Hazara Sayyid Chronicles

Hazara Sayyid Chronicles

ہزارہ ڈویژن میں آباد ساداتِ کرام کا مستند تاریخی، علمی اور صوفیانہ سفر

سید کاظم حسین شاہ 18 مئی 1962 کو مانسہرہ کے خوبصورت گاؤں پیراں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکو...
03/08/2026

سید کاظم حسین شاہ 18 مئی 1962 کو مانسہرہ کے خوبصورت گاؤں پیراں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول پیراں سے حاصل کی۔ کم عمری ہی سے ذہانت، محنت اور شوقِ تعلیم ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ ضلع بھر کے چھٹی جماعت کے میرٹ امتحان میں پہلی پوزیشن اور صوبائی سطح پر آٹھویں جماعت کے میرٹ اسکالرشپ امتحان میں کامیابی نے ان کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی۔
1979 میں گورنمنٹ ہائی سکول خیرآباد سے ایس ایس سی کا امتحان اعزازی نمبروں کے ساتھ فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوئے۔ بعد ازاں ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھی اور نجی امیدوار کے طور پر ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
یکم جون 1980 کو انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول پارس سے بطور سینیئر ٹیچر محکمۂ تعلیم خیبر پختونخوا میں اپنی سرکاری ملازمت کا آغاز کیا۔ تقریباً 42 سال تک مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد 18 مئی 2022 کو گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول پیراں (GHSS پیراں) سے باعزت ریٹائر ہوئے۔ اپنی پوری ملازمت کے دوران وہ دیانت داری، محنت اور اعلیٰ تدریسی صلاحیتوں کے باعث اساتذہ اور طلبہ میں یکساں طور پر عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے رہے۔

سید دوران شاہ بخاریؒ  ہزارہ کی مٹی کا خاموش ولیسید دوران شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق ضلع مانسہرہ کی قدیمی روحانی بس...
26/06/2026

سید دوران شاہ بخاریؒ ہزارہ کی مٹی کا خاموش ولی

سید دوران شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق ضلع مانسہرہ کی قدیمی روحانی بستی پیراں خیرآباد سے تھا۔ آپ ایک معزز سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اور آپ کا سلسلہ نسب امام علی نقی علیہ السلام سے ہوتے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور نبی اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ یہ نسب صرف خاندانی وراثت نہ تھا بلکہ آپ کی زندگی کے ہر پہلو میں سیرتِ نبوی اور اخلاقِ علوی کی جھلک نظر آتی تھی۔
آپ نے دینی تعلیم برصغیر کے عظیم علمی مرکز لکھنؤ (ہندوستان) سے حاصل کی، جہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت کا بھی اثر گہرا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وطن واپس آئے تو کچھ وقت پیراں خیرآباد میں قیام فرمایا، مگر والد محترم کے وصال کے بعد زیادہ وقت مونگن مچھی پول (مانسہرہ) کے قریب گزارا، جہاں آپ کے معتقدین کی ایک بڑی تعداد تھی۔ آپ کا کلام، نشست، اور طرزِ زندگی سراسر سادگی، توکل، اور اللہ و رسول ﷺ کی محبت سے لبریز تھا۔
بعد ازاں آپ نے ڈھوڈیال کے علاقے دلاک میں مستقل قیام فرمایا، جو بعد میں آپ کا روحانی مرکز بن گیا۔ یہاں قیام کا سبب محض ذاتی انتخاب نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی نسبت کا تسلسل تھا۔ اسی مقام پر آپ کے عزیز اور درویش صفت بزرگ سیلانی باباؒ قیام پذیر تھے، جو خدمتِ خلق، درختوں کی شجرکاری، اور لنگر تقسیم جیسے اعمال میں مشغول رہتے تھے۔ ان دونوں روحانی ہستیوں کے درمیان گہرا تعلق تھا۔ سیلانی باباؒ نے اپنی زندگی میں ہی فرمایا تھا: "میرے بعد تم یہاں رہو گے۔" یہی روحانی اشارہ بعد ازاں حقیقت بنا، اور سید دوران شاہ بخاریؒ نے اسی جگہ کو اپنے قیام کا مقام بنا کر پچیس برس تک اسے ذکر، خدمت، اور روحانی سکون کا مرکز بنائے رکھا۔
آپ 13 جنوری 2001 کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے۔ ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں آپ کو سیلانی باباؒ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آج آپ کا مزار ایک پُرسکون، بے شور، مگر فیض رساں مقام ہے، جہاں خلوص سے آنے والے زائرین کو قلبی سکون اور روحانی راحت نصیب ہوتی ہے۔
سید دوران شاہ بخاریؒ کی زندگی دکھاوے سے پاک، سادہ اور پر اثر تھی۔ آپ ڈھوڈیال کے مقامی سبزی فروش یا عبدالمالک کباب فروش کے پاس عام لوگوں کی طرح بیٹھا کرتے اور وہیں دین، ذکر، اہل بیت کی محبت، اور سیرتِ نبوی ﷺ پر باتیں ہوتیں۔ اگر کوئی بے ادبی کرتا یا مجلس میں بلند آواز سے بات کرتا تو آپ جلال میں آ جاتے، اور آپ کی آنکھوں میں سرخی نمایاں ہو جاتی تھی۔ اسی لیے علاقے کے لوگ آپ کے مقام کے قریب سے گزرتے ہوئے آہستہ آواز میں بات کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
ڈھوڈیال کی معروف روحانی شخصیت حاجی سلیمان خان کی بیٹھک میں بھی آپ کی باقاعدہ حاضری رہتی، جہاں اہلِ دل کا اجتماع ہوتا اور آپ وہاں تبلیغ فرماتے۔ ارغوشال ڈھوڈیال میں عبدالخنان کے ہوٹل میں بھی آپ اکثر تشریف رکھتے اور دین کے متعلق گفتگو فرماتے۔ آپ کا دائرہ اثر صرف ڈھوڈیال اور مانسہرہ تک محدود نہ تھا بلکہ شنکیاری میں بھی آپ کا آنا جانا تھا۔ وہاں شیخ جران باباؒ کے مزار پر بیٹھتے، اور اسی مقام پر آپ نے ایک سادہ سی مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔ اگر شنکیاری میں قیام ہوتا تو وہیں نماز ادا فرماتے۔ شنکیاری کے ایک معروف کباب فروش کے پاس بھی آپ کی مجلس جمتیں جہاں سادہ لوگ آ کر دین و اصلاح کے سوالات کرتے اور آپ علم، محبت اور نرمی سے ان کی رہنمائی فرماتے۔
سید دوران شاہ بخاریؒ کا تعلق مظفرآباد کے بزرگ سائیں سہلی سرکارؒ سے بھی تھا، اور آپ وہاں باقاعدگی سے حاضری دیتے تھے۔ اسی طرح گلی باغ میں واقع دیوان راجہ باباؒ کے مزار پر ہر جمعرات تشریف لے جاتے، جن کا شمار ترک مغلیہ دور کے معروف اولیاء میں ہوتا ہے۔ ان مزارات سے تعلق آپ کی روحانی پختگی، تواضع اور اہلِ دل سے نسبت کا ثبوت ہے۔
آپ کی زندگی میں نہ کوئی خانقاہ تھی، نہ کوئی اشتہار، نہ غلو، نہ نعرہ، مگر دلوں میں جگہ بنانے کا وہ سلیقہ تھا جو صرف اللہ والوں کو عطا ہوتا ہے۔ آپ نہ کسی ظاہری کرامت کے قائل تھے نہ شہرت کے، مگر پھر بھی ہزاروں لوگ آپ کے فیض سے مستفید ہوتے اور آج بھی ان کا مزار ایک خاموش ولی کا جیتا جاگتا پیغام دے رہا ہے۔
آپ کے ذکر کو محفوظ کرنا نئی نسل کے لیے صرف عقیدت نہیں بلکہ تربیت، دعوت، اور دین کی اصل روح سے شناسائی ہے۔ سید دوران شاہ بخاریؒ جیسے درویش اپنی ذات سے زیادہ اپنے عمل، کردار، اور خاموشی سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ چلے گئے، مگر ان کا فیض، ان کا سکوت، اور ان کی نسبت آج بھی قلوب میں زندہ ہے۔

تحریر سید شاہ علی فرزندPeeran-Khairabad - پیراں۔خیرآباد حضرت سید شاہ محمد کبیر رحمۃ اللہ علیہ، جو شاہ بابا خیرآباد والے...
25/06/2026

تحریر سید شاہ علی فرزند
Peeran-Khairabad - پیراں۔خیرآباد

حضرت سید شاہ محمد کبیر رحمۃ اللہ علیہ، جو شاہ بابا خیرآباد والے کے لقب سے معروف ہیں، ہزارہ کے علاقے مانسہرہ میں اسلام کی تبلیغ اور انسانیت کے فروغ کی روشنی پھیلانے والے عظیم المرتبت ہستیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کا تعلق خانوادۂ ولایت سے ہے اور آپ حضرت سید سلطان محمد شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ہیں، جو خود بھی ایک جلیل القدر ولی اللہ تھے۔

حضرت سید شاہ محمد کبیر رحمۃ اللہ علیہ کی جائے آرام خیرآباد ہے، جو پیراں شریف کے نواحی علاقے میں واقع ہے۔ آپ کے اجداد میں حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری رحمۃ اللہ علیہ (اچ شریف) اور حضرت حاجی مراد شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ (کریڑ، بارہ مولہ کشمیر) شامل ہیں، جو روحانی سلسلے کی روشن شمعیں تھے۔ آپ کے والد گرامی، حضرت سید سلطان محمد شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت اور آپ کے برادر حضرت سید شاہ محمد صغیر رحمۃ اللہ علیہ کا مزار پیراں شریف میں موجود ہیں۔

شاہ بابا خیرآباد رحمۃ اللہ علیہ صاحب کرامت اور فیض بخش ہستی تھے۔ آپ کا شمار اس خطے کی برگزیدہ اولیائے کرام میں ہوتا ہے اور اسی باعث آپ کا مزارِ اقدس مرجعِ عام و خاص بنا ہوا ہے۔ آپ تقریباً تین صدی قبل وصال فرما گئے۔ آپ کی وفات کے تقریباً دو صدی بعد ایک کرامت ظاہر ہوئی، جب چند صالحین کو خواب میں آپ نے اپنی ابتدائی تدفین کی جگہ کے سیم زدہ ہونے کا عندیہ دیا۔ اسی خواب میں ایک نئی جگہ کے انتخاب کا اشارہ بھی ملا۔ ان مسلسل خوابوں کے بعد قبر کشائی عمل میں آئی، اور جب آپ کا جسدِ مبارک زمین سے نکالا گیا تو جسمِ اطہر تروتازہ تھا اور چہرے پر پسینہ نمایاں تھا۔

آپ کی دوسری تدفین ایک بلند مقام پر کی گئی، جو آج سے تقریباً ایک سو تیس سال قبل عمل میں آئی۔ اس موقع پر نمازِ جنازہ میں شریک ہونے والے افراد اب اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن ان کے بیانات کی تصدیق کرنے والے بزرگ ہنوز حیات ہیں۔ آج یہ مزار خیرآباد کے اونچے مقام پر واقع ہے اور یہاں تک پہنچنے کے لیے دو راستے ہیں: ایک راستہ مانسہرہ سے پیراں شریف اور پھر خیرآباد جاتا ہے، جبکہ دوسرا راستہ مانسہرہ سے عطرشیشہ، بٹراسی اور دوگہ کے ذریعے خیرآباد تک پہنچتا ہے۔

یہ مزار آج بھی زائرین اور محبانِ اولیاء کے لیے روحانی فیض کا سرچشمہ ہے۔
تحریر: سید شاہ علی فرزند

Address

Mansehra
Baffa

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hazara Sayyid Chronicles posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share