10/04/2026
مسجد بلال پشوڑہ کی پکار آج میرے رب نے سن لی
2016سے کل تک مسجد بلال پشوڑہ کی عالیشان بلڈنگ تو موجود رہی لیکن نمازی نہ رہے اور جو نمازیں رہے وہ بھی اگر آپ مسجد جاتے تو دل میں کہتے کہ نماز گھر پڑھ لیا ہوتا تو بہتر ہوتا
پورے علاقہ دیشان میں پشوڑہ ایک ایسا منفرد گاوں تھا جہاں چھوٹے موٹے جھگڑے تو ہوتے تھے لیکن ایسی لڑائیاں نہیں تھی جس میں فائرنگ، یا اموات ہو
اچانک ایک ایسی لڑائی ہوگئی جس میں ایک جان ضائع ہوگئی جبکہ کئی افراد شدید زخمی ہوگئے اسی دن سے پورا گاوں ایسا متاثر ہوا کہ ھم امن کیلے ترس گئے
قربان جاوں اپنے علاقے کے مشران سے جنہوں نے ان دس سالوں میں خوب کوششیں کی کہ کسی بھی طرح یہ صلح ہو جائے اور گاوں کی پر امن بہاریں واپس لوٹ آجائے لیکن میرے رب کو یہ منظور تھا کہ یہ آج ہی حل ہوگا
ان دس گیارہ سالوں میں مشران کے علاوہ ان نوجوانوں کو یاد نہ کرنا نا انصافی ہوگی جنہوں نے بھی اپنا ایک تنظیم دہ قام زلمی کے نام سے بنایا وہ نوجوان پشوڑہ جاکر دونوں فریقوں سے منت سماجت کرنے لگے یہاں تک کہ ان نوجوانوں نے صلح نہ ہونے تک بھوک ہڑتال بھی شروع کی لیکن میرے رب کو منظور نہ تھا صلح نہ ہوا
لیکن پھر بھی قوم کے مشران نے ہمت نہ ہاری اور لگے رہے اور کل انکی محنت رنگ لے آئی اور دونوں فریقوں نے صلح کیلے مشران کو اجازت دے دی کہ جیسے آپ چاہے صلح کرلیں الحمد للہ کل ھمارے گاوں میں عید جیسے سماء تھا جب سفید ریش مخالفین ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے
جتنے وہ خوش تھے ان سے زیادہ گاوں کے نوجوان فیس بک پر چھائے رہے اور ایسی خوشیاں منا رہے تھے جیسے یہ ہر ایک کا اپنا مسئلہ حل ہوا ہو رب کریم اس امن کو برقرار رکھے ہمیں آپس میں محبت اخوت سے رہنے کی توفیق دیں
آخر میں دیشان کے جملہ مشران خصوصا مولانا خورشید احمد صاحب اور اپنے بڑے بھائی امیر جماعت اسلامی ضلع بٹگرام جناب انور بیگ صاحب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے دل و جان سے اس مسئلے کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر صلح کروایا
آج مسجد بلال پشوڑہ میں سب مل کر جمعہ پڑھنے آئے ہیں بھائی انور بیگ خطاب فرما رہے ہیں یہی دیکھنا تھا کہ جب گاوں کا ایک فرد اٹھے محراب میں کھڑے ہوکر گاوں والوں سے بات کریں اور گاوں والے متفقہ طور پر سنے اسی کو دل ترس گیا تھا آج وہ تمنا پوری ہوگئی
ابو مصعب الدیشانی