05/07/2026
کیا جیو نیوز سے یہ غلطی دانستہ طور پر ہوئی یا غیر ارادی طور پے واقع ہوئی ؟
🖍️📒محمد اسلم رضا سکندری
اسلامی شعائر، انبیائے کرام علیہم السلام اور بالخصوص خاتم النبیین حضرت حضور اقدس ﷺ کی ذاتِ اقدس ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ اس لیے جب کسی ٹی وی چینل سے ایسا مواد نشر ہو جو مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرے تو ہر مسلمان کے دل میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے ایسی غلطی کا وقوع کیوں ہوا اور اس کے پیچھے کون سے چھپے ادارے ہیں ؟
اسی طرح ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف 15 دن کے لیے لائسنس کی معطلی اس نقصان کی تلافی کر سکتی ہے؟ ہر گز نہیں !! کیونکہ ایسے مواد کی نشریات سے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو زخم پہنچاہے باقی انتظامی کارروائی اپنی جگہ اہم ہے، مگر مسلمان یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ یہ واقعہ پیش کیسے آیا، ذمہ دار کون تھے، اور آئندہ اس کی روک تھام کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قومی ٹی وی چینل پر پروگرام، رپورٹ یا ڈاکومنٹری اچانک نشر نہیں ہو جاتی، بلکہ وہ متعدد مراحل سے گزرنے کے بعد عوام تک پہنچتی ہے۔ وہ مراحل یہ ہیں
1۔ موضوع کا انتخاب:
سب سے پہلے پروگرام کا موضوع طے کیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ادارتی پالیسی، حالات اور منصوبہ بندی کے مطابق کیا جاتا ہے۔
2۔ تحقیق
متعلقہ موضوع پر معلومات، حوالہ جات، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد جمع کیا جاتا ہے، اور ان کی درستگی و حساسیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
3۔ اسکرپٹ کی تیاری:
پروگرام کا مکمل متن، تبصرے اور ترتیب تیار کی جاتی ہے تاکہ واضح ہو کہ کیا دکھایا اور کیا کہا جائے گا۔
4۔ ادارتی منظوری:
اسکرپٹ کو سینئر ایڈیٹر یا متعلقہ ذمہ دار افسر دیکھتا ہے اور قانونی، اخلاقی اور مذہبی پہلوؤں کا جائزہ لے کر منظوری دیتا ہے۔
5۔ شوٹنگ یا ویڈیو کی تیاری:
منظوری کے بعد ریکارڈنگ یا ویڈیو تیار کی جاتی ہے، جہاں ہر منظر منصوبہ بندی کے مطابق فلمایا جاتا ہے۔
6۔ ایڈیٹنگ:
ریکارڈ شدہ مواد کو ترتیب دیا جاتا ہے، غیر ضروری حصے نکالے جاتے ہیں اور اگر کوئی نامناسب چیز ہو تو اسی مرحلے پر اسے ہٹایا جا سکتا ہے۔
7۔ گرافکس، تصاویر اور کیپشن:
ویڈیو میں شامل کی جانے والی تصاویر، خاکے، تحریری عبارتیں، سب ٹائٹلز اور دیگر گرافکس الگ ٹیم تیار کرتی ہے اور انہیں بھی جانچا جاتا ہے۔
8۔ پروڈیوسر اور سینئر ایڈیٹر کا جائزہ:
مکمل پروگرام کو نشر ہونے سے پہلے پروڈیوسر اور سینئر ایڈیٹر دوبارہ دیکھتے ہیں تاکہ کسی بھی غلطی کا امکان باقی نہ رہے۔
9۔ کوالٹی چیک (Quality Control)
آواز، تصویر، متن، گرافکس اور پورے پروگرام کی آخری بار جانچ کی جاتی ہے۔
10۔ براڈکاسٹ اور کنٹرول روم:
آخر میں پروگرام کنٹرول روم سے آن ایئر کیا جاتا ہے، جہاں بھی ذمہ دار عملہ موجود ہوتا ہے اور نشریات کی نگرانی کرتا ہے۔
ان تمام مراحل کو سامنے رکھتے ہوئے غیر ارادی کا تو تصور ہی نہیں اور محض جان چھڑانے کے لیئے یہ کہہ دینا ہرگز کافی نہیں ہے کہ غیر ارادی طور پے غلطی ہوئی ہے یا محض 15 دن تک لائسنس معطل کرنا غیر کافی ہے
اگر یہی روش رہی تو ہر چینل العیاذ باللہ ایسی غلطیاں کر کے غیر اردای کا عنوان دیکر جان چھڑائیں گے اور پیمرا محض 10 سے 15 دن لائسنس معطل کرکے جان چھڑائے گا اور کوئی سد باب نہیں ہوگا
جب کہ ماضی میں بھی جیو نیوز کے پلیٹ فارم سے ایسے مواد پر عوامی اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔
بالاتر تمام چیزوں کو سامنے رکھ کر نیوز کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے تاکہ دیگر چینلز کے لیئے نشان عبرت ہو