Research Hub

Research Hub Research Topic hub on CSS/PMS PPSC & FPSC Test MCQs, preparation notes & brief history on topics

سر محمد ظفر اللہ خانسر محمد ظفر اللہ خان پاکستان کی تاریخ کی ایک عظیم شخصیت تھے۔ وہ پاکستان کے پہلے وزیرِ خارجہ تھے اور ...
10/08/2026

سر محمد ظفر اللہ خان

سر محمد ظفر اللہ خان پاکستان کی تاریخ کی ایک عظیم شخصیت تھے۔ وہ پاکستان کے پہلے وزیرِ خارجہ تھے اور انہوں نے 27 دسمبر 1947 سے 24 اکتوبر 1954 تک اس اہم عہدے پر خدمات انجام دیں۔ وہ قانون کے بہت بڑے ماہر اور بہترین سفارتکار تھے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد انہوں نے اقوامِ متحدہ میں جا کر پاکستان کا مقدمہ بہت بہادری اور فصاحت سے پیش کیا۔ خاص طور پر انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا مؤقف دنیا کے سامنے مضبوطی سے رکھا۔

اپنی علمی قابلیت کی وجہ سے انہیں عالمی سطح پر بہت عزت ملی۔ *1958 سے 1961 تک وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے رکن رہے اور 1970 سے 1973 تک اسی عدالت کے صدر منتخب ہوئے۔* اس کے علاوہ وہ 1962 سے 1964 تک اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بھی رہے۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والے وہ پہلے ایشیائی تھے۔

*سر محمد ظفر اللہ خان 1 ستمبر 1985 کو وفات پا گئے اور انہیں سیالکوٹ، پاکستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔*

انہوں نے اپنی ایمانداری، محنت اور ملک سے محبت کی وجہ سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا۔

31/07/2026

حضرت ایوب علیہ السلام* کا ہے جو صبر کی سب سے بڑی مثال ہیں۔

اللہ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو بہت زیادہ مال، اولاد اور صحت دی تھی۔ شیطان کو یہ برداشت نہ ہوا تو اس نے اللہ سے اجازت مانگی کہ وہ ایوب علیہ السلام کو آزمائے۔

پھر کئی سال تک حضرت ایوب علیہ السلام شدید بیماری میں مبتلا رہے۔ جسم پر زخم ہو گئے، مال چلا گیا، اولاد بھی نہیں رہی۔ لوگوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔
مگر وہ ہر حال میں کہتے رہے: *"الحمدللہ"*

*2. اللہ کا حکم - ٹھنڈے پانی والا معجزہ*
جب تکلیف حد سے بڑھ گئی تو حضرت ایوب علیہ السلام نے دعا کی:
*"رَبِّ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ"*
"اے میرے رب! مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے"

اللہ نے فوراً جواب دیا - *سورہ ص، آیت 42:*
*"ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ"*
*ترجمہ:* "اپنا پاؤں زمین پر مارو۔ یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے اور پینے کے لیے"

حضرت ایوب علیہ السلام نے جیسے ہی پاؤں مارا زمین سے ٹھنڈا چشما پھوٹ نکلا۔ اس پانی سے غسل کیا اور پیا تو اللہ نے ایک لمحے میں تمام بیماریاں ختم کر دیں۔ صحت، مال، اولاد سب پہلے سے زیادہ لوٹا دیا۔

*3. اس میں کیا حکمت تھی؟*
1. *معجزاتی شفا*: یہ عام پانی نہیں تھا۔ یہ اللہ کا براہِ راست حکم اور شفا تھی۔
2. *صبر کا انعام*: اللہ نے دکھایا کہ جو بندہ صبر کرتا ہے اللہ اسے کبھی ضائع نہیں کرتا۔
3. *سائنس کی روشنی میں*: آج ڈاکٹر بھی کہتے ہیں کہ ٹھنڈے پانی سے نہانے سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، سوزش کم ہوتی ہے، دماغ میں ڈوپامائن نکلتا ہے جس سے موڈ اچھا ہوتا ہے اور قوتِ مدافعت بڑھتی ہے۔

*4. ہمارے لیے سبق*
1. بیماری، غربت یا مشکل میں گھبرانا نہیں۔ صبر کرنا ہے۔
2. اللہ سے دعا مانگنی ہے کیونکہ شفا دینے والا وہی ہے۔
3. اللہ کی آزمائش کے بعد راحت ضرور آتی ہے۔

*خلاصہ:* ٹھنڈے پانی کا حکم صرف صفائی کے لیے نہیں تھا۔ وہ اللہ کی رحمت، معجزہ اور حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کا انعام تھا۔

حبیب بورقیبہ - جدید تیونس کے بانی* 🇹🇳*حبیب بورقیبہ* تیونس کی تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت تھے۔ انہیں *"جدید تیونس کا باپ"* ا...
25/07/2026

حبیب بورقیبہ - جدید تیونس کے بانی* 🇹🇳

*حبیب بورقیبہ* تیونس کی تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت تھے۔ انہیں *"جدید تیونس کا باپ"* اور *"المجاہد الاکبر"* یعنی *"عظیم مجاہد"* کہا جاتا ہے۔

*1. ابتدائی زندگی اور تعلیم*
حبیب بورقیبہ 3 اگست 1903 کو تیونس کے شہر *منستیر* میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے *فرانس* کا رخ کیا اور وہاں سے قانون اور سیاسیات میں ڈگری حاصل کی۔ فرانس میں رہتے ہوئے انہوں نے محسوس کیا کہ تیونس کے لوگ غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی دن انہوں نے قسم کھائی کہ وہ اپنے ملک کو آزاد کروا کر رہیں گے۔

*2. آزادی کی جدوجہد*
اس وقت تیونس پر فرانس کا قبضہ تھا۔ بورقیبہ نے 1934 میں *"نیو دستور پارٹی"* بنائی۔ انہوں نے جنگ کی بجائے پرامن طریقے، تقریروں اور سیاسی دباؤ سے آزادی کی تحریک چلائی۔ کئی بار انہیں جیل بھی جانا پڑا۔
آخرکار ان کی محنت رنگ لائی اور *20 مارچ 1956* کو تیونس کو فرانس سے آزادی مل گئی۔ 1957 میں انہوں نے بادشاہت ختم کر کے *تیونس کے پہلے صدر* کا عہدہ سنبھالا۔

*3. جدید اصلاحات*
بورقیبہ صرف ایک سیاستدان نہیں تھے بلکہ وہ ایک بڑے مصلح بھی تھے۔ انہوں نے تیونس کو ایک جدید اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے بہت کام کیا:
1. *خواتین کے حقوق*: انہوں نے 1956 میں "ذاتی حیثیت کا قانون" نافذ کیا۔ اس قانون کے تحت تعدد ازواج یعنی ایک سے زیادہ شادیاں ختم کر دیں، لڑکیوں کی شادی کی عمر مقرر کی اور عورتوں کو طلاق کا حق دیا۔ اس وجہ سے تیونس آج بھی عرب دنیا میں خواتین کے حقوق کے معاملے میں سب سے آگے ہے۔
2. *تعلیم*: انہوں نے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا نظام بنایا۔
3. *سیکولر ریاست*: انہوں نے مذہب اور سیاست کو الگ رکھا تاکہ ملک جدید خطوط پر ترقی کر سکے۔

*4. آخری ایام اور ورثہ*
حبیب بورقیبہ تقریباً 30 سال تک یعنی 1957 سے 1987 تک تیونس کے صدر رہے۔ 1987 میں بڑھاپے کی وجہ سے انہیں صدارت سے الگ کر دیا گیا۔ وہ 6 اپریل 2000 کو اپنے آبائی شہر منستیر میں وفات پا گئے۔

*نتیجہ*
حبیب بورقیبہ نے نہ صرف تیونس کو آزادی دلائی بلکہ اسے ایک جدید قوم میں تبدیل کر دیا۔ ان کا مشہور قول تھا: *"تعلیم ہی ترقی کی کنجی ہے"*۔ آج بھی تیونس کی بڑی سڑکوں اور یونیورسٹیوں کا نام ان کے نام پر ہے۔

کینزو تانگے - Kenzo Tange اسلام آباد سپریم کورٹ کی عمارت کے معمارکینزو تانگے جاپان کے عظیم آرکیٹیکٹ تھے۔ وہ 4 ستمبر 1913...
24/07/2026

کینزو تانگے - Kenzo Tange

اسلام آباد سپریم کورٹ کی عمارت کے معمار

کینزو تانگے جاپان کے عظیم آرکیٹیکٹ تھے۔ وہ 4 ستمبر 1913 کو جاپان میں پیدا ہوئے اور ٹوکیو یونیورسٹی سے فنِ تعمیر کی تعلیم حاصل کی۔ انہیں "جدید جاپانی آرکیٹیکچر کا باپ" کہا جاتا ہے۔ 1987 میں انہیں آرکیٹیکچر کا سب سے بڑا ایوارڈ "پرٹزکر پرائز" بھی ملا۔

ان کی سب سے بڑی خاصیت روایتی مشرقی فن اور جدید ٹیکنالوجی کا حسین امتزاج تھا۔ پاکستان میں ان کا سب سے نمایاں کارنامہ *اسلام آباد کی سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت* ہے جسے انہوں نے 1993 میں ڈیزائن کیا۔ اس عمارت میں انہوں نے گول شکل، نیلا شیشے کا گنبد اور پانی کے فواروں کے ذریعے "انصاف اور مساوات" کا تصور پیش کیا۔ سفید سنگِ مرمر اور کھلی فضا اس عمارت کو منفرد بناتی ہے۔

کینزو تانگے کا ماننا تھا کہ عمارت صرف اینٹ اور پتھر نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔

مشہور جاپانی آ رکیٹیکٹ کینزو تانگے - Kenzo Tange: اسلام آباد سپریم کورٹ کی عمارت کے معمار*کینزو تانگے جاپان کے عظیم آرکی...
24/07/2026

مشہور جاپانی آ رکیٹیکٹ
کینزو تانگے - Kenzo Tange

: اسلام آباد سپریم کورٹ کی عمارت کے معمار*

کینزو تانگے جاپان کے عظیم آرکیٹیکٹ تھے۔ وہ 4 ستمبر 1913 کو جاپان میں پیدا ہوئے اور ٹوکیو یونیورسٹی سے فنِ تعمیر کی تعلیم حاصل کی۔ انہیں "جدید جاپانی آرکیٹیکچر کا باپ" کہا جاتا ہے۔ 1987 میں انہیں آرکیٹیکچر کا سب سے بڑا ایوارڈ "پرٹزکر پرائز" بھی ملا۔

ان کی سب سے بڑی خاصیت روایتی مشرقی فن اور جدید ٹیکنالوجی کا حسین امتزاج تھا۔ پاکستان میں ان کا سب سے نمایاں کارنامہ *اسلام آباد کی سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت* ہے جسے انہوں نے 1993 میں ڈیزائن کیا۔ اس عمارت میں انہوں نے گول شکل، نیلا شیشے کا گنبد اور پانی کے فواروں کے ذریعے "انصاف اور مساوات" کا تصور پیش کیا۔ سفید سنگِ مرمر اور کھلی فضا اس عمارت کو منفرد بناتی ہے۔

کینزو تانگے کا ماننا تھا کہ عمارت صرف اینٹ اور پتھر نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔

ایک عظیم فریڈم فائٹرز"احمد بن بیلا الجزائر کی تاریخ کے سب سے بڑے انقلابی رہنما اور ملک کے پہلے صدر تھے۔ وہ 25 دسمبر 1916...
23/07/2026

ایک عظیم فریڈم فائٹرز"احمد بن بیلا
الجزائر کی تاریخ کے سب سے بڑے انقلابی رہنما اور ملک کے پہلے صدر تھے۔ وہ 25 دسمبر 1916 کو مغربی الجزائر کے ایک چھوٹے سے قصبے مغنیہ میں پیدا ہوئے۔ جوانی میں ہی انہوں نے فرانسی نوآبادیات کے ظلم کو قریب سے دیکھا اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ملک کو آزاد کروا کر رہیں گے۔

1954 میں انہوں نے اپنے 8 ساتھیوں کے ساتھ مل کر *FLN یعنی National Liberation Front* کی بنیاد رکھی اور فرانس کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی۔ یہ جنگ 8 سال تک چلی۔ فرانس نے 1956 میں انہیں اغوا کر کے 5 سال تک سخت جیل میں رکھا، لیکن اس سے تحریک کمزور ہونے کے بجائے اور مضبوط ہوئی۔

آخرکار 5 جولائی 1962 کو 132 سال بعد الجزائر آزاد ہوا۔ عوام نے احمد بن بیلا کو اپنا محبوب لیڈر مانا اور 1963 میں وہ ملک کے پہلے صدر بنے۔ صدر بننے کے بعد انہوں نے بڑے اصلاحات کیں۔ فرانسیوں کی چھوڑی ہوئی لاکھوں ایکڑ زمین غریب کسانوں میں بانٹ دی۔ تیل، گیس اور بڑی صنعتوں کو سرکار کے قبضے میں لے کر "عرب سوشلزم" کا نظام نافذ کیا۔ بین الاقوامی سطح پر وہ تیسرے دنیا کے ممالک، عدم وابستگی کی تحریک اور فلسطین کے سب سے بڑے حامیوں میں سے تھے۔

لیکن 19 جون 1965 کو ان کے اپنے ساتھی ہواری بومدین نے فوجی بغاوت کر کے انہیں معزول کر دیا۔ احمد بن بیلا کو 14 سال تک نظر بند رکھا گیا۔ 1980 میں رہا ہونے کے بعد بھی وہ آخر عمر تک الجزائر کی آزادی اور اتحاد کی بات کرتے رہے۔

آج پوری عرب اور افریقی دنیا میں احمد بن بیلا کو "الجزائر کا بابائے قوم" کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ نوآبادیات کے خلاف ہمت اور قربانی سے ہی آزادی ملتی ہے۔

دنیا کی مشہور پینٹنگ Mona Lisaمونا لیسا دنیا کی سب سے مشہور تصویر ہے جسے لیونارڈو دا ونچی نے 1503 سے 1506 کے درمیان بنای...
22/07/2026

دنیا کی مشہور پینٹنگ Mona Lisa
مونا لیسا دنیا کی سب سے مشہور تصویر ہے جسے لیونارڈو دا ونچی نے 1503 سے 1506 کے درمیان بنایا تھا۔ اس عورت کا اصل نام لیسا گیرارڈینی تھا جو فلورنس کے ایک کپڑے کے سوداگر فرانچسکو دل جوکونڈو کی بیوی تھیں۔ اسی وجہ سے اس تصویر کو لا جوکونڈا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تصویر اپنی پراسرار مسکراہٹ اور جادوئی آنکھوں کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ دور سے دیکھو تو لگتا ہے وہ مسکرا رہی ہے اور قریب سے دیکھو تو لگتا ہے وہ خاموش ہے۔ اس کی آنکھیں ایسی ہیں کہ آپ جدھر بھی کھڑے ہوں وہ آپ کی طرف ہی دیکھتی محسوس ہوتی ہیں۔ اس میں نہ کوئی زیور ہے نہ تاج، صرف ایک سادہ اور باوقار عورت کو سکون کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ 1911 میں یہ تصویر لوور عجائب گھر سے چوری ہو گئی تھی جس کے بعد یہ اور زیادہ مشہور ہو گئی۔ اب یہ فرانس کے پیرس شہر میں لوور عجائب گھر میں رکھی ہوئی ہے اور اسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں *Saira Peter* کون ہے!؟*Saira Peter* ایک برطانوی-پاکستانی سوپرانو گلوکارہ ہیں جنہیں دنیا کی *پہلی Sufi O...
20/07/2026

کیا آپ جانتے ہیں *Saira Peter* کون ہے!؟

*Saira Peter* ایک برطانوی-پاکستانی سوپرانو گلوکارہ ہیں جنہیں دنیا کی *پہلی Sufi Opera Singer* ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئیں اور بچپن سے ہی چرچ اور کمیونٹی کے پروگراموں میں گاتی رہیں۔ بعد میں انہوں نے لندن جا کر Western Classical Voice کی تربیت حاصل کی اور ساتھ ہی جنوبی ایشیائی کلاسیکی موسیقی اور راگداری بھی سیکھی۔

سائرہ پیٹر نے Opera کی تکنیک کو Sufi شاعری، خاص طور پر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کے ساتھ ملا کر ایک نیا انداز متعارف کروایا۔ ان کا مقصد موسیقی کے ذریعے امن، محبت اور انسانیت کا پیغام دنیا تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بیرونِ ملک کئی پرفارمنس دیں جن میں اردو، سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی اور عربی زبانوں میں گیت شامل ہیں۔

وہ London میں NJ Arts London اور لاہور میں Saira Arts Academy کی بانی بھی ہیں تاکہ نوجوان فنکاروں، خاص طور پر خواتین کو تربیت دی جا سکے۔ 2025 میں انہیں واشنگٹن ڈی سی میں US Congress میں "She Leads the Nations Award" سے بھی نوازا گیا۔ سائرہ پیٹر کو پاکستان کی پہلی Opera Singer اور ایک ثقافتی سفیر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت چہرہ پیش کرتی ہیں.

18/07/2026

Q. The first Pakistan National Marathon Race was organized at?
A. Islamabad
B. Karachi
C. Lahore
D. Peshawar

18/07/2026

Address

Bahawalnagar
062300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Research Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share