09/03/2026
اسکردو احتجاج کی آڑ میں دہشتگردوں نے آرمی جوان کو ذندہ جلایا گیا۔۔
سکردو میں جو کچھ ہوا وہ احتجاج نہیں بلکہ سریح دہشت گردی ہے۔ ایک فوجی جوان کو گولی مار کر شہید کرنا، اہلکاروں کو زخمی کرنا، ایک بے گناہ ڈرائیور کو زندہ جلانا اور املاک کو آگ لگانا—یہ تمام کارروائیاں منظم دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
واضح الفاظ میں کہنا ہوگا: یہ لوگ مظاہرین نہیں، دہشت گرد ہیں۔ اور دہشت گردی کا انجام صرف اور صرف سزا ہے۔ انہیں ہر حال میں گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ کوئی سیاسی دباؤ، کوئی جذباتی جواز اور کوئی گروہی وابستگی قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہداء کے خون کا حساب لے اور اس خطے کے امن کو یرغمال بنانے والوں کو مثال عبرت بنائے۔ انصاف میں تاخیر خود ناانصافی ہے—اس لیے بلا امتیاز، فوری اور فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہے۔ دہشت گردوں کو ہر حال میں سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس دھرتی کے امن سے کھیلنے کی جرأت نہ کر سکے۔