25/05/2026
آج شکور الرسول بھائی کی ویڈیو دیکھی، جہاں وہ قرآنِ پاک ہاتھ میں لے کر اپنے اچھے کاموں کا ثبوت دے رہے تھے۔ یہ دیکھ کر واقعی بہت افسوس ہوا۔
ایک ایسا انسان جس نے اپنے پشتون بھائیوں، خاص طور پر بنوں کے لوگوں کے لیے بے شمار محنت، قربانیاں اور آواز اٹھائی، اُسے اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے قرآن ہاتھ میں لینا پڑے، یہ ہمارے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
اگر کوئی شخص ایک پوسٹ بھی کرتا ہے تو لوگ اس حد تک بداعتماد ہو چکے ہیں کہ کہتے ہیں: “قرآن ہاتھ میں لے کر آؤ، تب مانیں گے۔”
چلو مان لیتے ہیں کہ اگر کسی پوسٹ میں غلطی ہو بھی جائے، آخر ہم سب انسان ہیں اور انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ حالانکہ وہ پوسٹ غلط نہیں تھی، لیکن ایک معمولی بات پر اس قدر گھٹیا الفاظ اور گھٹیا حرکتیں کرنا ناقابلِ برداشت ہے۔
شکور الرسول بھائی کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ کسی کی پرواہ نہ کریں، اپنا کام جاری رکھیں۔ اگر آپ کو کوئی بات حقیقت نظر آتی ہے تو اسے ضرور سامنے لائیں۔
ایسے منفی سوچ رکھنے والے لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں، اور خاص طور پر سوشل میڈیا کے کمنٹس پڑھنے سے بھی گریز کریں۔
کیونکہ بستر میں لیٹے ہوئے موبائل سے تنقید کرنے والوں نے کبھی میدان میں نکل کر قوم کے لیے کوئی قربانی نہیں دی ہوتی۔
اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ہمت، عزت، کامیابی اور استقامت عطا فرمائے۔ آمین