30/06/2025
پاکستان میں گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر کا آغاز 29 مارچ 2019 کو ہوا تھا اور اسے اکتوبر 2024 میں مکمل کر لیا گیا تھا۔ یہ ائیرپورٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت چین کی مالی معاونت سے 240 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ 20 جنوری 2025 کو اس ایئرپورٹ پر پی آئی اے کی پہلی پرواز کراچی سے پہنچی اور باضابطہ طور پر اس کا افتتاح 10 جنوری 2025 کو عمان کے لیے پہلی بین الاقوامی پرواز کے ساتھ کیا گیا تھا۔
تاہم، اس کی شاندار ساخت اور بین الاقوامی معیار کے باوجود، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اکثر خالی نظر آتا ہے اور اس میں مسافروں کی آمد و رفت بہت کم ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ بلوچستان میں جاری شورش اور سیکیورٹی کی صورتحال ہے۔ عسکریت پسند گروپوں کے حملوں کے خوف سے ایئرلائنز اور مسافر گوادر آنے سے گریز کرتے ہیں۔ دوسری وجہ گوادر میں بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔ شہر میں بجلی اور صاف پانی کی مناسب فراہمی نہیں ہے، جو ہوائی اڈے کے مکمل آپریشن کے لیے ضروری ہیں۔ تیسری وجہ مقامی طلب کا فقدان ہے۔ گوادر کی آبادی نسبتاً کم ہے اور یہ شہر ابھی تک کاروباری اور سیاحتی سرگرمیوں کا بڑا مرکز نہیں بن سکا ہے، جس کی وجہ سے ہوائی سفر کی مانگ کم ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ ایئرپورٹ زیادہ تر چین کے مفادات کے لیے تعمیر کیا گیا ہے تاکہ اس کے شہریوں کو گوادر اور بلوچستان تک محفوظ رسائی مل سکے، نہ کہ مقامی آبادی کی ضروریات کے لیے۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے، اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ ایئرپورٹ اپنی صلاحیت کے مطابق فعال نہیں ہو سکا ہے۔
ایسی مزید معلومات کے لیے ہمیں فالو کریں، اور دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں۔
گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر پر بنی آپ ہماری یہ ویڈیو ضرور دیکھیں۔
https://youtu.be/iLNmWB-fYqM
Facebook:https://www.facebook.com/profile.php?id=61577283123946
Whatsapp:https://whatsapp.com/channel/0029VbApByR2UPBAe9bzFB3f