29/01/2026
*جب بھارت خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، تو جمہوریت خود شرمندہ ہو جاتی ہے*
جب بھارت فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے خود کو “ *دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت” قرار دیتا* ہے تو یہ محض ایک دعویٰ نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے *جب لفظ جمہوریت خود شرمندگی سے سر جھکا لیتا* ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ *جمہوریت بھارت کے چہرے پر محض ایک نقاب ہے، جس کے پیچھے اس صدی کا سب سے بڑا سامراجی اور سفاک چہرہ پوری بے رحمی کے ساتھ چھپا ہوا* ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی زمینی صورتحال اس نقاب کو چاک کر دیتی ہے اور بھارتی جمہوریت کے نام نہاد تصور کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیتی ہے۔
*جمہوریت کسی ریاستی نعرے، انتخابی رسم یا آئینی کتاب میں درج چند دفعات کا نام نہیں۔ یہ عوام کی آزاد مرضی، انسانی وقار، سیاسی خودمختاری اور حقِ خودارادیت کی عملی ضمانت* ہوتی ہے۔
مگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں *جمہوریت ایک ایسے قیدی کی مانند ہے جسے بندوق کے سائے میں زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہو۔ وہاں آئین نہیں، طاقت بولتی ہے؛ وہاں ووٹ نہیں، خوف فیصلہ کرتا ہے۔ ایسی فضا میں جمہوریت کا دعویٰ دراصل جمہوریت کی توہین* کے مترادف ہے۔
اگر بھارت واقعی جمہوری اقدار کا امین ہوتا تو وہ *کروڑوں کشمیریوں کے بنیادی، سیاسی اور انسانی حقوق کو طاقت کے بل پر پامال نہ کرتا۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اجتماعی سزائیں، طویل کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش اور اظہارِ رائے پر مکمل قدغن*
یہ وہ مظاہر ہیں جن کے سامنے *جمہوریت ہمیشہ شرمسار ہو جاتی* ہے، کیونکہ یہ سب اس کے بنیادی اصولوں کی صریح نفی ہیں۔ یہ اقدامات کسی جمہوری ریاست کے نہیں بلکہ *ایک قابض اور سامراجی طاقت کے شیوہ* ہوتے ہیں۔
جمہوریت کا بنیادی اصول عوام کی مرضی کا احترام ہے، مگر مقبوضہ کشمیر میں اس اصول کو شعوری اور منظم انداز میں دفن کر دیا گیا ہے۔ ایک مسلم اکثریتی آبادی کو منصوبہ بند طریقے سے اقلیت میں بدلنے کی کوشش، غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل دینا، زمینوں اور وسائل پر قبضہ اور مقامی شناخت کو مٹانے کی پالیسیاں اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں کہ یہاں جمہوریت نہیں بلکہ نوآبادیاتی ایجنڈا نافذ ہے۔ ایسے میں جب بھارت خود کو جمہوری ریاست کہتا ہے تو *لفظ جمہوریت خود اپنے غلط استعمال پر ماتم* کرتا ہے۔
5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا غیر قانونی خاتمہ جمہوریت کے لیے شرمندگی کا بدترین باب ثابت ہوا۔ اس ایک فیصلے نے نہ صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں بلکہ بھارتی آئین، بین الاقوامی قوانین اور جمہوری روایات کو بھی پامال کر دیا۔ ایک جمہوری ریاست اپنے زیرِ انتظام عوام کو طویل لاک ڈاؤن، مواصلاتی بندش، ذرائع ابلاغ پر پابندیوں اور اجتماعی نگرانی کے ذریعے خاموش نہیں کراتی۔ ایسے اقدامات کے بعد *جمہوریت کا نام لینا محض ایک تلخ مذاق* بن جاتا ہے۔
*جمہوریت اختلافِ رائے سے طاقت* حاصل کرتی ہے، مگر بھارت نے *مقبوضہ کشمیر میں اختلاف کو جرم بنا دیا* ہے۔ *حقِ خودارادیت کے جائز اور قانونی مطالبے کو “دہشت گردی” سے جوڑنا، سیاسی قیادت کو قید و بند میں رکھنا، نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانا اور خواتین و بچوں کو ریاستی جبر کا نشانہ بنانا* اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ *یہاں جمہوریت نہیں بلکہ طاقت، جبر اور خوف کی حکمرانی* قائم ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں *جمہوریت خود اپنے نام کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی پر شرمندہ ہو جاتی* ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں، بلکہ عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینا ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا حق نہیں دیا جاتا، بھارت کے جمہوری دعوے محض ایک فریب، ایک دھوکہ اور عالمی ضمیر کے ساتھ کھلا مذاق رہیں گے۔
آج عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے سامنے یہ سوال پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ وہ جمہوریت کے نام پر جاری اس جبر کو کب تک نظر انداز کرتی رہیں گی؟ وقت آ چکا ہے کہ بھارت کے *جھوٹے جمہوری بیانیے* کو مسترد کیا جائے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور آبادیاتی تبدیلی کے خطرناک منصوبوں کا سنجیدہ اور عملی نوٹس لیا جائے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کی منصفانہ، قانونی اور پرامن جدوجہدِ آزادی کو ہر عالمی فورم پر مدلل، مؤثر اور باوقار انداز میں اجاگر کرتی رہے گی، اور دنیا کو یہ یاد دلاتی رہے گی کہ جب بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، تو درحقیقت *جمہوریت خود شرمندگی سے نظریں جھکا لیتی* ہے—کیونکہ وہ اس کے *چہرے پر محض ایک نقاب بن کر رہ گئی* ہے۔
*مشتاق احمد بٹ*
سیکریٹری اطلاعات
کل جماعتی حریت کانفرنس