City news Qaboola

City news Qaboola فیض المصطفی افیشل پیج سٹی نیوز قبولہ کو فالوکریں جزاک اللہ خیرا

22/07/2026

city news qaboola please follow the page

11/07/2026

please follow the page and share the video thanks for you

Writingعلمی شخصیات میں آج ہم بات کرتے ہیں ہمارے قبولا (QABULA) کی ایک ایسی باوقار، قابلِ احترام اور ہر دلعزیز علمی شخصیت...
04/07/2026

Writing
علمی شخصیات میں آج ہم بات کرتے ہیں ہمارے قبولا (QABULA) کی ایک ایسی باوقار، قابلِ احترام اور ہر دلعزیز علمی شخصیت، جناب غلام حیدر صفدر صاحب کی۔
قوموں کی ترقی اور معاشروں کی تعمیر میں اساتذۂ کرام کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک مخلص استاد صرف کتابی علم ہی نہیں دیتا بلکہ کردار سازی، اخلاق، نظم و ضبط اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی اپنے شاگردوں کے دلوں میں منتقل کرتا ہے۔ ہمارے قبولا (QABULA) کی سرزمین بھی ایسی عظیم علمی شخصیات سے مالا مال ہے جنہوں نے اپنی زندگی قوم کے روشن مستقبل کے لیے وقف کر دی۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک نمایاں نام جناب غلام حیدر صفدر صاحب کا ہے۔
جناب غلام حیدر صفدر صاحب نے ایک طویل عرصے تک گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول قبولا میں بطور استاد نہایت دیانت داری، محنت، اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ کا اندازِ تدریس نہایت مؤثر، آسان فہم اور طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے والا تھا۔ آپ نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں اچھے اخلاق، دیانت، وقت کی پابندی، احترامِ اساتذہ اور خدمتِ خلق جیسے اعلیٰ اوصاف سے بھی آراستہ کیا۔
آپ کی شبانہ روز محنت اور بے لوث خدمت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کے زیرِ تعلیم بے شمار طلبہ نے پنجاب کے مختلف تعلیمی بورڈز میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں اور ہمارے قبولا کا نام روشن کیا۔ آج آپ کے شاگرد ملک و بیرونِ ملک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، سرکاری افسران، وکلا، فوجی افسران، کاروباری شخصیات اور دیگر اہم ذمہ داریوں پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب آپ کی محنت، رہنمائی اور تربیت کا روشن ثمر ہے۔
جناب غلام حیدر صفدر صاحب نہایت شفیق، نرم مزاج، بااخلاق، منکسر المزاج اور باوقار شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو اپنی اولاد کی طرح محبت دی، ان کی رہنمائی کی اور انہیں کامیابی کی راہ دکھائی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی آپ کے شاگرد آپ کو بے حد محبت، عقیدت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔
سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ کی خدمات اور آپ کا علمی فیض ختم نہیں ہوا، کیونکہ ایک سچا استاد کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ اس کے علم کی روشنی اس کے شاگردوں کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ یہی ایک معلم کا سب سے بڑا اعزاز اور حقیقی سرمایہ ہوتا ہے۔Writing
**ہمارے قبولا (QABULA) کے لیے یہ باعثِ اعزاز، باعثِ فخر اور باعثِ مسرت ہے کہ اس دھرتی نے جناب غلام حیدر صفدر صاحب جیسی باوقار، مخلص، شفیق اور باکردار علمی شخصیت کو جنم دیا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی نئی نسل کی تعلیم و تربیت، کردار سازی اور علم کی ترویج کے لیے وقف کیے رکھی۔ آپ کی شبانہ روز محنت، اخلاص اور فرض شناسی کا ثمر آج آپ کے ہزاروں شاگردوں کی کامیابیوں کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے، جو ملک و بیرونِ ملک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔
یقیناً ایک استاد کی اصل پہچان اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کے شاگردوں کی کامیابی، اس کے کردار کی عظمت اور اس کے اخلاص سے ہوتی ہے، اور جناب غلام حیدر صفدر صاحب ان تمام خوبیوں کا حسین امتزاج ہیں۔ آپ کی علمی، تدریسی اور اخلاقی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ جناب غلام حیدر صفدر صاحب کو صحتِ کاملہ، عمرِ دراز، عزت، خوشیاں اور برکتوں بھری زندگی عطا فرمائے، ان کی تمام علمی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ان کے علم کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔۔
(ان کی تعلیمی خدمات کے حوالے سے چند اشعار) علم کی دولت بانٹ کر جو نسلیں سنوارتے ہیں،
ایسے معلم ہی زمانوں میں امر ہو جاتے ہیں۔
قلم کی حرمت کا سبق جنہوں نے ہمیں سکھایا،
ہم نے ہر موڑ پر اپنے استاد کو سر جھکایا۔
چراغِ علم جلانے والے کبھی بجھا نہیں کرتے،
وہ اپنے شاگردوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
استاد کا احسان نہ لفظوں میں سمویا جا سکے،
وہ زندگی سنوار دے تو قرض ادا نہ ہو سکے۔ تحریر و پیشکش
فیض المصطفیٰ نوری
Admin Page
City News QABULA

04/07/2026

Big shout out to my new rising fans! زین جوئیہ جوئیہ

سیاسی شخصیات میں آج ہم بات کرتے ہیں: سابق ضلع ناظم ضلع پاکپتن، سابق رکنِ قومی اسمبلی جناب میاں امجد جوئیہ صاحبضلع پاکپتن...
29/06/2026

سیاسی شخصیات میں آج ہم بات کرتے ہیں: سابق ضلع ناظم ضلع پاکپتن، سابق رکنِ قومی اسمبلی جناب میاں امجد جوئیہ صاحب
ضلع پاکپتن کی سیاست میں اگر باوقار، تجربہ کار اور عوامی شخصیات کا ذکر کیا جائے تو میاں امجد جوئیہ صاحب کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ آپ کا تعلق تحصیل عارف والا کے نواحی گاؤں 51-EB سے ہے۔ کئی دہائیوں پر محیط سیاسی سفر میں آپ نے مختلف سیاسی ادوار دیکھے اور عوامی خدمت کے ذریعے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ شائستگی، خوش اخلاقی، بردباری اور عوام سے مضبوط تعلق آپ کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
آپ نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز نہایت سادہ انداز میں کیا اور مسلسل عوامی رابطے کی بدولت علاقے میں ایک مضبوط مقام حاصل کیا۔ آپ کے سیاسی کیریئر کا سب سے نمایاں باب وہ ہے جب آپ نے 1988میں صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو شکست دے کر رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ کامیابی ملکی سیاست کا ایک اہم واقعہ سمجھی جاتی ہے اور آج بھی سیاسی حلقوں میں اس کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں میاں امجد جوئیہ صاحب ضلع پاکپتن کے ضلع ناظم منتخب ہوئے۔ اس دور میں بلدیاتی اداروں کو وسیع اختیارات اور ترقیاتی فنڈز فراہم کیے گئے، جس کے باعث ضلع بھر میں سڑکوں، تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات، دیہی انفراسٹرکچر، آب نوشی، نکاسیٔ آب اور دیگر عوامی منصوبوں پر نمایاں کام ہوا۔ قبولا کی سبزی منڈی کے قیام کا آغاز بھی اسی دور میں ہوا، جس سے علاقے کے کسانوں، آڑھتیوں اور تاجروں کو اپنی زرعی اجناس کی خرید و فروخت کے لیے بہتر سہولیات میسر آئیں اور مقامی معیشت کو فروغ ملا۔ اسی دور کو ضلع پاکپتن میں بلدیاتی ترقی کے حوالے سے ایک اہم دور قرار دیا جاتا ہے۔
میاں امجد جوئیہ صاحب نے مختلف ادوار میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا۔ حالیہ برسوں میں وہ پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ رہے، تاہم بعد ازاں انہوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ سیاسی جماعت تبدیل کرنا ہر سیاست دان کا آئینی اور جمہوری حق ہے، اور اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہو سکتی ہیں۔ آئندہ وہ کس سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے انتخابی سیاست کریں گے، آزاد حیثیت سے میدان میں اتریں گے یا کسی جماعت کی حمایت کریں گے، اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔ ، میاں امجد جوئیہ صاحب کے لیے ایک باوقار اور عمومی نوعیت کا شعر پیشِ خدمت ہے:
شعر:
اخلاق، وفا اور خدمت جس کی پہچان رہی،
امجد جوئیہ کا نام ہمیشہ عزت کی شان رہی۔
تحریر کنندہ:
فیض المصطفیٰ نوری
ایڈمن، سٹی نیوز قبولا

28/06/2026

Big shout-out to my newest top fans! ذوق تماشا ذوق تماشہ

26/06/2026

faizulmustafa noori admin city news qaboola please follow up the page

دوستو یہ ایک کتا نما شخص ہے اس کا نام تو مجھے معلوم نہیں انتہائی بعض دل میں رکھنے والا اور کمینہ شخص پتہ نہیں یہ کن کا پ...
24/06/2026

دوستو یہ ایک کتا نما شخص ہے اس کا نام تو مجھے معلوم نہیں انتہائی بعض دل میں رکھنے والا اور کمینہ شخص پتہ نہیں یہ کن کا پالتو کتا ہے کتے کی طرح بک بک کرتا ہے دعوت اسلامی کے خلاف بکواس کرتا ہے اس کو دعوت اسلامی کے کروڑوں اربوں کی جائیداد نظر اتی ہے لیکن اس کو مدنی کام نظر نہیں اتے حافظ قران عالم دین بھلائی کے کام اور دیگر جو کام ہو رہے ہیں وہ اس کو نظر نہیں اتے تو اپ تمام سے گزارش ہے کہ جہاں کہیں پہ یہ کتا نظر ائے اس کے خلاف مقدمہ کریں اس کو کٹہرے میں لائیں کہ جو جو یہ کتا بکواس کر رہا ہے اس کے تمام ثبوت سامنے لے کے ائے ورنہ اس پر ہرجانے کا دعوی کیا جائے بغیرت کمینہ انسان میں تجھے دعوت اسلامی کے مدنی کاموں کی تفصیل سے اگاہ کرتا ہوں تو بھی پڑھ اور جن کا تو فالتو کتا ہے جنہوں نے تجھے لانچ کیا ہے بھونکنے کے لیے دعوت اسلامی پر ان کو بھی پڑھا یہ تفصیل دیکھ ذرادعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں اور خدمات کی — ایک تفصیلی جائزہ
دعوتِ اسلامی ایک عالمی دینی و اصلاحی تحریک ہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے، مسلمانوں کی دینی و اخلاقی تربیت اور معاشرے کی اصلاح کے لیے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس کے مدنی کام صرف مساجد اور مدارس تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، تبلیغ، تربیت، میڈیا، فلاحِ عامہ اور دعوتِ دین کے بے شمار شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔
1۔ مدرسۃ المدینہ
مدرسۃ المدینہ دعوتِ اسلامی کا بنیادی تعلیمی شعبہ ہے جہاں بچوں، نوجوانوں اور بڑوں کو قرآنِ کریم ناظرہ، تجوید اور بنیادی دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ہزاروں مدارسِ مدینہ قائم ہیں جہاں لاکھوں طلبہ و طالبات قرآنِ پاک کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
2۔ جامعۃ المدینہ
جامعۃ المدینہ دعوتِ اسلامی کا اعلیٰ دینی تعلیمی ادارہ ہے جہاں درسِ نظامی اور تخصصات کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل علماء، مفتیانِ کرام اور مبلغین دنیا بھر میں دینِ اسلام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
3۔ مدنی چینل
مدنی چینل دعوتِ اسلامی کا عالمی اسلامی ٹی وی چینل ہے جو چوبیس گھنٹے دینی پروگرام نشر کرتا ہے۔ اس کے ذریعے قرآن و حدیث، فقہ، سیرتِ رسول ﷺ، اخلاقیات اور اصلاحِ اعمال کے موضوعات پر رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
4۔ مدنی مذاکرے
امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کے مدنی مذاکرے دعوتِ اسلامی کا اہم شعبہ ہیں۔ ان مذاکروں میں عوام کے دینی، اخلاقی، معاشرتی اور عملی سوالات کے جوابات دیے جاتے ہیں۔
5۔ تبلیغی قافلے
دعوتِ اسلامی کے مبلغین مختلف شہروں، دیہاتوں اور ممالک میں تبلیغی قافلوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ ان قافلوں کا مقصد مسلمانوں کو نماز، سنتوں اور نیک اعمال کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔
6۔ مساجد کی تعمیر و آبادکاری
دعوتِ اسلامی نے مختلف علاقوں میں مساجد کی تعمیر، توسیع اور آبادکاری میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مساجد میں دینی حلقے، دروس اور تربیتی اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں۔
7۔ شعبۂ افتاء
دارالافتاء اہلسنت کے ذریعے عوام کو شرعی مسائل کے جوابات فراہم کیے جاتے ہیں۔ مختلف مفتیانِ کرام قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی کرتے ہیں۔8۔ شعبۂ تعلیم و تربیت
دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام دینی و اخلاقی تربیت کے مختلف پروگرامز باقاعدگی سے منعقد کیے جاتے ہیں۔ مدارس المدینہ اور جامعات المدینہ کے ذریعے قرآنِ کریم، تجوید، فقہ، عقائد اور اسلامی تعلیمات کی اشاعت کا عظیم کام جاری ہے۔ بچوں، نوجوانوں اور بڑوں کی دینی تربیت کے لیے مختلف کورسز اور اجتماعات کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔
9۔ شعبۂ اصلاحِ اعمال
افرادِ معاشرہ کی دینی و اخلاقی اصلاح کے لیے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات، نیکی کی دعوت، انفرادی کوشش اور مختلف اصلاحی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ ان پروگرامز کے ذریعے لوگوں میں نماز، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور سنتِ رسول ﷺ پر عمل کا جذبہ پیدا کیا جاتا ہے۔
10۔ شعبۂ فلاحی خدمات
دعوتِ اسلامی صرف دینی میدان تک محدود نہیں بلکہ فلاحی خدمات میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ ضرورت مند افراد کی امداد، قدرتی آفات کے متاثرین کی بحالی، اجتماعی فلاح کے منصوبے اور دیگر رفاہی کاموں کے ذریعے انسانیت کی خدمت کی جا رہی ہے۔
11۔ شعبۂ میڈیا و ابلاغ
مدنی چینل، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، رسائل، کتب اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے دینِ اسلام کا پیغام دنیا بھر میں پہنچایا جا رہا ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کو مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے لاکھوں افراد تک دعوتِ دین پہنچ رہی ہے۔
12۔ شعبۂ نوجوانانِ اسلام
نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے خصوصی پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں۔ نوجوانوں کو بری صحبت، منشیات اور دیگر معاشرتی برائیوں سے بچانے اور انہیں دینِ اسلام کی خدمت کے لیے تیار کرنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
13۔ شعبۂ خدمتِ قرآن
قرآنِ کریم کی تعلیم و اشاعت کے لیے متعدد منصوبے جاری ہیں۔ ناظرہ قرآن، حفظِ قرآن، تجوید اور ترجمہ و تفسیر کی تعلیم کے ذریعے مسلمانوں کو قرآنِ پاک سے جوڑنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔
14۔ شعبۂ خدمتِ امت
دعوتِ اسلامی کے کارکنان مختلف سماجی اور دینی میدانوں میں عوام الناس کی رہنمائی اور خدمت انجام دیتے ہیں۔ معاشرتی مسائل کے حل، اخلاقی تربیت اور دینی شعور بیدار کرنے میں یہ شعبہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ دعوتِ اسلامی کے تمام ذمہ داران، مبلغین اور کارکنان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں مزید اخلاص و استقامت کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تحریر و پیشکش:
فیض المصطفیٰ نوری
ایڈمن پیج: سٹی نیوز قبولا (QABULA)

میں کشمیر کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان نے کیا کیا نہیں کیا قربانیاں دی ان کی خاطر چار چار جنگیں لڑی مجاہدین بھیج...
23/06/2026

میں کشمیر کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان نے کیا کیا نہیں کیا قربانیاں دی ان کی خاطر چار چار جنگیں لڑی مجاہدین بھیجے ان کی حفاظت کے لیے ان کو ازادی دلانے کے لیے ان کو سہولیات دی بجلی کے بل معاف کیےتمام سہولیات فراہم کیں دیگر اور سہولیات فرام کی وہ چیزیں ان کو فراہم کی جو کہ پاکستان میں لوگوں کو مہیا نہیں کی جاتی خود پاکستانی مہنگی چیزیں خرید کر ان کو سستی چیزیں مہیا کی ان کو رہائش دیے مکان دیے ایک عام پاکستانی کشمیری کا نام سن کر ان کو انتہائی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا لیکن انہوں نے بدلے میں کیا دیا غداری را کے ہاتھوں میں کھیل کر پاکستان پر الزامات تراشی اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے در پہ جنہوں نے ان کو بولنا سکھایا ان کی حفاظت کی ان کی خاطر لڑے وہی اج جو غداری الزام تراشی پر اتر ائے ورنہ پاکستان کی انڈیا سے کیا دشمنی ہے صرف اور صرف کشمیر ہی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں اس کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں آپریشن سندور ہی کشمیر ہی کی وجہ سے ہوا لیکن ان تمام چیزوں سے لگتا ہے کہ ہم نے کشمیری نہیں ہم نے استین کے سانپ پال رکھے تھے حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ جو بھی یہ کرتا درتا ہے عوامی ایکشن کمیٹی ان کو سخت سے سخت سزادی جائے ان کا سپیشل ریاست کا سٹیٹس کو ختم کیا جائے اور فلفور ریاست ا زادکشمیر کو ائینی صوبہ قرار دیا جائے

کشمیر، پاکستان اور قومی مفاد
پاکستان نے مسئلۂ کشمیر کے حوالے سے گزشتہ کئی دہائیوں میں بے شمار سیاسی، سفارتی، عسکری اور معاشی قربانیاں دی ہیں۔ 1948ء، 1965ء، 1971ء اور بعد کے مختلف ادوار میں پاکستان نے کشمیر کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔ ہزاروں پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ پاکستان نے کشمیری عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
پاکستان میں بہت سے حلقوں کی یہ رائے ہے کہ بعض کشمیری سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے پاکستان پر تنقید اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانات عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ ان حلقوں کے نزدیک ایسے بیانات پاکستان اور کشمیر کے درمیان موجود تاریخی تعلقات اور قربانیوں کے منافی ہیں۔
اسی تناظر میں بعض پاکستانی شہری حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے آئینی اور انتظامی ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، اور قومی مفاد، عوامی خواہشات اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ بعض حلقے یہ تجویز بھی دیتے ہیں کہ ان علاقوں کو مکمل صوبائی حیثیت دینے کے امکانات پر غور کیا جائے تاکہ انتظامی امور مزید مؤثر انداز میں چلائے جا سکیں۔
قومی مسائل کا حل الزام تراشی یا تصادم میں نہیں بلکہ آئین، قانون، جمہوری عمل اور باہمی احترام کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور قومی یکجہتی ہر پاکستانی کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
تحریر: فیض المصطفیٰ نوری
ایڈمن پیج: سٹی نیوز قبولا

Address

Qaboola City
Arifwala
57480

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when City news Qaboola posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share