Umar Reacts

Umar Reacts 🎬 Daily Viral Reactions
🇵🇰 Pakistani Content
😂 Funny | 🏏 Cricket | 🔥 Trending
Follow for daily entertainment!

سچی کہانی : مدعیوں نے معاف کردیا ، مگر ریاست معاف نہیں کررہی ۔۔۔ تصویر میں نظر آنے والا  کراچی جیل کا قیدی عمر قید جتنی ...
27/05/2026

سچی کہانی : مدعیوں نے معاف کردیا ، مگر ریاست معاف نہیں کررہی ۔۔۔ تصویر میں نظر آنے والا کراچی جیل کا قیدی عمر قید جتنی سزا کاٹ چکا ، اسے 2014 میں سز۔ائے موت ہوئی ، 7 دن بعد بلیک وارنٹ جاری ہو گئے مگر سزا پر عملدرآمد سے ایک دن قبل مق۔تول کی فیملی نے انہیں معاف کردیا چنانچہ سزائے موت کے حکم پر سٹے جاری ہو گیا ۔ یہ 17 سال کے تھے جب جرم کیا ، اب 26 سال سے جیل میں قید ہیں مگر ریاست کی توجہ ان پر نہیں پڑ رہی ، انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ جیل انکی جوانی کھا گئی ، اب بڑھاپا آچکا ہے وہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں ، ان سے جو غلطی ہوئی اسکی سزا بھی کاٹ چکے ہیں اور مدعیوں نے بھی معاف کر دیا ہے لہذا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں جیل سے رہا کیا جائے ۔
Umar Reacts ✅

گھر کی عزت اور غیرت کے نام پر اپنی جوانی قربان کرنے والا لاہوریا: 16 سال کی عمر میں اپنے سالے کو ق.ت.ل کیا اور 10 سال جی...
26/05/2026

گھر کی عزت اور غیرت کے نام پر اپنی جوانی قربان کرنے والا لاہوریا: 16 سال کی عمر میں اپنے سالے کو ق.ت.ل کیا اور 10 سال جیل کاٹی ۔۔۔ ایک ایسی کہانی کہ آپ اس نوجوان کی ہمت کی داد دیے بغیر نہ رہیں گے ۔۔۔برسوں قبل فری المعروف آغا سلطان 4 یا 5 سال کا تھا جب اسے محسوس ہوا کہ اسکی بڑی بہن کے جیدا نامی ایک نوجوان کے ساتھ تعلقات ہیں ۔ بہن لیڈی میگلیگن سکول میں پڑھتی تھی اور جیدا ایک ٹیلر ماسٹر کی دکان پر کام کرتا تھا ۔۔۔ فری یہ بھی دیکھتا کہ اسکے والدین بہن کو جھڑکتے ہیں ماموں بھی غصہ کرتے ہیں لیکن جیدے اور انکی بہن بہن کا اگلے روز پھر یہی تماشا ہوتا ۔۔۔ ایسے حالات میں فری 15 یا 16 سال کی عمر کو پہنچ گیا ۔ تب تک اسے ساری کہانی اچھی طرح سمجھ آچکی تھی ۔ دراصل سارا قصور جیدے کا بھی نہیں تھا انکی بہن بھی اس سلسلے میں ذمہ دار تھی ۔۔ عام نوجوانوں کی طرح فری عمر سے بڑی باتیں کرتا اور اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھتا تھا ۔۔۔ ایک روز فری جیدے کے پاس گیا اور اسے کہیں اکیلے بٹھا کر صاف صاف پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو ۔ ہمارے ساتھ جو کچھ کررہے ہو پورے محلے میں طرح طرح کی باتیں ہوتی ہیں ۔ آخر چاہتے کیا ہو ؟ جیدا بولا میں عزت دینا چاہتا ہوں ۔۔ فری نے کہا ٹھیک ہے جمعہ کے روز نکاح خوان اور گھر والوں کو لے کر ہمارے گھر آجاؤ ۔۔۔ جیدے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا جب فری گھر پہنچا اور والد سے بات کی تو انہوں نے اس اقدام کی مخالفت کی ، بڑے بھائی نے بھی انکار کردیا مگر ماں فری کے ساتھ کھڑی ہو گئی ۔ شریف باپ بیٹا جمعہ کے روز کہیں چلے گئے اور فری نے مقررہ وقت پر اپنی بہن کا نکاح جیدے کے ساتھ پڑھوا دیا اور اسے اسی روز گھر سے رخصت کردیا ۔۔۔۔ فری کا خیال تھا کہ اپنی منزل پاکر جیدا انسان بن جائے گا مگر نہیں جیدے نے فری سے بدتمیزی شروع کردی ۔ سر راہ سب کے سامنے پکارتا اوئے سالے جی : کیا حال ہے ؟ کبھی ماں بہن کی گا۔لی دیتا ۔۔۔ شاید اس خاندان کی شرافت کو جیدے نے اپنی کمزور سمجھ لیا تھا ۔۔۔ لیکن چند ہفتے گزرے تو ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ۔۔ فری کی چھوٹی بہن قریب ہی مشہور سرکاری سکول میں پڑھتی تھی ، فری اسے لینے جاتا تھا اب اس نے نوٹ کیا کہ جیدا اکثر سکول کے گیٹ کے پاس منڈلاتا ہے اور اسکی نظر بھی انکی چھوٹی بہن پر ہوتی تھی ۔ کچھ روز نظر رکھنے کے بعد فری کو یقین ہو گیا کہ جیدا اب انکی چھوٹی بہن کو تاڑتا ہے تو ایک روز فری جیدے کے والدین کے پاس چلا گیا ۔ اسکے والد اور بھائی اچھے لوگ تھے انہوں نے فری کی بات غور سے سنی اور جب جیدا گھر واپس آیا تو اسے خوب لعنت ملامت کی ۔۔۔۔ اگلے روز جیدا 16 سالہ فری کو پیار سے اور معافی مانگتے ہوئے یعنی شرمندگی والی باتوں کے دوران ایک فلیٹ پر لے گیا جیدے کے ساتھ ایک دوست بھی تھا دونوں نے فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند کر لیا اور فری کو نہ صرف تش۔دد کا نشانہ بنایا ۔نازیبا حرکات کیں بلکہ خنجر دکھا کر اسے بے لباس کرکے ایک کیمرے سے اسکی تصویریں بھی بنا ڈالیں ۔۔ 2 مسٹنڈوں کے سامنے ایک کم عمر لڑکا کیا کر سکتا تھا خاص کر جب اسکی نازیبا تصویریں بھی بن گئیں ، اب فری نے ان سے پوچھا کیا چاہتے ہو اور کیسے ہماری جان چھوڑ دوگے ۔۔ اس پر جیدے نے صاف کہا کہ تمہاری بڑی بہن ، چھوٹی بہن اور اب تمہاری تصویرں ہمارے پاس ہیں اگر تم چاہتے ہوں کہ ان تصویروں کے پوسٹر محلے میں ہر جگہ نہ لگیں تو کل صبح سے اپنی چھوٹی بہن کو سکول کی بجائے سیدھے یہاں لے آؤ گے ۔ اور جب چھٹی کا وقت ہو گا تو دوبارہ آکر لے جاؤ گے ۔۔۔ اور یہ سلسلہ جب تک میں کہوں گا بلاناغہ جاری رہے گا ۔۔۔۔ فری نے ہاں میں ہاں ملائی اور ان کے نرغے سے نکل آیا مگر باہر گلی میں آتے ہی فری کے سینے میں ایک آتش فشاں ابل پڑا ۔ اس کا دل چاہا کہ یا تو یہ کسی کو مار ڈالے یا پھر کوئی اسکا خاتمہ کردے کیونکہ اب خاندان کو رسوائی سے بچانے کا کوئی اور طریقہ نہ تھا ۔۔۔ خیر کسی نہ کسی طرح فری گھر پہنچا اور چھت پر جاکر لیٹ گیا یہ سوچتا رہا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ، چھوٹی بہن کو سالے کے سامنے پیش کرنے سے پہلے موت کی دعا کرتا رہا پھر جیدے کو ق۔ت۔ل کرنے کے پلان بناتا رہا کبھی خود۔ کشی کا خیال آتا اور کبی ماں اور بہن کا چہرہ سامنے آجاتا انہی خوابوں اور خیالوں میں رات اور پھر صبح ہو گئی ماں نے اسے چھت پر آکر جگایا کہ چھوٹی کو سکول چھوڑ آؤ مگر اس نے کہا رہنے دیں آج اسے چھٹی کروا دیں میری طبیعت ٹھیک نہیں ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ماں کچھ نہ بولی اور واپس چلی گئی ۔ 10 بجے کے قریب فری گھر سے نکل کر گلی میں آیا تو جیدا اسے نظر آگیا ، شاید وہ اپنے کوارٹر پر اتنظار کرکے اب یہاں آگیا تھا ۔ فری کو معلوم تھا کہ جیدے کے پاس خنجر ہو گا اور شاید پستو۔ل بھی ، جیدے نے قریب آکر فری کو گا۔لی دی تو یہ اسے قریب ہی ایک بند دکان کے تھڑے پر لے گیا کہ کوئی عذر پیش کرکے اس سے جان چھڑائے اور پھر محلے کے کسی معتبر سے مشورہ کرے۔ جیدے کو اپنا مطلب تھا چنانچہ وہ بھی فری کی بات سننے آگیا اور یہ تھڑے پر بیٹھ گیا جیدے کا دوست بھی ساتھ ہی موجود تھا ۔ فری نےہمت کرکے جیدے سے پوچھا ،اوئے یہ بتاؤ تم چاہتے کیا ہو ؟ جیدے نے الٹے ہاتھ سے ایک تھپڑ فری کو جڑ دیا ۔ تو فری اٹھا اور یہ دونوں باہم دست و گریبان ہو گئے ۔ جیدے نے جیب سے خنجر نکالا دھینگا مشتی میں خنجر زمین پر گر گیا جسے فری نے اٹھا لیا پھر کیا ہو گیا فری کو آج تک یاد نہیں بس یہ پتہ چلا کہ جیدا زخمی ہو کر گر گیا اور اسے ننجا سوزوکی سکواڈ یعنی پولیس والوں نے کچھ دور بھاگتے ہوئے پکڑ لیا اور تھانے لے گئے ۔ اس دوران فری شور مچاتا رہا مجھے مار ڈالو مجھے مار ڈالو ۔۔۔ تھانے لے جا کر پولیس ملازموں نے اسے پانی پلایا ۔۔ تب تک جیدے کی موت کیا اطلاع آچکی تھی ۔۔ فری نے ایس ایچ او ملک عابد کے سامنے سارا اور پورا واقعہ بیان کردیا ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پولیس نے ایک تھپڑ بھی مارے بغیر فری کےا عتراف جرم کے بعد اسے چالان کرکے عدالت میں پیش کیا اور پھر جیل بھیج دیا ۔ فری پر مقدمہ چلا اور اسے عدالت نے سزا۔ئے موت سنا دی ، بعد میں اپیلیں ہوئی ۔ فری کے والد اور بھائیوں نے کیس لڑا اور آخر کار ساڑھے 9 سال کا عرصہ جیل میں گزار کر فری آزاد ہو گیا آج آغا سلطان المعروف فری لاہور میں پر امن زندگی گزار رہا ہے ۔۔۔ آپ نے کہانی پڑھی ۔ یہ ضرور بتائیں کہ غیرت کے نام پر فری کا یہ جرم درست تھا یا غلط ۔۔ کیا فری کے پاس کوئی اور آپشن تھا ؟؟؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں
سورس: شاہد چوہدری آفیشل یوٹیوب چینل

کچے کے ڈا۔کؤؤں کے لیے پنجاب سے مال سپلائی کرنے والی آنٹی حسینہ شکار پور پولیس کی گرفت میں آگئی ۔۔۔۔ پہلی تصویر حسینہ نام...
25/05/2026

کچے کے ڈا۔کؤؤں کے لیے پنجاب سے مال سپلائی کرنے والی آنٹی حسینہ شکار پور پولیس کی گرفت میں آگئی ۔۔۔۔ پہلی تصویر حسینہ نامی ایک خاتون کی ہے جو گرفتاری سے قبل صادق آباد میں مقیم تھی ، باقی تینوں تصویریں لاہور کی تین لڑکیوں کی ہیں ۔۔۔ ناقابل یقین کہانی کائنات نامی لڑکی کی زبانی ۔۔ میں نیشنل ہسپتال لاہور میں بطور نرس کام کرتی تھی ، مجھے پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیر کا بہت شوق تھا ، انہی دنوں عمران نامی ملتان کے ایک لڑکے نے اسے ورغلایا پھسلایا کہ صادق آباد چلتے ہیں وہاں کے کچھ امیر کبیر لوگوں نے مجھے رشتہ کرانے کا کہہ رکھا ہے ۔ اس بہانے سیر بھی ہو جائے گی اور آپ کی زندگی بھی بن جائے گی ۔کائنات نے آگے اپنی دونوں سہیلیوں کو بھی انوائٹ کیا چنانچہ سیر سپاٹوں کی شوقین یہ تین لڑکیاں عمران کے ساتھ صادق آباد پہنچ گئیں ۔۔۔جہاں ایک دو دن انہیں عمران نے حسینہ آنٹی کے مکان پر رکھا اور پھر روہڑی لے گیا وہاں سے 3 موٹرسائیکلوں پر یہ سیاحت کی شوقین لاہوری کڑیاں اجنبی مردوں کے ساتھ ان دیکھی راہوں پر گامزن ہوئیں ۔۔ منزل آگئی تو پتہ چلا یہ کچے کے ڈا۔کؤؤں کے پاس پہنچ چکی ہیں ۔۔۔ وہاں ویرانوں اور جنگلوں کی بور زندگی کے مارے کچے والوں نے انکے ساتھ کیا سلوک کیا یہ بیان سے باہر ہے ، لڑکیوں کے بقول یہ پوچھیں کہ کیا کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ 13 دن ڈا۔کؤؤں کے قبضے میں رہنے کے بعد یہ لڑکیاں کسی نہ کسی طرح انکے چنگل سے بھاگیں ، کئی گھنٹے پیدل سفر کرتی رہیں اور آخر کار ایک سڑک پر چنگ چی لوڈر والے نے انہیں شکار پور پہنچا دیا ۔ اب یہ لڑکیاں سوچ رہی تھیں کہ کیا کریں کہاں جائیں اور کس سے فریاد کریں ۔۔۔ ایک لڑکی کی رائے تھی کہ جو ہوا سو ہوا اب چلو واپس لاہور ۔۔۔ یہی صلاح مشورہ ہو رہا تھا کہ شکار پور پولیس نے اجنبی اور انجان سمجھ کر لڑکیوں سے نام پتہ اور ٹھکانا پوچھا اور تسلی بخش جواب نہ ملنے پر انہیں تھانے لے آئی ، لڑکیوں کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں حسینہ نامی اس خاتون کو بھی گرفتار کر لیا گیا جسکا ابتدائی موقف تھا کہ اس نے خدا ترسی کے لیے لڑکیوں کو اپنے گھر پر رکھا جبکہ اسکا شوہر رکشہ چلاتا ہے ۔۔ جب پولیس نے سارے معاملے کی کھوج لگائی تو پتہ چلا کہ حسینہ ۔ اسکا شوہر عاشق جتوئی اور ملتانی نوجوان عمران ۔۔ ملکر ایسا گیننگ چلاتے ہیں جو پنجاب کے مختلف شہروں سے جوان اور خوبصورت لڑکیاں بہلا پھسلا کر اور آشنائی کے چکر میں یہاں صادق آباد اور روہڑی لاتا ہے اور پھر یہ لڑکیاں کچے کے ڈا۔کؤؤں کو پیش کی جاتی ہیں ۔۔ جو انہیں اس خدمت پر بھاری انعام سے نوازتے ہیں ۔۔۔ شکار پور پولیس اس گیینگ کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے کوشاں ہے جسکے بعد مزید ہولناک حقائق سامنے آنے کی توقع ہے ۔۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مبینہ طور پر سینکڑوں لڑکیاں اس طرح سے اغ۔وا کرکے آگے فروخت کی جا چکی ہیں ۔
Umar Reacts ✅

صوبہ سندھ کے کسی دوردراز گاؤں سے یہ تصویریں ایک شخص نے بھیجی ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ انکی 12 سالہ بیٹی کے بازو کی تصو...
25/05/2026

صوبہ سندھ کے کسی دوردراز گاؤں سے یہ تصویریں ایک شخص نے بھیجی ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ انکی 12 سالہ بیٹی کے بازو کی تصویریں ہیں ، کالے جا۔دو اور عمل کی وجہ سے یہ تحریریں اور نقش خود بخود بچی کے جسم پر بن جاتے ہیں ۔ رات کو بچی بالکل ٹھیک ٹھاک سوتی ہے لیکن جب صبح اٹھتی ہے تو جسم کے مختلف حصوں پر یہ تحریریں اور نقش نگار بنے ہوتے ہیں ۔۔ خاص بات یہ ہے کہ کالے جا۔دو کا توڑ کرنے کے نام پر موصوف لاکھوں روپے عاملوں کو دے چکے ہیں مگر کوئی فرق نہیں پڑا ، اب یہ بھائی پریشان ہے کہ کالا جادو کرنے والے کو ڈھونڈیں اور پولیس کے پاس جائیں یا پھر اپنی رقم کی واپسی کے لیے عاملوں کے آستانوں پر ڈیرے ڈالیں ۔۔۔۔۔ اگر کسی کو ان تصویروں کی حقیقت سمجھ آئے تو کمنٹس میں ضرور بتائیں یہ ڈرامہ ہے یا حقیقت ۔
Umar Reacts ✅

Yar iş Masly Ka kya hal ha please koi bta do 😒?
23/05/2026

Yar iş Masly Ka kya hal ha please koi bta do 😒?

23/05/2026

Biwi ny mila ya chay mine zeher 🤯🔥

غریب کی آہ سے ڈرنے والا پنجاب پولیس کا تھانیدار جو 3 گھر سے بھاگی بہنوں کی بازیابی کے لیے سندھی وڈیرے سے ٹکرا گیا تھا ۔۔...
23/05/2026

غریب کی آہ سے ڈرنے والا پنجاب پولیس کا تھانیدار جو 3 گھر سے بھاگی بہنوں کی بازیابی کے لیے سندھی وڈیرے سے ٹکرا گیا تھا ۔۔۔ 2011 میں حافظ آباد میں پیش آیا واقعہ ۔۔۔۔ سب انسپکٹر نور احمد تھانہ سٹی حافظ آباد میں تعینات تھے جب ایک روز مزدوری پیشہ شخص شکایت لے کر آیا کہ اسکی تین جوان بیٹیاں بعمر 28، 25 اور 18 سالہ گھر سے غائب ہیں سارا دن انہیں ڈھونڈا مگر نہیں ملیں ، لگتا ہے انہیں اغ۔وا کر لیا گیا ہے ۔۔۔ مدعی انتہائی غریب شخص تھا پھر مقامی میڈیا نے معاملہ اٹھا دیا ، لاہور سے بھی حکم آگیا کہ جلد از جلد لڑکیوں کو بازیاب کریں ۔۔۔ ایک دو دن تو مقامی پولیس نے کوشش کی مگر لڑکیوں کا کچھ پتہ نہ چلا ۔ ان دنوں کال ریکارڈ کی سہولت بھی اتنی ایڈوانس نہیں تھی چنانچہ جب کچھ روز گزرے تو سب انسپکٹر نور محمد جو اس کیس کے تفتیشی مقرر تھے انہیں یقین ہو گیا کہ کسی بھی وقت وزیراعلیٰ شہباز شریف کا ہیلی کاپٹر لینڈ کرے گا اور یہ نوکری سے فارغ ہونگے ، اور وزیراعلیٰ کا معطل کردہ اہلکار یا افسر تو بحال بھی شاذونادر ہی ہوتا ہے ۔۔۔ دوسری جانب لڑکیوں کا والد ہر وقت تھانے کے گیٹ پر بیٹھا روتا رہتا ،اور فریاد کرتا جناب کچھ کریں ۔۔۔ یہ حالات دیکھ کرسب انسپکٹر نور محمد نے دعا کی یااللہ مجھےا س غریب کی مدد کرنے کی ہمت اور طاقت دے ۔۔۔ اسی روز آئی ٹی سیل نے انہیں بتایا کہ وہ موبائل فون جو لڑکیاں ساتھ لے گئیں وہ سندھ کے ضلع گھوٹکی اور شہر ڈھرکی میں آن ہوا ہے ۔۔۔ افسران بالا کو اطلاع دی گئی تو شہباز شریف کے دورے کے ڈر سے انہوں نے فوری طور پر ٹیم سندھ بھیجنے کا حکم جاری کیا لیکن تھانہ میں نفری کم تھی اس لیے ایس ایچ نے سب انسپکٹر نور محمد کو حکم دیا کہ وہ ایک کانسٹیبل اور مدعی کے ساتھ سندھ روانہ ہو جائیں وہاں ضرورت پڑنے اور لڑکیوں کا کوئی سراغ ملنے پر مزید نفری انکے پیچھے روانہ کردی جائے گی ۔۔ سب انسپکٹر نور محمد نے اپنے ایک دوست سے کار ادھار لی اور سندھ جا پہنچے ۔ ڈھرکی تھانے کے ایس ایچ او کے حالات دیکھ کر نور محمد سمجھ گئے کہ یہ شخص تعاون نہیں کرے گا بہرحال افسران بالا سندھ و پنجاب کا حکم تھا اس لیے ایس ایچ او نے ایک صوبیدار یعنی اے ایس آئی ۔ پنجابی تھانیدار نور محمد کے حوالے کیا اور اپنی مطلوبہ جگہ اور خواتین کو تلاش کرنے کی ہدایت کی ۔ یہ صوبیدار صبح سے شام تک نور محمد اور کانسٹیبل کو ویرانوں میں پھراتا رہتا اور شام کو تھانے واپس لے آتا ۔ تین دن تک اس نے ایک شخص سے بھی 3 پنجابی لڑکیوں بارے نہ پوچھا ، ایک روز تنگ آکر سب انسپکٹر نور محمد نے بانس کا ایک ڈنڈا اٹھا اور ممکنہ مشکوک لوکیشن جو کہ ایک ڈیرہ تھا پر پہنچ گئے وہاں باہر کھڑے مویشیوں کو انہوں نے کھول دیا جب خواتین باہر نکلیں تو سب انسپکٹر نور محمد نے انہیں کہا کہ تم نے پنجاب سے تین لڑکیاں چھپائی ہوئی ہیں اب پنجاب سے نفری پہنچنے والی ہے جو تم سب کو مع مال مویشی پنجاب لے جائے گی اور تمہیں جیل میں بند کردے گی ۔ اس د۔ھمکی نے اثر کیا اور خواتین مقامی وڈیرے کے پاس پہنچ گئیں ۔ وڈیرے نے ایس ایچ او کو فون کیا کہ تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے علاقے کے لوگوں کو د۔ھمکیاں دینے کی ۔۔ ایس ایچ او نے نور محمد کو کال کی اور کہا خود بھی مرو گے اور مجھے بھی مرواؤ گے ۔ جہاں ہو جلدی سے تھانے پہنچو ۔۔۔ نور محمد نے سندھی ایس ایچ او کو کہا کہ میں اس کام میں مرا تو شہیید ہونگا اور یہاں ڈھرکی سے حافظ آباد تک میری میت جہاں سے بھی گزرے گی مجھ پر پھول برسائے جائیں گے اور مجھے گارڈ آف آنر کے ساتھ قومی پرچم میں دفن کیا جائے گا اور مجھے یقین ہے کہ شہیید مرتا نہیں زندہ رہتا ہے ۔۔۔ البتہ تمہارے جو کرتوت ہیں لگتا ہے جس روز تم مرے تمہارے ساتھ ہلا۔ک کا لفظ لکھا جائے گا ۔۔۔ بہر حال نور محمد ڈھرکی تھانے واپس پہنچے تو ایس ایچ او نے انہیں کھجوریں پیش کی چائے پلائی اور اتنی دیر میں تینوں لڑکیاں ایک کار میں وہاں پہنچا دی گئیں ، انکشاف ہوا کہ دو نے شادی کر لی ہے جب کہ تیسری انکے ساتھ ویسے ہی آزادی کی زندگی انجوائے کررہی تھی ۔۔ کہانی یہ کھلی کہ بڑی بہن نے فون پر ایک شخص سے گپ شپ شروع کردی تھی جو سندھ کا رہنے والا تھا اس نے لڑکی کو ایسے خواب دکھائے کہ لڑکی اپنی دو بہنوں سمیت مفلسی کی زندگی سے نجات اور سکون کی زندگی گزارنے کے چکر میں ٹرین میں بیٹھی اور یہ سندھ پہنچ گئیں ۔۔۔ مدعی والد نے جب بیٹیوں کے کرتوت دیکھے تو دونوں نکاح والیوں کو ساتھ واپس لے جانے سے انکار کردیا جب کہ تیسری اور چھوٹی بیٹی کو واپس گھر لے جانے پر آمادہ ہو گیا ۔۔۔ افسران بالا کو پیش رفت بتائی گئی ، کاغذی کارروائی اور بیانات قلمبند ہوئے اور یوں سب انسپکٹر نور محمد ایک بازیاب شدہ لڑکی ، مدعی اور اپنے ساتھی کانسٹیبل کے ساتھ کامیاب و کامران حافظ آباد پہنچ گئے۔
Umar Reacts ✅

کچی عمرکے تباہ کن عشق کی کارستانیاں : 13 سالہ لڑکی نے عاشق کی خاطر اپنے باپ کو ق۔ت۔ل کردیا اور ڈ۔کیتی کا ڈرامہ رچا ڈالا ...
23/05/2026

کچی عمرکے تباہ کن عشق کی کارستانیاں : 13 سالہ لڑکی نے عاشق کی خاطر اپنے باپ کو ق۔ت۔ل کردیا اور ڈ۔کیتی کا ڈرامہ رچا ڈالا ، مگر پکڑی کیسے گئی ؟ ایس ایچ او دیپالپور نے تفصیلات بتا دیں ۔۔۔۔ یہ واقعہ پچھلے سال مارچ میں پیش آیا تھا جب دیپالپور کے نواح میں ایک ڈیرے پر رات 2 بجے گھر میں سوئے ایک شخص کو گو۔لی ماری گئی ۔ ہمسایوں نے 15 پر اطلاع کی پولیس اور فارنزک ٹیمیں مع 1122 موقع پر پہنچے تو مذکورہ شخص شدید زخمی اور نیم بے ہوش تھا سب سے پہلے اسے ہسپتال منتقل کیا گیا مگر یہ چند گھنٹوں بعد جان بحق ہو گیا ۔۔۔ جب مق۔تول کی لا۔ش پوسٹ ۔ما۔رٹم کے بعد گھر پہنچی تو ساتھ ہی پولیس ڈیرے پر پہنچ گئی مگر ایک مق۔تول کی بیوی اور بیٹی سے پوچھ گچھ کیسے ممکن تھی جب کہ ماں بیٹی بین ڈال ڈال کر رو رہی تھیں ، قریبی ڈیرے والوں نے بتایا کہ کچھ ڈا۔کو مویشی لے جانے کی نیت سے آئے تھے مگر سربراہ خانہ کی مزاحمت پر اسے گو۔لی مار کر فرار ہو گئے ۔۔۔ پولیس نے جب تسلی سے علاقہ کے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کچھ نہیں دیکھا یہ بات تو مق۔تول کی بیٹی نےبتائی ہے ۔۔ خیر جنازے کے بعد جب میت قبرستان چلی گئی تو پولیس افسران نے 13 سے 14سال کی بچی کو پیار سے بلایا اسکے ساتھ تعزیت کی اور پھر گھر کا موبائل طلب کیا ، لڑکی نے موبائل لا کر دے دیا اور مطالبہ کیا کہ اسکے والد کے قا۔تلوں کو گرفتار کرکے سزا دی جائے ۔۔ پولیس نے بٹنوں والے اس موبائل کو چیک کیا تو اس میں کچھ میسجز تھے جن میں پیار محبت کا اظہار کیا جارہا تھا یاد رہے کہ لڑکی کے ماں اور باپ دونوں ان پڑھ تھے اور گھر میں صرف ایک ہی موبائل تھا ، پولیس کو شک ہوا کہ لڑکی کے علاوہ یہ کام اور کوئی نہیں کرسکتا ۔۔۔ جب کال ریکارڈ دیکھا گیا تو ایک مشکوک نمبر پر دن میں کئی بار رابطوں کا انکشاف بھی ہوا اور 10 منٹ سے آدھے گھنٹے کی لمبی کالز بھی موجود پائی گئیں ۔۔۔ جب پولیس افسران کا شک یقین میں بدل گیا تو لڑکی کو تھانے لے جایا گیا ، ماں نے چیخ وپکار کی مگر اسے تسلی دے دی گئی کہ لڑکی سے معلومات لینی ہیں ، تھانے پہنچنے کے بعد لڑکی نے جو کہانی بیان کی اسکے مطابق ۔۔۔ وہ پچھلے 2 سال سے عمر نامی ایک لڑکے کو چاہتی تھی ، عمر نے رشتہ بھی مانگا مگر اسکے والد نے انکار کردیا ، والد شک بھی کرتا تھا مارپیٹ بھی کرتا تھا اور عمر کے ساتھ اسکی شادی سے بھی انکاری تھا ۔ اس نے سوچا کہ والد سے جان چھوٹ جائے تو راستہ صاف ہے کیونکہ ماں کو اسکی عمر سے شادی پر اعتراض نہ تھا ۔۔ اگرچہ ماں کو اپنی بیٹی کے خطرناک ارادوں بارے کچھ معلوم نہ تھا ، وقوعہ کی رات لڑکی نے اپنے والد کا ایک پرانا پستو۔ل اٹھایا جس میں صرف ایک گو۔لی تھی ۔ والد کچے گھر کے صحن میں سورہا تھا ، بیٹی پیروں کے پاس آکھڑی ہوئی اور باپ کی طرف پستو۔ل کا رخ کرکے گو۔لی چلا دی ۔ گو۔لی کی آواز آتے ہی لڑکی پہلے اندر کمرے میں گئی اور پستو۔ل چھپا دیا پھر وہ تیزی سے ہمسایوں یا قریبی ڈیرہ کی طرف بھاگی اور اطلاع دی کہ میرے والد کو ڈا۔کو گو۔لی مار گئے ہیں۔۔۔۔۔ ملزمہ کا عاشق لڑکا کچھ دن روپوش رہا اور پھر اسکے وارثان نے خود اسے تھانے پیش کردیا ، اگرچہ اس پر عشق کے علاوہ کوئی اور جرم ثابت نہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق لڑکے کو بھی مشاورت اور اکسانے کا مرتکب قرار دیا گیا اورلڑکی کے اعتراف جرم کے بعد پولیس نے چالان مرتب کرکے عدالت میں پیش کیا جس پر عدالت نے ملزمہ کو جیل بھجوا دیا تھا ۔
Umar Reacts ✅

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉Danger Gaming Yt, Umar Farooq, Fayaz Ahme...
22/05/2026

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉

Danger Gaming Yt, Umar Farooq, Fayaz Ahmed, شاہ زادہ, Saleem Bhanbhro, Mudassar Mudassar, Ahmad Jutt, Farman Bhatti, Abdul Gafar, Rizwan Ali Sidd, Hasnain Joyia, Anam Khan, Ameer Mukhtar

پنکی کے بعد نئی پیشکش : کوئٹہ کے ایک ڈپٹی کمشنر کی گرل فرینڈ نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ۔۔۔ بتایا جارہا ہے کہ اپنے ح...
20/05/2026

پنکی کے بعد نئی پیشکش : کوئٹہ کے ایک ڈپٹی کمشنر کی گرل فرینڈ نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ۔۔۔ بتایا جارہا ہے کہ اپنے حسن اور تعلقات کے بل بوتے پر اقتدار کی راہداریوں میں سیرسپاٹے کرنے والی اس خاتون کو پی ٹی وی میں اینکر کی جاب بھی ملی مگر یہ کچھ نہ کرسکی آخر اسے پروگرام دینے سے معذرت کی گئی اور کام کیے بغیر چند ماہ تنخواہ دی گئی ۔۔۔ چند ہفتے قبل اس خاتون نے ڈپٹی کمشنر کے ذریعے قومی اسمبلی کے ارکان تک پہنچنے کی کوشش کی ۔ کمشنر صاحب نے رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کو اس حسینہ کو ٹائم دینے کا کہا لیکن معذرت پر نامناسب الفاظ استعمال کیے جو د۔ھمکی آمیز تھے ۔۔ اللہ جانے یہ ڈپٹی کمشنر صاحب اور خاتون کیا کھیل رچانا چاہتے ہیں ۔۔۔ ایم این اے کی شکایت پر اسپیکر قومی اسمبلی نے اس معاملہ پر کارروائی کا اشارہ دے دیا ہے ۔
Umar Reacts ✅

Address

Multan
Allu Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umar Reacts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share