12/12/2025
پنجاب اسمبلی کے ایوان میں جب ایک حساس اور دورِ حاضر کے سب سے اہم شعبے "Entrepreneurship and Skill Development" (کاروباری مہارت اور پیشہ ورانہ تربیت) کے حوالے سے اظہارِ خیال کی نوبت آئی تو متعلقہ رکن اسمبلی اس انگریزی اصطلاح کو درست طریقے سے ادا تک نہ کر سکے، مفہوم سمجھنا تو دور کی بات ہے۔ اس سے بڑھ کر ستم ظریفی یہ تھی کہ پارلیمانی سیکرٹری نے بھی اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیے، جس کے بعد مجبوری میں اسپیکر صاحب کو لغت کی ذمہ داری سنبھالنی پڑی اور انہوں نے اپنے تئیں "آنٹر پرینیورشپ" کا ترجمہ پیش کیا۔
یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے:
سوال یہ نہیں بنتا کہ ان حالات میں نوجوانوں کی راہنمائی کون کرے گا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ "جب راہنما خود اس قدر غیر تربیت یافتہ ہوں تو وہ نوجوانوں کو کیا وژن دیں گے؟"
جن افراد کو اپنے محکموں کے عنوانات اور بنیادی اصطلاحات کا شعور تک نہیں، وہ پالیسی سازی کیا خاک کریں گے اور ترقی کی سمت کیا طے کریں گے؟ یہ امر افسوسناک ہے کہ قوم کی تقدیر اور مستقبل کے معماروں کے لیے منصوبہ بندی ان افراد کے سپرد ہے جو عہدِ جدید کی بنیادی ضروریات اور اصطلاحات کے بارے میں ایک لفظ بھی سنبھالنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ یہ واقعہ نظام میں موجود ایک گہرے خلا اور قیادت کے بحران کو نمایاں کرتا ہے۔
Copied
゚viralシfypシ゚viralシ