Bahawalpur News

Bahawalpur News 🗞️📰 ہر خبر آپ تک

15/09/2026

بہاولپور میں سائیکل اسٹینڈ مافیا کی جانب سے مبینہ لوٹ مار کے ساتھ عوام سے بدتمیزی بھی معمول بنتی جا رہی ہے۔ انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ سائیکل اسٹینڈ پر تعینات افراد کی مکمل تصدیق کی جائے اور ان کے کوائف و کردار کی جانچ پڑتال کے بعد عوام سے ناروا رویے کا بھی نوٹس لیا جائے

بہاولپور قاسم ٹاؤن میں مبینہ غیر قانونی شٹر کی تنصیب، مین روڈ پر کرسیاں اور گاڑیوں کی پارکنگ سے عوامی آمدورفت متاثر بہاو...
15/09/2026

بہاولپور قاسم ٹاؤن میں مبینہ غیر قانونی شٹر کی تنصیب، مین روڈ پر کرسیاں اور گاڑیوں کی پارکنگ سے عوامی آمدورفت متاثر بہاولپور قاسم ٹاؤن کے مرکزی راستے پر مبینہ طور پر غیر منظور شدہ شٹر کی تنصیب اور اس کے سامنے سڑک کے کنارے کرسیاں رکھے جانے کے باعث عوامی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر اہلِ علاقہ نے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے اور موقع پر معائنہ کرکے قانونی حیثیت واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے اہلِ محلہ کے مطابق قاسم ٹاؤن کے مرکزی راستے کے آغاز پر ایک مقام پہلے کھلے برآمدہ نما حصے کی صورت میں موجود تھا، جہاں بعد ازاں تقریباً دو فٹ کا چھوٹا شٹر نصب کیا گیا۔ تاہم تقریباً تین سے چار ماہ قبل مبینہ طور پر اپنی مدد آپ کے تحت اسی مقام پر تقریباً 10 سے 12 فٹ چوڑا شٹر نصب کرکے جگہ کو مزید وسیع کر دیا گیا، جس کے بعد وہاں باقاعدہ کاروباری سرگرمیاں بھی شروع ہوگئیں شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے علم کے مطابق مذکورہ بڑا شٹر منظور شدہ نقشے کا حصہ نہیں اور نہ ہی اس کی تنصیب کے لیے متعلقہ میونسپل کارپوریشن سے باقاعدہ اجازت یا منظوری حاصل کی گئی ہے۔ تاہم اس معاملے پر تاحال کسی مؤثر جانچ پڑتال یا قانونی کارروائی کے نہ ہونے سے اہلِ علاقہ میں تشویش پائی جاتی ہے اہلِ محلہ کے مطابق صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوجاتی ہے جب مذکورہ کاروباری مقام پر آنے والے گاہک اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں سڑک کے کنارے کھڑی کرکے خریداری یا آرڈر کے لیے رک جاتے ہیں، جس سے پہلے ہی محدود راستہ مزید تنگ ہوجاتا ہے اور دونوں اطراف سے آنے جانے والی ٹریفک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے شہریوں نے مزید توجہ دلائی ہے کہ RPO آفس کے سامنے مین روڈ کے سائیڈ پر بھی مبینہ طور پر کرسیاں رکھ دی گئی ہیں، جس کے باعث سڑک کے کنارے غیر ضروری رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی وقت ہیوی ٹریفک وہاں سے گزرے اور اچانک کسی رکاوٹ یا گاڑی کے باعث راستہ محدود ہوجائے تو کسی بڑے حادثے کا خدشہ خارج از امکان نہیں ذرائع کے مطابق اس معاملے پر شہریوں کی جانب سے پہلے سٹیزن پورٹل پر بھی درخواست جمع کروائی گئی تھی، جسے بعد ازاں متعلقہ حکام کو کارروائی کے لیے ارسال کیا گیا، تاہم درخواست پر تاحال کوئی مؤثر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سٹیزن پورٹل پر درج کی گئی بعض تحریری تفصیلات ان کی جانب سے نہیں بلکہ متعلقہ حکام کی طرف سے اپنی سطح پر تحریر کرکے آگے بھیجی گئی تھیں، مگر اس کے باوجود عملی طور پر مسئلہ جوں کا توں موجود ہے اہلِ علاقہ نے اب یہی درخواست TMA میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں بھی جمع کرا دی ہے، جس کا ڈائری نمبر 1102 بتایا گیا ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ موقع پر باقاعدہ معائنہ کیا جائے، متعلقہ منظور شدہ نقشہ اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ مذکورہ شٹر کس قانونی اجازت یا منظوری کے تحت نصب کیا گیا شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر شٹر غیر منظور شدہ یا منظور شدہ نقشے کے خلاف پایا جائے تو قانون و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ سڑک کے کنارے رکھی گئی کرسیاں، گاڑیوں کی پارکنگ اور دیگر ممکنہ رکاوٹوں کا بھی فوری سدباب کیا جائے تاکہ عوامی شاہراہیں تجاوزات اور غیر ضروری رکاوٹوں سے پاک رہیں اور شہریوں کو محفوظ و بلا رکاوٹ آمدورفت کی سہولت میسر آسکے اہلِ علاقہ نے متعلقہ میونسپل حکام، بہاولپور انتظامیہ اور بہاولپور کے دیگر ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کو محض کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے موقع پر عملی کارروائی کی جائے اور شہریوں کے بنیادی حقِ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے۔

#بہاولپور #تجاوزات

بہاولپور قاسم ٹاؤن میں مبینہ غیر قانونی شٹر کی تنصیب، مین روڈ پر کرسیاں اور گاڑیوں کی پارکنگ سے عوامی آمدورفت متاثر بہاو...
15/09/2026

بہاولپور قاسم ٹاؤن میں مبینہ غیر قانونی شٹر کی تنصیب، مین روڈ پر کرسیاں اور گاڑیوں کی پارکنگ سے عوامی آمدورفت متاثر بہاولپور قاسم ٹاؤن کے مرکزی راستے پر مبینہ طور پر غیر منظور شدہ شٹر کی تنصیب اور اس کے سامنے سڑک کے کنارے کرسیاں رکھے جانے کے باعث عوامی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر اہلِ علاقہ نے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے اور موقع پر معائنہ کرکے قانونی حیثیت واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے اہلِ محلہ کے مطابق قاسم ٹاؤن کے مرکزی راستے کے آغاز پر ایک مقام پہلے کھلے برآمدہ نما حصے کی صورت میں موجود تھا، جہاں بعد ازاں تقریباً دو فٹ کا چھوٹا شٹر نصب کیا گیا۔ تاہم تقریباً تین سے چار ماہ قبل مبینہ طور پر اپنی مدد آپ کے تحت اسی مقام پر تقریباً 10 سے 12 فٹ چوڑا شٹر نصب کرکے جگہ کو مزید وسیع کر دیا گیا، جس کے بعد وہاں باقاعدہ کاروباری سرگرمیاں بھی شروع ہوگئیں شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے علم کے مطابق مذکورہ بڑا شٹر منظور شدہ نقشے کا حصہ نہیں اور نہ ہی اس کی تنصیب کے لیے متعلقہ میونسپل کارپوریشن سے باقاعدہ اجازت یا منظوری حاصل کی گئی ہے۔ تاہم اس معاملے پر تاحال کسی مؤثر جانچ پڑتال یا قانونی کارروائی کے نہ ہونے سے اہلِ علاقہ میں تشویش پائی جاتی ہے اہلِ محلہ کے مطابق صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوجاتی ہے جب مذکورہ کاروباری مقام پر آنے والے گاہک اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں سڑک کے کنارے کھڑی کرکے خریداری یا آرڈر کے لیے رک جاتے ہیں، جس سے پہلے ہی محدود راستہ مزید تنگ ہوجاتا ہے اور دونوں اطراف سے آنے جانے والی ٹریفک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے شہریوں نے مزید توجہ دلائی ہے کہ RPO آفس کے سامنے مین روڈ کے سائیڈ پر بھی مبینہ طور پر کرسیاں رکھ دی گئی ہیں، جس کے باعث سڑک کے کنارے غیر ضروری رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی وقت ہیوی ٹریفک وہاں سے گزرے اور اچانک کسی رکاوٹ یا گاڑی کے باعث راستہ محدود ہوجائے تو کسی بڑے حادثے کا خدشہ خارج از امکان نہیں ذرائع کے مطابق اس معاملے پر شہریوں کی جانب سے پہلے سٹیزن پورٹل پر بھی درخواست جمع کروائی گئی تھی، جسے بعد ازاں متعلقہ حکام کو کارروائی کے لیے ارسال کیا گیا، تاہم درخواست پر تاحال کوئی مؤثر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سٹیزن پورٹل پر درج کی گئی بعض تحریری تفصیلات ان کی جانب سے نہیں بلکہ متعلقہ حکام کی طرف سے اپنی سطح پر تحریر کرکے آگے بھیجی گئی تھیں، مگر اس کے باوجود عملی طور پر مسئلہ جوں کا توں موجود ہے اہلِ علاقہ نے اب یہی درخواست TMA میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں بھی جمع کرا دی ہے، جس کا ڈائری نمبر 1102 بتایا گیا ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ موقع پر باقاعدہ معائنہ کیا جائے، متعلقہ منظور شدہ نقشہ اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ مذکورہ شٹر کس قانونی اجازت یا منظوری کے تحت نصب کیا گیا شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر شٹر غیر منظور شدہ یا منظور شدہ نقشے کے خلاف پایا جائے تو قانون و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ سڑک کے کنارے رکھی گئی کرسیاں، گاڑیوں کی پارکنگ اور دیگر ممکنہ رکاوٹوں کا بھی فوری سدباب کیا جائے تاکہ عوامی شاہراہیں تجاوزات اور غیر ضروری رکاوٹوں سے پاک رہیں اور شہریوں کو محفوظ و بلا رکاوٹ آمدورفت کی سہولت میسر آسکے اہلِ علاقہ نے متعلقہ میونسپل حکام، بہاولپور انتظامیہ اور بہاولپور کے دیگر ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کو محض کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے موقع پر عملی کارروائی کی جائے اور شہریوں کے بنیادی حقِ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے۔

#بہاولپور #تجاوزات

بہاولپور: سر صادق  ہسپتال بہاولپور میں سائیکل اسٹینڈ مافیا بے لگام، مبینہ اوور چارجنگ، گالم گلوچ اور شہریوں کو ہراساں کر...
15/09/2026

بہاولپور: سر صادق ہسپتال بہاولپور میں سائیکل اسٹینڈ مافیا بے لگام، مبینہ اوور چارجنگ، گالم گلوچ اور شہریوں کو ہراساں کرنے کا الزام بہاولپور سر صادق سول ہسپتال بہاولپور میں سائیکل اسٹینڈ کے نام پر شہریوں سے مبینہ طور پر زائد رقم وصول کیے جانے، گالم گلوچ اور بدتمیزی کے واقعات نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی شہریوں کا الزام ہے کہ رات 11 بجے کے بعد سائیکل اسٹینڈ پر مبینہ طور پر 50 سے 100 روپے تک وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ اضافی رقم دینے سے انکار کرنے والوں کے ساتھ مبینہ طور پر گالم گلوچ اور بدتمیزی کی جاتی ہے شہریوں کے مطابق سائیکل اسٹینڈ پر موجود افراد مبینہ طور پر رقم ادا کیے بغیر کسی شہری کو سائیکل سمیت ہسپتال کے اندر داخل ہونے نہیں دیتے، جبکہ انکار کرنے والوں کو مبینہ طور پر روک دیا جاتا ہے ایمرجنسی میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے رات کے وقت ہسپتال پہنچنا بھی اس صورتحال کے باعث مشکل بننے کا الزام سامنے آیا ہے مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ شہریوں کے مطابق رات کے اوقات میں سائیکل اسٹینڈ پر مشکوک افراد کے ڈیرے بھی دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث ہسپتال آنے والے مریضوں، خواتین اور لواحقین میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپیشل برانچ، تھانہ صدر بہاولپور اور ہسپتال انتظامیہ سائیکل اسٹینڈ پر موجود افراد کی فوری طور پر مکمل شناخت اور تصدیق کریں، تاکہ کسی بھی مشکوک یا غیر متعلقہ شخص کی موجودگی کا بروقت پتہ چلایا جا سکے اور خدانخواستہ مستقبل میں ہسپتال کے اندر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے سے قبل حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سر صادق ہسپتال بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ سائیکل اسٹینڈ پر مبینہ اوور چارجنگ، گالم گلوچ، شہریوں کو روکنے اور مشکوک افراد کی موجودگی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

#بہاولپور #سرصادق ہسپتال #سرصادق سول ہسپتال #وزیراعلیٰ_پنجاب #سکیورٹی

بہاولپور: سر صادق  ہسپتال بہاولپور میں سائیکل اسٹینڈ مافیا بے لگام، مبینہ اوور چارجنگ، گالم گلوچ اور شہریوں کو ہراساں کر...
14/09/2026

بہاولپور: سر صادق ہسپتال بہاولپور میں سائیکل اسٹینڈ مافیا بے لگام، مبینہ اوور چارجنگ، گالم گلوچ اور شہریوں کو ہراساں کرنے کا الزام بہاولپور سر صادق سول ہسپتال بہاولپور میں سائیکل اسٹینڈ کے نام پر شہریوں سے مبینہ طور پر زائد رقم وصول کیے جانے، گالم گلوچ اور بدتمیزی کے واقعات نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی شہریوں کا الزام ہے کہ رات 11 بجے کے بعد سائیکل اسٹینڈ پر مبینہ طور پر 50 سے 100 روپے تک وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ اضافی رقم دینے سے انکار کرنے والوں کے ساتھ مبینہ طور پر گالم گلوچ اور بدتمیزی کی جاتی ہے شہریوں کے مطابق سائیکل اسٹینڈ پر موجود افراد مبینہ طور پر رقم ادا کیے بغیر کسی شہری کو سائیکل سمیت ہسپتال کے اندر داخل ہونے نہیں دیتے، جبکہ انکار کرنے والوں کو مبینہ طور پر روک دیا جاتا ہے ایمرجنسی میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے رات کے وقت ہسپتال پہنچنا بھی اس صورتحال کے باعث مشکل بننے کا الزام سامنے آیا ہے مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ شہریوں کے مطابق رات کے اوقات میں سائیکل اسٹینڈ پر مشکوک افراد کے ڈیرے بھی دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث ہسپتال آنے والے مریضوں، خواتین اور لواحقین میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپیشل برانچ، تھانہ صدر بہاولپور اور ہسپتال انتظامیہ سائیکل اسٹینڈ پر موجود افراد کی فوری طور پر مکمل شناخت اور تصدیق کریں، تاکہ کسی بھی مشکوک یا غیر متعلقہ شخص کی موجودگی کا بروقت پتہ چلایا جا سکے اور خدانخواستہ مستقبل میں ہسپتال کے اندر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے سے قبل حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سر صادق ہسپتال بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ سائیکل اسٹینڈ پر مبینہ اوور چارجنگ، گالم گلوچ، شہریوں کو روکنے اور مشکوک افراد کی موجودگی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

#بہاولپور #سرصادق ہسپتال #سرصادق سول ہسپتال #وزیراعلیٰ_پنجاب #سکیورٹی

بہاولپور باقرپور میں انتخابی سرگرمی کے دوران فائرنگ، توڑ پھوڑ اور خوف و ہراس؛ مقدمہ درج، متعدد افراد نامزد بہاولپور: این...
12/09/2026

بہاولپور باقرپور میں انتخابی سرگرمی کے دوران فائرنگ، توڑ پھوڑ اور خوف و ہراس؛ مقدمہ درج، متعدد افراد نامزد بہاولپور: این اے-168 بہاولپور کے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں جاری سیاسی سرگرمیوں کے دوران موضع باقرپور میں پیش آنے والے فائرنگ، توڑ پھوڑ اور مبینہ حملے کے واقعہ کا مقدمہ تھانہ صدر بہاولپور میں درج کرلیا گیا مقدمہ مدعی ملک اسامہ مجید چنڑ کی تحریری درخواست پر درج کیا گیا، جس میں متعدد افراد کو نامزد جبکہ 8 سے 10 نامعلوم مسلح افراد کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے ایف آئی آر کے مطابق 11 ستمبر کو باقرپور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-168 کے ضمنی انتخاب کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ولی داد چیمہ کی حمایت میں جلسے کا اہتمام کیا گیا تھا مدعی کے مطابق جلسے کی تیاریوں کے دوران بعض افراد کی جانب سے مبینہ طور پر جلسہ روکنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مسلح افراد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر جلسہ گاہ کی جانب آئے، راستہ روکا، فائرنگ کی، اینٹوں اور دیگر اشیاء سے حملہ کیا جبکہ اسٹیج کو بھی نقصان پہنچایا گیا ایف آئی آر کے متن کے مطابق مبینہ فائرنگ اور حملے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ گاڑیوں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ فائرنگ اور توڑ پھوڑ کا مقصد انتخابی سرگرمیوں کو متاثر کرنا، کارکنوں میں خوف و ہراس پھیلانا اور جلسے کو روکنا تھا پولیس ریکارڈ کے مطابق واقعہ میں بعض افراد کو فائرنگ سے زخمی ہونے کا بھی بتایا گیا ہے، جبکہ متعدد افراد کو اینٹوں اور دیگر اشیاء سے مبینہ طور پر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ زخمیوں کو طبی معائنے اور قانونی کارروائی کے لیے بہاول وکٹوریہ ہسپتال (BVH) منتقل کیا گیا، جہاں ان کے میڈیکل معائنے کرائے گئے تھانہ صدر بہاولپور پولیس نے مدعی کی درخواست پر ابتدائی طور پر دفعہ 324، 506-B، 427، 148 اور 149 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ سے متعلق شواہد، بیانات اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں مزید تفتیش جاری ہے ایف آئی آر میں نامزد افراد میں جہانگیر علی چنڑ، عمران، ظفر عرف مچھر، آصف چوکیدار، اسد، ملک جہانگیر چنڑ، رشید عرف شید، فاروق عرف مداری، حاجی حنیف اور حاجی فیض سمیت دیگر افراد شامل ہیں پولیس نے واقعہ کا نقشہ موقع بھی تیار کرانے کے لیے کارروائی شروع کردی ہے جبکہ زخمیوں کی میڈیکل رپورٹس اور دیگر شواہد موصول ہونے کے بعد مقدمے میں مزید قانونی پیش رفت عمل میں لائی جائے گی واقعے نے حلقہ این اے-168 کی انتخابی فضا میں کشیدگی کو مزید نمایاں کردیا ہے، تاہم مقدمے میں عائد الزامات کی حتمی قانونی حیثیت تفتیش اور شواہد کی روشنی میں ہی واضح ہوگی۔

#بہاولپور #باقرپور #فائرنگ #پولیس #انتظامیہ #پاکستان #وزیراعلیٰ_پنجاب

بہاولپور میں پٹوار خانوں پر تالے، سائلین خوار پٹواریوں کی من مانیاں برقرار، اپنے ذاتی گھروں کو پٹوار خانے بنا لیا گیا بہ...
12/09/2026

بہاولپور میں پٹوار خانوں پر تالے، سائلین خوار پٹواریوں کی من مانیاں برقرار، اپنے ذاتی گھروں کو پٹوار خانے بنا لیا گیا بہاولپور ضلع میں محکمہ اینٹی کرپشن کی کارروائیوں کے خوف کے باعث جہاں سرکاری پٹوار خانوں کی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں، وہیں متعدد پٹوار خانوں پر تالے پڑنے سے جائیدادوں کی منتقلی اور دیگر ریونیو امور کے لیے آنے والے سائلین شدید مشکلات اور اذیت کا شکار ہیں ذرائع کے مطابق بہاولپور سٹی سمیت ضلع بھر کے متعدد پٹوار خانوں میں معمول کے سرکاری امور عملاً متاثر ہو کر رہ گئے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد پٹواریوں نے مبینہ طور پر سرکاری دفاتر سے دوری اختیار کر لی ہے، جبکہ بعض نے اعلانیہ یا غیر اعلانیہ طور پر چھٹی لے رکھی ہے دوسری جانب پٹوار خانوں میں عوامی رسائی محدود ہونے کے باوجود محکمہ مال کے بعض اہلکاروں کی سرگرمیاں مبینہ طور پر نجی مقامات سے جاری ہیں بہاولپور سٹی کے متعدد پٹوار خانوں میں تالے لگنے کے بعد یہ تاثر بھی زور پکڑ رہا ہے کہ بعض پٹواریوں نے اپنے ذاتی گھروں اور دیگر نجی مقامات کو ہی مبینہ طور پر پٹوار خانہ بنا لیا ہے، جہاں پرائیویٹ منشیوں کے ذریعے موقع ملاحظہ سمیت مختلف امور سرانجام دیے جانے کی اطلاعات ہیں ذرائع کے مطابق سرکاری پٹوار خانوں کے بجائے نجی افراد کے ذریعے مبینہ طور پر فیسیں وصول کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے مزید برآں ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تحصیل آفس سٹی کا بعض عملہ بھی مبینہ طور پر زیرِ زمین رابطہ کاری کے ذریعے وثیقہ نویسوں سے رابطے میں ہے، جہاں مبینہ طور پر بھاری رقوم کے عوض رجسٹریوں کی منظوری کا سلسلہ جاری ہے اس صورتحال نے پہلے ہی مشکلات میں گھرے شہریوں کے لیے پٹوار خانوں، رجسٹری برانچوں اور تحصیل دفتر کے نظام پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں ذرائع کے مطابق ضلع بھر کی بعض رجسٹری برانچوں میں بھی کام کاج متاثر ہونے سے جائیداد کی منتقلی کے خواہش مند شہری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں سائلین کا کہنا ہے کہ انہیں ایک طرف پٹوار خانوں میں متعلقہ اہلکار دستیاب نہیں ہوتے، جبکہ دوسری جانب رجسٹری اور انتقال کے معاملات بھی تاخیر کا شکار ہیں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور کی جانب سے سرکاری افسران و اہلکاروں کی حاضری اور عوامی امور کی انجام دہی کو یقینی بنانے کی کوششوں کے باوجود صورتحال مکمل طور پر قابو میں نہ آنے کی اطلاعات ہیں دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن بہاولپور کی جانب سے تاحال ان شکایات میں ملوث پٹواریوں کے خلاف کوئی نمایاں کارروائی سامنے نہیں آ سکی، جبکہ بعض پٹواریوں نے مبینہ طور پر مختلف ذرائع سے اینٹی کرپشن حکام سے رابطے بھی شروع کر دیے ہیں ذرائع کے مطابق بہاولپور سٹی کے ایسے پٹواری بھی تاحال کارروائی کی زد میں نہیں آ سکے جن پر مبینہ طور پر کچی آبادیوں کے فروغ اور سرکاری اراضی سے متعلق معاملات میں سوالات اٹھتے رہے ہیں شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پٹوار خانوں میں سرکاری امور کی انجام دہی ممکن نہیں رہی اور سرکاری اہلکار نجی مقامات سے معاملات چلا رہے ہیں تو اس پورے نظام کی شفافیت، قانونی حیثیت اور عوامی جواب دہی کا تعین ضروری ہے پٹوار خانوں پر تالے، نجی مقامات پر سرکاری امور اور رجسٹری برانچوں میں مبینہ تاخیر نے بہاولپور کے محکمہ مال کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

#بہاولپور #پنجاب #پٹواری #سائلین #جائیداد #انتقال #رجسٹری #وزیراعلیٰ_پنجاب #احتساب #شفافیت #نیب #انتظامیہ #جوابدہی #انصاف #بیٹھک

وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور کی او پی ڈی میں مبینہ بے ضابطگیاں، غریب مریض کو پرائیویٹ علاج کا مشورہ دینے کا الزام سرکاری علاج...
12/09/2026

وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور کی او پی ڈی میں مبینہ بے ضابطگیاں، غریب مریض کو پرائیویٹ علاج کا مشورہ دینے کا الزام سرکاری علاج کی سہولت کے باوجود 60 سے 70 ہزار روپے کے اخراجات کا تخمینہ، اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال کی او پی ڈی میں غریب مریضوں کو درپیش مشکلات اور مبینہ طور پر سرکاری علاج کی بجائے نجی علاج کی طرف رہنمائی کیے جانے سے متعلق ایک شکایت نے ہسپتال کے انتظامی و طبی نظام پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ متاثرہ شہری کے مطابق اسے ٹانگ اور گھٹنے کے مرض کے علاج کے لیے سرکاری ہسپتال کی او پی ڈی سے رجوع کرنے پر مبینہ طور پر ایک نجی ہسپتال جانے کا مشورہ دیا گیا اور آپریشن کے لیے 60 سے 70 ہزار روپے تک کے اخراجات بتائے گئے۔تفصیل کے مطابق محمد نعمان نامی ایک سیلزمین، جو مالی طور پر محدود وسائل رکھتا ہے، ٹانگ اور گھٹنے کے شدید مرض کے علاج کے لیے وکٹوریہ ہسپتال کی او پی ڈی پہنچا۔ متاثرہ شخص کا الزام ہے کہ وہاں موجود پی جی آر ڈاکٹر نعیم کی جانب سے اسے بتایا گیا کہ اس کے مرض کا علاج یہاں ممکن نہیں اور اسے ماڈل ٹاؤن اے میں واقع ڈاکٹر شاہد کے نجی ہسپتال سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا، جہاں مبینہ طور پر آپریشن پر 60 سے 70 ہزار روپے خرچ آنے کا بتایا گیا یہ واقعہ محض ایک مریض کی شکایت نہیں بلکہ اس امر کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا متقاضی ہے کہ آیا سرکاری ہسپتال کی او پی ڈی میں آنے والے مریضوں کو ان کے حق کے مطابق تشخیص، علاج اور رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے یا انہیں کسی نجی مرکزِ علاج کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے دوسری جانب ہسپتال کے بعض سینئر ڈاکٹروں کی مبینہ غیر حاضری اور او پی ڈی و وارڈز کا نظام جونیئر ڈاکٹروں کے سپرد کیے جانے سے متعلق بھی شہری حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اگر یہ شکایات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ سرکاری طبی سہولیات کے بنیادی مقصد کے حوالے سے ایک انتہائی اہم معاملہ ہوگا سرکاری ہسپتال غریب اور متوسط طبقے کے ان مریضوں کے لیے امید کی آخری کرن ہوتے ہیں جو مہنگے نجی علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایسے میں کسی مریض کو مبینہ طور پر لاکھوں نہیں بلکہ اس کی ماہانہ آمدن سے کئی گنا زیادہ رقم کے نجی علاج کا راستہ دکھایا جانا اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ سرکاری نظامِ صحت میں مفت یا کم خرچ علاج کی سہولت آخر کس کے لیے ہے اس معاملے میں یہ بھی ضروری ہے کہ مبینہ طور پر نجی علاج کی طرف رہنمائی کرنے والے ڈاکٹر، متعلقہ شعبے کی ڈیوٹی روسٹر، او پی ڈی ریکارڈ، مریض کی تشخیصی دستاویزات، ریفرل کا طریقہ کار اور متعلقہ سینئر ڈاکٹروں کی حاضری کا ریکارڈ سامنے لایا جائے تاکہ حقائق کسی قیاس یا الزام کے بجائے دستاویزی شواہد کی بنیاد پر واضح ہو سکیں شہری و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیرِ صحت پنجاب، سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب، کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی بہاولپور اور وکٹوریہ ہسپتال کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ نوٹس لیا جائے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متاثرہ مریض کے بیان پر متعلقہ ڈاکٹر سے وضاحت طلب کی جائے، او پی ڈی کیمرہ ریکارڈنگ اور مریضوں کے ریکارڈ کی جانچ کی جائے، متعلقہ ڈاکٹرز کی حاضری اور ڈیوٹی روسٹر کا آڈٹ کیا جائے اور یہ بھی معلوم کیا جائے کہ آیا کسی سرکاری مریض کو کسی مخصوص نجی ہسپتال یا ڈاکٹر کی جانب مبینہ طور پر ریفر کرنے کا معمول موجود ہے اگر تحقیقات میں کسی ڈاکٹر یا اہلکار کی جانب سے سرکاری منصب، مریض کی مجبوری یا سرکاری وسائل کے غلط استعمال کا ثبوت سامنے آئے تو قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے غریب مریض کی بیماری کسی کاروباری موقع کا نام نہیں سرکاری ہسپتال کی دہلیز پر آنے والا ہر شہری اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اسے عزت، شفاف تشخیص اور دستیاب سرکاری طبی سہولت فراہم کی جائے۔ اس لیے وکٹوریہ ہسپتال کی او پی ڈی سے متعلق سامنے آنے والی شکایت محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظامِ صحت کی شفافیت اور جواب دہی کا امتحان ہے۔اس معاملے پر ڈاکٹر نعیم، ڈاکٹر شاہد اور وکٹوریہ ہسپتال کی انتظامیہ سے مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل ہونے تک ان کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ متعلقہ فریقین کا مؤقف موصول ہوتے ہی اسے خبر کا حصہ بنا دیا جائے گا تاکہ معاملے کے تمام پہلو اور فریقین کا مؤقف منصفانہ اور غیر جانب دارانہ انداز میں عوام کے سامنے آ سکے۔

#بہاولپور #اوپیڈی #جوابدہی #احتساب #وزیراعلیٰ_پنجاب #انصاف #شفافیت #بیٹھک

Address

Model Town A
Bahawalpur
63100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bahawalpur News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share