Ababil jamiyat ulama-e-islam

Ababil jamiyat ulama-e-islam پہ کتلو ورتہ سترگی نہ مڑیگی
زینی خلق د گلونو پہ مثال وی�

��
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان

"ہمیں مار ڈالو... لیکن یوں ہر قدم پر ذلیل تو نہ کرو!"​سخی سرور چیک پوسٹ سے آتی ہوئی خبریں صرف خبریں نہیں ہیں، یہ ہمارے ض...
27/08/2026

"ہمیں مار ڈالو... لیکن یوں ہر قدم پر ذلیل تو نہ کرو!"
​سخی سرور چیک پوسٹ سے آتی ہوئی خبریں صرف خبریں نہیں ہیں، یہ ہمارے ضمیر پر وہ تازیانے ہیں جو روح کو زخمی کر دیتے ہیں۔ جب اک ڈرائیور اپنی عزتِ نفس کی نیلامی سے تنگ آ کر اپنے ہی وجود کو آگ لگا لیتا ہے، تو جلتا صرف ایک انسان نہیں... پورا انصاف، پوری ریاست اور انسانیت جل کر راکھ ہو جاتی ہے۔
​آخر بلوچستان کے لوگوں کا قصور کیا ہے؟
اپنے ہی ملک میں سفر کرنے کے لیے 15، 15 بار شناختی کارڈ دکھا کر ثابت کرنا پڑتا ہے کہ "ہم بھی انسان ہیں، ہم بھی اسی مٹی کے بیٹے ہیں!" بین الاقوامی سرحدوں پر بھی اتنی تذلیل نہیں ہوتی جتنی اپنے ہی ملک کے بارڈر پر پنجاب پولیس اور دیگر حکام کے ہاتھوں بلوچ مسافروں اور ڈرائیوروں کی ہوتی ہے۔
​تاجروں کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ بچوں کے لیے روزی کمانے والے ڈرائیوروں کی غیرت کو ہر موڑ پر کچلا جا رہا ہے۔ لاکھوں روپے بھتہ دو تو راستے کھلتے ہیں، ورنہ ذلت، گالیاں اور تشدد مقدر بنا دیا جاتا ہے۔
​کب تک؟ آخر کب تک یہ مظلوم قوم اپنے ہی گھر میں غیروں جیسا سلوک سہتی رہے گی؟ جب نفرتیں حد سے بڑھ جائیں اور آنکھوں کے آنسو ختم ہو جائیں، تو پھر خودسوزی کے دھویں سے اٹھنے والے سوال پوری ریاست کو گھیر لیتے ہیں۔
​صرف ایک سوال کا جواب دے دو:
اگر بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، تو پھر ہمارے ساتھ یہ وحشیانہ اور گھٹیا رویہ کیوں؟ کیا ہماری عزتِ نفس کی کوئی قیمت نہیں؟
​خدایا! اس بے حسی پر رحم کر... اب صبر کے پیمانے چھلک چکے ہیں!
​

🚨 پارلیمان کی بے توقیری یا جمہوریت کا جنازہ؟​(جوائنٹ اپوزیشن اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن کا تاریخی، دبنگ اور لرزہ خیز خ...
26/08/2026

🚨 پارلیمان کی بے توقیری یا جمہوریت کا جنازہ؟
​(جوائنٹ اپوزیشن اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن کا تاریخی، دبنگ اور لرزہ خیز خطاب!)
​آج جمہوریت کا لباس پہن کر آئین کی روح پر ایسا وار کیا گیا ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ سیاست کے ایوانوں میں خاموشی سے وہ کھیل مکمل ہو چکا ہے جس کے بعد سویلین حکمرانی محض ایک ڈھونگ بن کر رہ جائے گی!
​💥 اپوزیشن کا خود احتسابی اعتراف اور تلخ سچ:
​"ہم نے ایوان سے واک آؤٹ تو کر دیا، لیکن کاش! ہم پہلے اس قانون کا گہرا مطالعہ کرتے۔ ہم پارلیمنٹ میں لڑتے، نقطہ بہ نقطہ بحث کرتے، آئین پر ہونے والے اس ڈارک اٹیک کو قوم کے سامنے بے نقاب کرتے اور پھر زبردستی کی ووٹنگ پر باہر نکلتے۔ نشاندہی ہونا بہت ضروری تھی!"
​🎭 اتا ترک کا ترکی ماڈل اور سویلین اقتدار کا خاتمہ!
​جس نقشے کو نافذ کرنے کی دہائیوں سے کوشش کی جا رہی تھی، آج اس ترمیم کے ذریعے خاموشی سے اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی گئی ہے:
​⚔️ وفاقی حکومت بے اختیار:
بری، بحری اور فضائی افواج کی قیادت میں ردوبدل، ترقیاں، چھٹیاں اور ملازمت کے تمام تر فیصلے—جو کل تک آئینی طور پر سویلین وفاقی حکومت کا حق تھے—آج چھین کر 'چیف آف ڈیفنس فورسز' کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
​🏛️ کابینہ میں کون حاکم ہے؟
جب فیلڈ مارشل، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز بطور 'ڈیفنس ایڈوائزر' خود کابینہ کی میز پر براجمان ہوگا... تو پھر بتائیے، فیصلے کون کرے گا؟ کیا وزیراعظم شریف صاحب اور ان کی کابینہ میں اتنی ہٹ دھرمی یا جرأت بچے گی کہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں؟
​📜 اپوزیشن کی قانونی ٹیموں کے نام دو ٹوک پیغام:
​مولانا فضل الرحمٰن کا بیرسٹر گوہر، علی ظفر اور کامران صاحبان کو واضح حکم:
"ایک ساتھ بیٹھو! اس قانون کے ہر ہر لفظ کی جراحی کرو اور قوم کو بتاؤ کہ آئین کے سینے میں کہاں کہاں خنجر گھونپا گیا ہے!"
​ہم اس ملک کو کٹھ پتلیوں کا میدان نہیں بننے دیں گے! سویلین بالادستی اور آئین کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا!
​

نئے صوبوں کا قیام، معاشی استحصال یا ملک کی سالمیت پر حملہ؟​(امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں اہم ...
26/08/2026

نئے صوبوں کا قیام، معاشی استحصال یا ملک کی سالمیت پر حملہ؟
​(امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں اہم و فکر انگیز خطاب)
​ایک طرف ملک شعلوں کی لپیٹ میں ہے، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پشتون علاقوں سے لے کر کشمیر تک بدامنی کا راج ہے—اور دوسری طرف ملک پر فیصلے مسلط کرنے والے نئے صوبے بنانے کی باتیں کر رہے ہیں!
​کیا جلتے ہوئے مکان میں بیٹھ کر بھائی یہ طے کرتے ہیں کہ گھر کی تقسیم کیسے کی جائے؟ جب نہ ماحول سازگار ہے، نہ تیاری ہے، تو آخر ایسی کیا جلدی ہے؟
​📌 نئے صوبوں کی تقسیم کا اصل مقصد کیا ہے؟
​یہ کھیل کسی اصولی بنیاد پر نہیں بلکہ دو بڑے مقاصد کے لیے کھیلا جا رہا ہے:
​1️⃣ ۱۸ویں ترمیم اور NFC ایوارڈ پر ڈاکا:
آئین کے تحت صوبوں کا معاشی حصہ بڑھایا تو جا سکتا ہے لیکن کم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ صوبوں کو توڑ کر ازسرِنو NFC ایوارڈ کی آڑ میں ان کے معاشی حقوق چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
​2️⃣ معدنی ذخائر پر قبضہ:
آئین کے مطابق صوبوں کے قدرتی و معدنی ذخائر پر وہاں کے عوام کا حق ہے۔ لیکن موجودہ حکمران اور طاقتیں ہمارے قبائل اور عام انسانوں کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان ذخائر پر قابض ہونا چاہتی ہیں۔
​⚠️ بلوچستان اور کے پی کے کی ابتر صورتحال:
​شاہراہوں پر بدامنی: کراچی-کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہو چکی ہے، گھنٹوں گھنٹوں کے ناکے لگے ہوتے ہیں۔ جہاں ماضی میں تنہا گاڑی میں سفر ممکن تھا، آج وہاں جانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
​امنیتی صورتحال کا اندازہ: جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس بلوچستان کے نامساعد حالات اور راستوں کی بندش کے باعث کراچی سے پشاور منتقل کرنا پڑا۔
​عوامی مطالبات: ہمیں اقتدار کا لالچ نہ دو، ہمیں 'ٹھنڈی زمین' اور 'امن' دو!
​🛑 ہمارا واضح اور غیر مبہم موقف:
​ہم زبردستی مسلط کیے گئے فیصلوں کو مانتے ہیں نہ آئندہ مانیں گے۔ فاٹا انضمام کے وقت بھی ہم نے چیخ چیخ کر کہا تھا کہ ماحول اور وقت مناسب نہیں، لیکن بیرونی دباؤ پر فیصلہ تھوپا گیا۔ آج پھر وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔
​کشمیر کے حالات سنگین ہیں، راولاکوٹ میں لوگ مہینوں سے سڑکوں پر ہیں لیکن سننے والا کوئی نہیں۔ کیا اس ملک کو انارکی اور توڑ پھوڑ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے؟
​قوم پر جبر کے فیصلے مسلط کرنا بند کیے جائیں اور ملک کو امن و سلامتی کی طرف لایا جائے!
​

26/08/2026

محمود غزنوی اور راجہ جے پال کا تاریخی معرکہ ⚔️ | فتح کس کی ہوئی؟

محمود غزنوی کی ہندوستانی مہمات کا یہ اہم باب اس وقت شروع ہوا جب اس کا سامنا راجہ جے پال کی طاقتور فوج سے ہوا۔ دونوں لشکر میدانِ جنگ میں آمنے سامنے آئے، شدید مقابلہ ہوا، اور آخرکار محمود غزنوی کو فتح حاصل ہوئی۔

لیکن یہ تو صرف آغاز تھا… محمود غزنوی کی ہندوستانی فتوحات کی داستان ابھی باقی ہے۔ اگلی قسط میں کہانی مزید دلچسپ ہوگی۔

اگر آپ کو یہ تاریخی سلسلہ پسند آ رہا ہے تو کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں، ویڈیو لائک اور شیئر کریں، اور اگلی قسط کے لیے فالو کریں۔

#محمودغزنوی

25/08/2026

Part 6
سلطان محمود غزنوی اور راجہ جے پال کے آخر کا جنگ میں آمنے سامنے ہو گے اور ہم ساتھ جوڑے رہیے آگے کیا ہوا

24/08/2026

Part 5
اب سلطان محمود غزنوی کی ساری توجہ ہندوستان کی طرف ہوگی اب سلطان محمود غزنوی کا مقابلہ اس کے سخت مخالف راجہ جے پال سے ہونے والا تھا آگلے پارٹ کے لیے ہمیں فالو کریں شکریہ #سلطان

ایوانوں کی خاموشی اور عوامی بے چینی: مولانا فضل الرحمان کا تلخ سچ​سیاست کے پیچ و خم میں اکثر کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ...
23/08/2026

ایوانوں کی خاموشی اور عوامی بے چینی: مولانا فضل الرحمان کا تلخ سچ

​سیاست کے پیچ و خم میں اکثر کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف سیاست دان کا بیان نہیں، بلکہ پورے ملک کی دل کی آواز بن جاتی ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداریوں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیرِ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان نے موجودہ سیاسی اور آئینی بحران پر جس بے باکی سے قلم اٹھایا (بولا)، اس نے ایوانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
​ان کی گفتگو کے چند اہم اور فکر انگیز نکات:
​سسٹم کی ناکامی: "عوام کا فیصلہ کچھ ہوتا ہے، اور نتیجہ کچھ اور آتا ہے۔ جو اقتدار میں ہیں، عوام انہیں اپنا نمائندہ ہی نہیں سمجھتے۔"
​اندرونی تباہی، بیرونی چکاچوند: "تو درون درچ کردی کہ برون خانہ آئی!"— ملک اندر سے معاشی اور انتظامی آگ میں جل رہا ہے اور حکمران بیرونی دنیا کے ریڈ کارپٹس پر اپنی ساخ بچانے میں مصروف ہیں۔
​آئین اور جمہوریت کا بحران: "ملک میں نہ جمہوریت ہے، نہ آئین، نہ قانون۔ صرف ایک شخص یا ادارہ ہی ملک کا آئین اور فیصلہ بن چکا ہے۔"

​جب عوام کے ووٹ اور نتیجے میں ربط نہ رہے، تو نظام کا قائم رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بیرونی دوروں سے اندرونی زخم نہیں بھرتے؛ ملک تبھی چلے گا جب آئین اور قانون کی بالادستی حقیقی معنوں میں قائم ہوگی۔
​آپ اس صورتحال کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ کیا واقعی ہمارا سیاسی اور آئینی نظام مفلوج ہو چکا ہے؟

23/08/2026

Part 4
998 میں سلطان محمود غزنوی رحمہ اللہ علیہ نے سلطنت تو پالی لیکن ابھی اتنا مضبوط نہ تھا پھر اس پاس کے سرحدوں کو محفوظ بنایا اب سلطان محمود غزنوی کا رخ خراسان کی طرف ہو
#ﺳﻠﻄﻨﺖ

مقدس شعائر اور پرچمِ نبوی ﷺ کی بے حرمتی: بارکھان انتظامیہ کی شدید غفلت اور حقائق پر مبنی سخت احتجاج​بارکھان میں سڑک کے ب...
22/08/2026

مقدس شعائر اور پرچمِ نبوی ﷺ کی بے حرمتی: بارکھان انتظامیہ کی شدید غفلت اور حقائق پر مبنی سخت احتجاج
​بارکھان میں سڑک کے بیچوں بیچ ایسا ڈیزائن بنانا جو مقدس پرچم اور اسلامی شعائر سے مشابہت رکھتا ہے، نہ صرف انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے بلکہ یہ مسلمانانِ عالم کے ایمان، عقیدت اور جذبات پر براہِ راست حملہ ہے۔ جن مبارک علامتوں کو سر کا تاج ہونا چاہیے، انہیں عوامی گزرگاہ پر گاڑیوں کے ٹائروں اور لوگوں کے قدموں تلے روندنے کے لیے نقش کرنا شدید بے حسی، لاپرواہی اور کھلی بے حرمتی ہے۔
​پرچمِ نبوی ﷺ اور اسلامی جھنڈے کا ثبوت (احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں):
​اسلامی تاریخ اور صحیح احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اپنا ایک مخصوص پرچم اور علم تھا، جسے "الرایۃ" (الراية) اور "اللوَاء" (اللوء) کہا جاتا ہے:
​احادیث سے رنگوں کا ثبوت: حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ "رسول اللہ ﷺ کا پرچم (الرایۃ) سیاہ رنگ کا اور آپ کا علم (اللوَاء) سفید رنگ کا تھا" (جامع ترمذی: 1681، سنن ابن ماجہ)۔
​کلمہ طیبہ کا نقش: کتبِ سیرت اور روایات (ابو الشیخ، ابن عدی) کے مطابق آپ ﷺ کے اس مقدس پرچم اور علم پر سفید یا سیاہ خط سے "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ" تحریر تھا۔
​غزوات میں اہمیت: غزوہ خیبر، فتحِ مکہ اور دیگر معرکوں میں نبی کریم ﷺ کا پرچم اسلام کی سربلندی اور توحید و رسالت کا نشان بنا کر جلیل القدر صحابہ کرامؓ (حضرت علیؓ، حضرت مصعب بن عمیرؓ) کو عطا کیا جاتا تھا۔
​جب یہ بات احادیثِ صحیحہ سے قطعی ثابت ہے کہ پرچمِ نبوی ﷺ اور کلمہ طیبہ والی اسلامی علامتیں عین دین اور مقدس ترین شعائر ہیں، تو ان سے ذرا سی بھی مشابہت رکھنے والی تصویر یا نقش کو سڑکوں کے فرش پر بنانا اور اسے پامال ہونے دینا صریحاً بے حرمتی ہے، جس کا جواز کسی صورت ممکن نہیں۔
​ہمارے سخت ترین مطالبات:
​فوراً مٹایا جائے: ضلعی انتظامیہ بلا تاخیر ہنگامی بنیادوں پر اس ڈیزائن کو سڑک سے ختم کر کے سڑک کو اصل حالت میں بحال کرے۔
​مجرمانہ مقدمہ اور گرفتاری: اس ڈیزائن کی منظوری دینے والے افسران، انجینئرز اور ٹھیکیداروں کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کی دفعات کے تحت پرچہ درج کر کےانہیں گرفتار کیا جائے۔
​عہدوں سے برطرفی: اس گھناؤنی غفلت میں ملوث تمام متعلقہ سرکاری اہلکاروں کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹا کر سخت ترین سزا دی جائے۔
​آئندہ کے لیے سخت پالیسی: کسی بھی تعمیراتی کام میں مذہبی علامتوں کی ذرہ برابر مشابہت کو بھی سخت ممنوع قرار دیا جائے۔
​مقدس پرچم اور شعائرِ اسلام کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور انتظامیہ کی اس سنگین لاپرواہی کا فوری اور عبرتناک تدارک لازمی ہے۔











Address

Dera Ismail Khan
Barkhan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ababil jamiyat ulama-e-islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share