنو کی طرح تلمبہ بھی علم و ادب کا مرکز تھا۔ سلاطین کے دور میں بھی یہاں قائم مدارس نے تلمبہ کو علی دنیا میں اہم مقام کا حامل بنادیا تھا۔ بعض روایات میں یہاں ایک جامعہ کے علاوہ کلیات (کالج) اور مکتب کی تعداد 110 بیان کی گئی ہے۔ یہاں کی جامعہ کے مشہور ریئس علامہ محمد عبداللہ جیسے عالم فاضل رہے۔ یہاں پر نحو، تفسیر، حدیث، فقہ الکلام ، منطق و فلسفہ، تصوف اور عربی ادب جیسے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ وقت کے نشیب و فراز کے باعث رفتہ رفتہ زوال پذیر ہو کر یہ جامعہ اپنا وجود کھو بیٹھی۔

ادب کے حوالے سے بھی تلمبہ کی بعض شخصیات کے نام بڑے نمایاں ہیں ۔ ان میں علی حیدر جو 1690ء میں موضع چونترہ ہمجانہ میں پیدا ہوئے اور جامعہ تلمبہ میں زیر تعلیم رہے، یہاں کے پنجابی زبان کے بلند پایہ شاعر تھے۔ ان کا کلام پہلی مرتبہ 1889ء میں چھپا۔ ایک اور پنجابی شاعر نورا نہنگ مشہور تھے ۔ جن کا اصل نام نورمحمد اور نہگ قبیلہ تھا۔ آپ سکھ دور میں تلمبہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا غیر مطبوعہ کلام زیادہ تر نعت اور مدح اہل بیت پر مشتمل ہے۔ واقعہ سسی پنوں بھی لکھا۔ آخری عمر میں تحصیل شورکوٹ کے گاؤں جلالپور کملا نہ چلے گئے ۔ وہیں وفات پائی ۔ تلمبہ کے نواحی گاؤں جراحی کے رہنے والے ایک پنجابی شاعر سید شاہ محمد جمیل کا نام بھی قابل ذکر ہے ۔ وہ 1904ء میں پیدا ہوئے بعد ازاں کمالیہ کے علاقہ میں جا کر آباد ہو گئے تھے۔ قصہ لڑائی ہراجاں ، رسالہ اتفاق، تحفہ بے نظیر تے چولا حقیقی ، قصہ بھور بھونڈ ، کافیاں گلزار محلوی ان کی تصانیف ہیں۔ موجودہ دور میں یہاں کے شعراء میں فیصل قدیر عجمی کا نام نمایاں ہے۔ وہ 1951ء میں پیدا ہوئے ۔ بنکاک سے انجینئر نگ کی تعلیم حاصل کی۔ شاعری کے علاوہ آرٹ آف کار پینٹنگ پر ایک عمدہ کتاب لکھی۔ غضنفر روہتکی بھی یہاں کے معروف شاعر تھے انہوں نے ڈراموں میں اداکاری بھی کی۔ آپ صاحب دیوان شاعر تھے۔ ان کا انتقال 25 جون 1999ء کو ہوا تھا۔ یہاں کے ایک شاعر ملک خادم حسین ہیں۔ یادوں کی بارات ، زر خواب اور پیڑاں آپ کی تخلیقات ہیں۔

تاریخی معلومات کیلئے فالو کریں 👈 M Hasnain Hiraj

تحریر / مہر محمدحسنین ہراج

---------  تاریخ  تلمبہ قسط 2 ---------پھر آباد ہونے کے بعد اسی دوران سکھ مذہب کے بانی گورو نانک تلمبہ آئے اور انہیں ہند...
07/04/2026

--------- تاریخ تلمبہ قسط 2 ---------
پھر آباد ہونے کے بعد اسی دوران سکھ مذہب کے بانی گورو نانک تلمبہ آئے اور انہیں ہندو سجن نامی ٹھگ سے واسطہ پڑا۔ شیر شاہ سوری نے اپنی دور میں یہاں ایک پڑاؤ بنویا جبکہ شاہجہان نے سرائے تعمیر کرائی جو 1750ء میں سیلاب کی وجہ سے گرگئی ۔ داراشکوہ تخت نشینی کے مسئلہ پر اپنے بھائی اورنگزیب عالمگیر سے شکست کھا کر تلمبہ آیا مغلیہ سلطنت کے زوال کے زمانہ میں نائب ناظم ملتان شریف بیگ تکلو نے تلمبہ میں قلعہ بنوایا۔
1750ء میں احمد شاہ ابدالی بادشاہ افغانستان نے تلمبہ پر حملہ کیا اور لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بنایا۔ 1766ء میں سکھ سردار جھنڈا سنگھ نے تلمبہ پر حملہ کر کے قتل و غارت گری کی ۔ 1778ء میں تیمو شاہ اور 1793ء میں شاہ زمان نے حملہ کیا۔ 1813ء میں افغانستان کا معزول حاکم شاہ شجاع تلمبہ آیا اسے حاکم ملتان نواب مظفر خاں نے تلمبہ کے مضافات میں جاگیر عطا کی تھی ۔ 1818ء میں تلمبہ پر رنجیت سنگھ کا قبضہ ہو گیا۔ 1819ء میں خوشحال سنگھ کو تلمبہ کا حاکم مقرر کیاگیا۔ بعد میں یہ علاقہ پریم رام آغا پوری کے سپر د ہوا ۔ سکھ دور میں تلمبہ کو ملتان کے ماتحت کارداری ( تحصیل) کا درجہ حاصل تھا۔ اس وقت شہر چاروں طرف سے کھجور کے باغات میں گھرا ہوا تھا۔ شہر کے گرد کافی چوڑی اور بلند حفاظتی فصیل بنی ہوئی تھی ۔ شہر میں داخل ہونے کے لئے شاندار دروازے تعمیر کئے گئے تھے۔ ان دروازوں کے باقاعدہ نام تھے مثلاً سندھی گیٹ وغیرہ ۔
راجہ رنجیت سنگھ نے تلمبہ میں فحاشی کا اڈہ قائم کیا ۔ مہاراجہ نے اس علاقے کے تین مقامات پر بازار حسن قائم کیے۔ ایک تلمبہ میں دوسرا ملتان میں اور تیسرا کہروڑ پکا میں۔ رنجیت سنگھ ہر سال تلمبہ میں شکار کے لئے بھی آیا کرتا ۔ 1849ء میں انگریزوں کے قبضے کے بعد تلمبہ کی مرکزیت ختم کر کے اسے تحصیل سرائے سدھو کے ماتحت کر دیا گیا۔ علاقہ تلمبہ میں ایک سو کے قریب تعلیمی ادارے رفتہ رفتہ نیست و نابود ہو گئے ۔
1859ء میں یہاں انگریزی طرز کا پرائمری سکول کھولا گیا ۔ 1864ء میں تلمبہ میں قائم قاضی عدالت ختم کر دی گئی۔ قاضی حیدر شاہ تلمبہ کے آخری قاضی تھے۔ 1868ء میں اس قصبہ کی آبادی 3152 افراد پر مشتمل تھی۔ 1873ء میں تلمبہ کو میونسپلٹی درجہ سوم کا درجہ دیا گیا ۔ 1885ء میں پرائمری سکول کو مڈل کا درجہ دیا گیا۔ 1946ء میں یہ ہائی سکول ہو گیا ۔ 1884ء کے قریب تلمبہ شہر میں 161 دکا نیں تھیں۔ تجارت پر ہندوؤں کی اجارہ داری تھی۔ انگریز دور میں یہاں ، پروٹھی، چھابڑہ ، ریلہں ، بترہ، لنڈ، گنڈ ، جھانب ، اپنجہ ، رمیجہ ، ڈوڈہ ، ککڑا اور جن ہندو اقوام آباد تھیں۔ ہری چند چھابڑہ کی تین منزلہ عمارت قلعہ کے جنوبی دروازہ سے چند قدم کے فاصلہ پر ہے۔
مسلمان اقوام میں شہر کے اندر پرانے باسیوں میں سید، قاضی ، ارائیں، شیخ، کھرل، لنگاہ، جنجوعہ، ڈھڈی، بھٹی، کھوکھر، بلوچ ، پٹھان ، جھتہ، اور گاذر آباد تھے۔ اور تلمبہ کے گردو نواح میں چند بااثر زمیندار قبائل جن میں سید، ہراج، سنپال، قریشی، سہو، تھراج، کھگہ، ڈانگرہ، کھکھ، کاٹھیا، دلو، پاندہ، راجے، ہمجانہ، اور پٹھان شامل ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ہندو بھارت چلے گئے اور ان کی جگہ بھارت سے مسلمان مہاجرین یہاں آبسے اور انہوں نے تجارتی خلا کو پورا کیا۔ یہ راجپوت ، ڈوگر، گجر، تگے، رحمانی، جٹ، میو اور ارائیں وغیرہ شامل ہیں ۔
1950ء میں دریائے راوی میں انتہائی خوفناک سیلاب کے باعث تلمبہ کو بھی نقصان پہنچا اور کئی مکان منہدم ہو گئے ۔ 1965ء میں ٹیلیفون ایکسچینج بھی قائم ہوئی۔ گلیاں اور بازار قدیمی شہروں کی طرح تنگ اور ٹیڑھے میڑھے ہیں۔ ماموں شیر بازار شہر کا معروف ترین بازار ہے۔ آجکل یہاں طلباء و طالبات کے لئے ہائیر سکینڈری سکول ، تھانہ، ہسپتال، ڈاک خانہ وغیرہ موجود ہیں ۔ تلمبہ کے قدیم کھنڈرات موجودہ شہر کے جنوب کی طرف موجود ہیں۔ یہ پرانے شہر اور قلعہ کے آثار ہیں ۔
جزل کننگھم کے مطابق یہاں ایک عظیم الشان قلعہ ایک ہزار فٹ مربع کا موجود تھا ۔ باہر کی فصیل 200 فٹ موٹی اور 200 فٹ اونچی تھی۔ اور اس کے اندر اسی حجم کی ایک اور فصیل موجود تھی۔ دونوں فصیلوں کے باہر کی طرف بڑی بڑی اینٹیں لگی ہوئی تھیں۔ ان فصیلوں کے اندر کی جانب ایک خندق 100 فٹ چوڑی موجود تھی۔ اور اندرونی قلعہ تقریباً چار سو فٹ مربع کا تھا جس کی دیواریں چالیس فٹ بلند تھیں ۔ اس قلعہ کے درمیان ایک برج چالیس فٹ بلند تھا۔ جس کی بلندی سے تمام علاقہ پر نظر پڑتی تھی۔ یہاں 56 فٹ کی گہرائی پر عمارتوں کے نشانات ملے یہ لوگ گارے اور گارے کی اینٹوں سے عمارتیں بناتے تھے۔ قدیمی قسم کے برتن ملے ہیں ۔ ہند یونانی بادشاہ اپالوڈوٹس کے نام کے سکے ابتدائی عمارتوں سے ملے ہیں جو دوسری صدی ق م کا بادشاہ تھا۔ اس کے علاوہ مختلف سطحوں سے مختلف تاریخی ادوار کے برتن اور اشیاء کے نمونے ملے ہیں۔ (قسط وار سلسلہ جاری ہے )

تحریر / مہر محمد حسنین ہراج

ایسی معلومات کیلئے فالو کریں 👈 M Hasnain Hiraj

---------------------- تاریخ تلمبہ قسط 1 ---------------------تلمبہ ضلع خانیوال کا ایک تاریخی قصبہ ہے۔ اس کی قدامت پر کئ...
07/04/2026

---------------------- تاریخ تلمبہ قسط 1 ---------------------
تلمبہ ضلع خانیوال کا ایک تاریخی قصبہ ہے۔ اس کی قدامت پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ تاہم مورخین اور آثار قدیمہ کے مطابق یہ شہر 4 سے 6 ہزار سال پرانا ہے۔ قدیم زمانے میں تلمبہ کی ریاستی خود مختاری کے علاوہ صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی حیثیت بھی رہی ہے۔ یہ قصبہ خانیوال شہر سے شمال مشرق میں 47 کلومیٹر کے فاصلے پر عبدالحکیم اور میاں چنوں کے درمیان واقع ہے۔ دریاۓ راوی اس کے شمال میں تین کلومیٹر کے فاصلے پر بہتا ہے۔ اس قصبہ کی تاریخ نہ صرف قدیم بلکہ دلچسپ اور عبرت آموز بھی ہے۔ یہ کئی بار اُجڑا اور پھر آباد ہوا۔ آج بھی موجود قصبہ کے جنوب میں ایک میل کے فاصلے پرایک ٹیلہ نما بھڑ واقع ہے۔ جس کے متعلق مشہور ہے کہ کبھی یہاں تلمبہ کا عظیم شہر ہوا کرتا تھا۔ اس وقت تلمبہ کا یہ شہر دریائے راوی کے شمال میں تھا اور راوی تلمبہ کے جنوب میں بہتا تھا۔ یہ قصبہ راوی اور چناب کے سنگم سے نزدیک تھا۔ تاہم شمال سے آنے والے حملہ آور اس جگہ سے دریا کو عبور کرتے اور ملتان کی طرف بڑھ جاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ سکندر اعظم نے ملتان جاتے ہوئے اسی جگہ سے دریا کو عبور کیا تھا ۔

روایت ہے کہ یہ پرہار بادشاہ کا تخت تھا۔ راجہ پرہار کے بعد اس کا بیٹا راجہ کنب تخت نشین ہوا جس کی نسبت سے شہر کا نام کنب یا کنبہ مشہور ہو گیا۔ کنبہ شہر کا ذکر ہندوؤں کی کتاب رگ وید میں بھی ہے۔ یہی کنبہ بعد میں بگڑ کر تلمبہ ہو گیا ۔ اس شہر کو ہندو مذہب کے ہیرو رام چندر جی، لچھمن جی اور سیتا کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا ۔ ایک دوسری روایت کے مطابق اس شہر کو راجہ تل نے بسایا تھا۔ اس نے اپنے نام پر تل ابھا اس کا نام رکھا۔ بگڑتے بگڑتے تلمبہ ہو گیا۔ مقامی روایت یہ بھی ہے کہ اسے راجہ سالباہن کنگ اف سیالکوٹ کے خاندان میں سے راجہ تل نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ اور یہاں ایک قلعہ بنایا تھا۔ تلمبہ کو نہ صرف سکندراعظم نے غارت کیا بلکہ ہر وہ حملہ آور جس نے ملتان کی طرف پیش قدمی کی اس نے تلمبہ کو اپنے ظلم وستم کا نشانہ بنایا۔ یہ سلسلہ سکھوں کے دور تک جاری رہا۔ محمد بن قاسم کے سندھ پر حملہ کے وقت تلمبہ کا حکمران کوکو بن موکو تھا جس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ فتح ملتان کے بعد محمد بن قاسم نے عکرمہ بن ریحان شامی کو اس علاقے کا گورنر مقرر کیا۔ سندھ کے بادشاہ سیہپرس کا وزیراعظم بدھی مان تلمبہ کا رہنے والا تھا اس کی پیدائش تلمبہ میں ہوئی تھی۔ وہ بے پناہ صلاحیتوں کا مالک تھا وہ راجہ چچ اور راجہ داہر کے دور میں بھی اس عہدے پر فائز رہا۔

سکندراعظم کے بعد سلطان محمود غزنوی نے اس شہر کو تباہ کیا، حملہ کی وجہ، تلمبہ کے سرداروں کا سلطان کے استقبال کو نہ آنا اور لشکر میں لوٹ مار کرنا تھی۔ محمود غزنوی نے تلمبہ کو نذر آتش کیا اور آگے بڑھ گیا۔ بعد میں جو لوگ حملے سے محفوظ رہے۔ وہ پھر سے شہر بسا کر رہنے لگے۔ محمود غزنوی کے حملہ کے بعد تقریباً دو سو برس تک یہ شہر دوبارہ آباد ہو گیا تھا امن سے رہا اور خوب ترقی کی ۔ دریا راوی کے کنارے پر آباد ہونے کی وجہ سے یہ تجارت کا مرکز تھا۔ ان دنوں زیادہ تجارت دریاؤں کے راستے ہوا کرتی تھی ۔ 1398ء میں امیر تیمور نے تلمبہ پر حملہ کیا اور اسے غارت کرنے کے بعد ملتان پہنچ گیا۔ اس حملہ میں ہزاروں افراد قتل ہوئے ۔ وہ لوگ جو فوج سے ڈر کر جنگلوں میں چھپے ہوئے تھے ان کو بھی نہ بخشا گیا۔ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ واپس جاتے ہوئے امیر تیمور نے خضر خان کو ملتان اور دیپالپور کا حاکم بنا دیا ۔ 1405 ء کے قریب افواج دہلی نے ملتان کا رخ کیا اور تلمبہ کے قریب میدان جنگ گرم ہوا۔ یہاں کے باشندوں کو کافی مالی و جانی نقصان اُٹھانا پڑا ۔ اس کے بعد 1431ء میں حاکم کابل شیخ علی تلمبہ پر حملہ آور ہوا اور تلمبہ کو نہایت بے دردی سے لوٹ کر واپس کا بل چلا گیا۔ تلمبہ کی قدیم یونیورسٹی جو محمد بن قاسم کے حملہ کے بعد ایک اسلامی یونیورسٹی میں بدل گئی تھی اسلامی دور میں دوبارہ عظیم الشان علمی مرکز کی حیثیت اختیار کرگئی۔ لنگاہ دور میں اس کے رئیس الجامعہ علامہ محمد عبد اللہ تھے ۔ مسلمانوں سے قبل جب راجہ دریودھن کی بہن سندھ کی ملکہ تھی۔ اس علاقہ میں تین درسگا ہیں بڑی مشہور تھیں۔ ان میں سے دو ضلع جھنگ کے علاقوں واصو اور ملکانہ میں تھیں۔ جبکہ ایک اجھن نام کی درسگاہ تلمبہ کے پاس تھی ۔ اجھن کا نام بعد کے زمانے میں اردھن کہلانے لگا۔ مہا بھارت کی جنگ میں یہ تعلیمی ادارہ تباہ ہو گیا تھا۔ تا ہم کچھ عرصہ بعد یہ دوبارہ علم وفن کا مرکز بن گیا تھا۔ 1504ء میں دریائے راوی کا رخ تبدیل ہونے کی وجہ سے تلمبہ کا قدیم شہر ویران ہو گیا۔
(قسط وار سلسلہ جاری ہے)

تحریر:حسنین ہراج

رمضان المبارک کا کلینڈر پل باگڑ کیلئے!
19/02/2026

رمضان المبارک کا کلینڈر پل باگڑ کیلئے!

06/01/2026

کیا ہوگا ہمرا 😄

18/09/2025

26/08/2025

دریائے راوی میں سیلاب کے پیش نظر محمکہ آبپاشی کا آگاہی پیغام!

07/08/2025

کبیر والا
تھانہ سرائے سدھو کی حدود پل باگڑ میں پولیس مقابلہ
خیرات علی عرف خریتو اور زاہد موہانہ پولیس مقابلے میں ہل،،،،اک
ذرائع

Address

Adda Pull Bagar
Abdul Hakim
58181

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pull Bagar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share