27/08/2026
"ہمیں مار ڈالو... لیکن یوں ہر قدم پر ذلیل تو نہ کرو!"
سخی سرور چیک پوسٹ سے آتی ہوئی خبریں صرف خبریں نہیں ہیں، یہ ہمارے ضمیر پر وہ تازیانے ہیں جو روح کو زخمی کر دیتے ہیں۔ جب اک ڈرائیور اپنی عزتِ نفس کی نیلامی سے تنگ آ کر اپنے ہی وجود کو آگ لگا لیتا ہے، تو جلتا صرف ایک انسان نہیں... پورا انصاف، پوری ریاست اور انسانیت جل کر راکھ ہو جاتی ہے۔
آخر بلوچستان کے لوگوں کا قصور کیا ہے؟
اپنے ہی ملک میں سفر کرنے کے لیے 15، 15 بار شناختی کارڈ دکھا کر ثابت کرنا پڑتا ہے کہ "ہم بھی انسان ہیں، ہم بھی اسی مٹی کے بیٹے ہیں!" بین الاقوامی سرحدوں پر بھی اتنی تذلیل نہیں ہوتی جتنی اپنے ہی ملک کے بارڈر پر پنجاب پولیس اور دیگر حکام کے ہاتھوں بلوچ مسافروں اور ڈرائیوروں کی ہوتی ہے۔
تاجروں کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ بچوں کے لیے روزی کمانے والے ڈرائیوروں کی غیرت کو ہر موڑ پر کچلا جا رہا ہے۔ لاکھوں روپے بھتہ دو تو راستے کھلتے ہیں، ورنہ ذلت، گالیاں اور تشدد مقدر بنا دیا جاتا ہے۔
کب تک؟ آخر کب تک یہ مظلوم قوم اپنے ہی گھر میں غیروں جیسا سلوک سہتی رہے گی؟ جب نفرتیں حد سے بڑھ جائیں اور آنکھوں کے آنسو ختم ہو جائیں، تو پھر خودسوزی کے دھویں سے اٹھنے والے سوال پوری ریاست کو گھیر لیتے ہیں۔
صرف ایک سوال کا جواب دے دو:
اگر بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، تو پھر ہمارے ساتھ یہ وحشیانہ اور گھٹیا رویہ کیوں؟ کیا ہماری عزتِ نفس کی کوئی قیمت نہیں؟
خدایا! اس بے حسی پر رحم کر... اب صبر کے پیمانے چھلک چکے ہیں!