Allahbakhsh Assi Official

Allahbakhsh Assi Official Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Allahbakhsh Assi Official, Digital creator, Attock.

09/08/2025

گل نوخیز اختر

پلمبر نے کمال مہارت سے ٹوٹے ہوئے پائپ کی جگہ نیا پائپ لگایا اور ٹونٹی کھولی۔ الحمدللہ پانی بالکل ٹھیک آرہا تھا اور لیک بھی نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے گہری سانس لی اور پلمبر سے اس کام کا معاوضہ پوچھا۔ سر میں خارش کرتے ہوئے بولا’اپنی خوشی سے جو مرضی دے دیں‘۔ میں نے جیب سے کڑکڑاتا ہوا ’دس روپے‘ کا نوٹ نکالا اور اس کی طرف بڑھادیا۔ پلمبر نے غور سے نوٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھا، اپنی آنکھیں ملیں، بازو پر چٹکی کاٹی اور حیرت سے بولا ’یہ دس روپے کا نوٹ ہی ہے نا؟

‘۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ پلمبر کا چہرہ یکدم تانبے جیسا ہو گیا ’میں نے آپ کی گاڑی پر وائپر نہیں مارا، دس روپے کس حساب میں دے رہے ہیں؟‘۔ میں بوکھلا گیا ’ابھی تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ اپنی خوشی سے جو مرضی دے دیں، یقین کرو دس روپے دیتے ہوئے مجھے جو خوشی ہو رہی ہے وہ بیان سے باہر ہے‘۔ اس نے اطمینان سے رینچ واپس نکالا ’ٹھیک ہے! میں پرانا پائپ واپس لگا دیتا ہوں تاکہ دونوں کی خوشی کا لیول برقرار رہے‘۔ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی اور نہایت عزت سے پانچ سو کا نوٹ پیش کر دیا۔

پتا نہیں کچھ لوگوں کو کیوں یہ بیماری ہوتی ہے کہ معاوضہ لیتے وقت بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں ’اپنی خوشی سے دے دیں‘۔ بندہ پوچھے کہ پیسے دیتے ہوئے کس کو خوشی ہوتی ہے؟۔ دوسرا جملہ اس سے بھی زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے کہ ’جو بنے گا، دے دیجئے گا‘۔ یہ جملہ زیادہ تر رکشہ والے استعمال کرتے ہیں۔ بالفرض اگر اس بات پر یقین کر کے رکشے میں بیٹھ جائیں تو یقیناً منزل پر پہنچ کر جتنے پیسے بنیں گے ان کا تعین رکشے والا ہی کرے گا، آپ کچھ بھی طے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔

اس معاملے میں وہ لوگ زیادہ چالاک ہوتے ہیں جو عموماً رشوت لیتے وقت جملے میں معمولی سی تبدیلی کر کے آپ کو رقم سے بھی آگاہ کر دیتے ہیں، ان سے آپ کام کروانے کا جرمانہ پوچھیں تو بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں ’پانچ سو یا ہزار‘ جو خوشی سے دینا چاہیں دے دیجئے گا‘۔ پیسے نکلوانا ایک فن ہے اور جو اس فن سے آشنا ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔

ہمارے ایک دوست ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ انہیں کسی کے پاس 100روپے لینے کے لئے بھیجا جائے تو وہ 150روپے لے کر آتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک محلے دار نے ان سے فرمائش کی کہ وہ ان کے تین سال سے ڈوبے ہوئے دس ہزار روپے واپس دلوا دیں تو ان کو شکرانے کے طور پر دو ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔ موصوف نے فوراً ہامی بھری اور شام تک دس ہزار روپے واپس لے آئے۔ آٹھ ہزار محلے دار کو پکڑائے اور باقی دو ہزار اپنی جیب میں ڈال لیے۔

ہم سب بہت حیران تھے کہ آخر انہوں نے ایسی کون سی گیدڑ سنگھی استعمال کی کہ تین سال پرانا قرض لمحوں میں وصول ہو گیا۔ آخر کچھ دنوں بعد انہوں نے خود ہی طریقہ واردات بتا دیا۔ فرمانے لگے کہ ’جب میں مقروض شخص کے گھر پہنچا تو پتا چلا کہ اُس نے اور بھی بہت سے لوگوں کے پیسے دینے ہیں‘ یہ سن کر میں نے اُس سے کہا کہ اگر تم نے فوری طور پر میرے ’کلائنٹ‘ کے دس ہزار ادا نہ کیے تو میں گلی کے دکاندار سے لے کر سبزی اور دودھ والے تک سب کو بتا دوں گا کہ تم نے میرے کلائنٹ کے دس ہزار انتہائی آسانی سے ادا کر دئیے ہیں۔ یہ سنتے ہی مقروض شخص نے اس وعدے کے ساتھ دس ہزار کا انتظام کر لیا کہ کسی اور کو پتا نہ چلے‘۔

پیسے نکلوانے کا فن بیگمات پر بھی ختم ہے۔ یہ اچانک بتاتی ہیں کہ آٹا‘ گھی‘ سبزی اور چکن یکدم ختم ہو گیا تھا جو میں نے ذاتی پیسے ڈال کر دو ہزار کا منگوا لیا ہے لہٰذا اب مجھے میرے پیسے واپس دے دیں۔ ظاہری بات ہے کون مائی کا لعل ہے جو یہاں ’منی ٹریل‘ مانگ سکے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ دفتر جاتے وقت شوہر حضرات بیگم کے ہاتھ میں سو روپے پکڑائیں یا ایک لاکھ‘ شام کو واپسی تک اُس میں سے 80فیصد خرچ ہو چکے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ پیسے بچوں کے ذریعے بلیک میل کر کے نکلوائے جاتے ہیں۔

بچے بیٹھے بٹھائے گھر میں بنی ہر چیز سے عاجز نظر آنے لگتے ہیں۔ گھر میں دال‘ چکن‘ سبزی‘ ہر چیز پکی ہوئی ہے لیکن بچوں کو پسند نہیں آرہی۔ ایسے میں بچوں کی ماں سرگوشی میں بتا دیتی ہے کہ اصل میں یہ باہر سے کچھ منگوانا چاہ رہے ہیں۔ ظاہری بات ہے آپ زیادہ سے زیادہ کیا کہہ سکتے ہیں؟ دو ہزار دینا ہی پڑتے ہیں اور کیسا انوکھا اتفاق ہے کہ چیزیں بھی پور ے دو ہزار کی آجاتی ہیں۔ یہ تو کبھی کوئی بچہ ماں سے ناراض ہو جائے تو باپ کو پتا چلتا ہے کہ وہ جو اُس دن دو ہزار دیے تھے اُن میں سے بقایا تین سو بھی بچے تھے لیکن اب پچھتائے کیا ہوت‘ جب بیگم چُگ گئیں نوٹ۔

آپ کے دوستوں میں بھی کوئی ایسا دوست ہو گا جو ہر دفعہ ہوٹل میں کھانا کھا کر پندرہ منٹ تک اپنے پورے جسم پر ہاتھ مار کر وہ جیب تلاش کرتا ہے جس میں بٹوہ رکھا ہے اور یہ بٹوہ تب ملتا ہے جب دوستوں میں سے کوئی ایک بل ادا کر دیتا ہے۔ میرے ایک دوست شفقت نے اس کا ایک نیا‘ خوفناک اور بیہودہ ترین حل نکالا۔ جونہی کوئی دوست بل ادا کرنے لگتا وہ اسے فوراً روک دیتا اور میری طرف اشارہ کردیتا ’نوخیز ! بل دو‘۔ پہلے تو میں اسے معاف کرتا رہا لیکن پھر ایک دفعہ میں نے بھی حساب بے باک کر ہی دیا۔

اس دن سے شفقت اور میرے درمیان ہر قسم کا رابطہ منقطع ہے۔ ہوا یوں کہ شفقت میرے دفتر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میرے ایک پرانے کلاس فیلو ارشد کا فون آگیا۔ ارشد کی تازہ تازہ شادی ہوئی تھی اور وہ اپنی بیگم کے ہمراہ مری گیا ہوا تھا‘ واپسی پر سیدھا میری طرف آرہا تھا۔ میں نے شفقت سے گزارش کی کہ جب ارشد اور اس کی بیگم آئیں تو تم ایک دوست کی حیثیت سے جھوٹ موٹ کہنا کہ آج کھانے کی دعوت میری طرف سے ہے۔

میں فوراً کہوں گا کہ ایسا نہیں ہو سکتا‘ چونکہ میاں بیوی میرے دفتر میں آئے ہیں لہٰذا کھانا بھی میں ہی کھلائوں گا، اس طرح تمہاری بھی ویلیو بن جائے گی۔ شفقت یہ سن کر خوش ہو گیا اور ہامی بھر لی۔ آدھے گھنٹے بعد ارشد اور اس کی بیگم بھی دفتر پہنچ گئے۔ شفقت نے پلان کے عین مطابق فراخدلانہ لہجے میں کہا ’ارشد صاحب! آج آپ سب کو کھانا میں کھلائوں گا‘ اور کن اکھیوں سے میری طرف دیکھا۔

میں نے ایک لمبا سا کش لگایا اور دھواں شفقت کے منہ پر چھوڑتے ہوئے کہا ’ٹھیک ہے میرے دوست! جیسے تمہاری خوشی.....‘‘۔
کسی مہربان کی پوسٹ سے

09/08/2025

وه عالم اسلام کا ایک نایاب اور نامور سلطان تھا۔ وه ان گنت زبانوں پر عبور رکھتا تھا ۔ عربوں سے عربی میں ، منگولوں اور تاتاریوں سے تاتاری میں ، یونانیوں سے یونانی میں، حبشیوں سے ان کی زبان میں اور اس طرح دوسری اقوام سے ان کی زبان میں گفتگو کرنے کی مہارت رکھتا تھا سلطان بننے سے پہلے وہ جگہ جگہ ایک غلام کی حیثیت سے دھکے کھاتا پھرتا تھا لہذہ اس نے اس دوران میں مختلف زبانیوں میں مہارت حاصل کر لی تھی وقت کی آنکھ نے اسے کبھی ایک گڈریے کی صورت میں " دشت قپچاق " میں بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے دیکھا ، آسمان نے اسے کبھی دمشق شہر میں برده فروشوں کی منڈی میں ایک غلام کی حیثیت سے بکتے دیکھا ، کبھی اس نے دمشق اور مصر کے امراء کی نوکری و چاکری کرتے ہوئے وقت گزارہ اور کبھی رزم گاہ میں ایک صف شکن لشکری کے سنگ میں بھی دیکھا گیا اور کبھی وقت کی تیز آنکھ نے اسے اسلامی لشکر کے سالار اعلی کی حیثیت سے بھی دیکھا ۔
مشہور امریکی مؤرخ ہئیر لڈیم اس کے متعلق لکھتا ہے ۔
اسے اپنے سوا کسی پر اعتبار نہ تھا اس لیے وہ بھیس بدل کر خود گشت لگاتا اور اپنے لیے خود ہی دشمنوں کی مخبری کرتا تھا ۔ وہ اپنے ہم پیالہ ، ہم نوالہ ساتھیوں کو چھوڑ کر تنہا نکل جاتا۔ کبھی اسے مصر میں دیکھا جاتا اور کبھی وہ دوسرے دن فلسطین میں نمودار ہوتا ۔ چار دن بعد لوگ اسے عرب کے ریگزاروں میں دیکھتے اور اس کے چند دن بعد وہ خانہ بدوشوں کی سی تیز رفتاری کسی دوسری جگہ لوگوں کو دکھائی دیتاجن دنوں وہ عالم اسلام کا سلطان بنا ان دنوں منگولوں نے مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر ان کے بیشتر علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا تھا اور ہلاکو خان مسلمانوں کے علاقوں میں دندناتا پھرتا تھاایک بار ایک منگول مغنی کے بھیس میں وه اکیلا و تنہا ہلاکو کی سلطنت میں داخل ہوا اور قریہ قریہ چل پھر کہ جاسوسی کرتا رہا ، چونکہ وہ مختلف زبانوں پر عبور رکھتا تھا اور جاسوسی میں بھی مہارت کا حامل تھا اس لیے کسی کو شک نہ ہوا کہ وہ مسلمان ہے یا مسلمانوں کا سلطان ،ایک دن اس نے منگولوں کے ایک شہر میں ایک دکان میں کھانا کھایا اور اپنی انگوٹھی جان بوجھ کر ایک محفوظ جگہ پر رکھ آیا ، اس کے بعد وہ اپنے علاقے میں آ گیا اور ایک قاصد بھیج کر ہلاکو خان کو کہلایا۔
٫٫ میں تمہاری مملکت میں حالات کا معائنہ کرنے
فلاں فلاں جگہ گیا تھا ۔ فلاں شہر میں فلاں
دکان پر اپنی شاہی انگوٹھی بھول آیا ہوں
مہربانی کر کے وہ انگوٹھی تلاش کر کے مجھے
مجھے بھجوا دو کیونکہ وہ انگوٹھی مجھے
بے حد عزیز ہے ۔ ،،
ہلاکو خان مسلمانوں کے سلطان کی اس جرأت اور جسارت پر ششدر رہ گیا اور وه اس کی دلیری سے ایسا مرعوب ہوا کہ اس کی انگوٹھی تلاش کر کے اس کی طرف بھیجوا دی ۔ منگولوں کو جب خبر ہوئی کہ مسلمانوں کا سلطان خود بھیس بدل کر ان کے علاقوں میں داخل ہوا تھا تو ان پر سلطان کی ہمت و شجاعت کی وجہ سے ایک دہشت اور خوف طاری ہو گیا تھا اور وه سوچنے لگے تھے کہ جس سلطنت کا حکمران اس قدر جری و جرأت مند ہو اس کے لشکریوں کا کیا عالم ہوگا اور ہم اس کا مقابلہ کیسے کریں گے ۔
ان دنوں کیونکہ بحیره روم کے ساتھ ساتھ مغرب کے صلیبیوں نے اپنے بڑے بڑے اڈے بنا لیے تھے جہاں سے نکل کر وه مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کی ابتداء کرتے تھے ۔ ان میں زیاده نامور انطاکیہ کا حاکم بوہمینڈ تھا ۔ سلطان ایک مرتبہ ایک نصرانی زائر کا بھیس بدل کر صلیبیوں کے مقبوضہ علاقوں میں جا داخل ہوا اور کئی ماہ تک ان کے عسکری استحکامات ، قلعوں اور دوسرے کئی مقامات کا جائزہ لیتا رہا۔ وہ تقریباً بائیںس ایسے قلعے دیکھنے میں کامیاب ہو گیا جو ان دنوں صليبيوں کی عسکری قوت کا مرکز تھے اور یہ سارا کام اس نے تن تنہا کیا اور اس کے بعد اس نے ایک عجیب ستم ظریفی کی۔
اس نے ایک قاصد اور ایلچی کا روپ بدلا اور جنگل میں ایک ہرن کا شکار کر کے وہ ہرن لے کر انطاکیہ کے بادشاہ بوہیمینڈ کے دربار میں حاضر ہوا اور اسے وہ شکار پیش کر کے کہنے لگا۔
الملک الظاہر،"عالی جاه ! مجھے مصر کے سلطان نے بھیجا ہے پتا چلا ہے کیونکہ آپ شکار کا بہت شوق رکھتے ہیں اور ان دنوں شکار کے قابل نہی لِہٰذا انہوں نے یہ تازه شکار بطور ہدیہ بھیجاہے اسے قبول فرمائیے۔ میرے آقا آپ کے شکر گزار ہوں گے"سلطان جب گفتگو کرنے اور شمار بادشاه انطاکیہ کے حوالے کرنے کے بعد وہاں سے نکل گیا تو چند دن بعد انطاکیہ کے بادشاہ پر کسی نے انکشاف کیا کہ جو شخص تمہارے پاس ہرن کا شکار لے کر آیا تھا وہی مسلمانوں کا سلطان تھا۔
اس انکشاف پر نصرانیوں کے بادشاہ بوہیمنڈ پر خوف اور لرزه طاری ہو گیا تھا ایسے ناقابل یقین معرکے سرانجام دینے اور عین الجالوت پر پہلی بار منگولوں کو عبرت ناک شکست دے کر، مسلمانوں پر اپنی دہشت کا سکہ جمانے والے منگولوں کو سربازار گھما کر ذلت و رسوائی عطا کر کے مسلمانوں کے قلوب سے منگولوں کے خوف و دہشت کا غلبہ زائل کرنے والی اس نادر و نایاب اور جاہ و جلال کی سے مزین ہستی کا نام " رکن الدین بیبرس " تھا رکن الدین بیبرس منگولوں کی فتوحات اور مسلمانوں پر مظالم ڈھا کر اپنی دہشت کا سکہ جما کر حکومت کرنے والے ہلاکو خان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ٫٫وقت آنے پر ہم ان کو بتا دیں گے کہ اللہ کیلئے لڑنے والے کبھی شکست تسلیم نہیں کیا کرتے ،، ۔
اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ سلطان رکن الدین بیبرس اپنے قول و قرار کا کس قدر پاسدار تھا ۔
باوجود اس کے ، کہ دیگر نامور اسلامی شخصیات کی طرح تاریخ سے اس ذہین و فطین اور دلیر و بے باک ہستی کے نقوش بھی ایک منظم سوچ و سازش کے تحت بڑی سنگ دلی ، مہارت اور عیاری سے ممکنہ حد تک مٹا دئیے گئے لیکن کچھ مدھم نقوش ابھی بھی سلامت ہیں۔
(کاپی)

دعاکاطالب:-ابنِ کبیر محمد معین الدین القرشی عطاری

08/08/2025

ریاضی کی خوبصورتی"فارس کا شطرنج"

میں نے جب پہلی مرتبہ کہانی سنی تو اس میں قدیم فارس کا ذکر تھا۔ لیکن شاید ہندوستان یا چین میں ایسا واقعہ ہوا ہو۔ بہرحال بہت پرانے وقتوں کی بات ہے بادشاہ کے مشیر اعلی وزیراعظم نے ایک نئی کھیل ایجاد کی۔ یہ کھیل کھیلنے کے لیے 64 سرخ اور گالے خانوں پر مشتمل ایک چوکور بورڈ پر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو حرکت دی جاتی تھی۔ سب سے اہم ٹکڑا بادشاہ تھا۔ اس کے بعد وزیراعظم کی اہمیت تھی ــــــــ ظاہر ہے کسی وزیراعظم کے ایجاد کردہ کھیل میں ہم اسی بات کی توقع کر سکتے ہیں۔ کھیل کا مقصد دشمن بادشاہ کو قید کرنا تھا، چنانچہ یہ کھیل فارسی زبان میں "شاہ مات" یعنی بادشاہ کی موت کہلایا۔ روسی زبان میں اب اسے شخمت کہتے ہیں حتی کہ انگریزی زبان میں بھی اس نام کی ایک بازگشت موجود ہے۔
حتمی اور اخری چال "چیک میٹ" کہلاتی ہے۔
یہ کھیل بلاشبہ شطرنج ہی تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گوٹیاں چلیں اور کھیل کے ضوابط میں تبدیلی اور ترقی پیدا ہوئی مثلا وزیراعظم کی جگہ ایک ملکہ (کوئین) لے لی جو کہیں زیادہ اختیارات رکھتی ہے۔

یہ بات ہنوز راز ہے کہ ایک بادشاہ کو "شاہ مات" نامی کھیل کی ایجاد پر مسرت کیوں ہوئی لیکن کہانی میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ وہ اس ایجاد پر اتنا خوش ہوا کہ وزیراعظم کو منہ مانگا انعام دینے کا وعدہ کیا ـــــــــ

وزیراعظم نے اپنا جواب تیار کر رکھا تھا۔ اس نے بادشاہ کو بتایا کہ وہ ایک منکسرالمزاج شخص ہیں۔ اس نے ایک نہایت حقیر انعام مانگا، اپنے ایجاد کردہ کھیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس نے فرمائش کی کہ پہلے خانے میں اسے اناج کا ایک دانہ دیا جائے، دوسرے خانے میں دو تیسرے میں چار اسی طرح ہر خانے میں جانے پر یہ تعداد دوگنی کر دی جائے۔
بادشاہ نے کہا وہ کچھ اور زیادہ بڑی چیز مانگے کیونکہ یہ تو بہت حقیر انعام ہوا۔
اس نے وزیراعظم کو جواہرات، لڑکیاں، محل پیش کیے۔ لیکن وزیراعظم نے اپنی نظریں جھکائے جھکائے یہ سب چیزیں لینے سے انکار کر دیا۔ وہ تو بس گندم کا چھوٹا سا ڈھیر جاتا تھا۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے مشیر اعلیٰ کی انکساری اور عاجزی کو دل میں سراتے ہوئے رضا مندی ظاہر کر دی۔

تاہم جب شاہی اناج خانے کا منتظم اناج کے دانے گننے لگا تو بادشاہ کو ایک نا خوشگوار حیرت سے دو چار ہونا پڑا۔ اناج کے دانوں کی تعداد شروع میں تو بہت کم تھی۔ 1,2,4,8,16,32,64,128,256,512,1024........
لیکن 64 ویں خانے تک پہنچتے پہنچتے یہ تعداد بے اندازہ حد تک بڑھ گئی ـــــ 18.5 کوئنٹلین (سَنکھ)۔ شاید وزیراعظم اس روز بڑی ضیافت اڑانے آیا تھا۔

اناج کے 18.5 کوئنٹیلین (سَنکھ) دانوں کا وزن کتنا ہوگا؟ اگر ہر دانے کا سائز ایک ملی میٹر ہو تو تمام دانوں کا مجموعی وزن تقریبا 75 بلین میٹرک ٹن بنتا ہے۔ جو اس بادشاہ کے شاہی گوداموں میں موجود سارے اناج سے بھی کہیں زیادہ ہوگا۔ درحقیقت یہ ہماری موجودہ دنیا کی 150 سال کے لیے گندم کی پیداوار کے تقریبا برابر ہوگا۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ کہانی میں اس کے بعد کیا ہوا۔ آیا کہ بادشاہ نے ریاضی پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے خود کو ساہو اور سلطنت اپنے وزیر کے حوالے کر دی ہو، یا پھر وزیراعظم نے ایک اور کھیل "وزیر مات" کی آزمائشوں کا سامنا کیا ہو ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ــــــــ

فارسی شطرنج کی یہ کہانی شاید میں ایک فسانہ ہوں۔ لیکن قدیم فارسی اور ہندوستانی ریاضی میں بڑے طاق تھے۔ اور انہوں نے چھوٹے اعداد کو دگنے کیے جانے کی صورت میں حاصل ہونے والے نتائج کی اچھی طرح فہم و فراست حاصل کر لی تھی۔ اگر شطرنج کو ایجاد کرتے وقت 64(8x8) کی بجائے 100(10x10) خانے بنائے گئے ہوتے تو اس کے نتیجے میں بادشاہ کو پورے کرہ عرض کے حجم کے مساوی اناج دینا پڑ جاتا۔ اعداد کے اس قسم کے تسلسل جس میں ہر عدد اپنے سے سابقہ عدد کا حاصل ضرب ہوتا ہے، کو "جومیٹرک پروگریشن" کہتے ہیں۔ اور یہ عمل قوت نما میں اضافہ کہلاتا ہے

کتاب: Billions and Billions 📕
Carl Sagan
زندگی اور موت۔ ترجمہ یاسر جواد

انتخاب: ﷴ علی رضا

08/08/2025

عبد الستار خان نیازی 🥰۔
آج مجھے جیل میں آئے دو سال مکمل ہو چکے تھے۔۔۔۔دسمبر 1951 کی ایک شام تھی جب میں منشیات اسمگل کرتے پکڑا گیا تھا۔۔۔دس سال کی قید سن کر بھی میں گھبرایا نیں۔۔مجھے امید تھی کہ میرا گروہ مجھے یہاں سے چھڑوا لے گا لیکن آج دو سال ہو چکے ہیں مجھے چھڑوانے کوئ نہیں آیا۔۔۔۔اب میں اکثر تنہائ میں روتا ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔۔۔نہ جانے کیوں اب اس کال کوٹھری سے میرا دل گھبرانے سا لگا ہے۔۔۔۔اب تو جیل سپریڈنٹ کو بھی مجھ پر ترس آنے لگا ہے۔۔۔۔۔۔وہ بھی اکثر مجھ سے حال احوال پوچھنے آجاتا ہے۔۔۔۔
1953 کا ہی ایک روشن دن تھا جب جیل میں ایک نیا قیدی آیا۔۔۔۔۔وہ باقی سب سے بہت مختلف تھا۔۔۔اس کا دراز قد،روشن چہرہ اور سر پر عمامہ اس کی شخصیت کو متاثر کن بنانے کیلئے کافی تھا۔۔۔۔۔اس کے چہرہ کا اطمینان دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوا کرتی تھی۔ ۔۔جیلر نے بتایا کہ اسے ریاست کے خلاف بغاوت کے جرم میں سزائے موت ہو چکی ہے۔۔۔۔۔لیکن میرا دل قطعی ماننے کو تیار نہ تھا کہ ایسا شخص باغی بھی ہو سکتااا ہے۔۔۔۔
اسے میرے ساتھ والی بند کوٹھری میں رکھا گیا تھا۔۔۔۔اس کے اور میرے کمرے کے درمیان ایک چھوٹا سا روشن دان تھا جس سے میرے لئے اس پر نظر رکھنا مشکل نہ تھاااا۔۔۔۔
میں اکثر اس کے معمولات دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا۔۔۔۔پانچ وقت نماز پڑھنے کے علاوہ ہر وقت وہ درود شریف کا ورد کر رہا ہوتاااا۔۔۔۔دو دن ایسے ہی گزر گئے۔۔۔ تیسرے دن شور کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئ۔۔۔۔۔اور سامنے کا منظر دیکھ کر میری چیخ نکل گئ۔۔۔۔
پانچ چھ افراد جو شکل سے کسی محکمے کے افسران لگتے تھے وہ اس شخص پر لاٹھیوں کی برسات کر رہے تھے اور وہ ہر لاٹھی پر الحمدللہ کہ اٹھتا۔۔۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک افسر کے اشارے پر وہاں سانپ لائے گئے۔۔۔۔اور اس کے برہنہ جسم پر سانپوں کو چھوڑ دیا گیا۔۔۔وہ سانپ اس قدر زہریلے تو نہ تھے کہ اس کی جان لیتے تاہم وہ اس کا جسم نوچ رہے تھے۔۔۔۔
افسر نے چلا کر کہا"نیازی!!کتنی تکلیفیں اٹھائے گاااا۔۔۔ہم تجھے رہا کرنے کو تیار ہیں۔۔۔قادیانیوں کے خلاف بیان نہ دے"
قیدی نے غضبناک آنکھوں سے افسر کو دیکھا اور چلا کر کہا
"اگر میں رہا ہو گیا تب بھی باہر جا کر پہلی بات یہی کرونگا کہ قادیانی کافر ہے"

میرے ذہن میں کئ سوالات اٹھ رہے تھے کہ یہ شخص کون ہے؟؟؟اور یہ افسر اسے کس جرم میں مار رہے ہیں؟؟؟اور یہ اب تک ڈٹ کر کیوں اور کیسے کھڑا ہے؟؟؟
ان کے جانے کے بعد مجھ سے رہا نہ گیا میں نے صدا لگائ
"اے اللہ کے نیک بندے!!تو کون ہے اور یہاں کیوں آیا ہے؟؟؟یہ لوگ تجھے کیوں مار رہے ہیں؟؟؟"
اس شخص کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئ اور وہ بولا
"قادیانی رسول اللہ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے۔۔۔تمام مسلمان یہ مطابہ کر رہے کہ ان کو کافر قرار دیا جائے۔۔۔۔ملک میں تحریک ختم نبوت کی ابتداء ہو چکی ہے اور انشاءاللہ ہم تب تک امن سے نہ بیٹھیں گے جب تک قادیانی آئینی طور پر کافر قرار نہیں دیئے جاتے"
میرے تن بدن میں آگ سی لگ چکی تھی۔۔۔میں گناہگار ضرور تھا لیکن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انتہا کی عقیدت رکھتا تھا۔۔۔اب مجھے رہ رہ کر خود پر غصہ آنے لگا کہ میں منشیات کے برے کام میں کیوں پڑا ورنہ آج میں بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتاااا۔۔۔
میں نے اس شخص سے اس کا نام دریافت کیا
تو اس شخص نے مختصر سا جواب دیا
"عبدالستار خان نیازی"
یہ نام سن کر میرے جسم پر سکتہ طاری ہو گیااااا۔۔۔میں کچھ اور کہنے کی جسارت نہ کر سکاااا۔۔۔۔میری آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔۔۔میں زور سے چیخنا چاہتا تھا لیکن آواز میرے حلق میں ہی اٹک گئ تھی۔۔۔۔
میں اس شخص کو جانتا تھا۔۔۔۔میں نے اپنے بچپن میں ہر ایک کی زبان پر اس کا نام دیکھا تھا۔۔۔یہ وہی تھا جس نے قائداعظم کو پنجاب کے کئ اضلاع سونپے تھے۔۔۔۔یہ وہی تھا جسے قائد اعظم بھی کہا کرتے تھے
"مولانا آپ کی تحریکوں سے پاکستان معرض وجود میں آیا"
یہ وہی تھاا جس کا شمار مسلم لیگ کے قائدین میں ہوتا تھاااااا۔۔۔۔اور آج یہ میرے سامنے ایک تاریک کوٹھری میں موجود تھاااا۔۔۔اللہ رسول کی محبت اسے کہاں لے آئ تھی۔۔۔۔اور پھر بےاختیار میری زبان سے اس کیلئے دعائیں نکلنے لگیں۔۔۔۔

اگلے دن وہ ایمان فراموش افسر پھر آ ٹپکے اور اب کی بار میں چلا اٹھا
"او ظالمووو!تمہیں شرم نہیں آتی تم کسے مار رہے ہو؟؟؟کیا تمہیں نار جہنم نہیں ڈراتی؟؟"
لیکن ان سنگدلوں پر اثر نہ ہوا اور مولانا کو آج گھنٹوں برف کے بلاکوں پر لٹایا گیا اور جب مولانا بے ہوش ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔میں رو رو کر مولانا کو آواز لگا رہا تھااا۔۔۔۔

جب تشدد بڑھنے لگا تو مولانا پر کھانا پانی بھی بند کر دیا گیا لیکن مولانا کو نہ پیچھے ہٹنا تھا نہ وہ ہٹے۔۔۔۔
وقت تیزی سے گزر گیاااا
چند سال بعد مولانا رہا ہو چکے تھے لیکن یہ بات میں ہی جانتا تھا کہ کونسا ایسا ظلم ہے جو ان کے جسم پر نہ ڈھایا گیاااا۔۔۔۔
مجھے اب مولانا کی یاد بےقرار رکھتی تھی۔۔۔میں بھی ختم نبوت کی عظیم المرتبت تحریک میں شامل ہونا چاہتا تھاااا۔۔۔۔آج 5 جنوری 1961 ہے۔۔۔۔۔کل صبح مجھے رہا کر دیا جائے گاااا اور میں ابھی سے تصورات کی دنیا میں خود کو مولانا کے شانہ بشانہ تاجدار ختم نبوت کی صدا بلند کرتے دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔
اللہ کی ان پہ کروڑوں رحمتیں ہوں اور انکے صدقے ہماری مغفرت ہو
آمین
اگر پوسٹ اچھی لگے تو شیئر کریں اور مجھے فالوؤ کریں 👉۔
سریر احمد یوسفزئی

08/08/2025

میری آوارہ گردیوں سے تنگ آ کر بھائی نے فیصلہ کیا کہ مجھے اپنے ایک دوست کے پاس جاب پر لگوا دیں، میں نے بھائی کو صاف کہہ دیا کہ صرف میں ہی ویلا نہیں ہوں، سیفی بھی فارغ پھرتا ہے لہذا اسکی بھی نوکری کا بندوبست کریں تو میں بھی جانے کو تیار ہوں۔۔ بھائی جان نے کہا "یار اسی خبیث سے دور کرنے کیلئے تو تمہیں دوسرے شہر بھیج رہا ہوں، اور تم ہو کہ سیفی کی شرط لگا بیٹھے ہو". میں نے بھائی کو سمجھایا کہ جس طرح آپ میرے لئے پریشان ہوتے ہیں ویسے ہی سیفی کے گھر والے بھی اس کے ویلے پھرنے سے تنگ ہیں، آپ ہم دونوں کو کام پر بھیج دیں گے تو ہمارا دل بھی لگا رہے گا اور کام بھی کرتے رہیں گے. بھائی کو بات سمجھ آ گئی کہ برخوردار نے سیفی کے بغیر نہیں ہلنا۔۔
انہوں نے سیفی کے ابو سے فون پر بات کی تو وہ بہت خوش ہوئے کہ بیٹا کام پر لگنے لگا ہے، یوں ہمارا نوکری پر جانا کنفرم ہو گیا۔۔
اگلے دن ہم دونوں فیصل آباد پہنچ گئے اور بھائی کے دوست شاہد محمود کو جا ملے۔۔
شاہد بھائی وہاں پروڈکشن مینیجر تھے انھوں نے ہم دونوں کو پیکنگ سیکشن میں بھیج دیا. سیفی رہہ رہہ کر مجھ پر غصہ نکال رہا تھا کہ میں نوکری کیلئے کیوں راضی ہوا، اچھے بھلے لاہور میں موج مستی کرتے تھے۔۔
کچھ ہی دنوں میں ہم دونوں نے محنت سے کام کر کے اپنے سپروائزر کی نظروں میں اچھا مقام بنا لیا، ہمارے سپروائزر کا نام عبدالوحید تھا لیکن سب اسے وحید مراد کہتے تھے کیونکہ اس کے بال بالکل وحید مراد جیسے تھے۔۔۔
وحید بہت ہی غصیلے مزاج کا بندہ تھا. پیکنگ میں ہمارے علاوہ بھی درجنوں لڑکے کام کرتے تھے. ہم لوگ لیبر کالونی میں رہتے تھے. جبکہ وحید کے پاس فیملی کوارٹر تھا۔۔
کام سے فارغ ہو کر ہم لوگ رات کو کرکٹ کھیلا کرتے تھے، فیکٹری نے ایک گراونڈ میں لائٹیں لگا کر روشنی کا انتظام کر دیا تھا۔۔۔ ہمارے ساتھ رہنے والے لڑکے بھی خوب شرارتی تھے جو ہم سے بہت جلد گھل مل گئے، انہی میں سے ایک لڑکا رفیق تھا جسے سب پھیکو بولتے تھے، بہت تیز طرار تھا، سیفی سے اس کی اچھی خاصی یاری بن گئی تھی۔۔
ایک شام کھانے پر وحید مراد کی باتیں ہونے لگیں تو میں نے کہا۔۔ "یار اس کے بال تو ہر وقت سیٹ رہتے ہیں کبھی بکھرے ہوئے نہیں دیکھے"۔۔۔
پھیکو بولا "یار دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے وحید مراد کے بال خراب نہیں ہو سکتے"، یہ سنتے ہی سیفی کے اندر سویا ہوا جیکی چن جاگ اٹھا، سیفی بولا "یار یہ کیا بات ہوئی بھلا"۔۔۔
پھیکو نے کہا "تم وحید کے بال بکھرا دو تو باہر سے کھانا بھی کھلاؤں گا اور پانچ ہزار انعام بھی دوں گا"۔۔۔
سیفی نے کہا "ڈن ہو گیا، لیکن کوئی بھی وحید کو نہیں بتائے گا اس شرط کے بارے میں"۔۔۔
اگلے دن سیفی نے وحید کو اور فنشنگ کے سپروائزر کو کرکٹ میچ کیلئے تیار کر لیا، اور طے پایا کہ رات کو دس دس اوورز کا میچ کھیلا جائے گا۔۔۔
ہماری ٹیم کا کپتان وحید تھا جبکہ فنشنگ کی ٹیم کا کپتان انکا سپروائزر اشرف تھا. ہم لوگوں نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 87 رنز بنائے جس میں سیفی کے 51 رنز تھے، سیفی کی خوب بلے بلے ہو گئی، سیفی نے کھیل کے دوران وحید کے بالوں تک رسائی کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔۔۔
اب فنشنگ والوں کی بیٹنگ تھی اور ان کو جیتنے کیلئے 88 رنز درکار تھے. میچ برابر کا چل رہا تھا، آخری دو اووروں میں ان کو جیتنے کیلئے 21 رنز بنانے تھے اور ان کی تین وکٹیں باقی تھیں۔۔۔
سیکنڈ لاسٹ اوور پھیکو نے کروایا اور دس رنز دے کر ایک کھلاڑی آوٹ کیا۔۔۔
وحید نے آخری اوور مجھے دیا اور کہا "عین، آخری اوور ہے لوز بال نہ کروانا"، میں نے کہا "آپ بے فکر رہو"، میری پہلی بال ہی بلے کا ایج لے کر سلپ میں سے ہوتی چوکے کیلئے باونڈری کراس کر گئی، وحید کیپنگ کر رہا تھا، میں نے سیفی کو فرسٹ سلپ میں بلا لیا۔۔ اب ان کو پانچ گیندوں پر سات رنز درکار تھے، لیبر کالونی کے سارے لوگ میچ دیکھنے آئےہوئے تھے جبکہ شاہد بھائی مہمان خصوصی تھے، میں نے دوسری بال کرائی، جو بیٹسمین سے مس ہوتی ہوئی کیپر کے ہاتھوں میں چلی گئی، اگلی گیند پر بیٹسمین نے اونچا شاٹ کھیلا جو فیلڈر نے باونڈری پر کیچ لے کر میچ کو دلچسپ بنا دیا۔۔ اب لاسٹ مین بیٹنگ کیلئے آیا، میں نے دوڑتے ہوئے بال کرائی تو بیٹسمین نے اندھا دھند بلا گھما دیا، گیند بلے کا کنارا چھوتی ہوئی وکٹ کیپر اور فرسٹ سلپ کے درمیان میں گئی جسے پکڑنے کیلئے وحید اور سیفی نے بیک وقت ڈائیو لگائی، بال کو وحید نے ڈائیو لگاتے ہوئے کیچ کر لیا جبکہ سیفی بھی سیم ٹائم اپنا ہاتھ بڑھا چکا تھا جو گیند کی بجائے وحید کے سر سے ٹکرایا، اور سیفی نے وحید کے بالوں کو جکڑ لیا، اگلے ہی لمحے وحید کے بال سیفی کے ہاتھ میں تھے اور وحید کی گنج روشنیوں میں جگمگ کر رہی تھی۔۔۔
گراونڈ میں ہماری جیت کا شور مچ گیا، سیفی اسی جوش اور ولولے کے ساتھ اٹھا اور وحید کی وگ ایک ہاتھ سے لہراتا ہوا گراونڈ کا چکر کاٹنے لگا، وحید کو فورا احساس ہوا کہ کچھ گڑ بڑ ہو گئی ہے تو اس نے بھی سیفی کے پیچھے دوڑ لگا دی، سیفی آگے آگے دوڑ رہا تھا اور وحید اپنے چٹیل سر کے ساتھ پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا، تماشائیوں کا ہنس ہنس کر برا حال تھا، مجھے نوکری ہاتھوں سے جاتی ہوئی محسوس ہوئی تو میں نے آواز لگائی، "اوئے منحوس، بھائی کے بال واپس کر دے"۔۔ سیفی نے پیچھے آتے ہوئے وحید کی طرف وگ پھینکی اور خود کوارٹروں کی طرف غائب ہو گیا. وحید کا غصے کے مارے برا حال تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد انعامات کی تقسیم شروع ہوئی تو سیفی 51 رنز بنانے پر مین آف دی میچ تھا، سیفی کا انعام میں نے وصول کیا جبکہ وننگ کیپٹن وحید ٹرافی لینے آیا تو شاہد بھائی نے کہا یار ہم تو تمہیں وحید مراد سمجھتے رہے اور تو رنگیلا نکلا، تماشائیوں نے دوبارہ قہقہہ بلند کیا. جبکہ وحید کا منہ شرم اور غصے سے لال ہو گیا۔۔۔
اگلے دن سیفی نے پہلی فرصت میں پھیکو سے شرط کے پانچ ہزار روپے وصول کئے۔۔ ادھر وحید مراد، جو رنگیلے کے نام سے مشہور ہو چکا تھا، نے ہم دونوں کو لمبی رخصت پر بھیج دیا اور ہم منہ لٹکائے لاہور واپس آ گئے۔۔۔
تحریر
(عین حیدر)

08/08/2025

عبدالله بن عوف فرماتے ہیں : ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت بپا ہو چکی ہے مجھے حساب و کتاب کیلئے لایا گیا۔ میرا حساب بڑی آسانی سے ہو گیا. پھر مجھے جنت میں لایا گیا اور وہاں مجھے بہت سارے محل دکھائے گئے، مجھے کہتے ہیں: اس محل کے دروازوں کو شمار کرو؛ میں نے شمار کیے تو 50 دروازے تھے.
پھر کہتے ہیں: اس محل کے گھروں کو شمار کرو تو وہ 175 گھر تھے، وہ گھر میری ملکیت میں دے دیے گئے، مجھے انتہائی خوشی ہوئی جیسے ہی میری آنکھ کھلی تو خدا کا شکر ادا کیا.
صبح ہوتے ہی ابن سیرین کے پاس گیا اور اپنے خواب کو بیان کیا.
انہوں نے کہا: یقینا آپ آیت الكرسی کی زیادہ تلاوت کرتے ہیں، میں نے کہا: جی ہاں؛ اسی طرح ہے، لیکن آپ کو کیسے پتہ چلا ؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ اس آیت کے 50 كلمے اور 175 حروف ہیں، میں نے انکے حافظے کی تیزی پہ تعجب کیا، پھر مجھے کہتے ہیں: جو شخص بھی آیت الكرسی کی زیادہ تلاوت کرے موت کی سختی اس پر آسان ہو جاتی ہے.
1. آیت الكرسی آسمانی نور ہے.
2. آیت الكرسی عرشی خزانے کی ایک آیت ہے.
3. آیت الكرسی سفر میں سلامتی کا باعث بنتی ہے.
4. آیت الكرسی قرآن میں بلند ترین مقام پر فائز ہے.
5. رسولﷺ جٹھی بستر پہ جاتے تو آیت الكرسی کا ورد کرتے.
6. آیت الكرسی پڑھنے سے انسان ہر بلا و آفت سے محفوظ رہتا ہے.
7. برائے رفع فقر آیت الكرسی مؤثر ہے اور غیب سے اللہ کی مدد پہنچتی ہے.
8. ہر چیز آیت الكرسی میں ہے یعنی كرسی میں آسمانوں اور زمین کی گنجائش ہے.
9. تنہائی میں آیت الكرسی پڑھنے سے خوف دور ہوتا ہے اور اللہ کی جانب سے مدد ہوتی ہے.
10. آیت الكرسی کو مستحب نمازوں میں ؛ایام ہفتہ کے شب و روز میں؛ سفر میں؛ نماز تہجد میں اور میت کو دفن کرتے وقت پڑھیں.
11. سوتے وقت آیت الكرسی کو پڑھیں کیونکہ اسطرح خداوند کریم ایک فرشتے‌ کی ڈیوٹی لگا دیتا ہے کہ صبح تک آپکی حفاظت کرے.
12. جب بھی آنکھ کا درد تو آیت الكرسی پڑھیں اور اس درد کا کسی کے سامنے اظہار نہ کریں انشاءاللہ آفاقہ ہوگا.
13. نبیﷺ نے فرمایا: جس گھر میں آیت الكرسی پڑھی جائے ابلیس اس گھر سے دور رہتا ہے اور سحر و جادو سے بھی محفوظ رہتا ہے.
14. آیت الكرسی پایه عرش الٰهی ہے اور اسکی تلاوت کا هدف یہ ہے کہ لوگ اللہ کے علاوہ کسی اور کی پرستش نہ کریں کسی دوسرے کے سامنے اپنا سر نہ جھکائیں؛لوگوں کے اندر روح توحید پیدا ہو۔ آیت الكرسی عقلوں کو بیدار اور حقیقی معبود کی پہچان کرواتی ہے.
15. وقت غروب 41 بار آیت الكرسی پڑھنے سے حاجت‌ پوری ہوتی ہے ( 41 بار العلی العظیم تک پڑھیں یعنی ایک آیه ) یہ عمل تجربہ شدہ ہے و برائے رفع هم و غم؛ شفائے مریض؛ درمان درد؛ رحمت خداوند اور آنکھوں کی نور کی زیادتی کیلئے ہمیشہ آیت الكرسی کی تلاوت کریں.
16. اگر مؤمن آیت الكرسی کو پڑھ کر اسکے ثواب کو مرحومین کو ہدیہ کر دے تو خداوند ایک فرشتےکی ڈیوٹی لگا دیتا ہے کہ اسکی طرف سے تسبیح کرے.
17. آیت الكرسی کو لکھ کر کھیتوں یا دکان میں چھپا دیا جائے تو رزق میں برکت ہو گی.
18. نبیﷺ سے نقل ہوا ہے كه: یہ آیت خدا کی تمام مخلوقات سے زیادہ باعظمت ہے.
19. چند چیزیں حافظے کو زیادہ کرتی ہیں ان میں ایک آیت الكرسی کی تلاوت ہے.
20. هر رات آیت الكرسی پڑھیں تاکہ صبح تک امان خدا میں رہیں.
21. هر صبح آیت الكرسی کو پڑھیں تاکہ رات تک امان خدا میں رہیں.
22. آیت الکرسی پڑھنے سے موت کے وقت جان کنی میں آسانی ہوتی ہے
23. آیت الكرسی قرآن کی عظیم‌ ترین آیت ہے
24. برائے حفاظت مال و جان آیۃ الكرسی کو پڑھی
25. آیت الكرسی شرک کی بنیادوں کو ویران کر دیتی ہے.
26. آیت الكرسی سوره بقره کی سردار ہے.
ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻻَ ﺇِﻟَٰﻪَ ﺇِﻻَّ ﻫُﻮَ ﺍﻟْﺤَﻲُّ ﺍﻟْﻘَﻴُّﻮﻡُ ۚ......

صدقہ جاریہ کے لئے شیئر کیجئے
محمد فراز گورایا کی وال سے کاپی پیسٹ کیا گیا ہے

07/08/2025

ہم چائے پینے کیلئے کھوکھے پر رک گئے۔ یہ غریبانہ چائے خانہ تھا‘ آپ کو عموماً اس قسم کے چائے خانے سڑکوں کے کنارے‘ اندرون شہر کی گلیوں‘ محلوں‘ چوکوں‘ بازاروں‘ منڈیوں اور بسوں اور ٹرکوں کے اڈوں پر ملتے ہیں‘ یہ گندے اور بے ترتیب چائے خانے ہوتے ہیں لیکن ان کی چائے‘ ان کی دودھ پتی مثالی ہوتی ہے‘ لوگوں کو ان کی باقاعدہ لت لگ جاتی ہے‘ لوگ سارا سارا دن یہاں گزار دیتے ہیں‘ یہ نہ آئیں تو ان کے آرڈر آتے رہتے ہیں اور چائے خان

رہتے ہیں اور چائے خانے کا چھوٹا پورا دن انہیں چائے سپلائی کرتا رہتا ہے‘ میں نے جوانی میں ان چائے خانوں کی ’’کامیابی‘‘ پر خاصی ریسرچ کی تھی‘ مجھے اس کی چار وجوہات معلوم ہوئیں‘ پہلی وجہ ان کی پتیلی ہوتی ہے‘ یہ سارا دن پتیلی دھوتے نہیں ہیں‘ پتیلی میں ایک کے بعد دوسری‘ تیسری اور بیسویں چائے بنتی ہے‘ کثرت استعمال کی وجہ سے پتیلی کے پیندے اور دیواروں پر جلی ہوئی پتی کی تہہ جم جاتی ہے‘ یہ جلی ہوئی پتی ان کی چائے میں ایک خاص خوشبو‘ ایک خاص ذائقہ پیدا کر دیتی ہے‘ لوگ
اس ذائقے‘ اس خوشبو کے عادی ہو جاتے ہیں اور یہ اس خوشبو‘ اس ذائقے کے تعاقب میں بار بار چائے پیتے رہتے ہیں‘ چائے بنانے والا اگر پتیلی بدل لے یا یہ غلطی سے دن میں پتیلی دھو لے تو گاہک فوراً اعتراض کرتے ہیں ’’ چاچا چائے کا مزہ نہیں آیا‘ آج چائے کس نے بنائی تھی‘‘ دوسری وجہ چائے کی پتی ہے‘ یہ لوگ برانڈڈ چائے کی بجائے کھلی پتی استعمال کرتے ہیں‘یہ پتی تیز ہوتی ہے‘ اس میں کفین کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ اور خوشبو بھی مختلف ہوتی ہے‘ لوگوں
کو یہ خوشبو اور ذائقہ گھر کی پتی اور چائے میں نہیں ملتا.

چنانچہ یہ چائے خانوں کی چائے کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں‘ تیسری وجہ دودھ اور چائے کے اوبال ہیں‘ یہ لوگ تازہ دودھ خریدتے ہیں‘ یہ دودھ سارا دن ہلکی آنچ پر گرم ہوتا رہتا ہے‘ دودھ پر بالائی کی موٹی تہ جم جاتی ہے‘ یہ لوگ بالائی کا چھوٹا سا چھلکا چائے کے کپ میں ڈال دیتے ہیں‘ ہلکی آنچ پر پکنے کی وجہ سے بالائی اور دودھ میں بھی ایک خاص ذائقہ آ جاتا ہے‘ یہ چائے کی پتی کو چھ سات اوبا
دیتے ہیں اور ہر اوبال پر پونی (چائے چھاننے والی چھلنی) اور ’’پوے‘‘ (چائے انڈیلنے والا ہینڈ کپ) سے پتی کے پانی کو پتیلی سے باہر نکالتے ہیں.

اور دھار کی شکل میں دوبارہ پتیلی میں پھینکتے ہیں‘ اس عمل سے چائے کے پانی میں آکسیجن کا اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ آکسیجن بھی اس میں ایک خاص ذائقہ پیدا کر دیتی ہے‘ ہم گھروں میں عموماً چائے کو دم دیتے ہیں جبکہ یہ لوگ دم دینے کی بجائے چائے کو پھینٹتے ہیں اور عمل کا یہ فرق بھی چائے میں فرق پیدا کر دیتا ہے .

چائے بنانے والے لوگ چائے میں مصالحہ بھی ڈالتے ہیں‘ یہ مصالحہ ان کا خفیہ نسخہ ہوتا ہے‘ یہ لوگ چائے میں دار چینی‘ سونف اور بھنگ کا ایک آدھ پتہ ڈال دیتے ہیں‘ یہ بھنگ کے پتوں کو خشک کر کے پیس لیتے ہیں اور یہ سفوف چائے کی پتی میں ملا دیتے ہیں‘ اس مصالحے کی وجہ سے چائے میں ہلکا سا سرور آ جاتا ہے اور چائے پینے کے بعد گاہک کی تھکاوٹ اتر جاتی ہے‘ یہ ان کھوکھوں‘ ان چائے خانوں کے ٹریڈ سیکرٹ ہیں لیکن یہ ٹریڈ سیکرٹ ہمارا موضوع نہیں ہیں‘ ہمارا موضوع جی ٹی روڈ کا وہ کھوکھا ہے جس پر ہم لوگ چائے کیلئے رک گئے تھے۔ہم چائے پینے کیلئے کھوکھے پر رک گئے‘ چائے خانہ گندا تھا‘ اندر دھول تھی‘ دھواں بھی تھا‘ گرمی بھی اور بو بھی لیکن ہم اس کے باوجود وہاں رک گئے‘ میں ایسے چائے خانوں کی چائے کا رسیا ہوں‘ مجھے سال چھ ماہ بعد جب بھی موقع ملتا ہے‘ میں ان چائے خانوں میں ضرور جاتا ہوں اور چائے کو انجوائے کرتا ہوں‘ ہم چار لوگ تھے‘ ہم نے چائے منگوائی اور بیٹھ کر انتظار کرنے لگے‘ گرمی اور حبس تھا‘

ہمیں پسینہ آ رہا تھا‘ میں نے ٹشو پیپر نکالنے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالا‘ ٹشو پیپر نکالا اور چہرہ صاف کرنے لگا‘ ٹشو پیپر نکالتے ہوئے پچاس روپے کا ایک نوٹ میری جیب سے نکل کر فرش پر گر گیا‘ میں نوٹ کے کے نکلنے اور گرنے سے واقف نہیں تھا‘ یہ نوٹ اُڑ کر میرے پاؤں کے قریب پہنچ گیا‘ میں نے نادانستگی میں نوٹ پر پاؤں رکھ دیا‘ دور کونے میں درمیانی عمر کا ایک مزدور بیٹھا تھا‘ وہ تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھا‘ بھاگتا ہوں میرے پاس آیا‘ زمین پر بیٹھ کر میرا پاؤں ہٹایا‘ نوٹ اٹھایا‘ نوٹ کو سینے پر رگڑ کر صاف کیا‘ نوٹ کو چوما‘آنکھوں کے ساتھ لگایا اور دونوں ہاتھوں میں رکھ کر مجھے واپس کر دیا‘ ہم چاروں اس حرکت پر حیران بھی تھے اور پریشان بھی۔ ہماری جیبوں سے عموماً نوٹ کر جاتے ہیں‘ دیکھنے والے ان کی نشاندہی کرتے ہیں اور ہم نوٹ اٹھا کر دوبارہ جیب میں رکھ لیتے ہیں لیکن ہم نے زندگی میں کوئی ایسا پاگل نہیں دیکھا تھا جو فرش پر گرے ہوئے نوٹ کیلئے تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھا ہو.

‘ فرش پر بیٹھا ہو‘ اس نے نوٹ اٹھا کر اپنے سینے سے صاف کیا ہو‘ پچاس روپے کے معمولی سے نوٹ کو چوما ہو‘ آنکھوں سے لگایا ہو اور کسی مقدس ورق کی طرح دونوں ہاتھوں میں رکھ کر مالک کے حوالے کیا ہو‘ یہ یقیناً حیرت کی بات تھی اور ہم چاروں اس وقت حیران تھے‘ میں نے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا‘ اس کیلئے بھی چائے کا آرڈر دیا اور اس سے اس تڑپ‘ اس عقیدت کی وجہ سے پوچھی‘ وہ مزدور تھا مگر وہ سدا کا مزدور نہیں تھا‘ وہ بیس سال قبل شہر کے رئیس لوگوں میں شمار ہوتا تھا‘ اس کا والد شہر کے چار بڑے تاجروں میں شامل تھا‘ یہ اس کی واحد نرینہ اولاد تھا‘ یہ نازونعم میں پلا تھا‘ گاڑی تھی‘ بینک بیلنس تھا‘ جوانی تھی اور ماں باپ کی اندھی محبت تھی‘ یہ چاروں چیزیں جہاں جمع ہوتی ہیں‘ وہاں بگاڑ ضرور پیدا ہوتا ہے‘ یہ بھی بگڑ گیا‘ اس کی صحبت خراب ہو گئی‘ یہ شراب‘ کباب اور شباب کی لت میں مبتلا ہو گیا تھا‘ اس کے بعد کیا ہوا‘ یہ آپ اس کی زبانی سنیے۔’’میں جوان تھا‘ امیر تھا اور ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا‘ مجھے برے لوگوں نے گھیر لیا‘
میری صحبت خراب ہو گئی‘ میرے والد کو معلوم ہوا تو انہوں نے مجھے سمجھانا شروع کیا .

مگر انسان کی زندگی میں جب جوانی‘ شراب اور دولت تین نشے جمع ہو جائیں تو اس کی عقل پر پردے پڑ جاتے ہیں‘ یہ سمجھنے‘ سمجھانے کی حد کراس کر جاتا ہے‘ میرے ساتھ بھی یہی ہوا‘ میں نے والد کی بات سننے اور ماننے سے انکار کر دیا‘ میری خرابی نے میرے والد کو روگ لگا دیا‘

وہ اس روگ میں چل بسے‘ مجھے ساری زمین‘ جائیداد اور بینک بیلنس مل گیا‘ میں والد کے انتقال پر اداس ہونے کی بجائے دولت ملنے پر خوش تھا‘ میں نے اپنی ماں اور بہنوں کو چھوٹے سے مکان میں شفٹ کیا‘ ان کا ماہانہ خرچ طے کیا اور والد کی حق حلال کی دولت کو انجوائے کرنے لگا‘ میں نے اپنے گھر کو رقص گاہ بنا لیا‘ میں اور میرے دوست روز طوائفوں کو گھر لاتے‘ ساری رات مجرا کراتے‘ شراب پیتے اور شراب کے نشے میں طوائفوں پر نوٹ نچھاور کرتے‘ ہم طوائفوں کو حکم دیتے تھے‘ہم ان پر جو نوٹ نچھاور کریں گے‘ وہ یہ نوٹ صبح تک فرش سے نہیں اٹھائیں گی‘ وہ ان نوٹوں پر ناچتی رہیں گی‘ مجھے دراصل فرش پر نوٹوں کا قالین اور اس قالین پر ناچتے تھرکتے ہوئے گورے گلابی پاؤں اچھے لگتے تھے چنانچہ میری محفل میں ساری رات نوٹ نچھاور ہوتے تھے اور طوائفیں ان نوٹوں پر ناچتی تھیں

‘ یہ کام مہینوں جاری رہا‘میری عادت‘ میری حالت سے پورا شہر واقف ہو گیا‘ میرے والد کے ایک دوست کو اطلاع ہوئی تو وہ ایک روز میرے پاس آیا ‘ اس نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا ‘ بیٹا تمہارے والد لوگوں سے کہا کرتے تھے‘ اللہ تعالیٰ جب کسی سے خوش ہوتا ہے تو یہ اسے دولت سے نوازتا ہے‘ پھر صحت دیتا ہے‘ پھر اولاد عنایت کرتا ہے اور آخر میں اچھے دوست دیتا ہے‘ تمہارے والد کہا کرتے تھے‘ دولت ایمان کے بعد اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے‘ لوگوں کی نسلیں اسی نعمت کی دعا کرتے کرتے قبرستان پہنچ جاتی ہیں‘ اللہ بہت کم لوگوں پر خوشحالی کے دروازے کھولتا ہے لیکن جب اللہ کے بندے نوٹوں کو پاؤں میں روندتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے اور یہ دولت کی ناقدری کرنے والوں سے ایمان بھی چھین لیتا ہے‘عقل بھی‘ صحت بھی اور اچھے دوست بھی۔ والد کے دوست کا کہنا تھا‘

تم نوٹوں کو طوائفوں کے قدموں میں نچھاور کر کے اللہ کی بڑی نعمت کی توہین کر رہے ہو‘ تم تباہ ہو جاؤ گے‘ تم سنبھل جاؤ لیکن میں اس وقت نشے کے گھوڑے پر سوار تھا‘ میں نے ان کو یہ کہہ کر روانہ کر دیا’’ آپ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں‘ آپ اپنے بچوں پر توجہ دیں‘ یہ روز لوگوں کے گریبان پھاڑتے ہیں‘‘۔ وہ چلے گئے‘ میں نے اپنا معمول جاری رکھا‘ میں اور میرے دوست طوائفوں کے قدموں میں نوٹ نچھاور کرتے رہے‘ ایک دن اس غرور کا نتیجہ نکل آیا‘ میں نے نشے کے عالم میں گولی چلا دی‘ ایک طوائف ماری گئی‘ کیس بنا میں سزا سے بچ گیا لیکن میرا سب کچھ چلا گیا اور میں اب فیکٹری میں مزدوری کرتا ہوں‘‘۔

وہ رک گیا اس نے لمبی سانس لی اور بولا ’’میں جب بھی کسی نوٹ کو کسی پاؤں میں گرا ہوا دیکھتا ہوں تو میں تڑپ اٹھتا ہوں‘ میں نوٹ کو اٹھا کر صاف کرتا ہوں‘ ہونٹوں اور آنکھوں کے ساتھ لگاتا ہوں او رمالک کو واپس کر دیتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں دنیا کا جو بھی شخص نوٹ کو پاؤں میں روندتا ہے یا روندتا ہوا دیکھ کر خاموش رہتا ہے وہ تباہ ہو کر رہ جاتاہے‘‘ اس نے ایک اور لمبی آہ کھینچی اور بولا’’ چودھری صاحب یہ بات پلے باندھ لیں مجرا کرانے والا کوئی شخص امیر نہیں رہ سکتا‘ یہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اللہ کی نعمت کو گندی عورتوں کے قدموں میں روندتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات اپنی نعمت کی یہ تذلیل برداشت نہیں کرتی‘‘۔

جاوید چوہدری

https://whatsapp.com/channel/0029VavgAITDp2QC9ZbMHp2Z

Address

Attock

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Allahbakhsh Assi Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share