Manan Salarzai

Manan Salarzai Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Manan Salarzai, Digital creator, Pashat, Bajauri Koruna.

که ته غواړې چې هره ورځ ښکلي او زړه‌ راښکونکي معلومات ولولې نو دا پیج ستا لپاره دی دلته به ومومې په زړه پورې لیکنې. د ژوند اړوند حقیقتونه.مطبوعاتي ټکي پښتو ژبه، ادب، او ځوانانو ته ځانګړی ارزښت
همدا اوس درسه ډاکټر لایک کړه، او زموږ د علمي کاروان برخه شه.

30/05/2026

خود کو سستا نہ کرو، دنیا تمہیں اسی قیمت پر خریدے گی جو تم نے خود لگائی ہو

نجیب اللہ: وہ قوم پرست لیڈر جسے تاریخ نے بھلا دیاافغانستان کی تاریخ میں 27 ستمبر 1996ء صرف ایک حکمران کی موت کا دن نہیں ...
04/05/2026

نجیب اللہ: وہ قوم پرست لیڈر جسے تاریخ نے بھلا دیا

افغانستان کی تاریخ میں 27 ستمبر 1996ء صرف ایک حکمران کی موت کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ اس "افغان قوم پرستی" کا قتل ہے جو مذہبی جنونیت اور بیرونی مداخلت کے سامنے سینہ تان کر کھڑی تھی۔ ڈاکٹر نجیب اللہ، جنہی لوگ "کمیونسٹ صدر" کہہ کر مسترد کرتے ہیں، وہی حقیقت میں ایک ایسے دور اندیش قوم پرست تھے جنہوں نے اپنے خون سے ثابت کیا کہ وطن ان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔

مصالحتِ ملی: ایک نامکمل خواب
جب 1986 میں نجیب اللہ نے "مصالحتِ ملی" کی پالیسی پیش کی تو دنیا نے اسے ایک کمزور حکمران کی آخری کوشش قرار دیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نجیب اللہ نے پہلی بار افغانستان میں خانہ جنگی ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ انہوں نے مجاہدین کو اقتدار میں شراکت کی دعوت دی، یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا اور ملک کو ایک غیر جانبدار اسلامی ریاست بنانے کی تجویز پیش کی۔

ایک مغربی سفارت کار نے اس وقت کہا تھا: "یہ ایک مردہ جسم پر میک اپ کرنے جیسا ہے"۔ لیکن نجیب اللہ نے پرواہ نہ کی۔ انہوں نے 1987 میں ایک نیا آئین مرتب کیا، ایک جماعتی نظام ختم کیا، اسلام کو سرکاری مذہب قرار دیا اور عوام کو جمہوری حقوق دینے کا وعدہ کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ افغانستان خود کو سوویت یونین کے ایجنڈے سے آزاد کر کے اپنی منزل خود طے کرے۔

جلال آباد کا معرکہ: وہ فتح جسے نظر انداز کر دیا گیا
سوویت فوج کے انخلاء (1989) کے بعد پوری دنیا نے نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمے کی پیشگوئی کی۔ لیکن جلال آباد کا محاصرہ تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ پاکستان کی حمایت یافتہ مجاہدین نے 5,000 سے 7,000 جنگجوؤں کے ساتھ شہر کا محاصرہ کیا، لیکن نجیب اللہ کی افغان فوج نے نہ صرف دفاع کیا بلکہ مجاہدین کو بھاری جانی نقصان پہنچا کر پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
ایک روسی صحافی نے اس موقع پر لکھا: "میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کیسے حکومتی فوج نے ہر مجاہد حملے کو بھرپور طریقے سے ناکام بنایا۔ میں عام سپاہیوں اور جرنیلوں کی بہادری پر حیران رہ گیا"۔
یہ فتح صرف فوجی کامیابی نہیں تھی، بلکہ یہ افغان قوم پرستی کی فتح تھی۔ نجیب اللہ نے اپنی فوج کو ایک نیا نعرہ دیا تھا: "ہم اپنی سرزمین کی حفاظت کریں گے، چاہے پوری دنیا ہمارے خلاف کیوں نہ ہو" ۔

پشتون ولی: وہ عزم جو موت پر بھاری تھا
نجیب اللہ کے کردار کا سب سے نمایاں پہلو ان کی پشتون غیرت تھی۔ جب احمد شاہ مسعود نے انہیں وادی پنجشیر جانے کی پیشکش کی، تو نجیب اللہ نے واضح الفاظ میں انکار کر دیا:
"اگر میں ایک تاجک کی پناہ میں چلا گیا تو میری قوم مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ میں نے یہاں کے لوگوں کے ساتھ مرنے کا عہد کیا ہے"۔
اقوام متحدہ کے دفتر میں چار سال تک محصور رہنے کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ وہاں بیٹھ کر انہوں نے پیٹر ہوپ کرک کی کتاب "The Great Game" کا پشتو میں ترجمہ کیا تاکہ ان کی قوم جان سکے کہ ان کی سرزمین پر عالمی طاقتیں کیسے کھیل رہی ہیں۔

ایک موقع پر انہوں نے پیشگوئی کی تھی:
"اگر میں نہ رہا تو افغانستان ایسی آگ میں جلے گا جس کا دھواں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا"۔
اور ایسا ہی ہوا۔ ان کے جانے کے بعد افغانستان نہ صرف طالبان کے ظلم کا شکار ہوا بلکہ بعد میں دہشت گردی کی عالمی جنگ کا میدان بنا۔

ایک آخری انٹرویو: اعتماد سے مایوسی تک
مارچ 1992 میں، اپنی حکومت کے خاتمے سے صرف ایک ماہ قبل، نجیب اللہ نے لاس اینجلس ٹائمز کو ایک انٹرویو دیا۔ وہ اس وقت بھی پراعتماد تھے، مذاق کر رہے تھے اور میز پر مکے مار کر کہہ رہے تھے:

"جب آپ ایک ٹوٹی ہوئی کشتی کو ساحل تک لاتے ہیں، اگر کوئی اور اسے اتارتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ہر وہ شخص جو اس کشتی پر سوار ہے، دیکھے گا کہ انہیں کس نے بچایا"۔

لیکن وہ اندرونی سازشوں کی سنگینی کو نہ سمجھ سکے۔ ان کا اپنا وزیر دفاع اور خلیق فوج کے جرنیل ان کے خلاف تھے۔ جب دوستن نے بغاوت کی، تو سب کچھ ختم ہو گیا۔

موت: ایک قوم کا المیہ
27 ستمبر 1996ء کو جب طالبان نے انہیں پھانسی دی، تو انہوں نے صرف ایک شخص کو نہیں مارا بلکہ افغانستان کے مستقبل کی ایک امید کو دفن کر دیا۔ طالبان نے نہ صرف انہیں قتل کیا، بلکہ ان کی لاش کی بے حرمتی کر کے تمام تر اسلامی اصولوں کا مذاق اڑایا۔ ان کا جرم کیا تھا؟ وہ پشتون تھے، طالبان پشتون تھے، لیکن طالبان کا خون ان کے لیے پیاسا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نجیب اللہ زندہ رہے تو کبھی بھی اپنی قوم کو ان کے ظلم کے سامنے جھکنے نہیں دیں گے۔

ایک کھوی ہوئی میراس
آج جب افغانستان اپنی تاریخ کے المناک ادوار سے گزر رہا ہے، تو یہ وقت ہے کہ ہم نجیب اللہ کو ایک نئے زاویے سے دیکھیں۔ وہ کوئی فرشتہ نہیں تھے۔ ان کے دور میں KHAD کے ذریعے سختیاں بھی ہوئیں، سیاسی مخالفین کو دبایا بھی گیا۔ لیکن ان کی وطن سے محبت اور قوم پرستی شک و شبہ سے بالاتر تھی۔

وہ واحد افغان لیڈر تھے جنہوں نے پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا، افغانستان کو بیرونی مداخلت سے بچانے کی کوشش کی، اور اپنی جان دے کر ثابت کیا کہ وہ اپنے وطن کا سچا بیٹا ہے۔
آج بھی کابل کی گلیوں میں بوڑھے لوگ آہ بھرتے ہیں اور کہتے ہیں:

"کاش نجیب ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے"۔

-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

· UPI Archives, 1988
· Russia Beyond, 2009
· Wikipedia
· Los Angeles Times, 1992
· Country Studies
· STRIVE India, 2021
· Small Wars Journal, 2015

تاریخ کو ہمیشہ غیرجانبدار سچ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے؛ تاریخ دراصل طاقتور طبقے کی لکھی ہوئی ...
29/04/2026

تاریخ کو ہمیشہ غیرجانبدار سچ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے؛ تاریخ دراصل طاقتور طبقے کی لکھی ہوئی کہانی ہوتی ہے، جس میں وہ خود کو ہیرو اور کمزور کو مجرم بنا دیتا ہے۔ جب امیر اور بااختیار لوگ واقعات کو قلمبند کرتے ہیں تو وہ صرف وہی سچ سامنے لاتے ہیں جو ان کے مفاد میں ہو، باقی سب یا تو چھپا دیا جاتا ہے یا توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر جنگوں، بغاوتوں اور معاشرتی مسائل کا الزام غریب طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے، جیسے وہی ہر خرابی کی جڑ ہوں، حالانکہ اصل فیصلے اور پالیسیاں ہمیشہ طاقتور لوگ بناتے ہیں۔ غریب کے پاس نہ وسائل ہوتے ہیں، نہ آواز، اور نہ ہی وہ پلیٹ فارم جہاں سے وہ اپنا مؤقف پیش کر سکے، اس لیے تاریخ میں اس کا کردار یا تو منفی دکھایا جاتا ہے یا مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں غربت بڑھتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ غریب سست ہیں، محنت نہیں کرتے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ مواقع کس کے پاس ہیں اور وسائل کس کے قبضے میں ہیں۔ اگر کوئی بغاوت ہوتی ہے تو اسے فساد قرار دے دیا جاتا ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس بغاوت کے پیچھے ناانصافی، استحصال اور محرومی کی کتنی لمبی داستان ہوتی ہے۔ اصل کھیل بیانیے کا ہوتا ہے؛ جو بیانیہ کنٹرول کر لیتا ہے، وہی سچ کا مالک بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں تاریخ کو آنکھ بند کر کے قبول کرنے کے بجائے سوال کرنا سیکھنا ہوگا، یہ دیکھنا ہوگا کہ کون لکھ رہا ہے اور کیوں لکھ رہا ہے۔ اگر ہم نے ہر لکھی ہوئی بات کو حرفِ آخر مان لیا تو ہم بھی اسی دھوکے کا حصہ بن جائیں گے جس میں سچ کو طاقت کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ صرف واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ طاقت، مفاد اور بیانیے کی جنگ ہے، اور جب تک اس جنگ کو سمجھا نہیں جائے گا، تب تک غریب ہمیشہ قصوروار اور امیر ہمیشہ بے قصور نظر آتے رہیں گے۔

ہسپتال کے کوریڈور، عدالتوں کے برآمدے، جیل کے گیٹ سے باہر کھڑے لوگ، ملاقاتی بچے اور عورتیں،جالی والی پولیس وین سے باہر دی...
29/04/2026

ہسپتال کے کوریڈور، عدالتوں کے برآمدے، جیل کے گیٹ سے باہر کھڑے لوگ، ملاقاتی بچے اور عورتیں،
جالی والی پولیس وین سے باہر دیکھتے ملزم، مجرم
اور آئی سی یو کے باہر بیٹھے قریبی عزیز یہ زندگی کے سب سے دل شکن مناظر ہیں۔💔

29/04/2026

کامیابی کا راز مائنڈ سیٹ میں ہے، اگر آپ اپنے مائنڈ سیٹ کو درست کریں، تو سب کچھ خود بخود درست ہوجائے گا۔

رومی فلسفی ایمل سیوران وہ سیاہ نصیب فلسفی ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں میں اس خواہش کا بکثرت اظہار کیا ہے کہ؛ "اے کاش! میں ...
29/04/2026

رومی فلسفی ایمل سیوران وہ سیاہ نصیب فلسفی ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں میں اس خواہش کا بکثرت اظہار کیا ہے کہ؛
"اے کاش! میں کبھی اس دنیا میں پیدا ہی نہ ہوا ہوتا"💔
سیوران نے اپنی دکھوں بھری زندگی جینے کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ کبھی باپ نہیں بنیں گے، اور کسی معصوم روح کو دنیا کے اس جہنم کدے میں لانے کا موجب نہیں بنیں گے.

بچپن میں سیوران ناپسندیدہ بیٹے تھے وہ رومینیا کے ایک سخت گھرانے میں پیدا ہوئے تھے.
سیوران کے والد کٹر مذہبی آرتھوڈوکس پادری تھے، جبکہ ان کی ماں نے ایک دن سیوران سے کہا:
"اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو پیدا ہوگا تو میں تجھے کبھی بھی پیدا ہی نہ کرتی-" 💔😭
کیا اپنی والدہ سے یہ درشت ترین الفاظ سننے سے زیادہ کوئی اور تکلیف دہ چیز ہو سکتی ہے؟

یہیں سے سیوران کو اپنے وجود اور اپنی پیدائش پر شک ہونے لگا تھا۔
موت ان کی قربت میں رہنے والی قریب ترین رفیقہ حیات بن چکی تھی. اور پریشانیاں ان کی واحد دوست تھیں. وہ اکثر مایوسی کے ساتھ کہا کرتے تھے؛
"میں پیدا ہوچکا ہوں اور میں نے اپنا دنیا میں نہ آنے کا حق کھو دیا ہے۔"

ایمل سیوران نے زندگی ایسے گزاری تھی جیسے چٹان جیسے بھاری سوالات کا بوجھ اپنی کمر پہ اٹھائے گھوم رہے ہوں، وہ کہا کرتے تھے :
ہم دنیا میں کیوں موجود ہیں ؟ اور ہم یہ دنیا کیوں نہیں چھوڑ دیتے ؟
شدید ترین خواہش کے باوجود، سیوران نے خودکشی کرنے کے بجائے، لکھنے کا انتخاب کیا. اس طرح وہ اپنے دکھ کاغذ پر اتارنے لگے.

ان کا فلسفہ دکھ اور رنج میں ڈوبا ہوا ہے، سیوران نے ایک بار کہا تھا:
"میں ایک ایسی ماں چاہتا تھا جو مجھ سے یہ کہتی کہ:
" اچھا ہوا جو تم پیدا ہوئے ہو" 💔😰

صومالی قزاقی 🏴‍☠️ واقعی کسی فلمی کہانی جیسی لگتی ہے، مگر یہ ایک وقت میں بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک سنگین اور حقیقی خط...
29/04/2026

صومالی قزاقی 🏴‍☠️ واقعی کسی فلمی کہانی جیسی لگتی ہے، مگر یہ ایک وقت میں بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک سنگین اور حقیقی خطرہ تھی۔ خاص طور پر Gulf of Aden اور بحیرۂ ہند کے مصروف سمندری راستوں میں، جہاں روزانہ سیکڑوں تجارتی جہاز گزرتے ہیں، قزاقوں نے ایک منظم طریقہ کار کے تحت کارروائیاں کیں۔

یہ قزاق اندھا دھند حملہ نہیں کرتے تھے بلکہ باقاعدہ نگرانی کے بعد ہدف منتخب کرتے تھے۔ وہ ایسے جہازوں کو ترجیح دیتے تھے جو اکیلے سفر کر رہے ہوں، رفتار میں سست ہوں، یا جن پر سیکیورٹی کے انتظامات کمزور ہوں۔ تیل بردار ٹینکرز اور بڑے کارگو جہاز خاص طور پر آسان شکار سمجھے جاتے تھے کیونکہ انہیں موڑنے یا تیز کرنے میں وقت لگتا ہے۔

جب ہدف طے ہو جاتا، تو قزاق چھوٹی مگر انتہائی تیز رفتار کشتیوں، یعنی skiffs، کے ذریعے تعاقب شروع کرتے۔ ان کے پاس GPS اور سیٹلائٹ فون جیسے جدید آلات ہوتے تھے، جس سے وہ کھلے سمندر میں بھی اپنے شکار کا پیچھا جاری رکھ سکتے تھے۔ بعض اوقات وہ ایک بڑی “mother ship” بھی استعمال کرتے تھے، جس کی مدد سے وہ ساحل سے بہت دور جا کر بھی حملہ کرنے کے قابل ہو جاتے تھے۔

سب سے خطرناک مرحلہ جہاز پر چڑھائی کا ہوتا تھا۔ قزاق رسیوں اور سیڑھیوں کے ذریعے جہاز پر سوار ہوتے، اور اکثر فائرنگ کر کے عملے کو خوفزدہ کرتے تھے تاکہ مزاحمت کم ہو جائے۔ اگر جہاز کی رفتار کم ہوتی یا حفاظتی اقدامات ناکافی ہوتے، تو یہ مرحلہ بہت تیزی سے مکمل ہو جاتا تھا۔

جہاز پر قبضہ ہونے کے بعد عملے کو یرغمال بنا لیا جاتا اور جہاز کو صومالی ساحل کے قریب لے جایا جاتا۔ اس کے بعد اصل کھیل شروع ہوتا—تاوان کے لیے مذاکرات۔ قزاق کمپنियों یا حکومتوں سے رابطہ کر کے لاکھوں ڈالر کا مطالبہ کرتے، اور یہ مذاکرات کئی ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتے تھے۔ ایک معروف واقعہ Maersk Alabama hijacking ہے، جس میں کپتان Richard Phillips کو اغوا کیا گیا تھا۔

یہ پورا نظام محض چند افراد کی کارروائی نہیں تھا بلکہ ایک منظم “انڈسٹری” کی شکل اختیار کر چکا تھا، جس میں سرمایہ کار، اسلحہ فراہم کرنے والے، اور مذاکرات کار سب شامل ہوتے تھے۔ ہر کامیاب حملہ لاکھوں ڈالر لا سکتا تھا، جس نے اس عمل کو مزید فروغ دیا۔

آج کے دور میں یہ خطرہ نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے۔ عالمی بحری افواج کی مسلسل نگرانی، جہازوں پر مسلح گارڈز کی تعیناتی، اور جدید سیکیورٹی اقدامات—جیسے razor wire، water cannons، اور “citadel” (محفوظ کمرہ)—نے قزاقی کو کافی حد تک قابو میں کر لیا ہے۔ اگرچہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، مگر اب یہ پہلے جیسا عام نہیں رہا۔

یہ تصویر، جس میں ایک عراقی قیدی اپنے چار سالہ معصوم بیٹے کو تسلی دے رہا ہے، 31 مارچ 2003 کو فوٹوگرافر Jean-Marc Bouju نے...
29/04/2026

یہ تصویر، جس میں ایک عراقی قیدی اپنے چار سالہ معصوم بیٹے کو تسلی دے رہا ہے، 31 مارچ 2003 کو فوٹوگرافر Jean-Marc Bouju نے کھینچی، اور یہ عراق جنگ کی سب سے دل کو چھو لینے والی تصاویر میں شمار ہوتی ہے۔

یہ منظر امریکی قیادت میں ہونے والے حملے کے ابتدائی دنوں میں نجف کے قریب لیا گیا۔ تصویر میں ایک شخص کو دکھایا گیا ہے جسے 101st Airborne Division نے حراست میں لیا تھا، اور فوجی طریقہ کار کے مطابق اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تھی اور اس کے ہاتھ پلاسٹک ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے تھے۔

جب اس کا کم عمر معصوم بیٹا ماحول اور اپنے والد کی حالت دیکھ کر خوفزدہ اور پریشان ہو گیا، تو ایک امریکی فوجی نے مداخلت کی اور مبینہ طور پر اس کے والد کی پلاسٹک ہتھکڑیاں کاٹ دیں، تاکہ وہ اپنے بیٹے کو گود میں لے کر اسے تسلی دے سکے۔ یہ لمحہ خار دار تاروں سے گھری قید گاہ کے درمیان ایک باپ کی شفقت کی جھلک پیش کرتا ہے۔

یہ تصویر، جس نے 2004 میں World Press Photo of the Year کا اعزاز حاصل کیا، دنیا بھر میں ایک گہری بحث کا باعث بنی۔ اس نے جنگ کے دوران عام شہریوں، خاص طور پر خاندانوں، پر پڑنے والے انسانی اور جذباتی اثرات کو اجاگر کیا اس تصویر نے دنیا کو مجبور کیا کہ وہ جنگ کے بیچ میں پھنسے معصوم خاندانوں کی کمزوری اور دکھ کو بھی محسوس کرے۔

انڈونیشیا اور ملائشیا کو اجازت نہیں ہے کہ وہ آبنائے ملاکا سے تجارتی فیس وصول کرے۔۔۔۔ترکی کو اجازت نہیں ہے کہ وہ آبنائے ب...
26/04/2026

انڈونیشیا اور ملائشیا کو اجازت نہیں ہے کہ وہ آبنائے ملاکا سے تجارتی فیس وصول کرے۔۔۔۔

ترکی کو اجازت نہیں ہے کہ وہ آبنائے باسفورس سے تجارتی فیس وصول کرے۔۔۔۔

ایران اور عمان کو اجازت نہیں ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے تجارتئ فیس وصول کریں۔۔۔۔

لیکن امریکہ کو حق ہے کہ وہ دنیا بھر کے ممالک کی معاشی ناکہ بندی کرے ان پر پابندیاں لگائے ان پر جنگیں مسلط کرے۔

ٹیکنالوجیا

25/04/2026

وقت بُرا ہو تو محنت کرو، اور جب وقت اچھا ہو تو دوسروں کی مدد کرو۔
بس یہی ہے بہترین زندگی!

Address

Pashat
Bajauri Koruna

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Manan Salarzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share