26/02/2026
آئیں ایک بہن ،ایک ماں کو سپورٹ کریں۔
1 غریب ماں… 💔
بہاولپور کی ایک گلی میں اپنی چھوٹی سی دکان کے سامنے کھڑی ہے۔ چہرے پر تھکن، ہاتھوں پر محنت کے نشان، مگر آنکھوں میں اب بھی اپنے بچوں کے خواب زندہ ہیں۔
یہ وہ ماں ہے جس نے 12 سال اپنے گھر میں رہ کر محنت کی۔ اپنے ہی کچن سے سموسے اور پکوڑے بنا کر بیچے۔ کبھی گلی میں آواز لگا کر، کبھی جان پہچان والوں کو دے کر۔ مقصد صرف ایک تھا… اپنے بچوں کو سپورٹ کرنا، انہیں اچھے اسکول میں پڑھانا، ان کے خوابوں کو ٹوٹنے نہ دینا۔
ہر دن صبح جلدی اٹھتی ہے۔ آٹا گوندھتی ہے، آلو ابالتی ہے، مصالحہ تیار کرتی ہے۔ گرمی ہو یا سردی، وہ چولہے کے سامنے کھڑی رہتی ہے۔ ہاتھ جل جاتے ہیں، آنکھوں میں دھواں چلا جاتا ہے، مگر زبان پر کبھی شکوہ نہیں آتا۔ کیونکہ اسے یاد ہوتا ہے کہ اس کے بچے اس کی اصل طاقت ہیں۔
سالوں کی چھوٹی چھوٹی بچت کے بعد اس نے ہمت کی، قرض لیا، اور ایک چھوٹی سی شاپ لے لی۔ سوچا اب شاید قسمت بدل جائے گی۔ اب وہ سموسے، پکوڑے، رول اور چیز رول بیچ رہی ہے۔ ہر چیز اپنے ہاتھ سے، صاف ستھری، دل لگا کر بناتی ہے۔ ریٹ بھی مناسب رکھے ہیں تاکہ ہر کوئی خرید سکے۔
لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ سارا دن دکان پر بیٹھی رہتی ہے… سامنے سے لوگ گزرتے ہیں، مگر رک کر نہیں دیکھتے۔ شام کو جب کچھ سموسے بچ جاتے ہیں تو وہ خاموشی سے سمیٹ لیتی ہے۔ شاید دل میں یہی سوچتی ہوگی کہ کل کا دن بہتر ہوگا۔
ہم بڑے بڑے برانڈز پر جا کر ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ وہاں بل دینا ہمیں برا نہیں لگتا۔ لیکن جب ایک غریب ماں اپنی محنت سے روزی کمانے کی کوشش کرتی ہے تو ہم اکثر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔
سوچیں… اگر ہم میں سے ہر شخص صرف ایک بار اس کے پاس جا کر 1 سموسہ، 1 رول بھی خرید لے تو اس کے گھر کا چولہا آسانی سے جل سکتا ہے۔ اس کے بچے فیس کے لیے پریشان نہیں ہوں گے۔ اس کی آنکھوں میں جو خوف ہے، وہ امید میں بدل سکتا ہے۔
یہ صرف سموسے یا رول نہیں بیچ رہی… یہ ماں اپنے بچوں کا مستقبل بیچنے سے بچا رہی ہے۔ یہ اپنی عزت، اپنی محنت اور اپنے خوابوں کی جنگ لڑ رہی ہے۔
آئیں اس ماں کا ساتھ دیں۔ اس کی محنت کو ضائع نہ ہونے دیں۔
📍 لوکیشن: میلا گلی نمبر 2، بہاولپور
شاید آپ کی چھوٹی سی سپورٹ اس کی زندگی بدل دے۔ 💔