09/05/2026
تھانہ نظامپور کا سابقہ Sho رمین خان، جن کی تعیناتی کےدوران علاقہ امن کا گہوارہ بن چکا تھا،بتھہ خوری،اغوا اور دہشت گردی کا صفایا کردیا جس پر انسپکٹر جنرل پولیس نے انہیں سرٹیفیکیٹ اور نقد انعام سے نوازا،گزشتہ صرف ایک مہینے کے دوران رمین خان نے اللیگل سونا نکالنے کیلئے جانے والے 13 ایکسویٹرز مشینیں قابو کرکے تھانہ میں بند کردئے اور سڑاتویہ میں کامیاب اپریشن کرکے متعدد مشینوں کو ناکارہ کردیا،ڈیزل مافیا کے خلاف بھی کامیاب کاروائیاں کرکے سینکڑوں ٹپکوں سے بھرے انکے بڑے بڑے کنٹینرز پکڑ لئے،انکو ہٹانے کے بعد جب دوسرا sho تعینات کیاگیا تو علاقے میں جرائم نے دوبارہ تیزی سے سر اٹھانا شروع کردیا،ڈاکے ڈکیتیاں شروع ہوئی،قتل وغارت بھی شروع ہوا اور صرف چند دنوں کے دوران 8 افراد قتل ہوئے،جبئ میں تین روز سے شدید فائرنگ اور تصادم جاری تھا اس دوران ہم نے چوکی انچارج سے فائرنگ کے حوالے سے معلوم کیا لکن انکا کہنا تھا کہ کوئی فائرنگ نہیں ہوا اور اسی طرح بڑا افسوسناک تباہ کن واقعہ پیش آیا اگر اس دوران رمین خان ہوتا تو وہ بروقت پہنچتا اور فریقین کے درمیان صلح صفائی کرتا لکن اس پر یہ سب خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے،رمین خان کو ہٹانے کے بعد سونا لوٹنے کیلئے ایکسویٹر مشینوں کی بھرمار بھی جاری ہوئی اور معاملہ اس وقت بے نقاب ہوا جب ایک ایکسویٹر تھانے سے قدرے فاصلے پر الٹ کر جس میں ڈرائیور جانبحق ہوگیا اور مشین کھائی میں جاگرا،دوسرا واقعہ اس وقت رونما ہوا جب ایک بڑا لوڈر جبئی میں بس داخل ہونے والاتھا کہ اس کو پکڑنے کیلئے تھانہ اکوڑہ خٹک کے ایس ایچ او اشفاق خان نظامپور پہنچ کر لوڈر قبضہ میں لے لیا،اسی طرح پولیس چوکی صابر آباد کے علاقوں میں فائرنگ کے واقعات بڑھنے لگے اور جبئ میں خونریزی شروع ہوکر ایک دن میں پانچ افراد لقمہ اجل بن گئے،،نظامپور کے عوام رمین خان کو بحالی امن کیلئے دوبارہ نظامپور میں تعیناتی کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں،،