Mudassir Ayaz

Mudassir Ayaz I Love Allah

لیاقت پور شادی شدہ عورت Bisp کے پیسے نکلوانے شاپ پر گئی ڈیوائس ایجنٹ سے پیار ہوگیا پہلے شوہر سے طلاق لیکر ڈیوائس والے سے...
29/06/2025

لیاقت پور شادی شدہ عورت Bisp کے پیسے نکلوانے شاپ پر گئی ڈیوائس ایجنٹ سے پیار ہوگیا پہلے شوہر سے طلاق لیکر ڈیوائس والے سے شادی کر لی
خاتون کا کہنا تھا کے جب بھی میں ڈیوائس پر پیسے لینے گئی اس شخص نے سب سے پہلے میری پیمنٹ دی بس اچھا لگا شادی کر لی 🥴

ایک چوڑیاں بیچنے والی کو مجھ سے پیار ہوگیا اُسکی کیا کمال محبت تھیوہ جہاں بھی جاتی وہاں کی مشہور چیز میرے لیے تحفے میں ل...
25/06/2025

ایک چوڑیاں بیچنے والی کو مجھ سے پیار ہوگیا اُسکی کیا کمال محبت تھی
وہ جہاں بھی جاتی وہاں کی مشہور چیز میرے لیے تحفے میں لاتی تھی
وہ میری خاطر میرے شہر میں چار سال تک رہی روزانہ میری منتیں کرتی اور روتی رہتی تھی
"کہتی ہوتی تھی کہ میرے نال شادی کر لے"
میرے لگاتار انکار پر وہ واپس اپنے آبائی گاؤں جھنگ چلی گئی
کچھ عرصے بعد میں اپنے دوستوں کے ساتھ باہو سلطان کے مزار پر گیا
میں اُدھر مزار کے باہر کھڑا تھا کہ پیچھے سے کسی نے میرا بازو پکڑا دیکھا تو وہی چوڑیاں بیچنے والی تھی
خوشی کے مارے وہ کہنے لگی کہ میری دعا رنگ لے آئی
"تیرا دیدار ہوگیا، ساڈی عید ہوگئ"
میں جب بھی دربار پر آتی تھی،تجھے مانگتی تھی
اب تیرے لیے بیٹھی ہوں شادی نہیں کی
پھر اُس کی آنکھوں میں آنسوں آگئے
کہنے لگی بھیک منگنا،چوڑیاں بیچنا میرا قصور تو نہیں ہے نا
یہ تو میری قسمت کا، میرے نصیب کا قصور ہے
تو سزا مجھے کیوں مل رہی ہے؟
وہ سب کے سامنے میرے گلے لگ کے رونے لگی
کہنے لگی کہ ایک دفعہ میرے ساتھ میرے گھر چلو
میرے پاؤں پکڑ لیے
سب لوگ دیکھ رہے تھے میری بہت بے عزتی ہوئی
لوگوں کا مجمع لگ گیا
دوستوں نے بولا کہ چلو ایک دفعہ ہو آتے ہیں
میں نے ہاں کر دی تو وہ بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ گئی
اُس کا گھر پچاس کلومیٹر دور تھا سارے راستے وہ بہت خوش تھی

ہم اُس کے گاؤں پہنچ گئے وہاں سب گھر کچے تھے لیکن صفائی پکے گھروں سے بھی زیادہ تھی
سب لوگ مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے
ہم اُن کے گھر پہنچے تو اُس کی سب سہیلیاں جمع ہوگئیں
پھر اُس نے ہمارے لیے کیا مزے کا کھانا بنایا
اُس کے گھر والوں نے مجھے بتایا کہ یہ لڑکی تو سارا وقت تمہارے نام کی تسبیح کرتی رہتی ہے
اور پھر جب ہم واپس آنے لگے تو اس کی آنکھوں سے آنسوں نہیں رُک رہے تھے
میرے ہاتھ چوم کر کہنے لگی کہ تیرا قصور نہیں ہے میری قسمت کا قصور ہے جو میں چوڑیاں بیچنے والی کے گھر میں پیدا ہوئی
بڑی مشکل سے ہم سب نے اسے چپ کرایا اور پھر ہم واپسی کے لیے نکل آئے
میں کار کے شیشے میں سے دیکھ رہا تھا کہ وہ تب تک دیکھتی رہی جب تک ہماری گاڑی اُسکی نظروں سے دور نہیں ہوئی وہ ہماری آخری ملاقات تھی
پھر ایک دن میرا اُس سے ملنے کو دل کیا تو میں اُس کے گاؤں چلا گیا
اُس کے گھر والوں نے بتایا کہ تمہارے جانے کے بعد وہ بہت بیمار رہنے لگی تھی کھانا پینا،ہنسنا سب چھوڑ گئی تھی اور ایک دن اس کی موت ہوگئی
مجھے اُس سے محبت تو نہیں تھی پر میں آج بھی اُسے روز یاد کرتا ہوں اور ہر سال عید کے دن اُسکی قبر پر جاتا ہوں
تیرے بعد نظر نہیں آتی مجھے کوئی منزل
کسی اور کا ہونا میرے بس کی بات نہیں.
مدثر ایاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملتان کا ایک اور چراغ بجھ گیا🥹30 سالہ وقاص رضا، جو ماڈل ٹاؤن چوک میں ایک رئیل اسٹیٹ آفس چلا رہا تھا، زندگی کی کسی ایسی ج...
22/06/2025

ملتان کا ایک اور چراغ بجھ گیا🥹
30 سالہ وقاص رضا، جو ماڈل ٹاؤن چوک میں ایک رئیل اسٹیٹ آفس چلا رہا تھا، زندگی کی کسی ایسی جنگ سے ہار گیا جس کا شور صرف اس کے دل میں تھا۔

دفتر میں کام کی فائلیں، کتابیں، اور ایک بورڈ جس پر لکھا تھا:

"WHEN YOU TAKE OWNERSHIP OF ALL YOUR FLAWS AND WEAKNESSES, YOU'VE WON."

کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کس کرب سے گزر رہا تھا، کیا دکھ تھا، یا کون سی امید ٹوٹ چکی تھی۔ مگر یہ حقیقت ہمیں ایک بار پھر جھنجھوڑتی ہے کہ
زندگی کی چکاچوند میں بہت سے لوگ اندر سے ٹوٹ رہے ہوتے ہیں🥹

اگر آپ کے آس پاس کوئی چپ ہے، تھکا ہوا ہے، الگ تھلگ ہے تو اسے صرف وقت نہیں، توجہ، محبت اور سننے والا دل چاہیے💞

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکوئی شخص اگر درود شریف پڑھے اور دوسروں تک پہنچائے بروز قیامت میں اسے ہاتھ سے پکڑ کر...
16/06/2025

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کوئی شخص اگر درود شریف پڑھے اور دوسروں تک پہنچائے بروز قیامت میں اسے ہاتھ سے پکڑ کر جنت میں لے جاؤں گا۔

اللهم صَلِّ عَلَى مُحمدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللهم بارك عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّد كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

قوم یا گدھابات سوچنے کی ھےبند دکان کے تھڑے پر بیٹھے دو بوڑھے آپس میں باتیں کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے کہ ای...
16/06/2025

قوم یا گدھا
بات سوچنے کی ھے
بند دکان کے تھڑے پر بیٹھے دو بوڑھے آپس میں باتیں کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے کہ ایک متجسس راہگیر نے ان سے اتنا خوش ہونے کی وجہ پوچھ لی۔
ایک بوڑھے نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا: ہمارے پاس اس ملک کے مسائل حل کرنے کیلیے ایک شاندار منصوبہ ہے۔
اور وہ منصوبہ یہ ہے کہ ساری قوم کو جیل میں ڈال دیا جائے۔ اور ان سب کے ساتھ ایک گدھا بھی جیل میں ڈالا جائے۔
راہگیر نے حیرت سے دونوں کو دیکھا اور پوچھا: ان سب کے ساتھ ایک گدھے کو کیوں قید کیا جائے؟
دونوں بوڑھوں نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھا، اور ایک بوڑھے نے دوسرے سے کہا: دیکھا رحیمے: آگیا یقین تجھے میری بات پر، میں نہیں کہتا تھا کہ بخدا اس قوم کے بارے میں کوئی بھی نہیں پوچھے گا۔

(چالان کے چکر میں چیچہ وطنی کی عورت جا نبحق جب عورت ساتھ تھی تو روکنا نہی بنتا تھا) ساہیوال ملتان روڈ صادق فیڈز مل کے با...
16/06/2025

(چالان کے چکر میں چیچہ وطنی کی عورت جا نبحق جب عورت ساتھ تھی تو روکنا نہی بنتا تھا) ساہیوال ملتان روڈ صادق فیڈز مل کے باہر چلان نا جمع کروانے پر موٹروے اہلکار شمعون اور ابرار نامی لڑکے میں تکرار ۔۔
ابرار کی والدہ دل کا دورہ پڑنے سے موقع پر جابحق
تفصیل : ہوا یوں کہ موٹروے پولیس نے ابرار نامی لڑکے کا ہیلمٹ نا پہننے پر چالان کیا اور وہ ابرار نامی لڑکے نے وہ چالان جمع نا کروانے کے لیے منت سماجت کی ۔۔ اس کے بعد اس نے چالان جمع کروا دیا اور موٹروے سب انسپکٹر کی وڈیو بنائی جس پر سب انسپکٹر صاحب کو غصہ آیا اور اس نے اس لڑکے کو تھانے میں بند کرنے کی دھمکی دی اور موبائل فون چھین لیا جس پر لڑکا اور اس کی ماں وہاں منت سماجت کرتی رہی لیکن انہوں نے نہیں سنی اور خاتون کو دھکا دیا خاتون وہاں گرنے سے موقع پر جا بحق ہوگئی
مرنے والی خاتون چیچہ وطنی کی رہائشی ہے ۔۔

Absolutely 💯🤗
13/06/2025

Absolutely 💯🤗

نہ ٹک ٹاکر تھی، نہ چھوٹے کپڑے پہنتی تھی، نہ بے حیائی پھیلا رہی تھی، یہ ایک شریف گھر کی معصوم کلی تھی۔۔ جو منڈی بہاؤالدین...
09/06/2025

نہ ٹک ٹاکر تھی، نہ چھوٹے کپڑے پہنتی تھی، نہ بے حیائی پھیلا رہی تھی،
یہ ایک شریف گھر کی معصوم کلی تھی۔۔ جو منڈی بہاؤالدین کے علاقے مرادوال میں مہمان بن کر آئی ہوئی لاپتہ ہوگئی ، اور آج قریبی کھیتوں سے اس گڑیا کی لاش برآمد ہوئی ہے۔۔

والدین سے بھی ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ جہاں ملک میں لاقانونیت کی انتہا اور ریاست سے انصاف کی کسی قسم کی کوئی امید نہیں ، خدارا سائے کی طرح اپنے بچوں کے ساتھ رہیں، ان کا خیال رکھیں پلیز۔۔!!🙏

طاقت کے نشے میں دھوت انسان کو پولیس نے گرفتار تو کر لیا دیکھو اپ کتنی دیر تک اس کو جیل میں رکھ سکتے ہیں اور کیا مک مکا ہ...
07/06/2025

طاقت کے نشے میں دھوت انسان کو پولیس نے گرفتار تو کر لیا دیکھو اپ کتنی دیر تک اس کو جیل میں رکھ سکتے ہیں اور کیا مک مکا ہوتا ہے چلو سوشل میڈیا کی وجہ سے اتنا فرق تو پڑا کہ اس کے گرفتاری تو ہوئی

یہ جلی ھوئی لاش ایک گریڈ 22 کے افسر کی ہے۔یہ واقعہ ہر انسان کو لازمی پڑھنا چاہیے۔وہ خود ایک اعلیٰ عہدے پر فائز سرکاری اف...
06/06/2025

یہ جلی ھوئی لاش ایک گریڈ 22 کے افسر کی ہے۔
یہ واقعہ ہر انسان کو لازمی پڑھنا چاہیے۔
وہ خود ایک اعلیٰ عہدے پر فائز سرکاری افسر تھا۔
اس کے تین بیٹے تھے، جو سونے کے چمچ سے پالے گئے اور بادشاہوں جیسی زندگی گزارتے رہے۔
وقت تیزی سے گزرتا گیا اور اُس افسر کے نام کے ساتھ “ریٹائرڈ” لکھا جانے لگا۔
عہدہ ختم ہوا، بادشاہی کم ہو گئی، اور زندگی کے آخری تنہائی کے دور میں داخل ہو گیا۔
جب اس کے پاس نوکری تھی تو بیٹے اُس کے عہدے سے خوب فائدہ اٹھاتے تھے۔
کہتے تھے: ’’ہمیں کسی چیز کی فکر نہیں، ہمارا والد گریڈ 22 کا افسر ہے، ہمارے کام خودبخود ہو جاتے ہیں۔‘‘
اور حقیقتاً اُن کے سارے کام ایک فون کال پر مکمل ہو جایا کرتے تھے۔
لیکن پھر وہ دن بھی آ گیا۔۔۔
جب بیٹے یہ بھول گئے کہ یہی وہی باپ ہے
جس کے نام اور عہدے کی وجہ سے لوگ انہیں "سر" کہہ کر پکارتے تھے۔
باپ کسی بیماری کے باعث چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا، بولنے کی طاقت بھی ختم ہو گئی۔
بیٹے کہنے لگے کہ اب تو والد کی کمزوری ہمارے لیے عذاب بن گئی ہے۔
ایک بیٹے نے کہا، ’’آؤ والد کی جائیداد تقسیم کر لیتے ہیں، پتا نہیں کب مر جائے۔‘‘
اب تو شرم آتی ہے یہ بتاتے ہوئے کہ یہ معذور ہمارا باپ ہے۔
جب دوست آتے ہیں تو یہ مریض سامنے پڑا ہوتا ہے۔
بیس ہزار روپے ماہانہ پر ایک نوکر رکھا گیا جو ان کے بوڑھے والد کی دیکھ بھال کرتا تھا۔
گھر کے ایک کمرے میں فرش پر ایک گدا ڈال کر اس پر باپ کو لٹا دیا گیا۔
اسی کمرے میں اُس کے کپڑے اور دوائیاں بھی رکھ دی گئیں۔
نوکر سے کہا گیا کہ اچھی طرح خیال رکھنا، ہمیں کوئی شکایت نہیں ملنی چاہیے۔
بیٹوں کی شادیاں ہو گئیں۔
باپ پوری دنیا سے کٹ کر ایک کمرے میں قید ہو چکا تھا۔
کبھی اس کے پیچھے نوکروں اور ملازموں کی لائنیں لگی ہوتی تھیں،
لوگوں کو اُس سے ملنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔
اور آج وہی 22 گریڈ کا افسر تنہا کمرے میں موت کا انتظار کر رہا تھا۔
تینوں بیٹے بیرونِ ملک چلے گئے۔
ایک فرانس میں چھٹیاں منانے گیا،
دوسرا لندن،
اور تیسرا پیرس۔
اور ہر جگہ انہوں نے اپنا تعارف 22 گریڈ کے افسر کے بیٹے کے طور پر کروایا،
کیونکہ ان کی ساری پہچان ان کے افسر والد سے جڑی ہوئی تھی۔
نوکر سے کہا: ’’ہم تین مہینے بعد واپس آئیں گے، والد کا خیال رکھنا، وقت پر کھانا دینا۔‘‘
’’جی، سائیں!‘‘ نوکر نے کہا۔
سب چلے گئے، اور وہ بوڑھا باپ کمرے میں اکیلا پڑا رہا،
نہ چل سکتا تھا، نہ کسی کو بلا سکتا تھا، مکمل معذور اور مجبور انسان۔
ایک دن نوکر بازار سے بریڈ لینے گیا، لیکن راستے میں حادثے کا شکار ہو گیا۔
لوگ اُسے اسپتال لے گئے، جہاں وہ کوما میں چلا گیا اور ہوش میں نہ آ سکا۔
بیٹوں نے نوکر کو صرف والد کے کمرے کی چابی دی تھی،
باقی پورے گھر کو تالا لگا کر اس کی چابیاں ساتھ لے گئے تھے۔
نوکر جب بریڈ لینے گیا تو کمرے کو بھی تالا لگا کر چابی ساتھ لے گیا،
مگر پھر وہ اسپتال پہنچ گیا۔
اب وہ بوڑھا ریٹائرڈ سرکاری افسر بند کمرے میں قید ہو چکا تھا،
نہ چل سکتا تھا، نہ آواز دے سکتا تھا۔
تین ماہ بعد جب بیٹے واپس آئے اور تالے توڑ کر کمرہ کھولا،
تو لاش کی حالت ایسی تھی جیسی تصویر میں دیکھی جا سکتی ہے۔۔۔
سوچیں، ایک انسان کس قدر تکلیف میں موت تک پہنچا ہو گا۔
یہ واقعہ بہت سوں کو افسانہ لگے،
لیکن یہ حقیقت ہے کہ بادشاہوں جیسی زندگی گزارنے والا،
شہر کا بااثر شخص،
اپنے بچوں کو دنیا کی ہر خوشی اور سہولت دینے والا باپ،
اس قدر بے رحمی اور اذیت سے مرا کہ اس کی لاش بھی مہینوں بند کمرے میں گلتی سڑتی رہی۔
دنیا کی چمک دمک اور سرگرمیوں میں یہ نہ بھولو کہ
آپ کو اپنی اولاد کی تربیت بھی کرنی ہے۔
اگر صرف سہولتیں اور بادشاہیاں ہوں اور تربیت نہ ہو،
تو ایسے واقعات ہو سکتے ہیں جن سے ہر انسان پناہ مانگتا ہے۔..

25/05/2025

مجھے اک نظر دیکھ کر
میرے سارے درد سمجھ سکے
ایسا جو ہو ہمسفر
مجھے اس شخص کی تلاش ہے

گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔دن میں اسکول جاتے تھے...
25/05/2025

گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔
ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔
دن میں اسکول جاتے تھے، وہاں صرف پنکھے ہوتے تھے،لیکن کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہاں اے سی بھی ہونا چاہیے۔

گھر آ کر ٹیوشن جانا ہوتا،
وہاں گرم زمین پر پانی ڈالا جاتا،
چٹائی بچھائی جاتی اور ہم وہیں بیٹھ جاتے۔
سامنے ایک پیڈسٹل فین چل رہا ہوتا،
جب کبھی روٹیشن پہ سامنے آتا تو ہوا لگ جاتی.

پھر گھر آکر رات کو صبح سے تپے ہوئے فرش پر پانی ڈال کر کولر لگا لیتے،
سامنے قطار میں سب کی چارپائیاں لگی ہوتیں۔
پہلی چارپائی پر سونے کے لیے بہن بھائیوں میں لڑائی ہوتی۔
رات کو آسمان کے تارے دیکھتے دیکھتے نیند آ جاتی۔
کبھی آنکھ کھلتی تو آسمان پر جہاز کی روشنی نظر آتی،
یا کسی ٹوٹتے ہوئے ستارے کی چمک —
اور پھر صبح ہو جاتی۔

تب کبھی محسوس نہیں ہوتا تھا کہ شور ہے تو سائلنٹ روم ہونا چاہیے،
گرمی ہے تو اے سی چاہیے،
صبح روشنی ہوتی ہے تو بلائنڈرز چاہئیں۔

وقت بدل گیا ہے۔
اب نہ روزانہ فرش ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے،
نہ چارپائی نکالنی، نہ بستر بچھانا،
نہ کولر میں پانی ڈالنا، نہ رات میں پینے کے لیے ٹھنڈا پانی بھر کے رکھنے کی ضرورت رہی۔

ہر صبح ان سب چیزوں کو سمیٹنے کا تکلف بھی نہیں رہا۔

اب سونے کے لیے ٹھنڈا کمرہ ہے،
بلائنڈرز ہیں،
خاموشی ہے،
اب اے سی کے سامنے سونے کے لیے لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔

مگر اب نہ وہ نیند ہے،
نہ وہ بےفکری،
نہ وہ گھر ہے،
اور نہ وہ لوگ۔
اب گرمی میں وہ ٹھنڈک نہیں، جو پہلے دل کو محسوس ہوتی تھی۔"

کہنے کو تو ہم بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں،
ہماری لائف اسٹائل کمفرٹیبل ہو گیا ہے۔
لیکن کیا واقعی ہم نے کچھ پایا ہے؟

Address

Ptcl Office Exchange Road Teshil Alipur District Muzaffrgahr
Alipur
34450

Telephone

+923084710573

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mudassir Ayaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mudassir Ayaz:

Share

Category