Awaz-e-Haq Balakot Times

Awaz-e-Haq Balakot Times آواز حق

02/03/2026
بولی حسہ کے مقام پر جاوید المعروف مہانڈری  افطاری کے وقت شاہد نامی پولیس اہلکار کے ہاتھوں گولی لگنے سے جان کی بازی ہار گ...
02/03/2026

بولی حسہ کے مقام پر جاوید المعروف مہانڈری افطاری کے وقت شاہد نامی پولیس اہلکار کے ہاتھوں گولی لگنے سے جان کی بازی ہار گئے ۔موقف اپنایہ جا رہا ہے کہ ہنسی مزاح میں حادثی طور پر گولی چل گئی ۔
کتنی افسوس کی بات ہے کہ پولیس جیسے ذمہ دار محکمے میں ایسے لوگ ہیں جن سے حادثاتی گولیاں چل جاتی ہیں۔
یہ سیدھا سادھا قتل ہے جسکی سخت سے سخت سزا دی جانی
چاہیئے تا کہ آئندہ ایسے ہنسی مزاح میں کوئی گولی نہ چلا سکے
ایس ایچ او بالاکوٹ کے بقول
پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے امید ہے انصاف کے تقاضے
پورے کئے جائیں گے

از :رجب علی آزاد

بالاکوٹ کے معروف سوشل میڈیا اسٹار جاوید مہانڈری گولی لگنے کے باعث جاں بحق ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق بالاکوٹ سے تعلق رکھنے ...
02/03/2026

بالاکوٹ کے معروف سوشل میڈیا اسٹار جاوید مہانڈری گولی لگنے کے باعث جاں بحق ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق بالاکوٹ سے تعلق رکھنے والے مشہور ٹک ٹاکر جاوید مہانڈری کو فائرنگ کے واقعے میں گولی لگی، جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ وہ اپنے منفرد انداز اور مزاحیہ ویڈیوز کے باعث سوشل میڈیا پر خاصی مقبولیت رکھتے تھے اور لاکھوں مداحوں کے دل جیت چکے تھے۔
واقعے کے بعد علاقے میں افسوس اور سوگ کی فضا قائم ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی مداحوں کی جانب سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین

21/12/2025

محترم الحاج
وفاقی وزیر جناب سردار محمد یوسف صاحب جلکھڈ کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے

19/12/2025

بالاکوٹ 😥

18/12/2025

بالاکوٹ کرش پلانٹ کا بے دریغ کٹاؤ جس سے علاقہ بھنگیاں اور جوسچہ کے لوگوں کا بڑا نقصان ہو رہا ہے اسی طرح نڑاہ اور گرلاٹ کے اندر فضائی آلودگی کا باعث ہے ۔
اعلیٰ افسران سے درخواست ہے اس پہ نوٹس لیں اور یہ جگہ ہمیشہ کے لیے سیل کی جائے ۔

یہ سات ستمبر کا واقعہ ہےخضر حیات چھبیس سال کا ایک خوبرو نوجوان تھا جو کہ کلگان مانسہرہ کا رہائشی تھاخضر  کے والد  مانسہر...
13/09/2025

یہ سات ستمبر کا واقعہ ہے
خضر حیات چھبیس سال کا ایک خوبرو نوجوان تھا جو کہ کلگان مانسہرہ کا رہائشی تھا
خضر کے والد مانسہرہ کے ایک نجی سکول میں ٹیچر ہیں اور سفید پوشی میں گزر بسر کر رہے ہیں
خضر مانسہرہ بازار میں ایک دوکان پہ سیلزمین تھا اسکو دن بارہ بجے کے قریب اچانک سے سینے میں شدید درد محسوس ہوا اور اسکا سانس پھولنے لگا وہ کسی نہ کسی طرح کنگ عبداللہ ہسپتال پہنچا اور 12بجے پرچی لی اور لڑکھڑاتے قدموں سے ایمرجنسی وارڈ کی طرف گیا
ایمرجنسی میں پہنچا تو وہاں زندگی نہیں، بے حسی ملی۔
نہ کوئی ڈاکٹر، نہ کوئی علاج… بس ایک چٹ، ایک کاغذ، اسکو ملا جس پر صرف بے رخی لکھی تھی

وہاں پہ موجود عملے نے نہ بی پی چیک کیا نہ اسکو ٹریٹمنٹ دی بس وہاں سے اسکو چٹ پر ٹیکنیشن نما شخص نے کچھ لکھ کر دیا اور کہا کہ جائو سامنے سے لگوا دو۔
اب خضر کا سانس پھولا ہے وہ چل نہیں سکتا وہ کسی طرح دیواروں کے سہارے لیکر سامنے گیا تو اسکو کہا گیا باہر سے لیکر آئو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔جس سے بات کرتا وہ جواب دیتا "ہم تو سٹوڈنٹس ہیں" ہم کیا کر سکتے ہیں
ڈاکٹر یہاں موجود نہیں ہیں آئے تو ان سے بات کرو
۔اس نے کہا مجھے درد ہے میں مر رہا ہوں مجھے کوئی ٹریٹمنٹ دیں لیکن اسکو برا بھلا کہہ کر وہاں سے نکال دیا گیا اور کہا "گھر جائو ڈاکٹرز موجود نہیں ہیں کل آنا تمھارے ٹیسٹ کریں گے
۔خضر نے اس سارے معاملے کی ویڈیو بنائی ہے جو کہ اسکے موبائل میں محفوظ ہے
اس کی حالت جب بگڑنے لگی اس نے بھائی کو میسج کیا اور ایک گاڑی میں بیٹھ گیا کہ مجھے کسی طرح میرے گھر پہنچائو میرا دل گھبرا رہا ہے ۔خضر جب گھر پہنچا تو اسکی حالت غیر ہو چکی تھی ،چلنے کی سکت نہیں رہی تھی
مقامی ڈاکٹر کو بلایا گیا اسکا چیک اپ کیا گیا تو اس نے کہا "اس کو کسی طرح ہسپتال پہنچائیں"
کون سی ہسپتال ؟ ہسپتال والوں نے تو گھر بھیج دیا ہے
خضر کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا ہے
اس نے پانی مانگا کلمہ پڑھا اور چھبیس سال کا خوبرو نوجوان والد اور اسکے بھائیوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر مر گیا
اس چھبیس سال کے بے بس نوجوان کی آہوں نے اللہ کا عرش بھی ہلایا ہو گا ،
اللہ کے قہر کو بھی جوش آیا ہو گا

میں جب خضر کے والد ارشد صاحب کے پاس گیا تو میں انکی آنکھوں میں دیکھ نہیں پایا ۔
ان آنکھوں میں وحشت تھی،مایوسی تھی ،غم کا سمندر تھا

میں 1925کی بات نہیں کر رہا ہوں یہ 2025کا واقعہ ہے اور مانسہرہ شہر کا واقعہ ہے وہ مانسہرہ شہر جسکے ایم پی اے
اب سپیکر صوبائی اسمبلی ہیں،وہ مانسہرہ جسکا ایم این اے وفاقی وزیر ہے وہ مانسہرہ شہر جسکا سینیٹر صوبائی حکومت میں سب سے زیادہ اثر رسوخ رکھنے والا بندہ ہے
اس ہسپتال کا ایم ایس وہ بندہ ہے جس کو اس نعرے کیساتھ لایا گیا تھا کہ تبدیلی اور کامیابی کا نیا باب رقم کرے گا
جسکے ایم ایس بنتے ہی میڈیا والے بھائیوں اور سوشل ایکٹویسٹ نے رقص کر کر کے گھنگرو توڑ دیئے تھے

افسران بالا کی تو کیا ہی بات کریں انکو تو اپنے پروٹوکول اور "ششکے " سے ہی فرصت نہیں ملتی

بدقسمتی کی بات یہ ہے یہ ہسپتال سپیکر صاحب کے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ہے
خضر تو چلا گیا لیکن سوالات کا انبار چھوڑ کر چلا گیا

کیا یہ لاپرواہی نہیں بلکہ ایک چھبیس سال کے نوجوان کا قتل تھا؟
کیا ذات پات اچھوت مسلمانوں میں پائی جاتی ہے جس میں "سفارشی "کو اسی ہسپتال میں ساری سہولتیں دی جاتی ہیں اور غریب کیلئے کچھ بھی نہیں؟

کیا مکافات کا کوڑا ہمارے سیاسی نمائندوں اور افسران پہ برسنے والا ہے؟

ہر سیاسی جماعت کا اپنا منجن بک رہا ہے لیکن حقیقی تبدیلی کب آئے گی؟

Address

Balakot
Balakot
JABRA

Telephone

+528469399484

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awaz-e-Haq Balakot Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Awaz-e-Haq Balakot Times:

Share